ہیپاٹائٹس اے (پیلا یرقان) کی آگاہی سے متعلق خصوصی تحریر

EjazNews

یہ ایک انفکشن ہے جو جگر کو متاثر کرتی ہے۔اس کی وجہ ایک وائرس ہوتا ہے جس کو ہیپاتائٹس اے وائرس کہتے ہیں۔اس کے یعنی ہیپاٹائٹس اے کی وجہ سے عام طور پر یا تو کوئی علامت نہیں ہوتی یا پھر بہت کم علامات ہوتی ہیں، خاص طور پر نوجوانوں میں۔اور جب علامات سامنے آ جائیں تو عام طور پر آٹھ ہفتوں تک جاری رہنے والی ہوا کرتی ہیں۔

علامات اور نشانیاں
اس انفکشن کی ابتدائی علامات اکثر انفلوئنزا سے ملتی جلتی ہوتی ہیں لیکن عام طور پر بچوں میں کوی خاص علامت نہیں ہوا کرتی۔انفکشن لگنے اور علامات کے ظاہر ہونے میں عام طور پر دو تا چھ ہفتوں کا وقفہ ہوا کرتا ہے اور اوسطا یہ وقفہ ۲۸ دن کا ہوتا ہے ۔اصل میں علامات اور عمر کے درمیان براہ راست تعلق پایا جاتا ہے یعنی بالغ اور عمر رسیدہ لوگوں میں ذیادہ تر علامات موجود ہوتی ہیں جبکہ بچوں میں عام طور پر علامات نہیں ہوا کرتیں۔علامات ذیادہ تر دو ماہ سے کم رہتی ہیں لیکن کبھی کبھی یہ چھ ماہ تک بھی جاری رہ سکتی ہیں۔

علامات میں تھکن،بخار،متلی،بھوک نہ لگنا،یرقان،پیشاب کا پیلا اور گہرے رنگ کا ہونا،دست لگنا،پیٹ میں درد،مٹیالے رنگ کا پاخانہ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔دوسری جسمانی علامات میں جوڑوں کا درد،خون کے سرخ خلیات میں کمی،لبلبے کی سوزش،لمف نوڈز کی سوزش وغیرہ ہو سکتی ہیں۔بہت کم اس بات کے امکانات بھی ہوتے ہیں کہ گردے فیل ہو جائیں یا دل کی بیرونی جھلی کی سوزش ہو جائے۔اسی طرح جگر فیل ہونے کا امکان بھی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اگر ہو بھی تو عام طور پر بوڑھے لوگوں میں ہی ہوتا ہے۔دس تا پندرہ فیصد مریضوں میںچھ ماہ کے بعد انفکشن دوبارہ ہونے کے چانسز ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بچے بالغ کب ہوتے ہیں؟

وائرس کا منتقل ہونا
اس مرض کا وائرس پاخانے کے ذریعے پھیلتا ہے یعنی مریض کا پاخانہ کھانے اور پانی کو آلودہ کرتا ہے جس کو استعمال کرنے سے انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ایسا عام طور پر بہت ذیادہ گھنی آبادی والی جگہوں پر اور سیوریج کا ناقص نظام ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے پینے کے پانی میں گندہ پانی مکس ہوتا رہتا ہے ۔اگرچہ یہ سرنج وغیرہ سے بھی پھیل سکتا ہے لیکن خون کے ذریعے اس کے پھیلنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں ۔لہذا ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ غذا اور پانی کے ذریعے ہی پھیلتا ہے جگر کی تمام اکیوٹ انفکشنز میں سے تقریبا چالیس فیصد ہیپاٹائٹس اے کی ہوتی ہیں۔

مریض علامات ظاہر ہونے کے دس دن قبل اس انفکشن کو پھیلانے کا سبب بن جاتا ہے۔ہیپاٹائٹس اے کا وائرس کافی سخت جان ہوتا ہے۔اور عام طور پر صابن،تیزاب،ایتھر ،کلوروفارم،ساٹھ ڈگری سنٹی گریڈ کے درجہ حرارت ،اور ڈرائی ہونے سے بھی نہیں مرتے۔ یہ وائرس تازے اور نمکین دونوں قسم کے پانی میں مہینوں تک زندہ رہ سکتا ہے،اسی لیے پانی کے ذریعے وباء پھیلنے کے ذیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

پینے والے پانی میں اس وائرس کو مارنے کے لیے کلورین ٹریٹمیٹ سب سے بہتر اور سستا طریقہ ہے جبلہ عام استعمال کے پانی سے اس کو ختم کرنے کے لیے فارملین ،الٹرا وائلٹ ریز اور چند دوسرے کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں جہاں ماحول میں گندگی بہت پائی جاتی ہے وہاں اس انفکشن کے کیسز زیادہ ہوتے ہیں اور عام طور پر انفکشن بچپن میں ہو ہو جاتی ہے۔لیکن اگر ان ممالک میں صفائی کا معیار بہتر بنا دیا جائے تو وہاں اس انفکشن میں کمی آنے لگتی ہے۔لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اس بیماری پر قابو پایا جا چکا ہے۔ ان ممالک میں یہ بیماری عام طور پر ان لوگوں کو ہوتی ہے جو ایسے ممالک کا سفر کرتے ہیں جہاں ہیپاٹائٹس اے کافی پایا جاتا ہے۔یہ وائرس صرف انسانوں میں ہی پایا جاتا ہے اس لیے اس کے پھیلاو میں بھی صرف انسان ہی ملوث ہیں۔کوئی دوسرا جانور یا کیڑا مکوڑا اس کو پھیلانے میں کوئی کردار نہیں رکھتا۔ ایک بار انفکشن ہونے کے بعد تمام زندگی کے لیے اس مرض سے حفاظت حاصل ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کیلئے حفاظتی ٹیکوں سے بہترکچھ نہیں

تشخیص
ہیپاٹائٹس اے کی تشخیص کےلیے خون میں اس وائرس کی مخصوص انٹی باڈیزپائی جاتی ہیں جو بیماری لگنے کے ایک یا دو ہفتوں کے بعد سے لے کر انفکشن کے بعد چودہ ہفتوں تک پائی جاتی ہیں ان کو IgMکہتے ہیں۔لیکن اگرIgG انٹی باڈیز پائی جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ اکیوٹ فیز گزر چکا ہے اور مریض زندگی بھر کے لیے اس مرض سے محفوظ ہو چکا ہے۔یہ انٹی باڈیز ویکسین لگانے کے بعد بھی خون میں پیدا ہو جاتی ہیں ۔بیماری کے دوران خون میں ایک انزائم ALT نارمل سے کافی ذیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے جو جگر کے خلیات کو وائرس سے ہونے والے نقصان کی وجہ سے جگر سے خارج ہوتا ہے۔

علاج
ہیپاٹائٹس اے کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔ صرف ظاہر ہونے والی علامات کا علاج کیا جا سکتا ہے مثلا الٹیوں اور موشن کا علاج کیا جاتا ہے اور پانی و نمکیات کا خیال رکھا جاتا ہے اور غذا کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہیلتھ گائیڈ

بچاو
ہیپاٹائٹس اے سے بچاو کے لیے تین چیزیں بہت اہم ہیں ،ویکسینیشن،حفظان صحت کے اصولوں پر عمل،اور نکاسی آب کا بہتر نظام۔

ویکسینیشن
دو قسم کی ویکسین بازار میں موجود ہے ،ایک میں ہیپاٹایٹس اے کے وائرس مردہ حالت میں اور دوسری میں وائرس کمزور کرکے اور کم مقدار میں پائے جاتے ہیں لیکن دونوں ہی بہترین حفاظت مہیا کرتی ہیں۔یہ ویکسین انجکشن کے ذریعے لگائی جاتی ہے پیلا ٹیکہ لگانے کے بعد دو تا چار ہفتوں میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے جو ایک سال تک رہتی ہے۔دوسری بوسٹر ڈوز چھ ماہ بعد لگائی جاتی ہے جس سے حاصل شدہ قوت مدافعت بیس تا پچیس سال تک قائم رہتی ہے جن علاقوں میں یہ انفکشن بہت ذیادہ پائی جاتی تھی وہاں ویکسینیشن سے ڈرامائی طور پر کمی دیکھی گئی مثلا چین اور امریکہ میں ۱۹۹۰ کے بعد ہیپاٹائٹس کے مرض میں ۹۰ فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بچاو کے دوسرے طریقوں میں سب سے اہم ہاتھ اچھی طرح دھونا اور کھانا اچھی طرح پکانا شامل ہیں گویا نبی ﷺ کے فرمان ،،صفائی نصف ایمان ہے،، پر عمل کرکے ہم اس مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں
دنیا بھر میں ہر سال چودہ لاکھ کیسز ہیپاٹائٹس اے کے ایسے ہوتے ہیں جن میں علامات واضع ہوتی ہیں۔یہ مرض، ایسے علاقوں میں جہاں صاف پانی اور نکاسی آب کا نظام خراب ہوتا ہے، اس قدرذیادہ ہوتا ہے کہ تقریبا ۹۰ فیصد بچوں میں ۱۰ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ انفکشن لگ چکی ہوتی ہے اور ان کو بقایا زندگی کے لیے اس مرض سے حفاظت مل جاتی ہے ۔

کیٹاگری میں : صحت