برقی مقناطیسیت آلات کے مضر اثرات

EjazNews

آج کے انسان اپنی زندگی کو آسان او سہل بنانے کے لئے جدید سے جدید ترین آلات تیار کئے ہیں اور تفریحی سرگرمیوں کے لئے بھی نت نئی ایجادات سامنے آتی رہتی ہیں۔ بعض برقی مقناطیسی آلات تو اس نوعیت کے ہیں جن کے بغیر ہم زندگی گزرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ سوال انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ہے کہ ان آلات کے انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیںاس ضمن میں امریکہ میں ہونے وال حالیہ تحقیق پر یقین کیا جائے تو یہ کافی دل ہلا دینے والی ہے۔ تاہم سائنس دانوں نے ان کے مضر اور نقصان دہ اثرات سے بچاﺅ کیلئے احتیاطی تدابیر بھی بتائی ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے ہم بہت حد تک انسانی صحت پر ہونے والے تباہ کن اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اسی لئے ہم نے اس باب میں خواتین کو اس سے آگاہ کرنا ضروری خیال کیاہے۔
ایک امریکی سائنسدان کے خیال میں برقی مقناطیسی آلات جن میں کلاک، ریڈیو، الیکٹرک شاور، ہیئر ڈرائرز، الیکٹرک کیتلی، رنگین ٹی وی، فریج، واشنگ مشین اور دیگر چیزیں شامل ہیں ان کا استعمال انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق برقی آلات کا صرف 5منٹ استعمال ڈپریشن ، سردرد، مزاج کی اچانک تبدیلی، پریشانی اور ارتکاز کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ برقی آلات آپ کے مدافعتی نظام کو بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں اور بیماریوں کو آپ کے جسم پر حملہآور ہونے کیلئے راہ ہموار کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ امریکی مطالعے کے مطابق ٹی وی یا موبائل فون نہ صرف آپ کی دماغی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ آپ کی مجموعی صحت بھی ان کے اثرات سے نہیں بچ پاتی۔
کلارک ریڈیو
محققین کا کہنا ہے کہ کلاک ریڈیو مختلف اقسام کی انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا آپ اسے اپنے سر سے کم ازکم 4فٹ کے فاصلے پر رکھیں ۔ اس سے کم فاصلہ آپ کی صحت کیلئے نقصان دہ ہے کیونکہ اس کی برقی مقناطیی رو انسانی جسم کو آسانی سے متاثر کرنے کی طاقت رکھتی ہے جس سے آپ کو بہت جلد تھکن ہو جائے گی اور دماغی کارکردگی بھی درست ہو جائے گی۔ بیٹری الارم اس کا اچھا نعم البدل ثابت ہو سکتا ہے۔
الیکٹرک شاور
محققین کے مطابق الیکٹرک شاور کے دیوار میں لگے ہوئے پلگ سے بھی ایسے اثرات باہر نکلتے ہیں تاہم ان کے ضرر رساں اثرات کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔ لہٰذا اسے کٹنگ ایج سے کم از کم ڈیڑھ انچ دور رکھیں کیونکہ اس کا استعمال آپ کے دفاعی نظام کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے میلا ٹونین (ایسے سیل جو جسم میں ہونے والی خلیات کی ٹوٹ پھوٹ کی قدرتی طورپر مرمت کرتے ہیں)کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ کینسر کے خلاف کام کرنے والے خلیوں کو بھی مارسکتے ہیں۔ کوشش کیجئے کہ بیٹری سے چلنے والا شاور استعمال کریں۔
ہیئر ڈرائیر
زیادہ کرنٹ ہی زیادہ ہیٹ پیداکرتا ہے۔ جب آپ ہئیر ڈرائیر کو نارمل رکھ کر بالوں کو ڈرائی کر رہے ہوتے ہیں تو 6سے 12انچ تک کا حلقہ برقی مقناطیسی لہروں کی زد میں ہوتا ہے لیکن بھرپور ہیٹ دینے کی صورت میں برقی رو کے اثرات کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس میں بھی میلا ٹونین سیلز متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا اسے صرف چند منٹ کیلئے ہی استعمال کریں۔ اس کے علاوہ شام 7بجے کے بعد ہیئر ڈرائیر کا استعمال بالکل نہ کریں۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ وقت میلا ٹونین کی پیداوار کا ہوتا ہے مزید برآں مختلف دھاتوں سے بنے بالوں کے کلپ بھی دماغی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں کوشش کریں کہ ان کا استعمال کم وقت کیلئے اور کم سے کم کیا جائے۔
الیکٹرک کیتلی
بجلی سے چلنے والی کیتلی اور روایتی جگ وغیرہ بھرپور برقی مقناطیسی اثرات پیدا کرنے کے حامل ہوتے ہیں۔ ان آلات میں گرم کی جانے والی اشیاءکی سالماتی ساخت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ بعض افراد پر ان کا رد عمل بڑا شدید ہوتا ہے اور ممکن ہے وہ سر درد، آنکھوں کے امراض یا کسی اعصابی مرض کا شکار ہو جائیں ۔ لہٰذا کپ ، مگ یا گلاس وغیرہ میں پانی گرم کریں کیونکہ ان سے برقی مقناطیسی حیثیت بے اثر ہو جاتی ہے اور ان میں گرم کی جانے والی چیزوں کی سالماتی ساخت بھی تبدیل نہیں ہوتی۔
کلائی گھڑی
محققین کے مطابق گھڑی کے میکنزم سے نکلنے والی مقناطیسی لہریں نبض کی طرح ہماری کلائی کی جلد پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں اور اگر کوئی شخص 24گھنٹے سے زائد گھڑی کلائی پر باندھے تو وہں پر سرخ دھبہ پڑ جاتا ہے اور جلد پر خارش ہونے لگتی ہے۔ تاہم ڈاکٹر ابھی تک گھڑی کی مقناطیسی حیثیت کے مضر اثرات کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیفین: صحت بخش جز ،حقائق کی روشنی میں

واشنگ مشین
واشنگ کا شمار بھی بہت زیادہ برقی مقناطیسی حیثیت رکھنے والے آلات میں ہوتا ہے۔ خاص طور پر بچے اس سے جلد متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب بھی آپ واشنگ مشین چلائیں بچوں کو اس سے دور رکھیں۔ ہو سکے تو اسے اسوقت لگائیں جب بچے گھر پر نہ ہوں یا پھر را ت کا وقت بہتر رہے گا۔ خاص طور پر اس وقت اس کے زیادہ قریب نہ ٹھہریں جب آپ نے کپڑے خشک کرنے والا ڈرائیر چلا رکھا ہو کیونکہ اس دوران مشین کا برقی مقناطیسی میدان باہر بڑھ جاتا ہے اس کے علاوہ یہ فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے۔
فریزر یا فریج
فریزر یا فریج کی موٹر بھی بڑی مقدار میں برقی مقناطیسی لہریں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب فریج یا فریزر کو فل رکھ کر چلایا جارہا ہو تا ہم کم رکھنے کی صور تمیں اس کا متاثر کرنے والا حلقہ کم ہو جاتا ہے۔ فریج یا فریزر کوکچن سے دور رکھیں ۔ کوشش کریں کہ انہیں ایسی جگہ رکھا جائے جہاںدرجہ حرارت نارمل ہو۔
ویکیوم کلینر
قالین وغیرہ کی صفائی کرتے وقت اس چیز کا خیال رکھیں کہ تار اور موٹر آپ سے فاصلے پر رہے۔ اس کی موٹر سے بھی شدید نوعیت کی برقی مقناطیسی لہریں خارج ہوتی ہیں۔ خاص طور پر اس کے ہینڈل کے قریب ان کے اثرات زیادہ ہوتے ہی۔ جو پہلے ہاتھوں پر اور پھر جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
برقی کھمبے
یہ تایرں ہی ہیں جو برقی مقناطیسی رکھتی ہیں اور اس کا انحصار اس برقی رو پر ہوتا ہے جو تاروں میں دوڑائی جاتی ہے زیادہ وولٹیج کی تار میں عام تار کی نسبت کہیں زیادہ برقی مقناطیسی قوت ہوتی ہے۔ برسٹل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق ہائی ٹرانسمیشن کی لائنیں فضائی تابکاری کا باعث بنتی ہیں۔ خصوصاً تیز ہواﺅں کے چلنے اورب ارش کے باعث ان کے اثرات انسانوں تک پہنچ جاتے ہیں ان ذرات میں کینسر پیدا کرنے والے اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ جو 5سوو گز تک اپنا اثر کرتے ہیں۔ اگر آپ ان ہائی ٹرانسمیشن لائنوں کے پا س رہتے ہیں اور یہ فاصلہ 25سے 250گز کے درمیان ہے تو آپ ان کے مضر اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
فون
فون کے بارے میں محققین کی رائے انتہائی ڈرا دینے والی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ فون کے زیادہ استعمال سے سر درد، جلدی خ ارش، یادداشت کی کمزوری، گردن کا درد، ارتکاز کی کمی یہاں تک کہ رسولی، کینسر اور دیگر خطرناک امراض بھی لاحق ہو سکتے ہیںخصوصاً ڈیجیٹل کارڈ لیس اور موبائل فون اس ضمن میں زیادہ لمبی باتیں آپ کی صحت کیلئے نقصان دہ ہیں ۔ سائنسدانوں نے مزید اس بات پر زور دیا ہے کہ بچوں کو موبائل فون اور کارڈ لیس سے خاص طور پر دور رکھیں ان سے نکلنے والی برقی لہریں بچوں پر بہت جلد اپنا اثر ڈالتی ہیں۔
فوٹو سٹیٹ مشین
فوٹو کاپی کی موٹر بھی بڑی مقدار میں برقی مقناطیسیت لہریں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اسے استعمال کرتے ہوئے کم از کم موٹر سے 20انچ دور رہیں۔

کمپیوٹر
اگرچہ جدید کمپیوٹر کو بناتے وقت اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا گیا کہ وہ کم سے کم برقی مقناطیسیت میدان کا حامل ہو لیکن اس معاملے میں پھر بھی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ بلا وجہ کمپیوٹر کے سامنے مت بیٹھے رہا کریں۔ خصوصا ً سکرین کے بالکل قریب چہر ہ نہ رکھیں ۔ جب بھی آپ کمپیوٹر خرید کرلائیں اس کے ساتھ ملنے والی معلوماتی کتاب کا ضرور مطالعہ کریں۔ کمرے کا درجہ حرارت نارمل رکھیں ہوسکے تو ناگ پھنی (تھوہر) کے پودوں کو کمپیوٹر والے کمرے میں رکھیں۔ اس سے کمرے کی فضا بہتر رہے گی اور فضائی تابکاری کے اثرات کم سے کم رہیں گے۔ کیونکہ تھوہر کے پودے میں برقی مقناطیسی شعاعوں کو جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
ورزشی آلات
ورزش کرنے والی مشین عام طور پر بہت کم برقی مقناطیسی اثرات کی حامل ہوتی ہے تاہم بعض مشینوں کی موٹر زیادہ پاور کی ہوتی ہے۔ کوشش کریں کہ ایسی مشینوں کو کم سے کم استعمال کریں کیونکہ ان میں سے بھی خاص برقی مقناطیسیت ہوتی ہے۔ جو کمرے کے ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے۔
مائیکرو ویو
مائیکرو ویو مختلف قسم کی شعاعیں خارج کرتا ہے تب جا کر کھانا تیار ہوتا ہے یہ شعاعیں اتنی تیز ہوتی ہیں کہ شیشے کے دروازے سے بھی گزرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اپنےاوون کو وقتاً فوقتاً کسی ماہر سے چیک کرواتے رہیں کہ کوئی چیز خراب تو نہیں ہے اور کھانا پکانے کے دوران اوون سے کم از کم گزکے فاصلے پر کھڑے ہوں۔ کھانا پکانے کے بعد تین سے چار منٹ تک کھانا مت کھائیں تاکہ مائیکرو ویو کی شعاعوں سے خارج ہونے والے آزاد ریڈیکلز فضا میں جذب ہو سکیں۔
ٹی وی
رنگین ٹی وی بلیک اینڈ وائٹ ٹی کے مقابلے میں کہیں زیادہ برقی مقناطیسی شعاعیں خارج کرتا ہے۔ جتنی دیر ٹی وی چلتا ہے کمرے میں برقی مقناطیسیت بھتی جاتی ہے چنانچہ ٹی وی سکرین سے کم از کم ایک گز کا فاصلہ برقرار رکھیں اور خاص طو پر بچوں کو توٹی وی سکرین سے ایک گزکے فاصلے پر بھی ہرگز بیٹھنا نہیں چاہئے۔ فی وی بالخصوص اپنی پچھلی جانب برقی شعاعوں کا اخراج کرتا ہے اور اس میں ایکسرے شعاعیں بھی شامل ہوتی ہیں جو انسانی صحت پر اثر ات مرتب کرسکتی ہیں کیونکہ ٹیلی ویژن غیر حرکت پذیر بجلی پیدا کرنے کاب ھی سبب بنتا ہے۔ یعنی اس میں بجلی جمع رہتی ہے اس لئے ٹی وی والے کمرے میں کھڑکی کھلی رکھنی چاہئے۔
بے بی الارم
بیٹری سے چلنے والا الارم عام طور پر کسی قسم کی برقی مقناطیسی اثرات پیدا نہیں کرتا تاہم بجلی سے چلنے والا الارم بڑی مقدار میں بڑی مقناطیسی اثرات رکھتا ہے اس لئے یہ الارم کم از کم بچے کے بستر سے ایک گز دور رکھیں۔ کوشش کریں کہ بچے کو جلد سلا دیا جائے تاکہ وہ اپنی فطری نیند لے کر خود بیدار ہو۔ بہر حال ایسے الارم خریدنے سے گریز کرنا چاہئے جن سے ریڈیائی شعاعیں خارج ہوتی ہوں۔
دھاتی بیڈ
مختلف دھاتوں اور اسپرنگ سے بنےبیڈ عام استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم امریکن ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق ایسے بیڈ بے خوابی، کوفت اور بیزارگی کا سبب بن سکتے ہیں۔ لہٰذا بغیر اسپرنگ اور قدرتی لکڑی کے بنے بیڈ استعمال کریں۔ اس کے علاوہ آپ کا بیڈ بجلی کے آلات سے کم از کم تین فٹ دور ہونا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نوجوانوں کی ذہنی صحت پورے معاشرے کیلئے اہم ہوتی ہے
کیٹاگری میں : صحت