bilawal

جمہوری دور میں آمرانہ طریقے استعمال کیے جارہے ہیں:بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

پارلیمنٹ ہائوس میں ایسا لگ رہا تھا جیسے ممبر قومی اسمبلی قانون سازی کیلئے نہیں بلکہ لڑنے کیلئے آتے ہیںاور یہ سب کچھ ٹی وی کی سکرینوں کی زینت بھی بنا۔ پارلیمنٹ ہائوس ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں پر پوری دنیاسے لے پاکستان کے تمام مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اور مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔ ممبر قومی اسمبلی میں برداشت بھی اس لحاظ سے زیادہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ جب بات ہوگی تو ہر طرح کی ہوگی ، ہر کسی کو برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، لیکن برداشت جیسے ہم لوگوں نے ہر معاملے میں چھوڑ ہی دی ہے۔ عدم برداشت میں لگتا ہے جلد ہم اچھے نمبروں پر آنے والے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی اس ساری صورتحال کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ پریس کانفرنس بھی کی ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جمہوری دور میں آمرانہ طریقے اختیار کیے جارہے ہیں۔انہوں نے محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کل بھی مطالبہ کیا تھا کہ رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں لیکن آج حکومت نے جھوٹ بولا کہ میرا خط ان کو نہیں ملا۔2اراکین اسمبلی پولیس کی حراست میں ہیں ان کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں کیے گئے۔ ایوان کی کارروائی میں ایوان کے اصولوں خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی اپوزیشن رکن کو بولنے نہیں دیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بغیر کسی کو بتائے ججز کے خلاف ریفرنس دائر کیا جس کے لیے نہ تو عوام، نہ ہی ان کے منتخب کردہ اراکین اور نہ ہی ان ججز کو آگاہ کیا گیا جن کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ہے جس سے حکومت کی نیت واضح ہوتی ہے۔حکومت پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت مشرف کی باقیات ہیں جو آمرانہ دور واپس لانے کی کوشش کررہی ہے اور سلیکٹڈ عدلیہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں اعجاز شاہ کو جس طرح اپوزیشن اور عدلیہ کے خلاف استعمال کیا گیا آج مدینہ کی ریاست میں وہی طریقہ کار اپنایا جارہا ہے جس کی تمام اپوزیشن مذمت کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر کے تنازعہ کا حل یقینی بنانا سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے :وزیراعظم عمران خان