فتح مکّہ تاریخ ساز اور فیصلہ کن معرکہ

EjazNews

17رمضان 2ہجری کو غزوئہ بدر کے محیّرالعقول معرکے میں تاریخ ساز کامیابی کے بعد اس بات کا امکان پیدا ہوچلا تھا کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد مکّے کو بھی مسلمانوں کے زیرِنگیں کردے گا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ غزوئہ بدر کے صرف چھ برس بعد ہی سرکارِ دوعالم، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی و سربراہی میں مسلمانوں نے کرئہ ارض پر وہ عظیم الشان انقلاب برپا کردیا کہ جس کی نظیر تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ صلحِ حدیبیہ کی مسلسل عہد شکنی کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے فیصلے کا اعلان کردیا اور 10رمضان المبارک 8ہجری کو آپؐ 10ہزار صحابہ کی عظیم الّشان فوج لے کر بہ نفسِ نفیس مکّے کی جانب روانہ ہوئے۔ 16رمضان المبارک کو آپؐ نے مکّے سے کچھ فاصلے پر وادئ ’’مرالظہران‘‘ پہنچ کر قیام فرمایا۔ جنگی حکمتِ عملی کے تحت آپؐ نے حکم دیا کہ سب الگ الگ آگ روشن کریں۔ اس عمل سے پورا صحرا روشن و منور ہوگیا۔ قریش کو جب مسلمانوں کی آمد کی اطلاع ملی، تو انہوں نے تحقیق کے لیے اپنے سردار، ابوسفیان کو روانہ کیا۔ جب ابوسفیان نے رات کی تاریکی میں مکّے کے دشت و جبل کو روشنی سے منور دیکھا، تو شدتِ حیرانی میں بے اختیار کہہ اٹھا۔’’خدا کی قسم! میں نے آج جیسی روشنی اور ایسا روشن لشکر کبھی نہ دیکھا۔‘‘
منگل17 رمضان کی صبح، رسول اللہؐ نے فوج کو کوچ کا حکم دیا اور آپؐ وادئ ’’زی طویٰ‘‘ پہنچے۔ یہاں آپؐ نے لشکر کی ترتیب و تقسیم فرمائی۔ ابو سفیان نے پہلے ہی اہل ِقریش کو مسلمانوں کی ایک عظیم فوج کی آمد کی اطلاع دے دی تھی۔ اس اطلاع سے کفّارِ قریش بدحواس ہو کر ڈر کے مارے اپنے گھروں میں قید ہوگئے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور حکم کے مطابق، مسلمان تین طرف سے مکّے میں داخل ہوئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ، مکّے کے زیریں حصّے سے اندر داخل ہوئے اور قریش کے اوباش نوجوانوں سے نبرد آزما ہوتے اور مکّے کی گلی کوچوں کو روندتے ہوئے کوہِ صفا پہنچے۔ حضرت ابو عبیدہؓ پیادہ پر مقرر تھے، وہ وادئ بطن کے راستے مکّے میں داخل ہوئے۔ حضرت زبیرؓ، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علَم بردار تھے، انہوں نےرسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق، حجون میں مسجدِ فتح کے پاس علَم نصب کیا اور وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ کچھ توقف کے بعد آپؐ انصار و مہاجرین کے بہت بڑے جَلو کے درمیان مسجدِ حرام کی جانب بڑھے۔ اللہ کی شان نرالی ہے، جس مکّے سے8سال قبل آپؐ کو رات کی تاریکی میں ہجرت پر مجبور کردیا گیا تھا، آج اسی مکّے میں حکمراں کی حیثیت سے داخل ہو رہے ہیں۔ آپؐ نے آگے بڑھ کر حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ بیت اللہ کے گرد اور چھت پر360بت تھے، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کمان تھی، آپؐ اس کمان سے بتوں کو ٹھوکر مارتے جاتے اور کہتے جاتے تھے۔’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ باطل مٹنے ہی کی چیز ہے۔‘‘ آپؐ کی ٹھوکر سے تمام بت زمیں بوس ہوگئے۔ ان میں بت پرستوں کا مرکزی بت ’’ہبل‘‘ بھی تھا، جسے انسانی صورت میں یاقوتِ احمر سے بنایا گیا تھا۔ اس کام سے فارغ ہوکر آپؐ نے طوافِ کعبہ کیا، پھر کعبے کے کلید بردار، حضرت عثمان بن طلحہؓ سے چابی لے کر کعبہ شریف کا دروازہ کھولا، اندر دیواروں پر حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ کی خود ساختہ تصاویر تھیں، آپؐ نے انہیں مٹانے کا حکم دیا۔ پھر آپؐ اندر تشریف لے گئے، نوافل ادا کیے اور دیر تک ذکر و اذکار کرتے رہے۔ جب باہر آئے، تو دیکھا کہ سامنے ہجومِ عام جمع ہے، جو شرمندہ چہروں کے ساتھ اپنی قسمت کا فیصلہ سننے کے لیے بے تاب ہے۔ ان میں سردارِ مکّہ بھی ہیں، امراء و رئوسا بھی کہ جن کے ہاتھ معصوم مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، ان میں وہ بھی ہیں، جو حضورؐ کی راہ میں کانٹے بچھاتے، ایڑیوں کو پتھروں سے لہولہان کرتے، گلے میں رسّا ڈال کر کھینچتے، تپتی ریت میں مسلمانوں کو لٹا کر جسموں کو آگ میں دہکتی سلاخوں سے داغتے۔اس روزوہ سب حضورؐ کی نگاہوں کے سامنے تھے۔ ہر شخص اپنے بدحواس وجود کے ساتھ ایک سخت سزا کا منتظر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب شروع کیا! ’’اے قریش کے لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟‘‘ اگرچہ وہ ظالم اور بے رحم لوگ تھے، لیکن مزاجِ نبیؐ سے واقف تھے۔ پکار اٹھے کہ ’’آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔‘‘ جواباً رحمتہ للعالمین کی آواز نے فضا میں پھول بکھیردیئے۔ ’’تم پر آج کچھ گرفت نہیں، جائو تم سب آزاد ہو۔‘‘ ہجرت کے وقت حضورؐ کے گھر کا محاصرہ کرنے والے چودہ سرداروں میں سے گیارہ غزوئہ بدر میں جہنّم رسید ہوچکے تھے، تین غیرحاضری کی وجہ سے زندہ بچ گئے تھے۔ آج وہ بھی اپنی قسمت کا فیصلہ سننے کے لیے سر جھکائے ہمہ تن گوش تھے۔ اللہ کے رسولؐ نے جب ان تینوں یعنی ابوسفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور جبیر ابن مطعم کا نام لیا، تو مجمعے کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ ہر شخص کو ان کے بھیانک انجام کا یقین تھا۔ پھر محسنِ انسانیتؐ کی آواز نے سکوت توڑا۔ ’’ان تینوں کو بھی امان دی جاتی ہے اور جو حرمِ کعبہ کی دیوار کے سائے میں بیٹھ جائے، اسے بھی امان ہے، جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے، اسے بھی امان ہے، جو ہتھیار پھینک دے، اسے بھی امان ہے۔‘‘ قریش کے سب سرداروں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے، لیکن ابوجہل کا بیٹا، عکرمہ فتحِ مکّہ کے وقت یمن فرار ہوگیا تھا۔ عکرمہ کی بیوی اپنے بچّوں کے ساتھ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس کے لیے امان طلب کی۔ آپؐ نے اسے بھی امان دے دی۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی کنجی حضرت عثمان بن طلحہؓ کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’یہ اب ہمیشہ تمہارے پاس ہی رہے گی۔ اللہ نے تم لوگوں کو اپنے گھر کا امین بنایا ہے۔‘‘ نماز کا وقت ہوچکا تھا۔ رسول اللہؐ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ کعبے کی چھت پر چڑھ کر اذان دو، اور پھر روحِ اذانِ بلالی سے مکّے کے پہاڑوں سمیت ساری فضا جھوم اٹھی۔ نماز سے فارغ ہوکر حضورؐ، امّ ہانیؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں آپؐ نے غسل فرمایا اور آٹھ رکعت نمازِ شکرانہ ادا فرمائی اور اس طرح رمضان المبارک میں فتحِ مکّہ کے اس تاریخ ساز اور عظیم معرکے نے جزیرئہ عرب سے بت پرستی کا مکمل خاتمہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:  بیمار اور قریب الموت کے پاس بیٹھنا