badar

اسلام اور کفر کی پہلی جنگ میں لڑنے والے صحابہ کرام ؓ

EjazNews

جنگ بندر حضور نبی کریم ﷺ کی زیر قیادت شرکت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مختصر تعارف ہم ejaznewsپر قسطوں میں پیش کر یں گے ۔ جس میں اسلام اور کفر کی پہلی لڑائی میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام کے حالات زندگی کا مختصر جائزہ لیاجائے گا۔ آئیے پڑھتے ہیں۔
1۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ولادت مبارک بروز دو شنبہ ۹؍ربیع الاول کو مکہ معظمہ میں بعد صبح صادق و قبل از طلوع آفتاب ہوئی۔ اکتالیسویں سال کے پہلے دن بعثت نبوت ہوئی۔ 13سال مکہ معظمہ میں تبلیغ نبوت فرمائی ،بروز 2شنبہ 27 ویں شب ماہ رجب10نبوت کو معراج ہوا۔ شب جمعہ 27صفر 13نبوت کو مکہ بعزم ہجرت چھوڑا۔ 2شنبہ 8ربیع الاول13نبوت کو قبا رونق افروز ہوئے۔ 2شنبہ22ربیع الاول14 کو قبا میں14یوم قیام کے بعد نور افزائے مدینہ منورہ ہوئے۔ 10سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا ۔63سال 4یوم کی عمر میں اس دنیا سے پردہ فرمایا۔ تاریخ وصال دو شنبہ وقت چاشت 13ربیع الاول 11ھ ہے۔ عالم دنیوی میں حضورﷺ نے ولادت سے لے کر وفات تک 22330دن 6گھنٹے قیام فرمایا۔ یہ6گھنٹے اکتیسویں دن کے تھے۔
مذکورہ بالا ایام میں سے 8156دن تبلیغ رسالت و نبوت کے ہیں۔ حضورﷺ کے ممتاز اسماء محمد، احمد، ماحی، حاشر، عاقب ہیں۔

فضیلت اہل بدرو شہداء اہل بدر

2۔ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
عبداللہ بن عثمان نام، ابوبکر کنیت، صدیق خطاب، عتیق علم، صاحب الغار لقب ہے۔ طاہرہ خدیجۃ الکبری کے بعد سب سے پہلے اسلام لائے اس وقت ان کی 38سال کی تھی اور مکہ معظمہ کے مشہور اور نامی تاجروں میں آپ کا شمار ہوتا تھا اور مقدمات دیت کا انفضال انہی کے فیصلہ پر ہوتا تھا۔حضرت صدیقؓ نے سات ایسے بزرگوں کو کفار کی تعذیب سے اپنا مال خرچ کر کے رہا کر ایا جو اسلام میں بلند تر درجہ رکھتے ہیں۔ انہی سات میں بلال اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ حضرت صدیقؓ ہی ہیں جنہوں نے اسلام میں سب سے پہلے مسجد اپنی زمین پر اس وقت تیار کی جبکہ کفار مکہ مسلمانوں کو حرم میں عبادت نہ کرنے دیتے تھے۔نبی کریم ﷺ کے بعد خلافت کابھار آپ ؓ نے سنبھالاتقریباً دو سال چار ماہ تک آپ ؓخلیفہ رہے ۔ اپنی خلافت کے دوران آپ ؓ نے اسلامی سلطنت کو بہت وسعت دی۔ آپؓ کا جب انتقال ہوا تو عراق فتح ہو چکا تھا اور ملک شام کا کچھ حصہ بھی فتح ہو چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک منٹ

جنگ بدر میں لڑنے والے صحابہ کرام ؓ (حصہ دوئم)

3۔امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
قبل از اسلام قوم کی طرف سے درجہ سفارت حضرت عمر فاروق ؓ کو ملا ہوا تھا ۔ معاہدات اور مناقشات اور معاملات جنگ کا فیصلہ انہی کی وساطت سے اور انہی کی رائے کے موافق ہوا کرتا تھا۔ اس لیے قریش کے اندر اور دیگر قبائل کے اندر ان کو خاص طور پر وقار ور وجاہت حاصل تھی۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول تھا کہ’’ اسلام عمر ؓ کے بعد ہم دین اسلام کو اس نوجوان سے مشابہ سمجھا کرتے جس کے قوی کا نشوونما روز بروز ترقی پذیر ہو۔ شہادت عمر ؓ کے بعد ہم سمجھا کرتے تھے کہ اب اس شخص کے قوی میں انحطاط شروع ہو گیا ہے۔‘‘ عمر بوقت اسلام 33سال تھی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے سچ کو عمر کے دل و زبان میں رکھ دیا ہے وہ فاروق ہے حق اور باطل کے درمیان اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے فرق کر دیا ہے۔‘‘
اسلام سے چند یوم کے بعد ہی ان کو حضورﷺ نے اپنا وزیر بنا لیا۔ ترمذی نے بروایت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے دوو زیر آسمان والوں میں سے ہیں وہ تو جبرائیل و میکائیل ہیں اور میرے دو وزیر زمین والوں میں سے ہیں وہ ابوبکر ؓ و عمر ؓ ہیں۔
جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے محسوس کرلیا کہ وہ وفات پانے والے ہیں تب انہوں نے مہاجرین و انصار کے مجمع میں اپنا جانشین کا سوال پیش کیا۔ عبد الرحمن بن عوف ؓ، عثمان بن عفان ؓ، سعید بن زبیر ؓاور اسید بن حضیر انصاری ؓوہ بزرگ ہیں جنہوں نے اس مسئلہ پر گفتگو ئیں کیں اور بالاتفاق انہوں نے عمر فاروق ؓ کو شایان خلافت قرار دیا۔حضرت عمر فاروق ؓ 10برس 6ماہ 8یوم تک خلافت کی بھاری ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔26ذی الحجہ 23ھ کی نماز صبح کا وقت تھا، مسلمان نماز میں تھے کہ ابولولو مجوسی نے دو دھاری خنجر سے عمر فاروق ؓ پر حملہ کیا اور 6زخم کاری لگائے وہاں سے بھاگا تو 13دیگر کو بھی ز خمی کیا۔ عمر فاروق ؓ نے اسی وقت نماز کے لئے ابن عوفؓ کو امام مقرر کر دیا اور پھر مجروح اٹھا کر لائے گئے ۔ شنبہ یکم محرم 24 کو نبی ﷺ کے پہلو میں صدیقہ عائشہ طیبہ ؓ کے گھر میں ان کی اجازت سے دفن کئے گئے۔ انتقال بعمر 63سال ہوا۔
4۔امیر المومنین عثمان ذوالنور ین رضی اللہ عنہ
سرور عالم کے ساتھ نسب میں علی مرتضیٰؓ کے بعد سب سے اقرب عثمان ذوالنورین ہیں، نبیﷺ کی پھوپھی ان کی نانی ہیں، یہ دہری قرابت ہے۔ولادت 6عام الفیل۔ خلافت یکم محرم 24ھ ،مدت خلافت12سال سے 12یوم ۔ شہادت 18ذی الحجہ یوم الجمعہ 35ھ عمر 82سال ۔نبی ﷺ کی دختر رقیہ اور ان کی وفات کے بعد ام کلثوم کے شوہر بنے اور اسی لئے ذوالنورین کے لقب سے ملقب ہوئے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابراہیم ؑ و لوط ؑ کے بعد یہ سب سے پہلے شخص ہجرت کرنے والے ہیں۔‘‘
حضرت عثمان ؓ جہاد فی المال میں پیش پیش تھے۔ جنگ تبوک میں انہوں نے950شتر ۔ مکمل سامان کے ساتھ 50فرس اور ایک ہزار دینار چندے میں دئیے تھے۔ ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کیا کرتے تھے۔ باغیان مصر نے جب ان کو محصور کیا تب بھی 20غلام آزاد کئے۔ ایام محاصرہ میں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ تو اما م الخلق ہیں۔ پھر باغیوں کے خلاف حکم کیو ں نہیں دیتے ،فرمایا میں نبی ﷺ سے ایک عہد کر چکا ہوں اور اسی عہد پر قائم ہوں جس روز آپ ؓ کوشہید کیا گیا اسی روز انہوں نے نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا، فرماتے تھے عثمان آج کا روزہ تم ہمارے پاس افطار کرو گے۔ روزہ سے تھے اور قرآن مجید تلاوت فرما رہے تھے، جب باغیان ناہنجار نے آپؓ کو شہید کیا اس گناہ عظیم کا وبال امت محمدیہ میں ایسا پڑا کہ اس تاریخ سے محبت اور الفت اور اخوت و مصادقت اٹھ گئی۔ آج تک ہزاروں لاکھوں مسلمان خود مسلمانوں کلمہ خوانوں کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔وہ خاص شرف جو حضرت عثمان ؓ کو صحابہ میں امتیا ز خاص عطا کرتا ہے ،خدمت قرآن پاک ہے، آج جملہ عالم اسلام قرأت عثمانی اور ترتیب عثمانی پر متفق ہے ،آج جو کوئی بھی قرآن مجید ہاتھ میں لیتا ہے وہ زیر بار احسان عثما ن ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
5۔امیر المومنین علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ
سرور عالم ﷺکے ساتھ نسب میں اقرب جملہ صحابہ سے علی مرتضیٰؓ ہیں۔ نبی ﷺ اور علی مرتضی ؓ کے دادا عبدا لمطلب ہیں اور علی مرتضیٰ ؓکے والد ابو طالب نبی ﷺ کے والد عبد اللہ کے برادر شفق (ایک ماں باپ سے )ہیں۔عمر بوقت اسلام 10سال کی تھی۔ اسلام میں یوم نبوت کے پہلے ہی دن داخل ہوئے اور اسی روز طاہرہ خدیجۃ الکبری ؓاور عتیق ابوبکر صدیق ؓ بھی اسلام میں داخل ہوئے تھے۔مواخات مکہ میں نبی ﷺ نے ان کو اپنا بھائی بنایا تھا یہ خصوصیت حضرت علی ؓکو دیگر بنی اعمام سے ممتاز کر دیتی ہے۔
حضرت علی مرتضیٰ ؓان چار خلفاء میں سے ہیں جو راشد ین المہدین کے لقب سے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے موصوف کئے گئے۔ان چھ میں سے پہلے ہیں جن کو فاروق ؓ نے اپنے آخری کلام میں شایان خلافت بتلایا۔ ان دس میں سے ہیں جن کو نام بنام بشارت جنت اس زندگی میں ہی دیدی گئی تھی۔ آپ ؓ سیدہ فاطمہ زہر علیہا السلام جگر گوشہ رسول ﷺ کے زوج ہیں ۔ ابوالسبطین ہیں، امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے والد ہیں۔
جملہ مشاہدات میں ملتزم رکاب نبوی رہے۔ تبوک میں اس لئے حاضر نہ تھے کہ خود نبی ﷺ نے آپ ؓ کو مدینہ منورہ میں چھوڑ دیا تھا۔ بدر میں حضرت علی ؓنے شاندار کارنامے دکھلائے۔ کفار کے نوسر داروں کو یکے بعد دیگر ے حیدر کرارہی نے خاک و خون میں سلادیا اور جہنم میں پہنچا دیا۔
آپؓ 35ھ کو خلیفہ ہوئے اور 17رمضان 40ھ یوم جمعہ کو اشقی الناس ابن بلحم کے ہاتھ سے ز خمی ہو کر بعمر 63سال یوم الاحد کو وصال رفیق اعلیٰ سے خورسند و کامیاب ہوئے۔ آپؓ ابوالحسن کنیت فرماتے تھے ابوتراب کنیت پر جو عطیہ رسول ﷺہے مفتخر و شادماں ہوتے تھے۔ علم و عمل، زہد و ورع، شجاعت و مروت میں حضرت علی ؓ امام الخلق تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، مشیت ایزدی (۳)