پاکستان کے ایٹمی پاکستان بننے کا دن28مئی 1998

EjazNews

28مئی 1998ءمیں پاکستان دنیائے اسلام کی پہلی ایٹمی ریاست کے طور پر متعارف ہوا۔ یہ ایٹمی طاقت ایک دن میں حاصل نہیں کی گئی اس میں ایک لمبا سفر ہے۔ جس میں ذوالفقار علی بھٹو، ضیاءالحق ، بےنظیر بھٹواور میاں نواز شریف اور ڈاکٹر عبدالقدیر کا کردار فراموش کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان سب نے اپنے اپنے ادوار میں اس ایٹمی پروگرام کو جاری و ساری رکھا اور صلاحیت کار میں اضافہ کیلئے کوشاں رہے۔
28مئی 1998ءکو پاکستان نے چاغی کے مقام پر 6دھماکے کیے تھے۔
آپ قسمت کی کرنی دیکھیں پاکستان کو ایٹمی صلاحیت بنانے والے سب کر دارو ں کے ساتھ کیا ہوا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو انڈیا ایٹمی قوت بن چکا تھا۔ دور اندیشن ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں ایٹمی پروگرام کی شروعا ت کی ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا، اس پروگرام کو فوجی حکمران ضیاءالحق نے بھی جاری و ساری رکھا اور اس کے لیے بھرپور فنڈز جاری کیے ان کا طیارہ حادثہ کا شکار ہوا اور وہ اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔ بے نظیر بھٹو نے بھی اس پروگرام کو جاری رکھا آج تک ہم نے کے قتل کی سازش کا پتہ چلانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے ، دھماکوں کے کچھ ہی عرصہ بعد نواز شریف جیل میں تھے اور قیاس کیا جارہا تھا کہ فوجی حکمران ان کو پھانسی دینا چاہتی ہیں لیکن برادر اسلامی ملک بیچ میں آکر ان کو اپنے ہاں لے گیا ۔10سال بعد جب وہ واپس آئے تو پھر لوگوں نے ان کو عزت دی ۔ وہ وزیراعظم پاکستان بنے اور آج کل جیل میں رہ کر مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان کے محسن سمجھے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ٹی وی سکرین کے سامنے لا کر ان سے معافی منگوائی گئی چہ جائیکہ ہر پاکستانی آج بھی ان سے اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی پہلے کرتا تھااور اس معافی کو زبردستی کی معافی کے زمرے میں لاتا ہے۔
ہمارے ہمسائے میں دو بڑے ممالک ہیں جو فوجی صلاحیتوں، معاشی لحاظ سے ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں اس کے باوجود کہ آزاد ہم اکٹھے ہوئے ہیں ۔ ایک ہمسایہ چائنہ ہمارا بہت اچھا دوست ہے جو ہر آڑے وقت میں ہمارا ساتھ دے رہا ہے اور دوسرا ہمسایہ بھارت ہمیں جنگی دھمکیاں دینے اور دنیا میں تنہا کرنے ،کئی لخت کرنے کے دن رات خواب بھی دیکھتے ہے اور کوششیں بھی کرتا ہے ۔ ایک مرتبہ وہ اس میں کامیاب بھی ہو چکا ہے ۔ اور پاکستان کو دو لخت کر چکا ہے۔
بڑے عرصے بعد یوم تکبیر ٹی وی کی سکرینوں اور اخباروں کی سرخیوں میں ہے ورنہ یہ دن منانا پاکستانی قوم بھول چکی تھی کیونکہ اس دن کے حوالے سے بہت سے یادگاریں بنا کر مختلف چوکوںمیں سجائی گئیں تھیں جسے گزری ہوئی حکومت نے ہٹوا دیا تھا ۔ اگر یہ دن منایا ہی جارہا ہے تو کیوں نہ عہد کیا جائے کہ سب مل کر اس ملک کیلئے کام کریں ،اپنے اپنے چھوٹے مفادات پر ملکی مفادکو عزیز رکھیں۔ قائداعظم نے ایک موقع پر فرمایا تھا آپ اپنے علاقے سے پیار کریں بہت اچھی بات ہے، آپ اپنے شہر سے پیار کریں بہت اچھی بات ہے لیکن سب سے بڑھ کر آپ پاکستان سے پیار کریں ۔آج ہم سب کو اس کی بڑی ضرورت ہے۔ دشمن کی سازشیں ہمیں پوری طرح سے گھیرے ہوئے ہیں ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ان سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ آج ہمارے گردونواح میں سازشوں کا ایسا جال بنا جارہا ہے جس سے ہم سب کو اپنے آپ کو اور اپنے ملک کو بچانا ہوگا ۔ ورنہ دشمن تو تیاریاں کیے بیٹھا ہے۔
آئیے یوم تکبیر کو یہ عہد کرتے ہیں کہ آج سے ہم اپنے اندر کی برائیاں ختم کریں گے۔ ایک مشہور قول ہے کہ یہ مت سوچو کہ وہ بھی برا ہے وہ بھی برا ہے میرے ایک کے اچھا کام کرنے سے کیا فرق پڑے گا بلکہ یوں سوچو کہ اتنے بروں میں سے ایک برا ختم ہو گیا ہے۔
آج پاکستان کو بڑی شدت کے ساتھ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کے باسی ذاتی، مقامی اور علاقائی اختلاف سے بالا تر ہو کر پاکستانی ہو جائیں۔
(الف سلیم)

یہ بھی پڑھیں:  صفائی نصف ایمان ہے