ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

EjazNews

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی تھیں۔ ان کا لقب صدیقہ اور حمیرا تھا ۔آپ ؓ حضورﷺ کی وہ واحد زوجہ محترمہ تھیں جو کہ کنواری تھیں۔ آپ ؓ کا نکاح حضورﷺ سے 6 برس کی عمر میں ہوا جبکہ رخصتی 9برس کی عمر میں ہوئی تھی۔ سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا قرن اوّل کے اُن چند گِنے چُنے افراد میں سے تھیں جن کی پیدائش ایک مسلمان گھرانے میں ہوئی۔ سیّدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی ولادت کے بعد اول دن ہی سے اپنے والدین کو مسلمان پایا۔ سیّدہ عائشہؓ بعثت نبوی کے چار سال بعد پیدا ہوئیں۔ آپ ان برگزیدہ ہستیوں میں سے ایک تھیں، جن کے کانوں نے کفرو شرک کی آواز تک نہیںسنی۔ حضرت عائشہؓ کا بچپن حضرت سیّدنا صدیق اکبرؓجیسے عظیم المرتبت باپ کے زیرسایہ بسر ہوا۔ایامِ طفولیت ہی سے وہ عام بچّوں سے ممتاز تھیں۔آپ بے حد ذہین تھیں۔ اپنے بچپن کے ایام کی تمام باتیں یاد تھیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے متعلق ایک مشہو واقعہ افک جس کے متعلق قرآن کی آیات اور تفسیر درج ذیل ہیں:
’’جن لوگوں نے بہتان اٹھایا ہے کچھ شک نہیں کہ وہ تم میں سے ہیں تو اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھ بلکہ وہ تمہارے حق میں اچھاہے ان میں سے جس جس نے جتنا جتنا گناہ کیا ہے وہ اس کو ملے گا اور ان میں سے جس شخص نے اس کا بڑا حصہ لیا ہے اس کو تو بہت بڑا عذاب پہنچے گا۔ تم نے جب یہ سنا تھا تو کیوں ایماندار مردوں اور عورتوں نے اس کو اپنے حق میں اچھا نہ جانا اور کیوں نہ کہا کہ یہ تو صریح بہتان ہے کیونکہ یہ لوگ اس پر چار گواہ نہ لاسکے تو اللہ کے نزدیک ہی جھوٹے ہیں اور اگر اللہ کافضل اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تم پر نہ ہوتی تو تم نے جس بات میں کرید کی تھی اس میں تم پر کوئی بڑا عذاب نازل ہوتا۔ کیونکہ تم اس کو اپنی زبانوں سے نقل کرتے اور اپنے موہنوں سے وہ باتیں کہتے تھے جن کا تم کو علم نہ تھا اور تم اس کو آسان سمجھتے تھے حالانکہ اللہ کے ہاں وہ بہت بڑی بات تھی اور جب نے اس کو سنا تھا تو کیوں نہ تم نے کہا کہ ہم کو لائق نہیں کہ ہم اس بات کو منہ سے نکالیں اللہ پاک ہے یہ تو بڑا بہتان ہے۔ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ اگر ایماندار ہو تو پھر کبھی ایسا نہ کرنا‘‘ (النور:11-17)
مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں ابن کثیر ؒ ایک مشہور واقعہ (افک ) تفصیلاً بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک غزوہ میں حضور نبی کریمﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو ساتھ لے گئے ۔ واپسی پر راستے میں قافلے نے ایک جگہ پڑائو ڈالا اتفاقاً حضرت عائشہ صدیقہ ؓ قضائے حاجت کے لیے گئیں تو واپسی پر اپنے گلے کے ہار کو گم پایا۔ آپ ؓاس ہار کی تلاش میں قضائے حاجت کی جگہ پر واپس تشریف لائیں تو قافلہ نکل چکا تھا۔ آپؓ پریشان ہو گئیں تو اس نیت پر کہ جب حضور ﷺ کو ان کی غیر موجودگی کا علم ہو گا تو اسی جگہ پر تشریف لائیں گے، اپنی سواری کی جگہ پر بیٹھ گئیں اور اسی جگہ پر بیٹھے بیٹھے سو گئیں۔ اتفاق سے حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی ؓ جو لشکر کے پیچھے رہے تھے اور پچھلی رات کو چلے تھے، صبح روشنی میں یہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کو پہچان کر ان کو اپنی سواری پر سوار کر لیا اور خود پیدل بھاگتے ہوئے چل پڑے اور دوپہر تک قافلے کے ساتھ مل گئے۔ بس اتنی سی بات کا بنانے والوں نے بتنگڑ بنا لیا۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول نامی منافق سمیت دیگر منافقین نے بڑھ بڑھ کر باتیں بنانا شروع کر دیں۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں مدینہ پہنچنے کے بعد وہ بیمار پڑ گئیں اور مہینے بھر تک بیمار ی میں گھر ہی میں رہیں ۔ نہ میں نے کچھ سنا، نہ کسی نے مجھ سے کہا جو کچھ غل غپاڑہ لوگوں میں ہو رہا تھا ، میں اس سے بے خبر تھی۔ البتہ میرے جی میں یہ خیال بسا اوقات گزرتا تھا کہ رسول اللہﷺ کی مہر و محبت میں کمی کی کیا وجہ ہے۔ حسب عادت میں ام مسطح بنت ابی رہم کے ساتھ قضائے حاجت کے لے چلی۔ ام مسطح میرے والد صاحب ؓ کی خالہ تھیں ان کےلڑکے کا نام مسطح بن اثاثہ تھا۔ جب ہم واپس آنے لگے تو حضرت ام مسطح کا پائوں چادر کے دامن میں الجھا اوربے ساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ مسطح غارت ہو۔ مجھے بہت برا لگا اور میں نے کہا تم نے بہت برا کلمہ بولا، تو بہ کرو، تم اسے گالی دیتی ہو جس نے جنگ بدر میں شرکت کی ۔ اس وقت ام مسطح نے کہا بھولی بیوی آپ کو کیا معلوم ؟ میں نے کہا کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ بھی ان لوگوں میں ہے جو آپ کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ مجھے سخت حیرت ہوئی، میں ان کے سر ہو گئی کہ کم از کم مجھ سے سارا واقعہ تو کہو۔ اب انہوں نے بہتان باز لوگوں کی تمام کارستانیاں مجھے سنائی ،میرے تو ہاتھوں کے طوطے ا ڑ گئے، رنج و غم کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا۔ مارے صدمے کے میں تو بیمار ہو گئی۔ بیمار تو پہلے سے ہی تھی اس خبر نے تو نڈھال کر دیا۔ جوں توں کر کے گھر پہنچی۔ اب صرف یہ خیال تھا کہ میں اپنے میکے جا کر اور اچھی طرح معلوم تو کر لوں کہ کیا واقعی میری نسبت ایسی افوا ہ پھیلائی گئی ہے ؟اور کیا کیا مشہور کیا جارہاہے؟اتنے میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ کیا حال ہے؟ میں نے کہا اگر آپ ﷺاجازت دیں تو اپنے والد صاحب کے ہاں ہو آئوں۔ آپ ﷺ نے اجازت دے دی، میں یہاں آئی، اپنی والدہ سے پوچھا کہ اماں جان لوگوں میں کیا باتیں پھیل رہی ہیں۔ انہوں نے فرمایا بیٹی یہ تو نہایت معمولی بات ہے تم اتنا اپنا دل بھاری نہ کرو، کسی شخص کی اچھی بیوی جواسے محبو ب ہو اور سا تھ اس کی سوکنیں بھی ہوں وہاں ایسی باتوں کا کھڑا ہونا تو لازم امر ہے۔ میں نے کہا سبحان اللہ کیا واقعہ لوگ میری نسبت ایسی افواہیں اڑا رہے ہیں۔ اب تو مجھے غم و رنج نے اس قدر گھیراکیا کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت سے جو رونا شروع ہوا واللہ ایک دم بھر کے لئے میرے آنسو نہیں تھمے ۔ میں سر ڈال کر روتی رہتی ۔ کسی کا کھانا پینا، کسی کا سونا بیٹھنا، کہاں کی بات چیت، غم و رنج اور رونا ہے اور میں ہوں۔ ساری رات اسی حالت میں گزری کہ آنسو کی لڑی نہ تھمی دن کو بھی یہی حال رہا۔ آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت اسامہ بن زیدؓ کوبلوایا۔وحی میں دیر ہوئی، اللہ کی طرف سے آپ کو کوئی بات معلوم نہ ہوئی تھی، اس لئے آپﷺ نے ان دونوں حضرات سے مشورہ کیا کہ آپ مجھے الگ کر دیں یا کیا ؟ حضرت اسامہ ؓ نے تو صاف کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ کے اہل پر کوئی برائی نہیں جانتے۔ ہمارے دل ان کی عفت ، عزت اور شرافت کی گواہی دینے کے لئے حاضر ہیں۔ ہاں حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ یارسول اللہ ﷺ اللہ کی طرف سے آپ پر کوئی تنگی نہیں، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ اگر آپ گھر کی خادمہ سے پوچھیں تو آپ کو صحیح واقعہ معلوم ہو سکتا ہے۔ آپﷺ نے اسی وقت گھر کی خادمہ حضرت بریرہ ؓ کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ عائشہ ؓ کی کوئی بات شک و شبہ والی کبھی بھی دیکھی ہو تو بتائو ۔ بریرہؓ نے کہا اس اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے اس سے کوئی بات کبھی اس قسم کی نہیں دیکھی۔ ہاں صرف یہ بات ہے کہ کم عمری کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے کہ کبھی کبھی گندھا ہوا آٹا یونہی رکھا رہتا ہے اور سو جاتی ہیں۔ بکری آکر کھاجاتی ہے اس کے سوا میں نے ان کا کوئی قصور کبھی نہیں دیکھا۔
اس واقعہ سے کئی طرح کے فسادات نے بھی مسلمانوں میں جنم لیا۔ ایک دن حضر ت عائشہؓاپنے والدین کے ہاں بیٹھی رو رہی تھیں کہ اچانک رسول کریمﷺ تشریف لائے اور سلام کر کے پاس بیٹھ گئے۔ آپﷺ نے بیٹھتے ہی اول تو تشہد پڑھا پھر اما بعد فرما کر فرمایا کہ اے عائشہؓ! تیری نسبت مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تو واقعی پاک دامن ہے تو اللہ تعالیٰ تیزی پاکیزگی ظاہر فرما دے گا اور اگر فی الحقیقت تو کسی گناہ میں آلودہ ہو گئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور توبہ کر، بندہ جب گناہ کر کے اپنے گناہ کے اقرار کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے ۔ آپ ﷺ اتنا فرما کر خاموش ہو گئے ،یہ سنتے ہی حضرت عائشہؓ کا رونا دھونا سب جاتا رہا۔ آنسو تھم گئے۔ اول تو انہوں نے اپنے والد سے درخواست کی کہ میری طرف سے رسول اللہ ﷺ کو جواب دیں لیکن انہوں نے فرمایا کہ واللہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں آپﷺ کو کیا جوا ب دوں؟ اب انہوں نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا اور ان سے کہا کہ آپ جواب دیجئے۔ لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں نہیں سمجھ سکتی کہ میں کیا جواب دوں؟ آخر حضرت عائشہ ؓ نے خود جواب دینا شروع کیا کہ : ’’ آپ سب نے ایک بات سنی، ا سے آپ نے دل میں بٹھا لیا اور سچ سمجھ لیا۔ اب اگر میں کہوں گی کہ میں اس سے بالکل بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ واقع میں اس سے بالکل بری ہوں لیکن تم لوگ نہیں مانو گے۔ ہا ں اگر میں کسی امر کا اقرار کر لوں حالانکہ اللہ کو خوب علم ہے کہ میں بالکل بے گنا ہ ہوں تو تم ابھی مان لو گے۔ میری اور تمہاری مثال تو بالکل حضرت یعقوب ؑ کا یہ قول ہے کہ، پس صبر ہی اچھا ہے جس میں شکایت کا نام ہی نہ ہو اور تم جو باتیں بناتے ہو ان میں اللہ ہی میری مدد کرے۔‘‘ اتنا کہہ کر حضرت عائشہ ؓ نے کروٹ پھیر لی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ انہیں یقین تھا کہ چونکہ وہ پاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی برات رسول اللہ ﷺ کو ضرور معلوم کرا دے گا۔ لیکن آپؓ فرماتی ہیں کہ :’’یہ تو میرے شان گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیتیں نازل ہوں ۔ واللہ رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ سے ہٹے تھے اور نہ گھروالوں میں سے کوئی گھر کے باہر نکلا تھا کہ حضور ﷺ پر وحی نازل ہونا شروع ہو گئی اور چہرہ مبارک پر وحی کے آثار ظاہر ہوئے جو وحی کے وقت ہوتے تھے اورپیشانی سےپسینے کی پاک بوندیں ٹپکنے لگیں۔ سخت جاڑوں میں بھی وحی کے نزول کی یہ کیفیت ہوا کرتی تھی۔ جب وحی اتر چکی تو دیکھ کر فرمایا عائشہؓ خوش ہوجائو اللہ تعالیٰ نے تمہاری برات نازل فرمادی۔ اسی وقت میری والدہ نے فرمایا بچی حضور ﷺ کے سامنے کھڑی ہو جائو میں نے جواب دیا کہ واللہ نہ تو میں آپ ﷺکے سامنے کھڑی ہوں گی اور نہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی تعریف کروں گی اسی نے میری برات اور پاکیزگی نازل فرمائی ہے۔ پس ان الذین جاء و بالافک سے لے کر دس آیتوں تک نازل ہوئیں۔‘‘ آیتوں کے اترنے کے بعد حضرت عائشہ ؓ کی پاک دامنی ثابت ہوگی۔
ربیع الاول سن 11 ہجری میں رسول اللہ ﷺنے وفات پائی۔ تیرہ دن علیل رہے، پھر جب رسول اللہ ﷺمرض وفات شروع ہوا تو کچھ دن تک آپ ﷺ باری باری ازواج مطہراتؓ کے ہاں جاتے رہے، لیکن جب بیماری نے شدت اختیار کی اور آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہراتؓ سے اجازت چاہی کہ آپ ﷺ کی تیمارداری سیّدہ عائشہ ؓکے ہاں کی جائے، تمام ازواج مطہراتؓ نے اس بات کی اجازت دے دی۔ رسول اللہﷺ سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے ہاں تشریف لے آئے، پھر وصال تک آپ ﷺ انہی کے ہاں رہے۔ سیّدہ عائشہ صدیقہؓسورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر رسول اللہ ﷺکے ہاتھوں پر دم کرتی تھیں۔
علمی حیثیت سے سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کو نہ صرف مسلمان عورتوں بلکہ دوسری امہات المومنینؓ اور صحابہؓ و صحابیاتؓ پر فوقیت حاصل تھی۔ ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں۔ ہمیں کبھی کوئی ایسی مشکل پیش نہیں آئی جسے ہم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ہو اور ان کے پاس اس سے متعلق کچھ معلومات نہ ملی ہوں۔ امام زہری فرماتے ہیں: سیدہ عائشہؓ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالم تھیں۔ اکابر صحابہ ان سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ عروہ ابن زبیرؓ کا قول ہے قرآن، فرائض، حلال و حرام، فقہ، شاعری، طب، عرب کی تاریخ اور نسب کا عالم، سیدہ عائشہؓ سے بڑھ کر اور کسی کو نہیں دیکھا۔
سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓمیں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور ان کی رضا جوئی کی صفت بدرجۂ اتم موجود تھی۔ وہ رسول اللہ ﷺکی خوشنودی کی خاطر ہمیشہ کمر بستہ رہتی تھیں۔ رسول اللہﷺ کے قرابت داروں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ پردے کا بڑا اہتمام فرماتی تھیں۔ نہایت فیاض، غریب پرور اور مہمان نواز تھیں۔ ایک مرتبہ عبداللہ بن زبیرؓ نے انہیں ایک لاکھ درہم بھیجے۔ انہوں نے اسی وقت سب رقم غرباء اور مساکین میں تقسیم کردی۔اس دن وہ روزے سے تھیں۔ شام ہوئی تو خادمہ نے کہا کہ ام المومنین کیا اچھا ہوتا کہ آپ نے اس رقم سے کچھ گوشت ہی افطار کے لیے خرید لیا ہوتا۔ عروہ ابن زبیرؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس ستّر ہزار درہم کی رقم آئی۔ انہوں نے ان کے سامنے (یعنی عروہ کے سامنے) ہی ساری رقم راہ خدا میں خرچ کردی اور دوپٹے کا پلو جھاڑ دیا۔
غزوئہ احد میں حضرت عائشہ ؓ زخمیو ں کو مشک بھر بھر کر پانی پلاتی تھیں۔ آپؓ کی حضرت علیؓ کے ساتھ ایک جنگ بھی ہوئی تھی جس کو جنگ جمل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن حضرت عائشہؓ کو اس جنگ کا ہمیشہ افسوس رہا۔ یہاں تک کہ وفات کے وقت آپ ؓ نے ایک وصیت کی کہ ’’مجھے روضہ نبویﷺ کے ساتھ دفن نہ کرنا ،بلکہ بقیع میں اور ازواج کے ساتھ دفن کرنا۔ کیونکہ میں نے آپ  ﷺ کے بعد ایک جرم کیا ہے۔‘‘ حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرت ؟ کے وصال کے 48برس بیوگی کی حالت میں بسر کئے۔ ابن سعد میں ہے کہ وہ جب یہ آیت پڑھتی تھیں’’اے پیغمبر کی بیویو! اپنے گھر میں وقار کے ساتھ بیٹھو‘‘ تو اس قدر روتی تھیں کہ آنچل تر ہو جاتا تھا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓکی وفات 17رمضان المبارک 58 ہجری کو 63برس کی عمر میں ہوئی۔ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کا سن وفات 57 ہجری ہے۔ سیدہ عائشہ ؓ کی نماز جنازہ حضرت ابوہریرہؓ نے پڑھائی ۔
محمود خالد مسلم

یہ بھی پڑھیں:  محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر خیر