جنگ بدر

جنگ بدر میں شریک صحابہ کرام ؓ (حصہ چہارم)

EjazNews

46۔ عبد اللہ بن مخرمہ ؓ
بن عبدا لغری بن ابی قیس بن عبدود۔ بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوی القرشی العری نبیﷺ کے ساتھ ان کا نسب ۱۱میں شامل ہو جاتا ہے۔ ان کی والدہ ام نہیک بنت صفوان ہیں۔
یہ مہاجرین اولین میں سے ہیں اور بقول ذوالہجرتین بھی ہیں۔ مواخات میں یہ اور فروہ بن عمرو بن ودقہ البباضی دینی بھائی تھے۔ جنگ یمامہ میں بعمر 41سال شہیدہوئے۔ انہوں نے دعا کی تھی کہ الٰہی مجھے اس وقت تک موت نہ آئے جب تک میں اپنے بند بند کوتیری راہ میںزخم رسیدہ نہ دیکھ لوں۔ جنگ یمامہ میں ان کے جسم کا زخموں سے یہی حال تھا ۔ کہ جملہ مفاصل پر ضربات موجود تھیں۔
ابن عمر کہتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس آخری وقت پہنچا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ روزہ داروں نے روزے کھول لئے ہیں۔ کہا، ہاں ، کہا میرے منہ میں پانی ڈال دو۔ ابن عمر حوض پر گئے اور ڈول میں پانی لے کر آئے۔ آکر دیکھا کہ وہ سانس پورے کر چکے تھے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
47۔ عبد اللہ بن مسعود الھذلیؓ
عبد اللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمخ بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن حارث بن تمیم بن سعد بن ہزیل بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر۔
ان کے والد مسعود ایام جاہلیت میں عبد اللہ بن الحارث بن زہرہ کے حلیف بن گئے تھے۔ ان کی والدہ ام عبد بنت عبدود بھی صاہلہ بن کاہل کی نسل سے ہیں اور ان کی نانی قیلہ بنت الحارث بن زہرہ (زہریہ)ہیں۔
یہ قدیم الاسلام ہیں۔ عمر فاروق سے کچھ پہلے مشرف با سلام ہوئے ان کی اہلیہ فاطمہ بنت الخطاب ہیں انہوں نے بیان کیا ہے کہ یہ عقبہ بن ابی معیط کا ریوڑ چرایا کرتے تھے ایک روز نبی ﷺ معہ ابوبکر وہاں سے گزرے پوچھا لڑکے دودھ ہے۔ انہوں نے کہا ہاں مگر میرا نہیںمیں تو امانت دار ہوں۔ فرمایا ایسی بکری لے آؤ جس پر نر نہ چڑھا ہو۔ یہ لے آئے نبی ﷺ نے تھن کو بسم اللہ کہہ کر ہاتھ لگایا دودھ نکال لیا۔ خود بھی پیا ابوبکر صدیق کو بھی پلایا بکری کا تھن پھر خشک ہو گیا انہوں نے عرض کی کہ مجھے بھی یہ کام سکھلا دیا جائے فرمایا ہاں تم تو معلم جوان ہو۔
بعد ازاں ابن مسعود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہنے لگے، حضور کو جوتا پہناتے آگے آگے چلا کرتے خواب سے جگایا کرتے تھے امام ابن عبد البر نے ایک روایت بیان کی تھی جس میں ان کا نام بھی عشرہ مبشرہ میں آجاتا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ قرآن چار شخصوں سے سیکھو، ابن مسعودؓ، معاہذ بن جبلؓ، ابی بن کعبؓ اور سالم مولی ابو حذیفہ ؓ۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ قد کے ناٹے تھے لمبے قد کا آدمی بیٹھا ہوا اوریہ کھڑے ہوئے برابر نظر آیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن ابو جہل کو انہی کے ہاتھ سے قتل کرایا۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ بحلف بیان کرتے تھے کہنبی ﷺ کے طریق روایت اور عمل کا واقف ابن مسعود سے بڑھ کر ہم کو کوئی معلوم نہیں۔
ابن مسعود کہتے ہیں لوگ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں سے کتاب اللہ کا خوب عالم ہوں ۔ قرآن مجید میں کوئی سورہ یا آیت نہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ کب اتری اور کہاں اتری۔ ابو وائل راوی کہتا ہے کہ ان کے اس بیان کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ عمرو فاروق ؓان کو علم کی تھیلی کہا کرتے تھے۔
عمر فاروق نے جب عمار بن یاسر اور ابن مسعود کوکوفہ کا منصب دار کر کے بھیجا تو اپنے فرمان میں اہل کوفہ کو یہ الفاظ لکھتے تھے۔
میں عمار بن یاسر کو امیر اور ابن مسعودکو معلم و وزیر بنا کر بھیجتا ہوں یہ دونوں اصحاب رسول ﷺمیں سے نجباءمیں شامل ہیںاہل بدر ہیں ان کی اقتداءکرو اوران کی بات سنو۔ ابن مسعود کے متعلق تو میں نے اپنی جان پر ایثار کیا ہے۔“
حضرت عثمانؓ کے عہد میں یہ کوفہ سے مدینہ واپس پہنچ گئے تھے اسی جگہ 33ھ کو وفات پائی اور حسب وصیت رات ہی میں بقیع کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔
مواخات مکہ میں ان کو زبیر ؓ کا بھائی بنایا گیا تھا۔
ان کی زندگی میں باغیان عثمانی کے فتنوں کی ابتدا شروع ہو گئی تھی ابن مسعود نے فرمایا اگر لوگوں نے ان کو قتل کر دیا توپھر ان کو ایسا خلیفہ نہ ملے گا۔
48۔ عبداللہ بن مظعونقرشی الجمحی ؓ
عبد اللہ بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح، نہایت قدیم الاسلام ہیں ۔ ان کے تین بھائی اور تھے عثمان، سائب، قدامہ چاروں بھائی قدیم الاسلام ہیں۔ چاروں نے اول ہجرت حبشہ کی اور پھر ہجرت مدینہ پھر شامل بدر ہوئے۔
عبداللہ بن مظعونؓ نے 3ھ میں بعمر 60سال وفات پائی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
49۔ عبیدہ بن حارث بن مطلب بن عبد مناف قرشی المطلبی ؓ
نبی ﷺ کے ساتھ ان کا نسب عبد مناف میں شامل ہوجاتا ہے۔ مطلب و ہاشم حقیقی بھائی تھے یہ دونوں اور ان کی اولاد ہمیشہ متحد و متفق رہے۔
بزرگوار عبیدہ قدیم الاسلام ہیں یعنی دارارقم کے تعلیم گاہ بنائے جانے سے پیشتر مشرف با سلام ہو چکے تھے۔ ہجرت مدینہ کے وقت طفیل اور حصین ان کے دونوں بھائی بھی رفیق سفر تھے۔
نبیﷺ ان کی قدرو منزلت خاص طور سے فرمایا کرتےتھے۔ اہل بدر میں سب سے زیادہ عمر کے یہی تھے ان کی پیدائش حضور ﷺ سے دس سال پہلے کی ہے۔
اسلام میں پہلا سردار جو اسی مہاجرین کے لشکر کے ساتھ دشمن کے تجسس میں بھیجاگیا۔ یہی ہیں۔
غزوئہ بدر میں انہوں نے عناءعظیم برداشت کی او ر مشہد کریم حاصل کیا۔
دشمن کے مقابلہ میں ان کا پاؤں کٹ گیا تھا۔ بدر سے ایک منزل پر واپس ہوتے ہوئے ان کا انتقال ہوا اور راہ ہی میں دفن ہوئے۔ ایک بار نبی ﷺ اس راہ سے گزرے ۔ ہمراہیوں نے عرض کیا کہ ادھر سے کستوری کی خوشبو آرہی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں کیوں نہ ہو۔ یہاں ابو معاویہ کی قبر بھی تو ہے۔ (ان کی کنیت ابو معاویہ تھی) خوش اندام، خوبرو تھے۔ بوقت شہاد ت63سال کی عمر تھی۔ رضی اللہ عنہ
50۔عبدالرحمن بن عوف القرشی الزہریؓ
عبد الرحمن بن عوف بن عبدعوف بن عبد بن حارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی نبی ﷺ کے ساتھ نسب میں کلاب ۶ میں شامل ہو جاتے ہیں۔
ان کی والدہ شفاءبنت عوف بھی قریشیہ زہریہ ہیں۔ واقعہ فیل سے دس سال بعد پیدا ہوئے قدیم الاسلام ہیں۔ دارارقم میں آغاز تعلیم سے پیشتر مسلمان ہو چکے تھے۔
یہ ان دس میں سے جن کو نبیﷺ نے بشارت جنت عطا فرمائی تھی۔یہ ان چھ میں سے ہیں جو خلافت کے اصحاب شوری ہیں۔
نبی ﷺ نے ان کو دومۃ الجندل کی طرف بنو کلب کی جانب بھیجا تھا اور اپنے ہاتھ سے ان کے سرپر عمامہ باندھا تھا اور فرمایا تھا کہ بسم اللہ ، جاؤ،جب فتح ہوجائے تو وہاں کے حکمران کی بیٹی سے شادی کر لینا ۔ بدر میں حاضر تھے۔
جنگ احد میں ان کے جسم میں اکیس زخم آئے تھے۔ ایک زخم ٹانگ پر تھا جس کی وجہ سے یہ لنگڑانے لگے تھے ۔ قریش میں سب سے زیادہ مالدار تھے اور سخی بھی اعلیٰ درجہ کے تھے۔
ایک روز تیس غلام راہ خدا میں آزاد کئے تھے۔ نبی ﷺ کے بعد امہات المومنین کے مصارف کے کفیل یہی تھے۔
ابن عینیہ نے بیان کیا ہے کہ جب ان کی میراث تقسیم ہونے لگی تو ان کی مطلقہ عورت کو (جسے مرض الموت میں طلاق دی تھی 1/8کے حصہ سو م میں سے 83ہزار روپیہ آیا تھا۔نقد کے علاوہ ایک ہزار اونٹ ، تین ہزار بکریاں ایک سو گھوڑا ورثہ میں چھوڑا تھا۔ انہوں نے 31یا 32ھ میں بعمر 72سال مدینہ منورہ میں انتقال کیا تھا۔
حضرت عمر ؓ نے خلافت کے لئے 6بزرگوں کو شوری میں دان ہر شش کو مستحق خلافت فرمایا تھا۔ علی ، عثمان ، طلحہ، زبیر، سعد بن وقاص، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم۔
زبیرؓ نے علی ؓکو طلحہ ؓنے عثمان ؓکو۔ سعد بن ابو وقاص ؓنے عبد الرحمن ؓکو اپنی اپنی رائے کا وکیل کر دیا۔ اب چھ میں سے علی ؓ، عثمان ؓ، عبدالرحمن ؓنے فرمایا
ترجمہ: میں تو الگ ہوتا ہوں اور اگر تم کہو تو تمہارا فیصلہ بھی کر دیتا ہوں۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا
ترجمہ: سب سے پہلے میں رضامندی کا اظہار کرتا ہوں کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عبدالرحمن آسمان والوں میں بھی امین ہے اور زمین والوں میں بھی۔
اس کے بعد انہوں نے امیر المومنین عثمان ؓکوترجیح دی اور ان کے ہاتھ پر سب کی بیعت ہو گئی ۔
51۔عبد یا لیل بن ناشیب اللیثیؓ
بنو سعد بن لیث کے قبیلہ سے ہیں۔ بنو عدی بن کعب کے حلیف تھے۔ بدر میں حاضر ہوئے خلافت فاروق میں وفات پائی۔ بوڑھے تھے۔ رضی اللہ عنہ۔
52۔عمروبن الحارث بن زہیر القرشی الفہریؓ
عمروبن (یا عمر) بن حارث بن زہیر بن ابی شداد بن ربیعہ بن ہلال بن مالک بن ضبہ بن حارث بن فہر۔ ان کا سب سرور کائنات کے ساتھ فہر ۱۱کیساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ قدیم الاسلام ہیں مکہ میں اسلام لائے اور حبشہ کو ہجرت دوم میں ہجرت فرمائی۔عقبہ نے ان کو اہل بدر میں شامل کیا ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
53۔ عمر بن سراقہ العدویؓ
یہ عبداللہ بن سراقہ کے بھائی ہیں جن کا نسب نامہ لکھا جا چکا ہے۔ نبیﷺ کیساتھ مرہ ۷ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ بدر، احد اور دیگر جملہ مشاہد میں رسول اللہ ﷺ کے حضور میں حاضر رہے۔ امیر المومنین عثمان ؓ کی خلافت میں وفات پائی۔ رضی اللہ عنہ
54۔ عمرو بن ابی عمرو بن شداد القرشی الفہریؓ
ابو شداد کنیت کرتے تھے۔ بنو ضبہ میں سے اور اولاد حارث بن فہر میں سے ہیں۔ 32سالہ تھے جب غزوئہ بدر میں شامل ہوئے۔ 36سالہ تھے جب گیتئی ناپائیدار سے انتقال فرمایا ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
55۔ عمرو بن ابی سرح بن ربیع القرشی الفہریؓ
عمرو بن ابی سرح بن ربیعہ بن ہلال بن اہیب بن عتبہ بن حارث بن فہر
نبی ﷺ کے ساتھ فہر۱۱ میں شامل ہو جاتے ہیں ابو سعید کنیت ہے۔ یہ اور ان کے بھائی وہب بن ابی سرح مہاجرین حبشہ میں سے ہیں۔ دونوں بھائی بدری ہیں۔ احد و خندق و دیگر مشاہد میں بھی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہنے کا شرف حاصل کیا ہے۔30ھ کو مدینہ منورہ میں انتقال فرمایا۔ رضی اللہ عنہ
56۔ عثمان بن مظعون القرشی الجمحی ؓ
عثمان بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذاذ بن جمح بن عمرو بن مصیص۔
ابو السائب کنیت کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ سخیلہ بنت العنبس کا نسب بھی جمح میں جا کر شامل ہو جاتا ہے۔ حضرت عثمان 13کس کے بعد داخل اسلام ہوئے۔
ہجرت حبشہ و مدینہ کا شرف حاصل کیا۔ بدر میں حاضر ہوئے بدر کے بعد ان کا انتقال داخلہ مدینہ سے 22ماہ بعد ہوا۔ مہاجرین میں سے پہلے شخص ہیں جو مدینہ میں فوت ہوئے اورپہلے شخص ہیں جو جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ غسل و کفن کے بعد نبیﷺ نے ان کی پیشانی کو چوم لیا تھا ایک عورت نے یہ دیکھا تو کہا کہ عثمان ؓکو جنت مبارک ہو۔ نبی ﷺ نے ادھر تیز نگاہوں سے دیکھا اور پوچھا کہ تجھے اس کا پتہ کیونکر ہوا۔ اس حدیث میں یہ تعلیم دی گئی کہ کسی شخص کو قطعی جنتی کہنے کا منصب صرف اللہ اور رسول ﷺ کو ہے۔ دوسرا شخص قرائن یا قیاس سے ایسا حکم نہیں لگا سکتا۔
حضرت عثمان ؓفضلاءصحابہ میں سے تھے۔ انہوں نے ایام جاہلیت میں ہی شراب کو چھوڑ دیا تھا کسی نے ان سے وجہ پوچھی کہا میں کیوں ایسا کام کروں کہ اپنی عقل کھوبیٹھوں۔ اور ادنی ادنی درجہ کے شخص کوہنسنے کا موقع دوں۔ بیٹی بہن کی تمیز سے بھی جاتا رہوں۔
57۔عمار بن یاسر ؓ
ان کے والد یاسر رضی اللہ عنہ کا نسب عنس بن مالک سے جا ملتا ہے یہ عرفی قحطانی مذحجی الاصل ہیں۔ یاسر کا ایک بھائی گم ہوگیا تھا اس کی تلاش میں یاسر اور حارث اور مالک تینوں بھائی مکہ پہنچے۔ حارث اور مالک تو یمن کو واپس چلے گئے اور یاسر مکہ میں ٹھہر گئے اور ابو حذیفہ بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخذوم کے حلیف بن گئے ۔ابو حذیفہ نے ان کا نکاح اپنی لونڈی سمیہ بنت خیاط سے کر دیا جب عمار پیدا ہوئے توسمیہ کو آزاد کر دیا گیا۔ اس مناسبت سے آپ کو مخزومی بھی کہتے ہیں۔
یاسر اور سمیہ اور عمار تینوں اسلام میں ابتداءایام ہی میں داخل ہو گئے تھے۔ سمیہ و عامر نے اسلام کے لئے سخت ترین تکالیف کو برداشت کیا۔خاتون سمیہ پہلی خاتون ہیں جو اسلام کے لئے قتل کی گئیں۔
حضرت عمار بن یاسر مہاجرین اولین سے ہیں ذوالحجرتین اور نماز گزار قبلتیں ہیں،جنگ بدر میں حاضر تھے اور سخت امتحان ان کو دینا پڑا تھا۔ جنگ یمامہ میں خصوصیت کیساتھ انہوں نے تکالیف شاقہ کو برداشت کیا تھا۔ اسی جنگ میں ان کا ایک کان اڑ گیا تھا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں حضرت عمار زخم خوردہ ایک پتھر پر پڑے ہوئے تھے خون جاری تھا اور وہ بآواز بلندکہہ رہے تھے مسلمانوں کدھر جارہے ہو کیا جنت سے بھاگتے ہو۔ ادھر آؤ میں عمار بن یاسر ہوں۔
عمار بن یاسر کہتے تھے کہ میں عمر میں نبیﷺ کا ہم سن ہوں۔
نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ عمار قدموں تک (کانوں تک) ایمان سے بھرپور ہے۔
عبدالرحمن بن ابزی کہتے ہیں کہ جنگ صفین میں امیر المومنین علی ؓ کے ساتھ بیعت الرضوان والے 8سو بزرگوار تھے جن میں سے 63شہید ہوئے تھے عمار بھی شہداءمیں تھے۔
امیر المومنین عمرفاروقؓ نے ان کو گورنر کوفہ بنایا تھا اور اپنے فرمان میں لکھا تھا کہ میں عمار کو حاکم اور ابن مسعود کووزیر و معلم بنا کر بھیجتا ہوں۔ ان کی اطاعت و اقتداکرو۔
ایک حدیث میں ہے نبی ﷺ نے فرمایا ہر ایک نبی کو وزراءو رفقاءو نجبا ءسات سات ملتے رہے ہیں۔ مجھے چودہ ملے ہیں ۔ حمزہ، جعفر، ابوبکر، عمر، علی، حسن، حسین ، عبد اللہ بن مسعود، سلمان، عمار، ابو ذر،حذیفہ، مقداد، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔
جنگ صفین بماہ ربیع الآخر 37ھ کو ہوا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی عمر بوقت شہادت قریب نو سال تھی۔ حضرت عمار ؓکی اس رویات سے کہ وہ نبی ﷺ کے ہم سن ہیں ان کی عمر 89سال شمار میں آتی ہے۔ رضی اللہ عنہ
58۔ عمیر بن ابی وقاص القرشی الزہریؓ
حضرت سعد بن ابو وقاص (احد العشر المبشر)کے بھائی ہیں۔ بدر میں حاضر ہوئے۔ نبیﷺ نے ان کوچھوٹا سمجھا اور واپس کر دینے کا ارادہ فرمایا۔ یہ رونے لگ گئے ۔ حضور ﷺنے اجازت جہاد عطا فرمائی۔ لڑے اور شہید ہو گئے اس وقت عمر مبارک 16سال کی تھی۔ رضی اللہ عنہ
59۔ عمیر بن عوف مولیٰ سہیل بن عمر العامریؓ
مکہ میں پیداہئے سہیل بن عمرو کے مولیٰ آزاد کردہ غلام تھے۔ بدر، احد،خندق اور دیگر مشاہد نبوی میں حاضر تھے۔ خلافت فاروقی میں وفات پائی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
60۔ عقبہ بن وہبؓ
ابن وہب بھی مشہور ہیں اور بن ابی وہب بھی۔ ان کا سلسلہ نسب اسد بن خزیمہ سے جا ملتا ہے۔ بدر میں خود بھی حاضر تھے اور ان کے بھائی شجاع بن وہب بھی حاضر تھے یہ دونوں بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
61۔عوف بن اثاثہ قرشی المطلبیؓ
عوف بن اثاثہ بن عبادب ن مطلب بن عبد مناف بن قصی مسطح کے عرف سے زیادہ مشہور ہیں ان کی والدہ سلہی بنت ابورہم بھی مطلبی ہیں۔ ان کی نانی ریط بنت صخر بن عامر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خالہ ہیں ۔ بدر میں حاضر تھے 34ھ میں بعمر 56سال انتقال کیا۔ رضی اللہ عنہ
62 ۔عیاض بن زہیر بن ابو شداد القرشی الفہریؓ
ابو سعید کنیت مہاجرین حبشہ میں سے ہیں۔ ان کا نسب یہ ہے عیاض بن زہیر بن ابو شداد بن ربیعہ بن ہلال بن وہب بن ضبہ بن حارث بن فہر۔
یہ عیاض بن غنم کے چچا ہیں اور ابن غنم کے کارنامے فتوحات شام میں بہت مشہور ہیں۔ عیاض بن زہیر کا انتقال 30ھ کو شام میں ہوا۔ رضی اللہ عنہ
63۔ قدامہ بن مظعون القرشی الجمحیؓ
قدامہ بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح۔ ابو عمرو کنیت کرتے تھے، مہاجرین حبیش میں سے ہیں اپنے برادران عثمان و عبد اللہ کی معیت میں ہجرت کی تھی۔ام المومنین حفصہ و عبد اللہ بن عمر کے ماموں بھی یہی ہیں ان کی ماں بھی بنو جمح میں سے تھی بدر اور جملہ مشاہد میں برابر حاضر رہے۔
ان کی بہن حضرت عمرؓ کے گھر میں اور حضرت عمر ؓکی بہن صفیہ بن الخطاب ان کے گھر میں تھی۔ عمرفاروقؓ نے ان کو حاکم بحرین بنادیا تھا پھر وہاں سے معزول کر کے عثمان بن ابو العاص ؓکو ان کا جانشین بنایا تھا۔ وجہ معزولی یہ بیان کی جات ہے کہ جار و د سید قبیلہ عبد القیس نے عمرفاروقؓ سے آکر عرض کیا کہ قدامہ نے شراب پی ہے اور میں نے اس کی اطلاع کا آپ تک پہنچانا فرض شرعی سمجھا ہے۔ فاروقؓ نے پوچھا کوئی آدمی دوسرا گواہ ۔ کہا ابوہریرہ ؓہیں ،ابوہریرہ ؓ نے آکر یہ شہادت دی کہ میں نے اسے پیتے نہیں دیکھا میں نے اسے نشہ میں دیکھا اور وہ قے کر رہا تھا۔ فرمایا تم تو گہرے لفظوں میں شہادت دیتے ہو بعد ازاں قدامہ کو حاضری کا حکم دیا گیا۔ قدامہ آگئے تو جارودنے کہا کہ اس پر حد جاری کی جائے فاروقؓ نے فرمایا تم مدعی ہو یا گواہ ہو۔ جارود نے کہا گواہ ہوں فرمایا تم اپنی گواہی دے چکے۔ جارود چپ کر گیا۔ اگلے روز جارودنے پھر کہا کہ اس پر حد جاری کی جائے عمر فاروق ؓنے کہا کہ تم مدعی معلوم ہوتے ہو اورگواہ ایک رہ جاتا ہے جارود نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ عمرؓ نے کہا زبان بندکرو۔ ورنہ اچھا نہ ہوگا جارود بولا بخدا یہ تو ٹھیک نہیں کہ آپ کا ابن العم تو شراب پئے اور شامت ہماری آئے۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ اگر آپ کو ہماری شہادت میں شک ہے تو دختر ولید سے یعنی اہلیہ قدامہ سے دریافت کر لیجئے۔ حضرت عمرؓ نے ہندبنت الولید کے پاس معتبر شخص کوبھیجا اورقسم دے کر دریافت کیا اس نے شوہر کے خلاف شہادت دے دی۔
اب فاروق نے قدامہ سے کہا کہ تم پر حد جاری کی جائیگی قدامہ بولے اچھا۔ اگر یہی بات ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ میں نے شراب پی تب بھی مجھ پر حد نہیں لگائی جاسکتی ۔ فارو قؓ نے پوچھا کیوں ؟قدامہ نے کہا اللہ تعالیٰ فرمایا قرآنی آیت کی تلاوت کی۔ فاروقؓ نے کہا کہ تم نے اس کے معنی میں غلطی کھائی ہے اگر تو تقوی اختیار کرتا تو حرام شے سے پرہیز کرتا۔
بعد ازاں عمر فاروقؓ نے شوریٰ کیا اور دریافت کیا کہ قدامہ پر حد جاری کرنے میں ان کی رائے کیا ہے سب نے کہا کہ جب تک وہ بیمار ہے اس پر حد نہ لگنی چاہیے۔
حضرت عمرؓ چند روز خاموش رہے پھر عمر نے شوری میں پوچھا اور لوگوں نے کہاکہ ابھی اسے درد کی شکایت ہے حد نہ چاہیے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا اگر وہ کوڑے کھاتا ہوا خدا سے جاملے تو مجھے زیادہ اچھا معلوم ہوتا ہے اس سے کہ میں خدا کے سامنے حاضر ہوں اور اس کی جواب دہی میری گردن پر ہو۔ اچھا کڑہ لاؤ۔ پورا پورا بعد ازاں قدامہ کو حد لگائی گئی۔ قدامہ نے اس روز سے فاروقؓ کے ساتھ بولنا چھوڑ دیا۔ بعد ازاں حضرت عمر ؓحج کو گئے قدامہ بھی ساتھ تھے حضرت عمر ؓخواب سے اٹھے تو کہا قدامہ کو لاؤ مجھے اس خواب میں کہاگیا ہے کہ قدامہؓ سے صلح کر لو۔ قدامہؓ کو بلوایا اور بات چیت کی گئی اور بالآخر صفائی ہو گئی۔ قدامہؓ 36ھ کو بعمر 68سال فوت ہوئے۔ رضی اللہ عنہ
64۔ کثیر بن عمرو السلمیؓ
یہ حلفاءبنو اسد میں سے ہیں۔ ابن اسحق کہتے ہیں کہ بدر میں کثیر بن عمرو اوران کے دونوں بھائی مالک بن عمرو اور ثقیف بن عمرو بھی شریک ہوئے تھے۔
ابن عبد البر کہتے ہیں کہ کثیر کا نام صرف ایک ہی روایت میں آیا ہے اور ممکن ہے کثیر ہی کا لقب ثقب ہو۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
65۔ کناز بن حصین ابو مرثد الغنویؓ
ان کا سب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مضر میں شامل ہو جاتا ہے۔ کناز اور ان کے فرزند مرثد دونوں بدری ہیں اور ابو مرثد امیر حمزہ بن عبدالمطلب کے حلیف ہیں اور کبار صحابہ میں سے ہیں۔
مرثد یوم الرجیع کو شہید ہوئے اور ان کے والد ابو مرثد نے 14ھ کو خلافت ابوبکر میں بعمر 66سال انتقال کیا ۔ مواخات میں یہ عبادہ بن صامت کے بھائی تھے ان کے پوتے انیس بن مرثد بھی صحابی ہیں۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
66۔ مالک بن امیہ بن عمرو السلمی ؓ
یہ بنو اسد بن خزیمہ کے حلفی ہیں بدر میں حاضر ہوئے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ۔ رضی اللہ عنہ
67۔ مالک بن ابو خولی الجعفیؓ
مالک بن ابو خولی بن عمر بن خثیمہ بن حارث معاویہ بن عوف بن سعد بن جعف (من حج) یہ بنو عدی بن کعب کے حلف ہیں۔
بدر میں حاضر ہوئے ان کے بھائی خولی بن ابو خولی بھی بدری ہیں۔رضی اللہ عنہ
68۔ مالک بن عمرو اسلمیؓ
یہ بنو عبد شمس کے حلفی ہیں بدر میں حاضر تھے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ان کے بھائی ثقف بن عمرو اور مدلج بن عمرو بھی بدری ہیں۔ رضی اللہ عنہم۔
69۔ مالک بن عمیلہ بن السباق ؓ
یہ بنو عبدالدار میں سے ہیں امام موسیٰ بن عقبہ نے ان کو بدریوں میں شمار کیا ہے۔ رضی اللہ عنہ۔
70۔ محرز بن نضلہ الاسدیؓ
محرز بن نضلہ بن عبد اللہ بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دودان بن اسد۔
یہ بنو اسد بن خزیمہ میں سے ہیں۔ بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔ بنو عبد الاشہل ان کو اپنا حلیف بتایا کرتے تھے۔ بدر، احد، خندق میں حاضر تھے۔ غزوہ ذی قرو 6ھ میں انہوں نے بڑے کارنامے دکھلائے اور مسعدہ بن حکمہ کے ہاتھ سے شربت شہادت نوش فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر 37سا ل کی بھی۔ ان کا لقب اخرم ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
71۔ مدلاج بن عمرو السلمیؓ
مدلاج (یا مدلج) بن وعبد شمس کے حلیف ہیں۔ بدر میں معہ برادران خود مالک بن عمرو و ثقیف بن عمرو حاضر تھے۔ بدر کے علاوہ مدلاج دیگر مشاہد میں بھی ہمرکاب نبوی حاضر تھے۔ 50ھ میں انتقال کیا۔ رضی اللہ عنہ۔

یہ بھی پڑھیں:  تواضع و خاکساری