bilawal

علی وزیر کو فی الفور پروڈکشن آرڈر ملنے چاہیے:بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

بلاول بھٹو زرداری نے نیب میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے یہ حکومت چل نہیں پا رہی ۔ ان میں حکومت چلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ہمارے بزرگوں کامعاشی قتل ہو رہاہے۔ ہمارے بے روزگار نوجوانوں کا معاشی قتل ہورہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج بیہمانہ تشدد کیا گیا ہے۔ اپنی نالائقی چھپانے کیلئے حکومت اس قسم کا عمل کیاجاتا ہے۔ان کا کہنا تھا جہاں تک آج میری نیب کی پیشی کا تعلق ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اپنا موقف اپنا رکھا ہے۔ نیب کالا پانی ہے ، یہ ادارہ سیاسی انتقام کیلئے بنایا گیا ہے لیکن سب اعتراضات کے باوجود ہم چاہتے ہیں ادارے بنیں ، ادارے قانون کے مطابق چلیں ، ہم قانون کے مطابق اس کا سامنا کریں۔
نیب میں پیشی میں ہونے والے سوالوں کے متعلق کہتے ہیں کہ جس کمپنی کے بارے میں مجھ سے سوال کیا جارہا ہے مجھے اس وقت اس کا شیئر ہولڈر بنایا گیا تھا جب میں بچہ تھا۔ میں نے کسی بزنس میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ یہ بات سپریم کورٹ کو بھی پتہ ہے ۔ جن سوالوں کے جواب میں نیب میں دے سکتا تھا میں نے دئیے۔ نیب نے مجھے سوالنامہ دیا میں اپنے وکیلوں سے مشورہ کر کے ان سوالوں کاجواب بھی دوں گا۔ ہمارے اعتراضات ہیں۔ ہم محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے دور سے کہہ رہے ہیں یہ کالا قانون ہے ان اعتراضات کے باوجود ہم یہ پولیٹکل ویکٹم ازم بھگت رہے ہیں۔ سابق چیف جسٹس نے سوال کیا تھا کہ کس کے کہنے پر مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو زرداری کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔
ملکی صورتحال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں کوئی بیوروکریٹ کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔ لاہور کی یونیورسٹی چلانے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا، لاہور کے ہسپتال چلانے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ۔ ان کاکہنا تھا اس سے خوف پھیلتا ہے اور اس سے آپ کی پوری معیشت بیٹھ جاتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں نظر آرہاہے کہ اس حکومت کا رویہ وہی ہے جو مشرف کا تھا ۔ آج اسلام آباد میں یہ جو ہو رہا ہے تو باقی ملک میں کیا ہو رہا ہوگا۔ یہ رویہ مدینہ کی ریاست کا ہے کہ آپ روزہ میں خواتین کو گرفتار کرتے ہو ، خواتین پر تشدد کرتے ہو۔ حکومت چاہتی ہے کہ جج بھی سلیکٹٹ ہوں، سوال پوچھنے والے بھی سلیکٹٹ ہوں ۔ ہم دیکھ رہے ہیں جمہوریت پر حملے ہو رہے ہیں۔یہ حکومت نیب سے شروع ہوتی ہے اور نیب سے ہی ختم ہو تی ہے۔
شمالی وزیرستان میں رونما ہونے والے حالات کے متعلق جب ان سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا میں مطالبہ کررہا ہوں کہ علی وزیر کو فی الفور پروڈکشن آرڈر جاری ہونے چاہیے تاکہ وہ اپنا موقف عوام کے سامنے رکھ سکیں۔ وہ ممبر قومی اسمبلی ہیں۔ تاکہ ان کا موقف سامنے آسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  نواز شریف خود کو جیل حکام کے حوالے کرنے کیلئے روانہ