state bank

سٹیٹ بینک نے مانیٹرنگ پالیسی جاری کر دی ہے

EjazNews

سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کر دہ مانیٹرنگ پالیسی میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران جولائی سے مئی تک حکومت نے سٹیٹ بینک سے ڈھائی گنا زائد قرض لیے جو تقریباً 48 کھرب روپے ہیں۔سٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی کی اوسط شرح 3.8 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ امکان ظاہر کیا گیا کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسز میں رد و بدل، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ اضافہ اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے بتایا گیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران شرح نمو سست رہے گی، زراعت اور صنعت کے شعبوں میں سست روی معاشی سست روی کی اہم وجوہات ہیں۔
توقعات کا ذکر کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ رواں سال حقیقی جی ڈی پی نمو کا دو تہائی سے زائد حصہ خدمات سے آنے کی توقع ہے اور سال 2020 میں شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 29 فیصد کمی ہوئی، گزشتہ مالی سال یہ خسارہ 13 ارب 60 کروڑ ڈالر تھا جو رواں مالی سال کم ہو کر 9 کھرب 60 ارب روپے ہوگیا۔خسارے میں کمی سے متعلق مرکزی بینک نے بتایا کہ اس کی بڑی وجہ درآمدات میں کمی اور ترسیلات زر میں اضافہ ہے، تاہم اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ نہ ہوتا تو خسارہ مزید کم ہوسکتا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ سٹیٹ بینک نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران جولائی سے مارچ کے دوران نان، آئل تجارتی خسارہ کم ہوکر 11 ارب ڈالر رہ گیا، جبکہ گزشتہ برس یہ خسارہ 13 ارب 70 کروڑ ڈالر تھا۔ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے پر بھی مانیٹری پالیسی پر روشنی ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک، کرنسی مارکیٹ میں کسی بڑی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔رواں مالی سال مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہنے کا امکان ہے جس کی بڑی وجہ ٹیکس میں کمی اورپرانے قرضوں پر سود کی مد میں ادائیگیاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  فرانسیسی صدر اور حکومت سے گستاخانہ خاکوں پر معافی مانگنے کا مطالبہ دنیا بھر میں ہو رہا ہے