bilwal+parti

عید کے بعد حکومت کیخلاف مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے گی

EjazNews

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دئیے جانے والے افطار ڈنر کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوا ۔ اس ا جلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کا اہتما م کیا گیا جس میں بلاول بھٹوزرداری کا کہنا تھا ۔پاکستان کے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی ایک جماعت اس کا حل نہیں نکال سکتی۔ اگر آپ پاکستان پیپلز پارٹی اور میرا بیانہ کو غور سے سن لیں تو میرے بیانہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے سویلین اتھارٹی کی حمایتی رہی۔ اس پریس کانفرنس کے شروعات میں میں نے کہا کہ یہاں پر جو بھی سیاسی جماعتیں ہیں ۔ہم یہاں پر کسی کیخلاف احتجاج کیلئے اکھٹے نہیں ہوئے بلکہ پاکستان کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ہر ادارے سے لوگوں کو بے روزگار کیا جارہا ہے۔ میڈیا کے مزدور احتجاج کر رہے ہیں تنخواہ نہیں مل رہی۔ جو بھی سیکٹر اٹھائیں یہی حالات ہیں۔ ملکی معیشت کا حال سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کی جمہوریت کا حال سب کے سامنے ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں سب کے سامنے ۔ ہم سب پاکستانی ہیں ہمارا پاکستان خطرے میں تو ہم نے پاکستان کوبچانا۔ اسی لیے ہم سب اکٹھے ہوئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھاکہ رمضان کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی اور اس کے بعد آگے کا لائحہ طے کیا جائے گا۔عالمی دنیا میں ہم کمزور ترین ملک کے طور پر متعارف ہو رہے ہیں۔6-7مہینوں میں ملک ایک ایسے گہرے سمندر کی طرف جا نکلا ہے کہ اسکشتی کو سنبھالنا تمام کا کام ہے اور اسی قومی فریضہ کے تحت ہم سب اکٹھے ہوئے ہیں۔
مریم نواز کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام پارٹیوں کے اپنے منشور ہیں اور وہ ان کے مطابق ہی الیکشن لڑیں گے۔ یہاں اکٹھے ہونے کا مقصد پاکستانی عوام کو اس مشکل گھڑی سے نکالنا ہے۔
شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں ہم سب کی پارٹی مختلف ہیں ہماری سوچ بھی مختلف ہو سکتی ہے۔ آج کا ہدف حکومت کو گرانا نہیں ہے ،آج کا ہدف ہے معیشت کا سنبھالا دینا ہے۔ جب الیکشن ہو گا تمام جماعتیں الیکشن اپنی اپنی پارٹیوں کے تحت ہی لڑیں گی ۔ آج کے مقاصد حکومت گرانا نہیں حکومت پہلے سے ہی گری ہوئی ہے۔ احتساب کے نام پر اپوزیشن سے انتقام لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم نے بات پاکستان کے مسائل کے حل کی کرنی ہے۔حکومت پاکستانی عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پہلا ون ڈے آسٹریلیا جیت گیا
اپوزیشن جماعتیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے

حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک مضبوط اپوزیشن الائنس کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن اگر آج فیصلہ کر لے تو یہ حکومت نہیں رہ سکتی۔ صرف اس حکومت کو گرانا ہی مسئلہ نہیں ہے اس ملک میں نئے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ فارن پالیسی کے مسئلے آگئے ہیں۔

میاں افتخار حسین نے سٹیبلشمنٹ پر تتنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو برسراقتدار لانے کیلئے تمام پارٹیوں کو سائیڈ لائن پر لگایا گیا۔