batterl of badar

جنگ بدر میں لڑنے والے صحابہ کرام ؓ (حصہ دوئم)

EjazNews

اسلام اور کفر کی اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور غرور کا سر نیچا ہوا ، یہ وہ جنگ تھی جس میں آسمان سے فرشتوں نے آکر مسلمانوں کی مدد کی تھی۔
6۔ارقم بن ابو الارقمؓ
(عبد مناف) بن اسد بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن یقظہ بن مرہ بن کعب بن لوی القرشی المخزومی ان کی والدہ بنو سہم میں سے ہیں۔ ابو عبد اللہ کنیت ۔ قدیم الاسلام اور مہاجرین اولین میں سے ہیں۔ یہ اسلام میں ساتویں یا گیارھویں ہیں۔
نبی ﷺ نےان کے گھر کو دارالتبلیغ بنایا تھا یہ گھر کوہ صفا پر تھا۔ اس گھر میں جماعت کثیرہ داخل اسلام ہوئی۔
عمر فاروقؓ ان میں سے آخری ہیں۔یہ حلف الفضول کے قائم کرنے والوں میں سے ہیں۔ ان کا انتقال اسی روز ہوا جس روز ابوبکر صدیقؓ کا انتقال ہوا۔
7۔ ایاس بن البکیر رضی اللہ عنہ
یہ قبیلہ بنو لیث سے ہیں۔ بنو عدی (قبیلہ عمر فاروقؓ ) کے حلیف تھے۔ ایاس بدر واحد اور خندق اور دیگر جملہ مشاہد میں ہمرکاب نبوی حاضر ہوئے جن دنوں نبیﷺ ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہ کے گھر میں چپکے چپکے تبلیغ اسلام فرمایا کرتے تھے انہی دنوں میں ایا س معہ برادر خود خالد کے داخل اسلام ہوئے تھے اور غزوہ بدر میں ایاس خود ہرسہ برادران خود خالد ، عامر اور عاقل حاضر ہوئے تھے۔
8۔ بلال حبشی رضی اللہ عنہ
حبشی النسل ہیں۔ لمبا قد، چھریرا بدن، رنگ گہرا سانولا، موضع سرا ۃ (یامکہ) میں پیدا ہوئے یہ ان سات سابقین میں سے ہیں جو ابتداء اسلام ہی میں مسلمان ہو گئے تھے۔ اسلام کیلئے ا ن پر سخت ظلم ہوئے۔ ایذائیں دی گئیں۔ شریر لڑکے ان کو جانور کی طرح لئے پھرتے تھے اور یہ احد احد ہی کے نعرے لگاتے یا اللہ یا اللہ ہی پکارا کرتے تھے۔ ایک روز نبی ﷺ نے دیکھ پایا کہ ان کو سخت ایذا دی جاتی ہے۔ ابوبکر صدیق ؓ سے آکر فرمایا کہ اگر روپیہ ہوتا تو بلال ؓ کو خرید لیا جاتا۔ صدیق ؓنے حضرت عباس ؓسے جا کر کہا کہ مجھے بلالؓ خرید دو ۔ حضرت عباس ؓنے پانچ یا سات یا نو چھٹانک چاندی کے بدلہ ان کو خرید لیا۔ صدیقؓ نے ان کو آزاد کر دیا۔ یہ نبی ﷺ کے مؤذن اور ابوبکر ؓ کے خازن تھے۔ ابو عبد اللہ یا ابوعبدالکریم یا ابو عبد الرحمن ان کی کنیت تھی۔
ان کے والد کا نام رباح ، ماں کا نام حمامہ، بھائی کا نام خالد، بہن کا نام عفرہ تھا۔ وفات صدیقؓ کے بعد یہ جہاد شام میں شرک ہوئے اور دشمق میں 20ھ کو بعمر 63سال وفات پائی اور باب صغیر کی طرف مدفون ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
8-حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ
قبیلہ لحم بن عدی سے تھے اور زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے حلفی تھے۔ یہ عبد اللہ بن حمید کے غلام تھے اپنی قیمت ادا کر کے انہوں نے آزادی حاصل کر لی تھی۔
غزوات بدر اور حدیبیہ میں حاضر ہوئے۔ 6ھ میں نبی ﷺ نے ان کو مقوقس شاہ مصرا ور اسکندریہ کے پاس اپنا سفیر بنا کر بھیجا تھا ،ایک دن بادشاہ نے جو عیسائی المذہب تھا کہ اگر محمد نبی اللہ ہیں تو قوم نے ان کو مکہ سے کیونکر نکال دیا، حاطب نے فرمایا مسیح کی بابت تو تمہارا عقیدہ بہت کچھ ہے پھر قوم نے ان کو کیونکر پھانسی پر چڑھا دیا۔بادشاہ اور پادری جواب سے عاجز رہ گئے ۔ ابوبکر صدیقؓ نے بھی ان کو بار دوم مقوقس کے پاس سفیر بنا کر بھیجا تھا۔
انہوں نے 30ھ میں مدینہ منورہ کے اندر وفات پائی اور امیر المومنین حضرت عثمان ؓ نے ان کی نماز جنازہ ادا کی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
9۔ امیر المومنین حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ
نبی ﷺ کے چچا ہیں۔ 6ھ نبوت کو اسلام لائے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے برادر رضاعی بھی ہیں۔ یعنی ہر دونے ثوبیہ کا دودھ پیا تھا۔ جنگ بدر میں شجاعت و مردانگی کے اعلیٰ جوہر دکھلائے جنگ احد میں بھی بڑے بڑے دشمنوں کو خاک و خون میں سلا یا۔ وحشی غلام نے ایک پتھر کے پیچھے چھپ کر بزدلانہ حملہ ان پر کیا۔ زخم ناف کے قریب ہوا شہید ہوگئے ۔ دشمنوں نے ان کا جگر نکالا ، کان کاٹے چہرہ بگاڑا ، پیٹ چاک کر ڈالا،نبی ﷺ نے یہ حال دیکھا تو سخت اند وہ گین ہوئی اور سید الشہدا اور اسد اللہ ورسولہ کا خطاب عطا فرمایا۔ ان کے دو فرزندہ عمارہ اور یعلی تھے۔ عمارہ کا ایک فرزند حمزہ ہوا۔ اوریعلی کے 5 فرزند ہوئے یہ نسل آگے نہ چلی۔
امیر حمزہ کی دو لڑکیاں تھیں۔ ام الفضل جن سے عبد اللہ بن شداد نے ایک حدیث روایت کی ہے۔
امامہ جس کا نکاح سلمہ فرزند ام المومنین سلمہ کیساتھ ہوا تھا ۔ اُسی کے حق حضانت کے متعلق سیدنا علی و سید نا جعفر و سید نا زید رضی اللہ عنہم نے اپنے پنے دلائل بارگاہ نبوی میں پیش کئے تھے۔
10۔ خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ
یہ قرشی السہمی ہیں۔ ام المومنین حفصہ کا نکاح اول انہی کے ساتھ ہوا تھا۔ انہو ں نے ہجرت حبشہ بھی کی تھی اور وہیں سے واپس آکر جنگ بدر میں شامل ہوئے تھے۔ جنگ احد میں مجرو ح ہوئے اور انہی زخموں سے مدینہ میں وفات پائی۔ مہاجرین اولین میں ان کا شمار ہے۔
عبدا للہ بن حذافہ السہمی ان کے حقیقی بھائی میں جو نبی ﷺ کا فرمان کسری ایران کے پاس لیکر گئے تھے۔ ابو الاخنیس تیسرے بھائی ہیں یہ سب مہاجرین اولین میں سے ہیں۔
11۔ ربیعہ بن اکثم بن سنجر ۃ الاسدی
یہ بنو اسد بن خزیمہ کے قبیلہ سے ہیں۔ خزیمہ کا نام نسب نامہ نبوی میں 15پر ہے۔ یہ بنو عبد شمس کے حلیف بھی تھے۔ پست قامت مگر بلند ہمت 30سال کی عمر تھی ،جب بدر میں شامل ہوئے پھر احد، خندق اور حدیبہ میں بھی حاضر تھے، جنگ خیبر میں قلعہ فطا ۃ پر حارث یہودی کے ہاتھ سے مقتول ہو کر درجہ شہادت کو فائز ہوئے رضی اللہ عنہ۔
12۔ زاہر بن حرام الاشجعی رضی اللہ عنہ
حجاز کے رہنے والے تھے مگر بادیہ نشین تھے۔ نبیﷺ کی خدمت میں آتے تو کوئی نہ کوئی تحفہ لے کر آتے۔ نبیﷺ نے فرمایا ہر ایک شہری کا کوئی نہ کوئی جنگل کا رہنے والا دوست ہوتا ہے آل محمد کا جانگلی دوست زاہر بن حرام ہے۔
ایک روز بازار مدینہ میں کھڑے تھے نبی ﷺ پیچھے سے آگئے۔ اس کی آنکھوں پر اپنے دست مبارک رکھ دئیے اور فرمایا اس غلام کو کون خریدتا ہے وہ بولا کہ حضور تب تو میں بہت ہی کم قیمت ثابت ہونگا۔ فرمایا نہیں تو بارگاہ الٰہی میں بہت قیمتی ہے۔ آخر عمر میں یہ کوفہ میں جا آباد ہوئے تھے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
13۔ زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ
زبیر رضی اللہ عنہ ام المومنین خدیجۃ الکبری کے برادر زادہ اور نبی ﷺ کے پھوپھیر سے بھائی یعنی صفیہ بنت عبد المطلب کے بیٹے۔ ابوبکر صدیق کے داماد یعنی اسماء بنت ابوبکر کے شوہر ہیں۔ امام عروہ بن زبیر کی روایت میں ہے کہ زبیر کی 16سال کی عمر تھی جب داخل اسلام ہوئے۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے راہ خدا میں شمشیر کو میان سے نکالا اور دو دفعہ (احد و قریظہ) میں ان کو نبی ﷺ نے فذالک ابی و امی فرمایا ان کو نبی ﷺ نے اپنا حواری فرمایا ہے اور علی مرتضی ان کو الشکح العرب کہا کرتے تھے۔ حساب بن ثابت نے ان کو جملہ صحابہ پر ترجیح دی ہے جیسا کہ جعفر طیار کی نسبت ابوہریر ؓ نے ایسا ہی کہا ہے یہ عشرہ مبشر میں سے ہیں۔ یہ ان چھ میں سے ہیں جن کو فاروق نے اپنے بعد شایان خلافت بتلایا، یہ بہت بڑے امیر اور بہت بڑے سخی تھے۔ ان کے پاس ایک ہزار غلام تھے جن کی سب آمدنی راہ خدا میں صرف ہوتی تھی۔
ان سے غلطی یہ ہونی کہ جنگ جمل میں امیر المومنین علی مرتضیٰ کے مقابلہ میں نکلے۔ مگر جناب امیر نے ان کو ایک حدیث نبوی یاد دلائی تو تائب و نادم ہو کر جنگ سے علیحدہ ہو گئے۔ ابن جرموز نے فریب دیکر انکا سر کاٹا اور علی مرتضیٰ کے پاس لایا۔ فرمایا مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ قاتل زبیر کو دوزخ کی بشارت دے دینا۔ یہ جملہ مشاہد میں ملتزم رکاب نبوی رہے ان کی قبر بصرہ کے متصل ہے۔
عبداللہ بن زبیر امیر معاویہ کے بعد والی حجاز ہوئے اور گیارہ سال تک سلطنت کی اور بالآخر حجاج بن یوسف کے حملہ میں شہید ہوئے۔
عروہ بن زبیر ائمہ حدیث میں سے ہیں حضرت زبیر کے کل دس فرزند تھے ۔ ان کی شہادت 10جمادی الاول 36یوم الخمیس کو بعمر 67سال ہوئی۔ رضی اللہ عنہ
14۔ زید بن خطاب القرشی ا لعدوی
عمر فاروق کے بھائی ہیں۔ زید کی والدہ اسماء بنت وہب ہے اور عمر کی والد ہ ختمہ بنت ہاشم زید قد کے بہت لانبے تھے ان کا اسلام حضرت عمر کے اسلام سے پہلے کا ہے بدر ، احد خندق بیعت الرضوان اور جملہ مشاہد میں ہمراب نبوی رہے۔
یہ اس لشکر کے علمبردارتھے جو مسیلمہ کے مقابلہ میں حضرت صدیق ؓنے روانہ کیا تھا۔ دشمن کے ایک حملہ میں ان کا لشکر متفرق ہو گیا۔ تو انہو ں نے کہا کہ اب مرد مرد نہیں رہے پھر بلند ترین آواز سے کہا۔ الٰہی میں اپنے ساتھیوں کے فرار کا تیرے حضور میں عذر پیش کرتا ہوں اور مسیلمہ اور محکم بن طفیل کی سازشوں سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔
یہ آگے بڑھے حملہ کیا اور مرتدین و کافرین کو قتل کرتے ہوئے شہید ہوگئےان سے دو حدیثیں مروی ہیں۔ رضی اللہ عنہ۔
15۔ زیاد بن کعب بن عمرو
یہ بنو کلیب جہنی ہیں۔ بدر و اُحد میں حاضر ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
16۔ سالم بن معقل رضی اللہ عنہ
یہ اصلی باشندے اصطخر کے تھے ۔ بعض نے ان کا وطن موضع کو مد (علاقہ فارس) بھی لکھا ہے۔ثبیتہ بنت تعار انصاریہ کے غلام تھے یہ خاتون ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن مناف کی زوجہ ہیں۔ انہوں نے ان کو آزاد کر ادیا اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ان کو اپنی تربیت میں لے لیا۔ حتی کہ متبنی بنا لیا جب تنسیخ تبنت کا حکم اترا تو اپنی برادر زادی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ فرشیہ کا نکا ح ان سے کر دیا۔
حضرت سالم کو انصاری اس لئے کہتے ہیں کہ وہ انصاریہ کے آزاد کردہ تھے اور مہاجر اس لئے شمار کرتے ہیں کہ انہوں نے مکہ میں ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ہاں پرورش پائی اور مکہ سے ہجرت کر کے اب قافلہ میں مدینہ منورہ پہنچے جس میں عمر فاروق ؓبھی شامل تھے۔
ان کو عجمی اصل وطن کے لحاظ سے کہا جاتا ہے قرآن مجید کے جید قاری تھے ،نبی ﷺ نے معلمین قرآن میں ان کے نام کا تعین فرمایا تھا۔ بد ر میں حاضر تھے۔
16ھ کو جنگ یمامہ میں یہ اور ان کے مربی ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ سالم کا سرابو حذیفہ کے پائوں کی جانب تھا۔ رضی اللہ عنہ
17۔ سائب بن مظعون القرشی الجمحی رضی اللہ عنہ
سائب بن مطعون بن حبیب بن حذافہ بن جمح۔عثمان بن مغلعون کے برادر شفیق ہیں۔ ہجرت حبشہ و ہجرت مدینہ کی وجہ سے ذوالہجرتین ہیں۔ بدر میں شامل تھے سال وفات معلوم نہیں ہوسکا۔ سائب اور عثمان ہر دو بھائیوں کی نسل منقطع ہو گئی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
18۔ سائب بن عثمان بن مظعون القرشی الجمحی
یہ سائب بن مظعون کے برادر زادے ہیں ان کے والد عثمان بن مظعون اور ان کے چچائوں قدامہ بعبداللہ اور سائب نے ہجرت حبشہ کی تھی وہ بھی حبشہ کی ہجرت دوم میں شامل تھے۔ یوم الیمامہ کو شہید ہوئے اس وقت ان کی عمر تیس سال سے اوپر تھی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔
19۔ سبرہ بن فاتک الاسدی
ان کا شمار باشندگان شام میں ہوتا ہے یہ اور ان کے بھائی خریم بن فاتک دونوں بدری ہیں ۔ بشر بن عبد اللہ اور حبیر بن نفیر نے ان سے وایت حدیث کی ہے۔ رضی اللہ عنہ
20۔ سعد بن ابی وقاص قرشی الزہری
سعد بن مالک بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب۔
نبی ﷺ کے نسب نامہ میں کلاب کیساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ نبیﷺ ان کو ماموں کہا کرتے تھے۔ اسلام میں یہ ساتویں ہیں ان سے پہلے صرف چھ کس مسلمان ہوئے تھ بوقت اسلام ان کی عمر 19سال کی تھی یہ اس دس میں سے ہیں جن کو نبی ﷺ نے جنت کی بشارت دی ان چھ میں سے ہیں جن کو عمر ؓ نے شایان خلافت بتلایا ۔ یہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے راہ خدا میں تیر افگنی کی۔
ایام فتنہ میں یہ سب سے الگ رہے ۔ وادی عقیق میں انہوں نے مدینہ سے دس میل کے فاصلہ پر محل بنا رکھا تھا وہیں رہتے۔ سب سے کہہ دیا تھا کہ مسلمانوں کے اختلاف اور جنگ کی کوئی بات مجھے نہ سنایا کرو ۔
55ھ میں بعمر 75سال وفات پائی۔ م دینہ میں دفن ہوئے جملہ مشاہد میں ہمرکاب نبویﷺ رہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
21۔ سعد بن خولی رضی اللہ عنہ
یمن کے باشندے تھے اور بنو عامر بن لوی کے حلیف تھے ان کا شما ر مہاجرین اولین میں ہے بدر میں حاضر تھے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
22۔ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل قرشی العدوی رضی اللہ عنہ
عمر فاروق کے چچیرے بھائی ہیں اور فاطمہ اخت عمر کے شوہر ہیں ۔ فاطمہ ہی کے ذریعہ سے عمر فاروق اسلام تک پہنچے تھے یہ مہاجرین اولین سے ہیں۔ نبی ﷺ نے ان کو بدر کے موقعہ پر کسی خدمت کیلئے بجانب شام بھیجا تھا۔ غنیمت بدر میں سے ان کو حصہ دیا گیا دیگر جملہ مشاہد ہیں یہ ملتزم رکاب نبوی رہے یہ ان دس میں سے ہیں جن کو نبی ﷺ نے بشارت جنت عطا فرمائی تھی۔
حضرت سعید بن زید کو امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ایک جاگیر عطا فرما دی تھی جو دیر تک ان کی اولاد کے پاس رہی۔
حضرت سعید بن زید نے 51ھ میں بمقام وادی عقیق وفات پائی اور مدینہ میں مدفون ہوئے۔
23۔ سلیط بن عمرو القرشی العامری
سلیط بن عمروب ن عبد شمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حصل بن عامر بن لوی نبی ﷺ کے ساتھ نسب نامہ میں لوی میں شامل ہو جاتے ہیں۔
مہاجرین اولین میں سے ہیں حبشہ و ہجرت مدینہ سے مشرف ہوئے موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ بدر میں شامل ہوئے۔
ابن اسحق کا بیان ہے کہ ان کو نبیﷺ نے ہوذ بن علی حنفی کے پاس اپنا سفیر بنا کربھیجا تھا ابن ہشام کہتے ہیں کہ ثمامہ بن اثال رئی سنجد کے پاس بھی بطور سفارت گئے تھے۔14ھ میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
24۔ ابو مخشی کنیت سے مشہور ہیں بدر میں شامل ہوئے رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
25۔سویط بن سعد القرشی العبدری
سویط بن سعد بن حرملہ بن مالک بن عمیلہ بن سباق بن عبدار بن قصی۔
نبی ﷺ کے ساتھ ان کانسب قصی میں شامل ہو جاتا ہے یہ مہاجرین حبشہ میں سے بھی ہیں بڑے خوش مذاق اور خوش طبع تھے۔ بدر میں شامل ہوئے رضی اللہ عنہ۔
26۔ سہل بن بیضاء القرشی الفہری
سہل بن وہب بن ربیعہ بن عمرو بن عامر بن ربیعہ بن ہلال بن اہیت بن مالک بن ضبہ بن حارث بن فہر۔
سہل ان بزرگوں میں سے ہیں جو مکہ میں اسلام لائے تھے مگر یہ اپنے ایمان کو چھپاتے تھے بدر میں کفار ان کو اپنے ساتھ لیگئے تھے ابن مسعود نے شہادت دی کہ انہوں نے سہل کو نماز پڑھتے دیکھا حضور نے ان کو اسیری سے رہائی فرمائی تھی۔
ان کا انتقال مدینہ میں ہوا یہ باصطلاح علماء بدری نہیں گو اس وقت مسلمان ہی تھے۔
27۔شجاع بن ابی وہب الاسدی
شجاع بن ابی وہب (ابن وہب( بن ربیعہ بن اسد بن صہیب نے مالک بن کثیر (کبیر )بن غنم بن دو دان بن اسد بن خزیمہ۔
ان کا نسب نبیﷺ کیساتھ خزیمہ میں شامل ہو جاتا ہے یہ بھی حبش کو ہجرت ثانیہ میں گئے تھے اور پھر یہ سن کر اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں حبش سے واپس آگئے تھے۔
یہی وہ بزرگ ہیں جو حارث بن ابی شمر غانی اور جیلہ بن ایہم غانی کے پاس سفیر نبوی ہو کر گئے تھے یہ لانبے قد اور چھریرے بدن کے انسان تھے۔
یوم یمامہ کو شہید ہوئے اس وقت ان کی عمر چالیس سال سے کچھ اوپر تھی۔ رضی اللہ عنہ۔
28۔شقران حبشی
نبیﷺ کے آزاد کر دہ غلام تھے۔ نبیﷺ کے غسل میت میں حاضر تھے۔ ان کی نسل ہارون الرشید کے عہد میں ختم ہوگئی تھی۔ ان کا نام صالح ہے۔ رضی اللہ عنہ۔
29۔ شماس بن عثمان بن شرید القرشی المخزومی
شماس ان کا لقب ہے۔ اصلی نام عثمان تھا، لقب سے ہی مشہور ہیں۔ ان کی والدہ صفیہ بن ربیعہ بن عبد شمس ہے، مہاجرین حبیشہ میں سے ہیں، بدر میں حاضر ہوئے۔ احد میں سخت زخمی ہوئے۔
میدان جنگ سے ان کو مدینہ میں بھیج دیا گیا۔ وہاں ایک دن رات زندہ رہے ام سلمہ رضی اللہ عنہا۔ ان کی تیمار داری کرتی رہیں۔ پھر جب جاں بحق ہوئے تو مدینہ سے حسب الحکم نبوی احد میں لائے گئے اور شہید ان احد کیساتھ مدفون ہوئے۔
جنگ احد میں اتنی جان توڑ کر لڑے تھے نبی ﷺ چپ و راست جدہر نظر مبارک اٹھاکر دیکھتے شماس ہی تلوار چلاتا ہوا نظر آتا تھا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
30۔ صفوان بن بیضاء القرشی الفہریؓ
صفوان بن بیضاء (کانت امہ) وہو صفوان بن وہب بن ربیعہ بن ہلال بن وہب بن ضبہ بن حارث بن فہر بن مالک۔
نبی ﷺ کے ساتھ نسب میں فہر کے ساتھ جاملتے ہیں۔
یہ اور ان کے بھائی سہیل بن وہب دونوں بدر میں حاضر تھے۔ ان کی وفات پر اختلاف ہے بعض نے لکھا ہے کہ رمضان 38ھ میں انتقال ہوا۔
اور بعض نے لکھا ہے کہ وہ بدر میں شہید ہوئے یہ مواخات میں رافع بن عجلان کے بھائی تھے اور دونوں بدر میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

یہ بھی پڑھیں:  کھجور کے طبی فوائد