جنگ بدر میں شریک صحابہ کرام ؓ (حصہ پنجم)

EjazNews

72۔ مرثد بن ابو مرثد الغنویؓ
مرثد بن ابو مرثد (کناز ) بن حصین ان کا نسب غیلان بن مضر تک جا ملتا ہے۔
مرثد مواخات میںاوس بن صامت کے بھائی تھے۔ بدر واحد میں حاضر تھے۔ واقعہ رجیع 3ھ میں شہید ہوئے اس واقعہ کی بھی ابتدایوں ہوئی کہ عضل اور قارہ اورلحیان کے اشخاص نے سرور عالم ﷺ سے التماس کی کہ ہمارے قبائل کی تعلیم اور تبلیغ کیلئے چند اہل علم کو مامور فرمایا جائے۔ نبی ﷺ نے چند صحابہ کو جس میں مرثد اور عاصم بن ثابت اور خبیب بن عدی اور خالد بن بکیر اور زید بن دشتہ اور عبد اللہ بن طارق شامل تھے ماور فرمادیا۔ مرثد یا بقول بعض عاصم ان کے سردار تھے جب یہ صحابہ اور غدار لوگ ہذیل کے علاقہ میں پہنچ گئے تو انہوںنے ہذیل سے جمعیت حاصل کر کے صحابہ پر حملہ کر دیا۔ مرثد و عاصم و خالد تو مقابلہ کرتے کرتے شہید ہو گئے اور خبیب و زید و عبد اللہ اسیر ہوئے۔ عبد اللہ راہ میں سے بھاگ گئے اور بالآخر کفار کے پتھراﺅ سےش ہید ہوئے اور خبب و زید پھانسی پر لٹکائے گئے۔
حضرت مرثد بڑے بہادر پہلوان تھے ان کی عادت تھی کہ مدینہ منورہ سے چھپ چھپا کر آتے اوران مسلمان اسیروں میں سے جن کو کفار نے صرف جرم اسلام میں قید کیا تھا ایک قید کو جیل سے نکال کر لے جاتے۔ ایک دفعہک ا ذکر ہے کہ یہ مکہ میں اسی غرض سے آئے ان کو راستہ میں عناق مل گئی۔ یہ ایک بدچلن عورت تھی اور قبل از اسلام اس کے تعلقات مرثد ؓ کے ساتھ بہت گہرے رہے تھے۔
ان کو دیکھ کر پہچان گئی ۔ بولی مرثد ہووا۔ انہوںنے کہا، ہاں، بولی خوب، میرے ساتھ چلو، وہیں رات کوآرام کرنا، مرثد نے کہا عناق تو کس خیال میں ہے میں مسلمان ہوںاور اسلام میں زنا حرام ہے۔ یہ جواب سنتے ہی عورت کے تیور بدل گئے لگی چلانے لوگو آﺅ، تمہارا ملزم موجود ہے۔ جو قیدیوں کو نکال لے جایا کرتا ہے۔ یہ سن کر آٹھ آدمی ان کے پیچھے بھاگے ۔ یہ ایک غار میں جاچھپے دشمن بھی وہاں تک پہنچ گیا مگر وہ ان کو نہ دیکھ سکے وہ واپس چلے گئے۔ تو یہ کچھ عرصہ سستا کر پھر مکہ میں گئے اور بھاری بھرکم قیدی کو جیل سے اپنے کندھے پر اٹھا کرنکال لائے اور بخیریت تمام مدینہ پہنچ گئے۔
ان کابیان ہے کہ میں نے مدینہ منورہ پہنچ کر نبیﷺ سے التماس کی کہ میں عناق سے نکاح کر لوں اس وقت تو حضور ﷺن ے جواب نہ دیا مگر بعد میں یہ آیت اتری ”الرانی لا ینکح الا زانیة اومشرکة“ نبی ﷺ نے ان کو ہلا کر یہ آیت بھی سنائی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تم اس سے نکاح نہ کرنا۔
اس قصہ میں ان لوگوں کیلئے سخت عبرت ہے جو غیر عورتوں کی محت کا یقین کر لیا کرتےہیں ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ غیر عورت کی چاہت اور لگاوٹ اس وقت تک رہتی ہے جب تک اسے یہ گمان رہتا ہے کہ وہ اس مرد سے عیش کر سکے گی جہاں عورت کو یہ پتہ لگ جائے کہ اب وہ اس کام سےدور رہے گا اس وقت عورت کی ساری محبت فوراً ہی غصہ اورانتقا م اور کینہ کشی سے مبدل ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے قصہ میں بھی یہی بات سکھلائی ہے۔ کہاں تو امراة العزیز کی وہ شیفتگی وہ عشق اورکہاں حضرت یوسف علیہ السلام کو پاک باز معلوم کرنے کے بعد یہ نفرت کہ شوہر کو کہہ کہہ کران کوجیل میں بھجوایا اور پھر کبھی بات بھی نہ پوچھی۔ فقط۔ رضی اللہ عنہ
73۔ مسعود بن الربیع القاریؓ
ان کے والد کا نام ربیع اور ربیعہ کیا گیا ہے ان کو قاری اس لئے کہتے ہیں کہ بنو قارہ میں سے تھے یہ قبیلہ خزیمہ بن مدرکہ کی شاخ ہے یہ اس وقت اسلام لائے کہ ابھی نبیﷺ نے دارالارقم میں خفیہ تعلیم کا آغاز فرمایا تھا۔ مواخات میں یہ عبید بن تہیان کے بھائی ہیں۔
30ھ کو بعمر زائد از ساٹھ سال انتقال فرمایا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
74۔ سیدنا مصعب بن عمیر القرشی العبدریؓ
مصعب بن عمیر بن ہاشم بن مناف بن عبدالدار بن قصی۔
نبی ﷺکے ساتھ نسب میں قصی میں شامل ہو جاتے ہیں۔
نوجوانان مکہ میں حضرت مصعب جوانی و رعنائی ، خوش پوش و ناز پروردگی میں مشہور تھے ماں باپ کے لاڈلے تھے۔ ماں کو ہمیشہ یہ خیال رہتا کہ مکہ بھر میں انہی کا لباس سب سے قیمتی ہو اور ان ہی کا عطر سب سے زیادہ خوشبو دار ہو
ان کا اسلام دارارقم میں ہوا ماں باپ کے خوف سے اظہار اسلام نہ کرتے تھے آخر ایک روز عثمان بن طلحہ نے ان کو نماز پڑھتے دیکھ لیا اور انہوں نے قوم کو ان کا مسلمان ہونا بتا دیا۔ ماں باپ اور قوم سب بگڑ گئی ان کو قیدکر دیا ۔ ان کو موقعہ ملا تو زندان سے نکلے اور حبشہ کے مہاجرین اولی میں شامل ہو گئے اور کچھ عرصہ بعد پھر مکہ معظمہ میں واپس آگئے۔
عقبہ ثانیہ کے بعد نبیﷺ نے ان کو مدینہ جا کر تعلیم قرآن اور تدریس دین کیلئے مامور فرمایا۔ سعد بن عبادہ اور سعد بن معاذ انہی کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے بنو عبد الاشہل کا سارا قبیلہ انہی کے ہاتھ پر اسلام لایا مدینہ منورہ میں گھرگھر اسلام پہنچ گیا اور ہر طرف سے قرآن کریم کی آواز آنے لگی۔
جنگ بدر میں اسلام کا نشان اعظم انہی کے ہاتھ میں تھا جنگ احد کے نشان بردار بھی یہ تھے۔ ان کی شہادت کے بعد یہ نشان علی مرتضیٰؓ نے سنبھالا تھا۔
ابو عبد اللہ ان کی کنیت تھی اور مدینہ منورہ میں القاری المقری کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے بزرگ ترین صحابہ اور فاضل ترین صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہشہادت غزوہ احد میں ہوئی اس وقت ان کی عمر پورے چالیس سال کی تھی یا کچھ زیادہ۔ تکفین کے وقت ان پر ایک لنگی سیاہ سفید دھاریوں والی ڈالی گئی وہ اتنی چھوٹی تھی کہ سر چھپاتے تھے تو پاﺅں ننگے رہ جاتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ سر پر کپڑا اور قدموں پر گھاس ڈال دو۔ یہ ان بزرگوں میں سے ہیں جن کی شان میں ”رجال صدقو اما عا ھدو اللہ علیہ “ نازل ہوئی ان کے زہد و ورع کو صحابہ ہمیشہ یاد کیا کرتے تھے ۔ رضی اللہ عنہ۔
75۔ معتب بن حمراءالخزاعی السلولیؓ
معتب بن عوف بن عمر بن عامر بن فضل بن عفیف بن کلیب بن حبیث بن سلول بن کعب بن عمرو بنو مخزوم کے حلیف ہیں ابو عوف کنیت تھی یہ مہاجرین حبشہ میں سے ہیں۔
مواخات میں یہ ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بھائی تھے بدر میں حاضر ہوئے بوقت انتقال 78سا ل کی عمر تھی طبری نے وفات 57ھ بتایا ہے ۔رضی اللہ عنہ
76 ۔ معمر بن ابی سرح بن ابی ربیعہ بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہرہ القرشی الفہری
بدر میں حاضر تھے 30ھ میں وفات پائی بعض نے ان کا نام بجائے معمر کے عمر تجویز کیا ہے۔ رضی اللہ عنہ
77۔ مہجع بن صالح المہاجر
مہجع بن صالح یمن کے باشندے ہیں یا بقول ابن ہشام قوم عک سے ہیں پکڑے گئے اور غلام بنا کر فروخت کئے گئے ۔ عمرفاروق نے ان کو خریدا اور راہ خدا میںآزاد کر دیاتھا۔
جنگ بدر کے دن مسلمانوں میں سے پہلے شہید یہی ہیں تبرکی زد سے شہید ہوئے۔ رضی اللہ عنہ
78۔ واقد بن عبداللہ تمیمی الیربوعیؓ
یہ خطاب بن نفیل کے حلیف تھے قدیم الاسلام ہیں۔ اس وقت اسلام لائے جبکہ نبی ﷺ نے دار ارقم میں تعلیم و تبلیغ شروع نہ فرمائی تھی۔
سلسلہ مواخات میں بشر بن براءبن معرور انصاری ان کے بھائی تھے۔
واقد اس سریہ میں شامل تھے جو امیر المومنین عبد اللہ بن حجش کی ماتحتی میں بھیجا گیا تھا ۔ عمرو بن الحضرمی کے قاتل بھی یہی ہیں ۔ قریش نے قتل حضرمی پر اس لئے احتجاج کیا تھا کہ اس روز یکم رجب تھی اوررجب احترام مسلمان بھی کرتے ہیں۔حضرمی پہلا شخص تھا جو مشرکین میں سے قتل کیا گیا تھا اور نبی ﷺ نے اس کی دیت ادا کی تھی۔
واقد رضی اللہ عنہ بدرو احد اور دیگر جملہ مشاہد میں ملتزم رکاب مصطفوی رہے۔ خلافت فاروقی میں وفات پائی۔ رضی اللہ عنہ
79۔ وہب بن محصن الاسدیؓ
یہ بنو خزیمہ میں سے ہیں عکاشہ بن محصن کے بڑے بھائی ہیں بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔ اپنی کنیت ابو سنان الاسدی سے معروف ہیں۔ بالاتفاق مسلم ہے کہ بیعت الرضوان میں سب سے پیشتر ابتدا انہوں نے کی تھی۔ نبی ﷺ نے پوچھا کس بات کی بیعت کرتے ۔ عرض کیا جس بات کی بیعت حضور ﷺ کو مطلوب ہے۔40سال کیعمر تھی جب انہوںنے دنیائے ناپئدار کو ترک فرمایا۔ اس وقت محاصرہ بنی قریظہ جاری تھا۔ رضی اللہ عنہ
80۔ وہب بن ابی سرح القرشی الفہریؓ
وہب بن ابی سرح بن ربیعہ بن ہلال بن مالک بن ضبہ بن حارث بن القریش ۔بدر میںمعہ برا اور خود عمرو بن ابی سرح حاضر تھے۔ رضی اللہ عنہ
81۔ وہب بن سعد بن ابی سرح القرشیؓ
وہب بن سعد بن ابی سرح بن حارث بن حبیب بن جذیمہ بن مالک بن حسل بن عامر بن لوی یہ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کے بھائی ہیں۔ حدیبیہ، بدر ، احد ، خندق ، خیبر میں موجود تھے۔ جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔ مواخات میں یہ اور سوید بن عمرو بھائی بھائی تھے۔ دونوں ہی موتہ کے دن شہید ہوئے رضی اللہ عنہ
82۔ ہلال بن ابی خولیؓ
ہلال بن ابی خولی (عمرو) بن زہیر بن خثمیہ الجعفی۔ یہ خطاب بن نفیل کے حلف ہیں بدر میں حاضرتھے۔ ان کے دو بھئای خولی اور عبید اللہ بھی بدری ہیں۔ رضی اللہ عنہ
83۔یزید بن رقیسﷺؓ
بن رباب بن یعمر۔ قہ بیلہ بنو اسد بن خزیمہ سے ہیں۔ بدر میں حاضرتھے۔ بعض نے ان کا نام ارید بن رقیش لکھا ہے جو صحیح نہیں ہے۔ رضی اللہ عنہ
84۔ابو حذیفہ بن عتبہ ؓ
ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف قریشی العبثیمی۔
ان کا نام مہشم یا ھشیم یا ہاشم بیان کیا گیا ہے۔ لمبا قد، خوبرو احول اثعل تھے۔ اثعل اسے کہتے ہیں جس کے دانت کی جڑ میں دوسرا دانت نکلا ہوا ہو۔
فضلاءصحابہ میں سے ہیں ابھی نبیﷺدارارقم میں داخل نہ ہوئے تھے کہ یہ اسلام لا چکے تھے۔ اول ہجرت حبشہ کی پھر مکہ میں آئے۔ پھر مکہ سے ہجرت مدینہ کی ان کی بیوی سہلہ بنت سہیل بن عمرہ نے ہجرت حبشہ میں ساتھ دیا تھا۔
بدر، احد، خندق، حدیبیہ غرض جملہ مشاہد میں ہمرکاب نبوی رہے۔ جنگ یمامہ میں بعمر 53سال شہادت پائی۔ رضی اللہ عنہ
85۔ابو سبرہ قرشی العامریؓ
ابو سبرہ بن ابور ہم بن عبد العزی بن ابو قیس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوی ۔
ہجرت حبشہ و ہجرت مدینہ سےم شرف ہوئے۔ یہ ام کلثوم بنت سہیل بن عمرو کے شوہر ہیں ان کی والدہ برہ بنت عبدالمطلب نبی ﷺ کی پھوپھی ہیں۔ بدر و احد اور جملہ مشاہد میں نبی ﷺ کے ہمرکاب رہے۔
مواخات میں مسلمہ بن سلامت بن انس انصاری ان کے بھائی تھے۔ رضی اللہ عنہ۔
ابوکبشہ مولیٰ رسول اللہ ﷺ
یہ فارسی النسل ہیں مکہ میں پیدا ہوئے غلام تھے۔ نبی ﷺ نے ان کو خریداا ور آزاد کر دیا۔ ان کا نام سلیم تھا۔
بدری ہیں جملہ دیگر مشاہد میں بھی نبی ﷺ کےساتھ ساتھ حاضر رہا کرتے تھے۔13ھ میں وفات پائی۔رضی اللہ عنہ
ابو واقد اللیثیؓ
بنول یث بن بکر بن عبد مناة میں سے ہیں۔ حارث نام ہے قدیم السلام ہیں۔ بدر میں حاضر تھے اور یوم الفتح کو بنو لیث و حمزہ و سعد بن بکر کا نشان ان کے ہاتھ میں تھا ۔ 75سال کی عمر میں مکہ معظمہ میں وفات پائی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
(حصہ پنجم تک بدری صحابہ کرام ؓ ہیں)

یہ بھی پڑھیں:  کاتب وحی:حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ