علم الادویہ وادویہ سازی کا سائنسی دور

EjazNews

اگر سولھویں و سترھویں صدیوں اور اٹھارویں صدی کی فارمیسی میں اتنا فرق ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے لوگوںنے اپنے آپ کو صرف مشاہدہاور تجربہ تک محدود رکھا اور وجہ جواز اور مخصوص جچے تلے مقصد کی کمی ان کے خیال ، کام اور نتیجہ میں ہم آہنگی پیدا نہ کر سکی۔
اس بات کا اعزاز فرانسس بیکن جس نے طریق کار کے نظریاتی اصولوں کو تجربہ پر مقدم رکھا کو حاصل ہے۔
اس وقت سے سائنس جس کاعرصہ دراز سے خیالی نظریات پر اطلاق کیا جاتا تھا، نے ایک حقیقی اہمیت حاصل کرلی اور تجرباتی طریقوں کے بعد کے نتائج کی باقاعدہ تحقیق اور فکر و تجسس کی روشنی میں تشریح کی۔
دانش و حکمت کی اس دوڑ میں تمام بڑے بڑے کام کرنے والوں یعنی ہینل ، لیمرے راولے اور بام نے بڑے شدو مد سے حصہ لیا اور فارمیسی میں ایک جان دار فارما کالوجیکل سائنس جس کی اساس بامقصد تخیل، تجسس اور تجربہ پر تھی کی طرح ڈالی۔
سائنسی دور
فارمیسی میں سائینٹفک رجحان کا آغاز اصل میں انیسویں صدی سے شوع ہوتا ہے جب لیوائزیر (Lavoisier) نے Pneumatic Chemistryکی بنیاد رکھی اور Phlogistic Theory کے خلاف نبرد آزما ہوا تو اس کے سب سے پرجوش پیروکار اہل فن ادویہ سازی ہی تھے۔
فور کرے ، واکلین اور پارمینتیر نے فارمیسی کو اس نئی راہ پر ڈالنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔
معدنیاتی کیمیاوی تحقیقات بہت مفید ثابت ہوئیں۔شیلے نے مینگنیز اور کلورین دریافت کیا۔ وا¿کلین نے کرومیم اور گلوشنیم بیلارڈ نے برومین ، کورتیس نے آیوڈین ، بسی نے میگنیشیم ، کلیپ ورتھ نے ٹلیریم ، زرکونیم اور یورینیم ، کونکل نے فاسفورس اور ماکر نے سنکھیا یعنی آرسینک دریافت کیے۔
لیکن فارمیسی کے لیے ان سب سے زیادہ نتیجہ خیز پودوں کی کیمیائی ترکیب علیحدگی اور ان کے تجربہ کے طریقوں اور تحقیق کے کام تھے۔
1803ءمیں ڈروسیو نے نرکوٹین کو علیحد کیا۔1817ءمیں سرتورنر نے مارفین اور جلد ہی بعد میں پلیتیر اور کاﺅنتیو نے سٹرکنین ،بروسین اور کونین ، رابکوٹ نے کوڈین ، ہارڈی نے پلورکارپین دریافت کیے۔اس طرح کیمیاوی مرکبات کی ایک نئی جماعت ایکلائڈ دریافت ہوئی اور جلد ہی بعد قدرتی کیمیاوی مرکبات کی ایک اور جماعت جنھیں اب ہم ہیٹروسائڈ اور گلائیکو سائڈ کہتے ہیں کا قیام سالی سین لورو سینی گرین رابیکوت امگدالین ، بسی ، دیٹا لین ، ناٹی ویل کی دریافت کے ساتھ ظہور میں آیا۔
ان جوہروں جنہیں ڈوماز کا نام دیا کی دریافت سے پیراسلز کا ادویہ کے جوہر کی دریافت کا خواب پورا ہوگیا۔
اس لمحہ سے مرکب دواﺅں یعنی پالی فارمیسی کو یقینی طور پر فارمیسی سے نکال دیا گیا۔ نباتات کے کارآمد جزو کی دریافت نے دو اہم اثرات پیدا کیے۔
پہلے تو ان میں سے بعض کی مقدار کا تعین ممکن ہو گیا اور ساتھ ساتھ مقابلہ کر کے ان کے حاصل کرنے کے طریقوں کے لیے بہترین حالات کا چننا ضروری ہوگیا۔
دوسرے ان کارآمد جزو کی کیمیاوی ساخت کے مطالعہ سے کیمیا دانوں کے لیے ان کےساتھ ملتے جلتے کیمیاوی نمونے جو ان جیسے فعلیاتی خواٹ رکھتے تھے ، کا لیبارٹری میں کیمیائی ترکیب دینا ممکن ہوگیا۔
اسی دوران میں جبکہ کیمیا دانوں نے نباتاتی جوہر کو علیحدہ کیا ادویہ سازی کی صنعت میں بھی نمایاں انقلاب آئے، اور ادویات کے جوہر حاصل کرنے اور عمل تبخیر میںقابل قدر اصلاحات کی گئیں۔
لمبی چوڑی بحث کے بعد کیڈٹ ،بولے ، ڈاس اور گالوا وغیرہ کے اصرار پر شورایت یعنی چھوٹے چھوٹے ذرات کو کشش ثقل کے ذریعے پانی میں علیحدہ کر نے کا طریقہ دوائیاں بنانے والے کارخانوں میں زیر استعمال آیا۔
دوسری ترقی کم دباﺅ کے تحت عمل کشید کے ذریعے ناتاتی جوہر کے مائعاتی محلول کو گاڑھا کرنے میں ہوئی۔ اس طریق کار سے ادویات کے کیمیاوی جوہر کو ہوا کی آکسیجن اور گرمی کے تباہ کن اثرات سے محفوظ کر لیا گیا ۔ یہ طریقہ حیواناتی عضویات کے لیے ناسازگار تھا۔ بعد میں ان کے لیے عمل کشید کو گندھک کے تیزاب کی موجودگی میں ٹھنڈے کیے ہوئے ماحول میں کم دباﺅ پر استعمال کیا گیا۔
بعض حالات میں نئی قسم کی میکاناتی چیزوں اور مشینوں سے نئی شکل کی ادویہ جیسے گولیاں دانہ دار سفوف تیار کی گئیں۔
دوسری طرف پرانے قسم کے آلات اور سامان تیار ی میں نمایاں تبدیلیاں کر کے پیداوار میں زیادتی اور خوبصورتی پیدا کی گئی۔ جیسا کہ قرض کے سلسلے میں کیا گیا۔
عمل کشید اور پسینے کی طاقتور مشینیں جو دوسری مصنوعات میں استعمال کی جاتی تھیں کو صنعت ادویہ سازی میں استعمال کرنے سے یہ صنعت مکمل سے مکمل تر ہوتی گئی اور اس طرح اس صنعت میں موجود دور کے انشقاق اوربالائے مقطار باریک سے باریک پاﺅڈر (سفوف)مکمل محلول اور قوام یعنی شیرے جیسی ادویہ کا بنانا ممکن ہوگیا۔
1886ءمیں لیموسن کے ایجاد کیے ہوئے لمبے سرے والے شیشے کے گول فلاسک (Flasks) نے ٹیکہ کے ذریعے لگائی جانے والی دواﺅںکو بہتر سے بہتر طریقوں پرت یار کرنے اور محفوظ کرنے کے لیے راہ ہموار کردیا۔
بند نالیاں جن میں ایسی دوائیں محفوظ رکھی جاتی ہیں کی تیاری اب صنعت ادویہ سازی کا نہایت اہم جزو بن گئی ہیں اور روز بروز اجینئر صاحبان ان کو بنانے بند کرنے کے لیے بہتر سے بہتر اشکال دینے کے لیے اچھی سے اچھی مشینیں ایجاد کرتے رہتے ہیں جس سے پیداوار میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
فارمیسی کا رجحان زیادہ تر عمل کیمیا کی طرف تھا، لیکن خاص طور پر اس دور میں دوسرے علوم بھی فارمیسی پر اثر انداز ہوئے۔
علم طبیعات ، علم افعال الاعضا اور علم حیات نے فارمیسی پر گہرا اثر ڈالا اور ادویہ سازی میں بہت بڑا پارٹ ادا کیا کیا۔ کیمیائی ترکیب نے بے شمار دواﺅں کی ایجاد کو ممکن بنا دیا ۔ جنہوں نے کئی قدرتی دواﺅں سے بے نیاز کر دیا اور علم معالجہ کا قیمتی سرمایہ بن گئیں۔ 1820میں وہلر ( Wohler) نے یوریا بنایا اور اس کے بعد 1829ءمیں سرولاس نے آیوڈو فارم 1831ءمیں سوئبیران نے کلروفارم ،1832ءمیں لیبگ نے کلورل ، 1833ءمیں لیبگ نے کلورل ،1833ءمیں کنار نے اینٹی پائرین اور 1904ءمیں فورنیو نے سٹوائین جیسے سادہ اور پیچیدہ کیمیاوی مرکبات ایجاد کر کے فارمیسی میں استعمال ہونے والے ہزاروں کیمیکلز کی راہیں کھول دیں
جوہروں کے مخصوص گٹھ جوڑ کے مخصوص اثرات اور اس سے ملحق فعلیاتی خصوصیات نے مخصوص اثر رکھنے والی دوائیوں کے بنانے کا راستہ ہموار کیا۔ اور Barbituratesاور Sulphonamidesجیسی دوائیوں جن کو ایک علیحدہ گروپ میں رکھا جاسکتا ہے کی تیاری کا باعث بنیں۔
علم افعال الاعضا نے جالینوسی طریق ادویہ سازی کے ذریعے بنائی ہوئی چنددوائیوں میں اثر کے لحاظ سے گاہے بگاہے فرق کو واضح کیا، اور مقدار کے ساتھ معیار جس کے لیے تیاری میں چھ احتیاطیں لازماً اختیار کرناپ ڑیں کا خیال رکھا جانے لگا۔
یہ دیکھا گیا کہ بیلا ڈونا اور جدوار یعنی میٹھا تیلیا جیسی ادویہ کے محلول کو گرم کر کے گاڑھا کرتے وقت یہ دوائیں جوش کھلاتے کھلاتے ٹوٹ کر چھوٹے مرکات میں تبدیل ہو جاتی تھیں۔ یا ان میں اندرونی تبدیلی پیدا ہو جاتی تھی اور تبدیل شدہ کیمیاوی مرکب کا کوئی عضویاتی یا فعلیاتی اثر نہیں رہتا تھا۔ اور با اثر ہائیو سیا مین اور اکونائٹین کی بجائے کم اثر رکھنے والے ایٹروپین یا کوئی اثر نہرکھنے والیے بینزوئیلا کوئین پیدا ہو جاتی تھی۔
اس طرح یہ صرف علم افعال الاعضاءہی تھا جو کارآمداور بیکار اجزاءکا فرق ظاہر کرنے کا ذریعہ بنی۔
یہ پھر علم افعال الاعضا ہی تھی جس نے یہ بتایا کہ بعض دفعہ پودوں میںایک دوسرے سے مختلف اثر رکھنے والی کیمیاوی اشیاءجود ہوتی ہیں۔
جیسے کیلا ٹین اور بروسین کا اثر کیفین اور کچلا کے برعکس ہے۔
علم حیات نے بھی فارمیسی میں طرح طرح کی خوشگوار اور نتیجہ خیز تبدیلیاں پیدا کیں۔
پاسچر اور اس کے شاگردوں کے جراثیم پر مطالعے نے نہ صرف ڈاکٹروں اور سرجنوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ فارمیسی کیلئے نئی راہیں اور نئی دوائیں پیداکرنے کا سبب بنا اور Sterilizationیعنی دوائیوں کو مختلف طریقوں سے جراثیم سے پاک کرنے کے عمل کو فارمیسی کا ایک مستقل حصہ بنا دیا۔
اس کے ساتھ جراحی اور جراحی کے اوزاروں کی صنعت نے اور علم الامراض نے دوائیوں کی ایک نئی کلاس اور ویکسین کو جنم دیا۔ جنہوں نے وبائی امراض کی روک تھام کر کے انسانیت کو ان جان لیوا موذی امراض سے محفوظ کر دیا۔
کلاڈ برنارڈ اور براﺅن سکارن اور گلے کے کام نے (Internal Secretions) کے عمل و فعل پر روشنی ڈالی اورنتیجتاً غدودوں کا علم معالجہ میں استعمال عمل میں آیا۔ کیونکہ یہ غدود آسانی سے جراثیم، گرمی اور ہوا سے اثر انداز ہو جاتے تھے اس لیے ان کو اکٹھا کرنے، محفوظ کرنے اور استعمال کرنے کے لیے علم الجراثیم سے مدد لینی پڑی۔
بسی ک Emulsinاور Myrosineکی دریافت اور برٹرینڈ کے Oxident Fermentsکی دریافت نے خمیر اور ان سے پیدا شدہ کیمیاوی مرکبات Wnzymesکی افادیت اور مضرت رسائی کوظاہر کیا اور اس طرح ثابت کیا کہ کچھ جراثیم انسان کے دوست ہیںاور کچھ دشمن ، کچھ مفید اور کارآمد چیزیں پیدا کرتے ہیں اور کچھ ضرر رساں ہیں۔
اس طرح نباتاتی ادویہ کو Stabilizeکرنے کے طریقہ نے جسے بورکولات نے پہلی دفعہ استعمال کیا ادویاتی پودوں کو مضر قسم کے خمیروں سے محفوظ رکھنے کا راستہ دکھایا۔
یہ کچھ ہی سالوں کی بات ہے کہ علم حیات نے جس کے ساتھ ریڈیائی علم بھی شامل ہوگیا۔ نے Factors of Nutrition and Irradiationکے عمل کوبے نقاب کیا اور حیاتین اور مہیجات سے بنی ہوئی ادویہ علم معالجہ کا حصہ بن گئیں اور طرح طرح کی فارماسیوٹیکل شکلوں میں استعمال ہونے لگیں۔
کچھ زمانہ کی ہی بات ہے کہ کائی کی طرح زمین اور پدوں پر جمی ہوئی جالے دار چیزوں اور پھپھوندی یعنی Fungi and Mouldsجو بیماری پیدا کرنے والے جراثیم اور جرثوموں کے خلاف نہایت مہلک ثابت ہوئیں نے پینسلین اور سٹرپیٹومائیسین جیسے ضد نامیاتی یعنی حیات بخش کو جنم دیا۔ اور اس طرح ادویہ کی ایک نہایت اہم کلاس ظہور پذیر ہوئی جس نے خلق خدا کو بہت سی مہلک جراثیمی بیماریوں ںسے نجات دلائی۔
اس طرح موجودہ فارمیسی صحیح معنوں میں مختلف علوم ہائے سائنس جس میں سب سے زیادہ حصہ علم کیمیا کا ہے کی بنیادوں پر قائم ہے اور مندرجہ بالاتمام بنیادی، طبی اور اطلاقی علوم کی معلومات اس کا اہم جزو بن گئیں اور علم الادویہ اور فن ادویہ سازی میں طرح طرح کی کارآمد اور سود مند تبدیلیاں اور اضافے کرنے کا باعث بنیں جس سے معیاری اور موثر دوائیاں بہتر سے بہتر طریقوں اور مشینوں سے تیار ہونے لگیں۔ اور آج تک دن بدن ان تمام بنیادی، طبعی، طبی اور اطلاقی علوم ہائے سائنس کی معلومات اور ایجادات سے فن ادویہ سازی میں استفادہ کیاجارہا ہے۔ اور روز بروز بنی نوع انسان کو بیماری سے نجات دلانے کےل یے بہتر اور موثر ادویہ کا بنانا ممکن ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تحریک انصاف کی حکومت کیلئے چیلنج اپوزیشن نہیں بلکہ درآمدی سیلاب ہے