dowland trap

اگر ایران جنگ چاہتا ہے تو اس کا خاتمہ ہو جائے گا: امریکی صدر

EjazNews

امریکہ اور ایران کی کشیدگی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان باراک اوبامہ کے دور میں ہونے والے معاہدے کے بعد سے دنیا کو سکون تھا کہ اب اس خطے میں امریکہ کوئی نئی جنگ نہیں چھیڑے گا۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے برسر اقتدار آنے کے بعد اس معاہدہ کو یکطرفہ طورپر ختم کر دیا اور ایران پر امریکی پابندی عائد ہو گئیں۔
امریکی صدر اور ایرانی حکام کی جانب سے بھی یہ باتیں بھی سامنے آرہی ہیں کہ جنگ نہیں ہوگی۔ لیکن امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اس کے برعکس ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔
گزشتہ دنوں امریکہ نے خلیج فارس میں اپنی جنگی بیڑہ تعینات کیا تھا ۔


اسی کشیدگی کے بیچ میں امریکی صدر کا ایک ٹویٹ سامنے آیا جس میں انہوں لکھا ہے کہ ایران امریکہ کو دھمکانے کی کوشش نہ کرے ،اگر ایران جنگ چاہتا ہے تو اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔
رواں ماہ کے آغاز میں ہی امریکہ نے ایرانی تیل کی درآمدات پر دی گئی چھوٹ ختم کرنے اور ایران سے تیل خریدنے والے ممالک کو خبردار کیاتھا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایران نے امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے معاشی دہشت گردی قرار دیا اور ساتھ ہی ایران نے 2015 میں ہونے والے عالمی جوہری معاہدے کے اہم حصے سے دستبردار ہونے کا بھی اعلان کردیا جس سے امریکا گزشتہ برس یکطرفہ طور پر ہی پیچھے ہٹ چکا تھا۔
مشرق وسطیٰ پہلے ہی آگ اور خون میں کھیل رہا ہے۔ افغانستان میں امریکہ آج تک امن قائم نہیں کر سکا، عراق کی آگ بجھی نہیں ہے اور شام جل رہا ہے۔ معمر قذافی کے بعد لیبیا کا جو حال ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اس ساری صورتحال میں اگر ایک نئی جنگ ہوئی تو خطے کی صورتحال کیا ہوگی اللہ ہی جانے آنے و الا وقت اس دنیا کے لیے کتنا بھیانک ہو سکتا ہے۔
عراق پر بھی جب حملہ کیا گیا تو ایسی ایسی رپورٹیں سامنے آئیں جیسے عراق دنیا کو ختم کر دے گا کیا ان ہزاروں خاندانوں کی اذیت ناک زندگی ٹونی بلیئر کی ایک معافی کے بیان کے بعد آسان ہو گئی۔ کیا انٹیلی جنس کی غلط رپورٹنگ کہہ دینے سے ایک ملک کی تباہی کو واپس لایا جاسکتا ہے۔ یہ دنیا ہم سب کی ہے ، اس دنیا کو رہنے کی جگہ ہونا چاہئے نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف آگ اور خون کا کھیل کھیلنے کے لیے۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تو امریکہ نے سعودی عرب سمیت خلیج تعاون کونسل میں شامل ممالک سے خلیجی ملکوں کی سمندری حدود میں فوج تعینات کرنے کی اجازت بھی حاصل کرلی۔
دوسری جانب سعودی سفیر عادل الجبیر کا بیان بھی سامنے آیا ہے کہ جس میں ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب خطے میں جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایران کو منہ توڑ جواب دیں گے۔
یاد رہے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خطے کی صورت حال کے تناظر اور درپیش خطرات کے دیکھتے ہوئے خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا امریکہ وائٹ سپر میسی کی جانب جارہا ہے