hazrat ali mazar

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ

EjazNews

امیر المومنین حضرت علی ؓ کا خاندان نہایت معزز اور محترم تھا کیونکہ یہ حضر ت محمدﷺ کا اپنا خاندان تھا اور آپﷺ نے اپنے خاندان کے بارے میں فرمایا تھا:
’’اللہ نے اولاد اسماعیلؑ میں سے کنعانہ اور کنعانہ سے قریش کو اور قریش سے بنی ہاشم کو چن لیا اور ہاشم میں سے مجھ کو برگزیدہ کیا۔‘‘
حضرت علی ؓ کا شجرہ نصب کچھ اس طرح ہے۔ ’’علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد المناف بن قصی بن کنعانہ بن مرہ بن کعب۔ آپ کے والد کا نام ابو طالب اور والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ تھا جو ابوطالب کی چچا زاد بہن تھیں، لہٰذا حضرت علیؓ کی والدہ کاشجرہ نصب وہی ہے جوان کے والدہ کا تھا۔ اس لحاظ سے حضرت علیؓ نجیب الطرفین ہاشمی تھے ۔آپ ؓکے خاندان بنو ہاشم کو قریش میں خاص مقام حال تھا۔ آپ ؓکا نام علی کنیت ابو الحسن اور ابو تراب تھی۔ آپ ؓنبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے۔ آپ ؓکا قد چھوٹا بدن دہرا تھا۔ سر کے بال کسی قدر اڑے ہوئے ،باقی تمام جسم پر بال تھے۔ رنگ گندمی گوداڑھی گھنی اور لمبی تھی۔
بچوں میں سب سے پہلے حضرت علیؓ اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ آپ ؓان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے قرآن مجید کو جمع کر کے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ آپ ؓنے ابتدائی عمر سے کبھی بتوں کی پرستش نہیں کی ۔ نبی کریم ﷺ نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو آ پؓ کو مکہ میں اس لڑے چھوڑے گئے کہ تمام امانتیں لوگوں کو پہنچا دیں۔ حضور اکرم ﷺ کے اس حکم کی تعمیل کے بعد آپ ؓبھی ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے تھے۔
سوائے جنگ تبوک کے اور تمام لڑائیوں میں حضرت علیؓ حضور ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے۔ جنگ تبوک کے لئے جاتے ہوئے حضور اکرم ﷺ نے آپ ؓکو مدینہ کا عامل یعنی قائم مقام بنا دیا تھا۔
جنگ احد میں حضرت علیؓ کے جسم مبارک پر سولہ زخم آئے تھے۔ جنگ خیبر میں آپ ؓنے وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے جو کسی عام آدمی کے بس کا روگ نہ تھا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر حضور اکرم ﷺنے حضرت علی ؓ کو مدینہ میں رہنے کا حکم دیا تو حضرت علی ؓ نے فرمایا
’’آپ ﷺ مجھ کو بچوں اور عورتوں پر خلیفہ بنا کر چھوڑے جاتے ہیں۔‘‘
جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا ’’کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ میں تم کو اس طرح چھوڑ جاتا ہوں جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام ہارون ؑ کو چھوڑا تھا۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘
ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ’’جس کا میں دوست ہوں ، اس کے علی ؓ بھی دوست ہیں۔‘‘
پھر فرمایا۔ ’’الٰہی جو شخص علیؓ سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو علیؓ سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ۔‘‘
ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’ میں علم کا شہر ہوں تو علیؓ اس کا دروازہ ہیں۔‘‘
حضرت عمر فاروق ؓکا قول ہے کہ ہم سب میں حضرت علیؓ زیادہ معاملہ فہم ہیں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے حضرت علیؓ کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ : ’’علی ؓ سے زیادہ سنت کا اب کوئی واقف نہیں رہا۔‘‘
حضرت عمار بن یاسر ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا۔ ’’وہ شخص شکی ترین ہیں ایک احمد جس نے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹیں اور دوسرا وہ شخص جو تیرے سرپر تلوار ما رکر تیری داڑھی کو جسم سے جدا کر دے گا۔‘‘
حضرت علیؓ جب بصرہ تشریف لے گئے تو قیس بن عبادہ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے آپؓ سے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے بعد تم خلیفہ بنائے جائو گے۔ لہٰذا ہم آپ ہی سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے۔ یہ سن کر حضرت علیؓ نے فرمایا:
’’یہ بلکل غلط ہے ۔ حضور ﷺ نے مجھ سے کوئی وعدہ نہیں فرمایا تھا۔‘‘ آپؓ نے مزید فرمایا ’’بات یہ ہے کہ جب حضور ﷺ کی علالت نے طول کھینچا تو ایک روز مؤذن نے حاضر ہو کر آ پﷺ کو نماز کے واسطے بلایا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ابوبکر ؓ کو لے جائو وہ میری جگہ نماز پڑھائیں گے۔لیکن حضرت عائشہ ؓ نے آپ کو اس ارادے سے باز رکھنا چاہا تو حضور ﷺ نے غصے اور خفگی کی حالت میں فرمایا:
’’تم حضرت یوسف ؑ کے زمانے کی سی عورت ہو۔ ‘‘ لہٰذا فرمایا ’’حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی کو لے جائو۔‘‘
حضرت علیؓ مزید فرماتے ہیں کہ’’جس دن حضور ﷺ نے وفات پائی تو ہم نے اپنی جگہ غور کیا تو اس شخص کو اپنی دنیا کے لئے بھی قبول کرلیا جس کو حضور ﷺ نے ہماے دین کے واسطے انتخاب فرمایا تھا کیونکہ اسلام اصل دین ہے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کیونکہ دین کے امیر اور دنیا کو قائم رکھنے والے۔ پس ہم نے ابوبکر صدیقؓ کو مستحق سمجھ کر ان سے بیعت کرلیاور اسی لئے کسی نے بھی اختلاف نہ کیا۔ کسی نے کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ بھی نہیں کیا۔ نہ کوئی حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بیزار ہوا۔ لہٰذا میں نے بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا حق ادا کیا۔ ان کی اطاعت کی ان کے لشکر میں شامل ہو کر ان کی طرف سے لڑا۔ وہ جو کچھ مجھے دیتے تھے لے لیتا تھا۔ جہاں کہیں مجھے لڑ نے کا حکم دیتے تو میں لڑتا تھا اور ان کے حکم سے حد شرع لگاتا تھا۔
جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتقال ہوا تو وہ حضرت عمر ؓ کو خلیفہ بنا گئے ۔ میں نے حضرت عمر ؓ کے ساتھ بھی وہی برتائو کیا اور ان کے ساتھ اسی طرح پیش آیا جس طرح حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ پیش آیا۔ جب حضرت عمر ؓ کا انتقال ہوا تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میری اسلام میں پیش قدمی اور قرابت داری اور دوسری خصوصیات کو دیکھتے ہوئے حضرت عمر ؓ میری خلافت کا حکم دے جا ئیں گے۔
لیکن وہ ڈرے کہ کہیں ایسے شخص کا انتخاب نہ کر جائیں جس کا انجام اچھا نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے اپنے نفس کے ساتھ اپنی اولاد کو بھی خلافت سے محروم کر دیا، اگر حضرت عمر ؓ بخشش و عطا کے اصول پر چلتے تو اپنے بیٹے سے بڑھ کر کسی کو خلافت کا مستحق نہ سمجھتے۔‘‘
آپؓ مزید فرماتے ہیں:
’’غرض انتخاب قریش کے ہاتھ میں آیا جن میں ایک میں بھی تھا۔ جب لوگ انتخاب کے لئے جمع ہوئے تو میں نے خیال کیا کہ وہ مجھ سے تجاوز نہ کریں گے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے ہم سے وعدے لئے کہ جو کوئی خلیفہ منتخب کیا جائے گا۔ ہم اس کی اطاعت کریں گے پھر انہوں نے حضرت عثمان ؓ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اب جو میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ مجھ سے جو وعدہ لیا گیا تھا وہ غیر کی اطاعت کے لئے ،لہٰذا میں نے عثمان ؓ سے بیعت کرلی اور ان کے ساتھ میں نے وہی سلوک کیا ،اسی طرح پیش آیا جس طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر ؓ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ جب ان کا انتقال ہوگیا تو میں نے خیال کہ وہ لوگ تو گزر گئے ہیں جن کو حضور ﷺ نے ہمارا امام بنایا تھا اور وہ بھی گزر گئے جن کے لئے مجھ سے وعدہ لیا گیا تھا تو میں بیعت لینے پر آمادہ ہوگیا۔
ایک شخص نے حضر ت علی ؓ سے دریافت کیا کہ آپ ؓنے ایک خطبے میں کہا تھا کہ الٰہی ہم کو ویسی ہی صلاحیت عطا فرما جیسی تو نے خلفائے راشدین کوفرمائی تھی تو آپؓ کے نزدیک وہ خلفائے راشدین کون تھے ؟
یہ سن کر حضرت علیؓ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور کہنے لگے:
’’وہ میرے دوست حضرت ابوبکر ؓو حضرت عمر ؓہیں ۔ دونوں امام الہدیٰ اور شیخ السلام تھے۔ قریش نے حضور ﷺ کے بعد ان دونوں کی پیروی کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی انہوں نے نجات پائی اور جو لوگ ان کے راستے پر پڑ گئے وہی گروہ خدا ہیں۔‘‘
حضرت علی ؓ جہاں صاحب علم ،صاحب فراست تھے وہاں ان کے عدل اور ان کی سوجھ بوجھ کا بھی کوئی ثانی نہ تھا ۔
ایک مرتبہ دو آدمی کھانا کھانے بیٹھے ان میں سے ایک کے پاس پانچ روٹیاں تھیں۔ دوسرے کے پاس تین ،اتنے میں ایک اور آدمی آگیا اور دونوں نے اس کو اپنے ساتھ کھانے پر بٹھا لیا جب وہ تیسرا آدمی کھانا کھا کر چلنے لگا تو اس نے آٹھ درہم دونوں کو دے کر کہا
’’جو کچھ میں نے کھایا ہے یہ اس کے عوض میں سمجھو۔‘‘
اس کے جانے کے بعد ان دونوں میں درہم کی تقسیم میں جھگڑا ہوا ۔ پانچ روٹیو ں والے نے دوسرے سے کہا۔ ’’ میں پانچ درہم لوں گا اور تجھ کو تین ملیں گے کیونکہ تیری روٹیاں تین تھیں۔
تین روٹیوں والے نے کہا ’’ میں نصف سے کم پر ہرگز راضی نہ ہوں گا یعنی چار درہم لے کر چھوڑوں گا۔‘‘اس جھگڑے نے یہاں تک طول کھینچا کہ وہ حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؓ نے ان دونوں کا بیان سن کر تین روٹیوں والے کو مخاطب کر کے فرمایا:’’تین درہم تم کو زیادہ مل رہے ہیں۔ بہتر ہے تم رضا مند ہو جائو۔‘‘
اس نے کہا ’’جب تک میری داد رسی نہ ہوگی میں کیسے راضی ہو سکتا ہوں۔‘‘ اس پر حضرت علی ؓ نے فرمایا ۔’’پھر تیرے حصے میں صرف ایک درہم آئے گا۔‘‘
یہ سن کر اس کو بہت تعجب ہوا اور کہنے لگا۔ ’’آپ بھی عجیب قسم کا انصاف کر رہے ہیں ذرا مجھ کوسمجھا دیجئے گا کہ میرے حصے میں صرف ایک درہم اور اس کے حصے میں سات درہم کیسے آتے ہیں؟‘‘
جواب میں حضرت علی ؓ نے فرمایا۔ سنو! ’’کل آٹھ روٹیاں تھیں اور تم تین آدمی تھے۔ چونکہ تین آدمی آٹھ روٹیوں پر مساوی تقسیم نہیں ہوتے ۔ لہٰذا ہر ایک روٹی کے تین ٹکڑے قرار دے کر کل چوبیس ٹکڑے سمجھو یہ تو نہیں معلوم ہو سکتا کہ کس نے کم کھایا اور کس نے زیادہ۔ لہٰذا یہی فرض کرنا پڑے گا کہ تینوں نے برابر کھانا کھایا ہے اور ایک شخص نے آٹھ آٹھ ٹکڑے کھائے۔ تیری روٹیوں کے نوٹکڑوں میں سے ایک تیسرے شخص نے کھایا اور آٹھ تیرے حصے میں آئے اور تیرے ساتھی کی پانچ روٹیوں کے پندرہ ٹکڑوں میں سے سات اس تیسرے شخص نے کھائے اور آٹھ تیرے ساتھی کے حصے میں آئے چونکہ تیرا ایک ٹکڑا اور تیرے ساتھی کے سات ٹکڑے کھا کر اس نے آٹھ درہم دئیے لہٰذا ایک درہم تیرا اور سات درہم تیرے ساتھی کے ہیں۔‘‘
یہ سن کر اس نے کہا’’ہاں اب میں راضی ہوں۔‘‘
پانچ سال خلافت کر نے کے بعد 21رمضان المبارک کوتریسٹھ سال کی عمر میں آپ ؓ اس عالم فانی سے شہادت کا جام نوش کر کے کوچ کر گئے۔
ایک موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا! ’’علیؓ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔
جب آپؓ بستر شہادت پر تھے تو آپ ؓکے قاتل کی سزا کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ اگر میں زندہ رہ گیا تو میں جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے لیکن اگرمیں جاںبر نہ رہ سکا تو تمہارے اختیار میں ہے اگر تم قصاص لینا چاہو تو اس کی ایک ضربت کے بدلے ایک ہی ضرب مارنا، لیکن اگر معاف کرو تو یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلامی نقطہ نظر سے نیک صحبت کے فوائد