justis for frishta

ہمارا معاشرہ کس سمت میں جارہا ہے؟

EjazNews

ہمارے معاشرے میں بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھتے ہی جارہے ہیں اور اس کا شکار خاص کر معصوم بچیاں بن رہی ہیں۔ پتہ نہیں ان ملزمان کو قانون کا ڈر نہیں ہوتا ، اتنی دیدہ دلیری ان میں کہاں سے آجاتی ہے۔

اسلام آباد کے چک شہزاد سے چند روز قبل لاپتہ ہونے والی معصوم بچی کی گمشدگی کی درخواست 15مئی کو تھانہ چک شہزاد میں جمع کرائی گئی تھی، پولیس نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اوربچی کو ڈھونڈنے میں ناکام رہی ، اور اس دوران یہ بچی کس مصیبت میں مبتلا رہی اس کا سوچ کر بھی ڈر لگتا ہے۔ اس بچی کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد ملزمان اس معصوم فرشتہ کی لاش اسلام آباد کے جنگل میں پھینک گئے ۔ لاش کی حالت انتہائی خراب تھی جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ بچی کس کرب کی صورت حال سے گزری ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  کابینہ اجلاس کے بعد معاون خصوصی کی پریس بریفنگ

علاقہ مکین اور ورثا نے معصوم فرشتہ کی لاش سڑک پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔لیکن بعدا زاں معاملات طے پانے پر یہ احتجاجی مظاہرہ ختم ہو گیا۔

اسی طرح سے ملتا جلتا ایک واقعہ روات میں بھی پیش آیا۔ جہاں پر معصوم طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، لیکن بچی کے والدین پر اب دبائو ڈالا جارہا ہے کہ صلح کر لو۔ پنجاب حکومت کے ترجمان کہتے ہیں ہم ان کو تحفظ دیں گے۔

اہل عللاقہ معصوم فرشتہ کے جنازہ کو لیجاتے ہوئے

بھئی میں سوچ رہا تھا کہ اگر ان کو پنجاب حکومت کا اتنا ہی ڈر ہوتا تو کیا وہ یہ کام کرتے اور اس کے بعد بچی کے والدین پر صلح کے لیے دبائو بھی ڈالتے۔
اب تو یہ لکھ لکھ کر اور سن سن کر تھک چکے ہیں کہ معاون خصوصی داخلہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے کر رپورٹ مانگ لی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے واقع کی اطلاع ملتے ہی فوراً تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ۔ یہ ایسے روایتی بیان ہیں کہ جو ایک عرصے سے سنے جارہے ہیں لیکن ہوتا کیا ۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران کا دورئہ بحرین ، پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں بحرین کے اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نوازا گیا

اس کے بعد ہوتا کیا ہےآئی جی اسلام آباد ہو ں یا آئی جی پنجاب ہوں وہ ٹیمیں تشکیل دیتے ہیں ، ایس ایچ او کو معطل کرتے ہیں ،شفاف تفتیش اپنی نگرانی میں جلد مکمل کروا کر رپورٹ بھیجوانے کا حکم جاری کر دیتے ہیں اور کچھ دنو ں بعد سب بھول بھولیوں میں کھو جاتا ہے۔

اسی طرح لاہور کے علاقے قصور میں ایک واقع پیش آیا جس کے بعد پورے میڈیا اور حکومتی ایوان حلے لیکن ہوا کیا ۔ کوئی ایسا نظام یا پولیس کے اصلاح نہیں کی گئی جس سے آگے کیلئے کوئی بہتری کی جاسکے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکا۔

پولیس کا سسٹم پورے ملک میں اصلاحات کا متقاضی ہے اگر پولیس کا نظا م کسی طرح سے ٹھیک ہو جائے تو بہت سے ایسے واقعات کبھی رونما ہی نہ ہوں ۔ لیکن کیا کریں ساہیوال میں معصوم خاندان کو ان کے بچوں کے سامنے قتل کرنے کے واقع کے بعد بھی سننے کو ملا تھا کہ پولیس میں اصلاح ہو گی ۔ لیکن یہ اصلاح آج تک صرف سننے کی حد تک ہی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کوئٹہ کے مصروف ترین بازار میں دھماکہ

وزیراعظم بذات خود اس بات کا اکثر و بیشتر ذکر کرتے رہتے ہیں کہ انسانوں اور جانوروں کے معاشرے میں فرق کرنے والی چیز انصاف ہوتی ہے۔ اب ہرمظلوم انصاف مانگ رہا ہے ۔