Islam

کفر اور ایمان کا معرکہ:غزوۂ بدر

EjazNews

’’غزوہ ٔ بدر‘‘ حق و باطل۔ اسلام و کفر کے درمیان وہ پہلا باقاعدہ تاریخ ساز معرکہ تھا کہ جس میں طاقت کے گھمنڈ میں چُورکفّارِ مکّہ کی جھوٹی شان و شوکت ، غرور و تکبّر اور رعونت کو مٹھی بھر جاں نثاران ِاسلام کے ہاتھوں عبرت ناک اور ذلت آمیز شکست میں بدل گئی۔ محض چند گھنٹوں میں تائیدِ خداوندی کی بدولت کفر و جہالت اور ظلم و بربریت کے بڑے بڑے قدر آور سورما زمیں بوس ہو گئے۔ غزوہ ٔ بدر کی عظیم الشّان فتح نے رہتی دنیا تک کے لیے انسانوں کو عزم و ہمّت، عمل و بیداری کا ایک لازوال پیغام دے دیا ہے۔ عددی برتری، جدید اسلحہ، تجربہ کار جنگجو، جنگی چالوں کے ماہر خوں خوار سردار، جھوٹی شان و شوکت اور دولت کی فراوانی کے باوجود کفارانِ اسلام، قوتِ ایمانی کے جذبے سے سرشار، مٹھی بھر جاں نثاروں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور فتح، حق کے متوالوں کا مقدر بنی۔ ’’غزوہ ٔ بدر‘‘ اللہ کی نصرت اور دعائے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجاہدین کے ایثار و قربانی، جرأت و استقامت، دلیری و جاں بازی کا وہ حیرت انگیز معرکہ تھا کہ جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک وسیع خطّے پر کلمہ حق کا اسلامی پرچم سربلند ہو گیا اور کرۂ ارض کے ہر ہر گوشے میں توحید کے جاںنثار پیدا ہو گئے۔ مسلمانوں اور قریشِ مکّہ کے درمیان یہ عظیم معرکہ رمضان کریم کے دوسرے عشرے میں 17؍ رمضان المبارک 2ہجری کو مدینے سے 129کلو میٹر کے فاصلے پرواقع، بدرکے میدان میں پیش آیا۔

غزوات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے یہ غزوہ نہایت مشہور اور متبرک ہے۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں

ترجمہ: اللہ نے تو تمہاری مدد بدر میں بھی کی جبکہ تم بہت دبے ہوئے تھے۔
ہجرت کا ابھی دوسرا ہی سال تھا۔ مدینہ میں انصار سمیت مسلمانوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی، ان میں ضعیف بھی تھے اور بیمار بھی، کمزور و لاغر بھی تھے اور بچّے بھی، انصارِ مدینہ کے بے پناہ ایثار و قربانی کے باوجود مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اصحابِ صفّہؓ‘‘ میں شامل تھی۔ دن رات حبِّ الٰہی اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سرشار یہ جاں نثارانِ اسلام، تبلیغِ دین میں مصروف تھے، کچھ مل گیا، تو کھالیا، ورنہ صبر و شکر تو ہے ہی… امام الانبیاء، شاہِ عرب و عجم، تاج دارِ مدینہ، سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنے جاں نثار رفقاء کے ساتھ مدینے کو اسلامی ریاست بنانے میں ہمہ تن مصروف تھے۔ دوسری طرف کفارِ مکّہ، حضور ؐ اور ان کے ساتھیوں کے ہجرت کرجانے پر سخت چراغ پاتھے۔ سردارانِ قریش کو یہ گوارا نہیں تھا کہ جو مسلمان تیرہ برس تک ان کے مصائب و آلام، ظلم و بربریت اور کذب و افتراء کو برداشت کرتے رہے، وہ ایک اسلامی ریاست قائم کرلیں؟ ابوجہل، ابولہب، ابوسفیان سمیت سردارانِ مکّہ مسلمان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے تھے۔ مکّے میں مقیم مسلمان ان کے روح فرسا مظالم کا نشانہ بنتے رہے۔ ہجرت کرنے والوں کے مال و اسباب اور جائیدادوں پر قبضہ کرلیا گیا۔ مسلمانوں کے قافلوں کو راستے میں روک کر لوٹ لینا روز کا معمول تھا۔ حالات روز بہ روز بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے تھے۔ حضور نبی کریمﷺ کو مسلسل اطلاعات موصول ہورہی تھیں کہ ابوجہل اور اس کے رفقاء مدینے پر ایک بھر پور حملے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ان ہی دنوں ابوسفیان ایک بڑا تجارتی قافلہ لے کر شام سے مکّے کی جانب روانہ ہوا۔ اس قافلے کی حفاظت کے بہانے ابوجہل بھی قریش کے جنگجو سرداروں کی ایک بڑی فوج لے کر شاہانہ انداز میں مدینے کی جانب روانہ ہوگیا۔ غرور و رعونت سے سرشار، ابوجہل کو کامل یقین تھا کہ بے سرو سامانی کے شکار مدینے کے یہ چند سو نہتّے مسلمان اس کے اسلحے سے لیس زرہ پوش جنگجو شہ سواروں کا مقابلہ نہ کرپائیں گے اور ایک ہی وار میں ان سب کا خاتمہ ہوجائے گا۔ حضور نبی کریمﷺ کو جب ابوجہل کے اس جنگی جنون کی خبر ملی، تو آپؐ نے فوری طور پر مجلسِ شوریٰ طلب کرلی اور صحابہ کرامؓ کو صورتِ حال سے آگاہ فرماتے ہوئے رائے طلب فرمائی۔ اس موقعے پر انصار و مہاجرین کے نمائندوں نے یک زبان ہوکر اپنے جان و مال کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا عزم کیا۔ سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اٹھے اور والہانہ انداز میں حقِ جاں نثاری ادا فرمایا۔ پھر حضرت عمر فاروقؓ جوشِ ایمانی میں اٹھے اور دین پر مَرمٹنے کے عزم کا اظہار کیا۔ پھر حضرت مقداد بن عمروؓ نے جرأت و استقامت کااظہار کرتے ہوئے فرمایا ’’اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جنہوں نے حضرت موسیٰ سے کہہ دیا تھا کہ تم اور تمہارا رب لڑو ،ہم تو یہاں بیٹھے تماشا دیکھیں گے۔‘‘ جس کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارِ مدینہ کی رائے معلوم کرنا چاہی۔اس موقعے پر حضرت سعد بن معاذ ؓ نے جو ایمان افروز کلمات ادا کیے، وہ تاریخ کا حصّہ ہیں ۔آپ نے فرمایا ’’اے اللہ کے رسولﷺ !یہ کیسےممکن ہے کہ اللہ کا رسول ﷺ تو کفار کے مقابلے کو جائیں اور ہم گھر بیٹھے رہیں۔ یہ کفارِ مکّہ تو خاک کا ڈھیر ہیں، ہم ان سے کیا ڈریں؟ آپ اگر حکم دیں گے کہ’’سمندر میں کود پڑو، تو ہم سب بلادریغ آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔‘‘ ان اصحاب باوفا کے ایمان افروز کلمات نے حضور ؐ سمیت اہلِ مجلس کو خوش کردیا۔ پھر آپﷺ نے دعا فرمائی اور جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔
یوم الفرقان ، حق و باطل میں واضح فرق کا تاریخ ساز دن’’غزوہ ٔ بدر‘‘ حق و باطل اور اسلام و کفر کے درمیان وہ پہلا باقاعدہ تاریخ ساز معرکہ تھا کہ جس میں طاقت کے گھمنڈ میں چُورکفّارِ مکّہ کی جھوٹی شان و شوکت ، غرور و تکبّر اور رعونت کو مٹھی بھر جاں نثاران ِاسلام کے ہاتھوں عبرت ناک اور ذلت آمیز شکست میں بدل گئی۔ محض چند گھنٹوں میں تائیدِ خداوندی کی بدولت کفر و جہالت اور ظلم و بربریت کے بڑے بڑے قدر آور سورما زمیں بوس ہو گئے۔ غزوہ ٔ بدر کی عظیم الشّان فتح نے رہتی دنیا تک کے لیے انسانوں کو عزم و ہمّت، عمل و بے داری کا ایک لازوال پیغام دے دیا ہے۔ عددی برتری، جدید اسلحہ، تجربہ کار جنگجو، جنگی چالوں کے ماہر خوں خوار سردار، جھوٹی شان و شوکت اور دولت کی فراوانی کے باوجود کفارانِ اسلام، قوتِ ایمانی کے جذبے سے سرشار، مٹھی بھر جاں نثاروں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور فتح، حق کے متوالوں کا مقدر بنی۔ ’’غزوہ ٔ بدر‘‘ اللہ کی نصرت اور دعائے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجاہدین کے ایثار و قربانی، جرأت و استقامت، دلیری و جاں بازی کا وہ حیرت انگیز معرکہ تھا کہ جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک وسیع خطّے پر کلمہ حق کا اسلامی پرچم سربلند ہو گیا اور کرۂ ارض کے ہر ہر گوشے میں توحید کے جاںنثار پیدا ہو گئے۔ مسلمانوں اور قریشِ مکّہ کے درمیان یہ عظیم معرکہ رمضان کریم کے دوسرے عشرے میں 17؍ رمضان المبارک 2ہجری کو مدینے سے 129کلو میٹر کے فاصلے پرواقع، بدرکے میدان میں پیش آیا۔

یہ بھی پڑھیں:  وبائی امراض میں اسلامی احکام کیا ہیں؟