sunday bazar

رمضان بازاربہتر ہیں بس چیزوں کے ناقص پن کو ختم کر دیجئے

EjazNews

رمضان بازار اور اتوار بازاروں کی روایت ہمارے ملک میں بہت پرانی نہیں ہے۔ بلکہ اب تو بعض جگہوں پر جمعہ اور منگل بازار بھی لگایا جاتا ہے۔ یہ خریداری کے بڑے مرکز بن سکتے ہیں صرف یہاں پر بہتر مانیٹرنگ پالیسی اور چیزوں کے ناقص پن کو دور کر لیا جائے تو یہ عوام کیلئے چھٹی والے دن ، رمضان اور تہواروں کے موقعوں پر بڑے بازاروں میں تبدیل ہو سکتے ہیں ۔رمضان بازار وں میں دیکھی جانی والی رونق کی ایک بڑی وجہ بچت کے ساتھ ساتھ قوت خرید کی کمی بھی ہے۔ دنیا بھر میں مذہبی اور غیر مذہبی تہواروں میں سیل لگتی ہے لیکن ہمارے ہاں بالکل مختلف ہوتا ہے۔ رمضان میںپھل فروشوں اور دوسرے لوگوں نے عوام کی جیب خالی کی ہے تو عید پر کپڑوں کو ایسی آگ لگے گی کہ سفید پوش آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا، کاش اللہ نے عید بنائی ہی نہ ہوتی تو عزت رہ جاتی۔ اگر حکومت کیلئے ممکن ہو سکے تو دنیا بھر کی طرح اس طرف بھی توجہ دی جائے کیونکہ وہی کپڑے جو عام دنوں میں 15سو روپے میں مل جاتے ہیں ان دنوں 4ہزار روپے تک پہنچ جاتے ہیں یہ چھوٹی سی مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مارٹن ہم آپ کو بھولے نہیں
رمضان بازار میں لائن میں لگے لوگ سبزیاں خریدتے ہوئے
رمضان بازار میں خریداری کرتی خواتین