shohda badar

فضیلت اہل بدرو شہداء اہل بدر

EjazNews

صحیح بخاری میں رفاعہ بن رافع الزرقی صحابی بن صحابی سے روایت ہے کہ ’’جبرئیل علیہ السلام نبی ﷺ کی خدمت میں آئے پوچھا آپ اہل بدر کو مسلمانوں میں کیسا سمجھتے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب مسلمانوں سے افضل سمجھتا ہوں۔ جبرئیل علیہ السلام نے بتایا کہ فرشتوں میں سے جو فرشتے بدر میں حاضر ہوئے ان کا درجہ ملائکہ میں بھی ایسا ہی سمجھا جاتا ہے‘‘۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ نے اہل بدر کو دیکھا اور فرمایا ااب تم جو چاہو کرو میں تم کو بخش چکا ہوں۔‘‘(ابو دائود)
شہدائے غزوہ بدرکا مختصر تعارف:
۱۔مہجع بن صالح رضی اللہ عنہ
مہجع بن صالح رضی اللہ قوم عک سے تھے، سید نا عمر فاروقؓ کے آزادہ کردہ غلام تھے۔ اس غزوہ میں سب سے پہلے یہی شہید ہوئے تھے۔ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ یومئذ مھجع سید الشہدآء‘‘ یہ اسلام ہی کی انسانیت نوازی ہے کہ ایک غلام کو سید الشہداء کا خطاب عطا فرمایا گیا ۔
۲۔عبیدہ بن حارث بن مطلب بن عبد مناف بن قصی
قریشی المطلبی ابو الحارث یا ابو معاویہ کنیت کرتے تھے۔ سب سے اولین سریہ اسلامی کے سردار یہی بنائے گئے تھے۔ غزوۂ بدر میں جب سرور عالم ﷺ نے اپنے گھرانے کے تین سرداروں کو جنگ میں جانے کا حکم دیا تو امیر حمزہ ؓاور علی مرتضیٰ ؓکے ساتھ تیسرے بزرگ یہی تھے۔ عمر بوقت شہادت 63سال تھی۔
۳۔عمیر بن ابو وقاص (مالک )بن اُہیت بن عبد مناف
قرشی الزہری ہیں اور حضرت سعد بن ابو وقاص (احد العشر المبشرہ)اور فاتح ایران کے برادر خورد ہیں۔ 16سال کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایا۔ نبی ﷺ نے ان کو بوجہ صغر سنی واپس کرنا چاہا تو یہ روپڑے ،اس لئے اجازت دی گئی۔ حوصلہ کے ساتھ لڑے اور خنداں خنداں روضہ ٔ رضوان کو سدھارے۔
۴۔عاقل بن بکیر بن عبد یا لیل
قبیلہ بنو لیث سے ہیں۔ ان کے بھائی کا نام خالد تھا وہ بھی غزوہ رجیع میں شہید ہوئے۔
۵۔عمیر بن عبد عمیر بن نقلہ
ذوالشمالین لقب۔ ابو محمد کنیت۔ بنو زہرہ کے حلفی تھے۔
۶۔عوف یا عوذ بن عفراء
انصاری نجاری تھے۔ عفراء ان کی والدہ کا نام ہے۔ اس خاتون بلند پایہ کے ساتوں فرزندہ غزوہ بدر میں حاضر تھے۔ والد کا نام حارث تھا۔
۷۔معوذ بن عفراء
صحابی اور والدین بھی صحابی تھے۔عوف یا عوذ بن عفراء کے سگے بھائی تھے۔
۸۔حارث (یا حارثہ) بن سراقہ بن حارث
انصاری۔ ان کی والدہ انس بن مالک کی پھوپھی ہیں۔ حلق پر تیر لگا اور جاں بجاں آفریں کو سپرد کر گئے۔
۹۔یزید بن حارث (یا حرث) بن قیس بن مالک
انصاری نجاری۔ موخات میں نمبر ۵کے دینی بھائی ۔
۱۰۔ رافع بن معلی بن لوذان
انصاری ہیں۔
۱۱۔عمیر بن حمام بن جموح بن زید بن حرام
انصاری اسلمی ۔ مواخات میں حضرت عبیدہ مہاجر نمبر ۴ کے دینی بھائی۔ دونوں زندگی میں بھی اکٹھے رہے اور بہشت بریں میں بھی ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے رونق افروز خلد ہوئے۔
۱۲۔عمار بن زیاد بن سکن بن رافع
انصاری الاشہلی ۔ ان کے بھائی عمارہ بن زیاد اور ان کے چچا یزید بن سکن غزوئہ احد میں شہید ہوئے تھے۔
۱۳۔سعد بن خثیمہ الانصاری الاوسی
ابو عبد اللہ کنیت، سعد الخیر لقب، نقیب محمدی تھے۔ باپ نے کہا تم ٹھہرو میں جاتا ہوں۔ انہوں نے کہا ابا مجھے بہشت میں جانے سے نہ روکو۔ ان کے والد خثیمہ غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ پس شہید بن شہید اور صحابی بن صحابی ہیں۔
۱۴۔مبشر بن عبدالمنذر بن زبیر بن زید
انصاری الاوسی ہیں۔
فہرست بالا کے نام زرقانی اور الاستیعاب کے متفق علیہ ہیں۔ بعض نے شہدائے بدر 22بتلائی ہے۔
مجھے بروایت بعض تین نام اور بھی ملے ۔(۱)سعد بن خولی(۲)صفوان بن بیضاء فہری۔(۳) عبد الہ بن سعید بن عاص اُموی۔
اس طرح فہرست ہذا میں ۱۷ نام درج کئے جاسکتے ہیں۔
محمد سلیمان سلمان منصورپوری(پٹیالہ )

یہ بھی پڑھیں:  گناہوں کو چھوٹا، کم تر مت جانیے