کیا اپوزیشن واقعی عید کے بعد اکٹھی ہو رہی ہے؟

EjazNews

کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ان کی پارٹی کی سینئر قیادت نے ملاقات کی ۔ملاقا ت میں گزشتہ دنوں بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے دی گئی افطار پارٹی میں ہونے والی پیش رفت سے میاں محمد نواز شریف کو آگاہ کیا گیا ۔میڈیا میں جاری بیان کے مطابق نواز شریف نے پارٹی رہنمائوں کو ملک میں مہنگائی اور معیشت کی خراب صورت حال پر عوامی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔پارٹی رہنمائوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے قوم کو جھوٹے خواب دکھائے ہیں ، لیکن معیشت کی بحالی کیلئے ان کے پاس کوئی ایجنڈا ہی نہیں۔جبکہ مسلم لیگ ن نے ملک میں دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا ہے۔
مسلم لیگ ن کی احتجاجی تحریک فی الحال ایک مہینے سے پہلے شروع نہیں ہونے والی کیونکہ پارٹی رہنمائوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پہلے تنظیم سازی کی جائے اور ورکرز کو عہدے دیتے وقت کسی قسم کی سفارش کو ملحوظ نہ رکھا جائے گا۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی بدعنوانی نہیں کی ۔ 3مرتبہ ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہو ں۔بہت سے الزامات لگےلیکن ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی۔ان کا کہناتھا کہ ماضی میں بھی بہت سے کیسز بنائے گئے لیکن سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کا بیانہ پہنچا دو کہ نواز شریف پیچھے ہٹنے والا نہیں۔
کوٹ لکھپت جیل میں ان سے ملاقات کرنے والوں میں ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف،مشاہد اللہ خان، کھئیل کوہستانی،خرم دستگیر اور مخدوم جاوید ہاشمی تھے۔
دوسری طرف مولانا فضل الرحمن اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کرنے لگے ہوئے ہیں تاکہ عید کے بعد اے پی سی ہو سکے۔ بلاو ل بھٹو زرداری بھی حکومت کیخلاف تحریک چلانے کا کہہ رہے ہیں ۔ لیکن یہ تحریک کب شروع ہو گی کون کرے گا ، کس کی قیادت میں ہوگی یہ سب ابھی سوالیہ نشان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور قلندر نے22 رنز سے کراچی کنگز کو شکست دے دی