ہایپر ٹینشن یا بلند فشارخون کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی تحریر

EjazNews

تحریر:ڈاکٹر غلام صدیق

ورلڈ ہیلتھ آرگنایزیشن کے مطابق بلند فشار خون دل کے امراض سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔لیکن اس کاسب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ تقریبا پچاس فیصد مریضوں کو اپنے مرض کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔اس خامی پر قابو پانے کے لیےعالمی ادارہ صحت نے ۲۰۰۵ میں آگاہی کا ایک پروگرام شروع کیا جو ہر سال منایا جاتا ہے اور اس کے لیے 17مئی کا دن منتخب کیا گیا ہے۔اس لیے ہر سال اسی دن ورلڈ ہایپر ٹینشن ڈئے منایا جاتا ہے

ہایپر ٹینشن یا بلند فشار خون جس کو بلڈ پریشر کا بلند ہونا کہتے ہیں ایک لمبے عرصے تک جاری رہنے والی ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے آرٹریز کا اندرونی پریشر مستقل طور پر ہائی رہتا ہے لیکن اس بلند فشار خون کی عام طور پر کوئی علامات سامنے نہیں آتیں مگر بلڈ پریشر کا مسلسل ذیادہ رہنا بہت ذیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ سے دل کی خون کی نالیاں یعنی کورونری آرٹریز کی بیماری،سٹروک،ہارٹ فیلیور ،جسم کی دوسری خون کی نالیوں کی بیماری،آنکھوں کی بینائی میں کمی ،گردوں کی بیماریاں اور یاداشت کی کمی وغیرہ ہو سکتی ہے۔ہایپرٹینشن کی درجہ بندی پرائمری اور سکینڈری دو درجوں میں کی جاتی ہے ۔

تقریبا ۹۵ فیصد لوگ پرائمری ہایپرٹینشن کا شکار ہوتے ہیں عام طور پر اس کی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں ہوتے۔البتہ اس بارے صرف اتنا ہی معلوم ہے کہ اس کی وجہ زندگی گزارنے کے طور طریقے اور وراثتی عناصر ہوتے ہیں۔جہاں تک وراثتی عناصر کا تعلق ہے تو بہت سارے جنیاتی عناصر دریافت کیے جا چکے ہیں جن کا بلڈپریشر پر گہرا اثر ہوتا ہے ان جنیاتی عناصر کی تعداد ۳۵ کے لگ بھگ ہے ۔بڑہتی عمر کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر بھی بڑہتا رہتا ہے اور بڑھاپے میں بلند فشار خون ہونے کا کافی ذیادہ امکان ہوتا ہے۔اسی طرح زندگی کے بہت سارے دوسرے عوامل بھی انسان کے بلڈ پریشر پر اثر انداز ہوتے ہیں مثلا کچھ لوگون میں نمک کا ذیادہ استعمال بھی اس مرض کا سبب بنتا ہے اس کے ساتھ ساتھ سستی کاہلی ،ورزش کی کمی،موٹاپا اور ڈپریشن بھی سبب ہو سکتا ہے۔اگرچہ کیفین کا زیادہ استعمال اور طتامن ڈی کی کمی بھی بلند فشار خون کا سبب بن سکتی ہے لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے اس بارے ٹھیک معلومات نہیں ہیں۔اسی طرح انسولین کی مزاحمت،جو موٹاپے میں عام ہے، بھی بلڈ پریشر میں ذیادتی کا سبب بنتی ہے۔ایک جدید نظریہ ایسا بھی سامنے آیا ہے کہ شوگر کی ذیادتی بلڈ پریشر کے بلند ہونے کا سبب بنتی ہے اور بیچارہ نمک تو صرف بدنام ہے۔

بچپن سے منسلک کچھ واقعات بھی اس مرض میں اہم ثابت ہوتے ہیں مثلاپیدائش کے وقت وزن کم ہونا،ماں کا سگریٹ نوشی کرنا،بریسٹ فیڈنگ نہ کروانا وغیرہ وغیرہ۔ایک اور چیز دیکھی گئی ہے کہ جن لوگوں کا بلڈ یوریا لیول ہائی ہوتا ہے ان کا بلڈ پریشر بھی ذیادہ ہوتا ہے لیکن یہ ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ یوریا کی ذیادہ مقدار بلند فشار خون کا سبب بنتی ہے یا بلند فشار خون کی وجہ سے یوریا کی مقدار(گردوں کی بیماری) میں اضافے کا سبب بنتی ہے ۔مسوڑھوں کی انفکشن سے بھی بلڈ پریشر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ایک چیز نوٹ کرنے کی ہے کہ سردیوں کی نسبت گرمیوں میں بلڈ پریشر کم رہتا ہے

سکینڈری ہایپر ٹینشن
یہ بلڈ پریشر کی دوسری قسم ہے جو ۵ فی صد لوگوں کو ہوتی ہے اور اس کی وجہ بھی معلوم ہوتی ہے۔گردوں کی بیماریاں سب سے ذیادہ اس کا سبب ہوتی ہیں۔اینڈو کرائن غدودوں کی کچھ بیماریاں مثلا کشنگ سنڈروم،تھایرایڈ کی بیماریاں،ایکرومگیلی،پیراتھایرئڈ کی بیماریاں وغیرہ وغیرہ دوسری وجوہات میں موٹاپا،نیند کی خرابیاں،پریگننسی،کثرت شراب نوشی،نشہ آور ادویات کا استعمال وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔آرسینک کا پانی اور برایئلر مرغی کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہونا بھی بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بنتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  مچھلی کولیسٹرول کم کرتی ہے،لیکن ہر مچھلی نہیں

بلڈ پریشر کی وجہ سے جسمانی تبدیلیوں کا ذکر کیا جاے تو پرائمری ہائپرٹینشن کے مریضوں میں خون کی نالیوں کی دیواریں اپنے اندر بہنے والے خون کے بہاو کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں جبکہ ایسے مریضوں کا چارڈیک آوٹ پٹ(خون کی مقدار جو ہر دھڑکن کے ساتھ دل سے نکلتی ہے) نارمل ہوتا ہے۔جبکہ کچھ جوان لوگوں میں، جن کا بلڈ پریشرنارمل ہوتا ہے، ان کا کارڈیک آوٹ پٹ ذیادہ،دل کی دھڑکن تیز،خون کی نالیوں کی مزاحمت نارمل ہوتی ہے، وہ بارڈر لائن پر ہوتے ہیں۔ایسے لوگ بڑی عمر میں پہنچ کر پرائمری ہائپرٹینشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ایسے مریضوں میں نالیوں کی مزاحمت میں اضافہ اور کارڈیک آوٹ پٹ میں کمی واقعہ ہو جاتی ہے۔خون کی نالیوں کی مزاحمت مین اضافہ ،بڑھتی عمر کے ساتھ ان کے تنگ ہونے اور لچک میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔

پلس پریشریعنی نبض کا پریشر وہ ہوتا ہے جو نارمل بلڈپریشر کے اوپر والے(۱۲۰) اور نیچے والے(۸۰) پریشر کا فرق یعنی 40ہے اور یہ عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہتا ہے۔بوڑھے لوگوں میں اوپر والا پریشر کافی ذیادہ جبکہ نیچے والا کافی کم یا نارمل رہتا ہے جس کی وجہ سے نبض کا پریشر کافی بڑھ جاتا ہے
نارمل بلڈ پریشر کو کم اور ذیادہ دو ریڈنگز میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ذیادہ کی رینج ۱۳۰ تا۱۰۰ اور کم کی رینج سے ۹۰ تک ہوتی ہے جبکہ اوسط نارمل پریشر ۱۲۰ اور ۸۰ ہوتا 60ہے
بلند فشار خون کی عام طور پر کوئی خاص علامت سامنے نہیں آتی جس کی وجہ سے اس کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔اس کا پتہ عام طور پر روٹین کے چیک اپ یا کسی دوسرے مرض کے دوران چلتا ہے۔کچھ لوگ سر درد کی شکایت کرتے ہیں جو عام طور پر صبح کے وقت ہوتا ہے۔ چند لوگوں مین سر کے ہلکے پن ،چکر،کانوں میں گھنٹیاں بجنے،نظر میں دھندلا پن اور بے ہوشی طاری ہونے کی علامات بھی ہوتی ہیں۔

ایمرجنسی میں جو علامات سامنے آتی ہیں ان میں کنفیوژن،غنودگی،سینے میں درد اور سانس چڑھنا وغیرہ شامل ہیں۔ایمرجنسی کی حالت میں بلڈ پریشر کو جلد از جلد نیچے لانے کی ضرورت ہوتی ہے اور مریض کو ھسپتال داخل کرنا ضروری ہوتا ہے

بلند فشار خون کی بحرانی کیفیت
یہ کیفیت اس وقت ہوتی ہے اگر اوپر والا پریشر ۱۸۰ سے یا نیچے والا ۱۱۰ سے زائد ہو جاے۔ اگر اندرونی عضو کو نقصان نہ پہنچے تو اس کو فوری امداد کے زمرے میں رکھا جاتا ہے اور اس کنڈیشن میں بلڈ پریشر کم کرنے والی ادویات کو بزریعہ منہ دے کر چوبیس تا اڑتالیس گھنٹوں میں بی پی کم کیا جاتا ہے ۔۔اوراگر اس قدر بلند پریشر کی وجہ سے کسی اندرونی عضو کو نقصان پہنچ جائے تو ایسی کیفیت ایمرجنسی کے کہلاتی ہے سب سے ذیادہ جن اعضاء کو نقصان پہنچ سکتا ہے ان میں دماغ ،گردے،دل،اور پھیپھڑے شامل ہیں،ایمرجنسی میں جو علامات سامنے آتی ہیں ان میں کنفیوژن،غنودگی،سینے میں درد اور سانس چڑھنا وغیرہ شامل ہیں۔ایمرجنسی کی حالت میں بلڈ پریشر کو جلد از جلد نیچے لانے کی ضرورت ہوتی ہے اور مریض کو ھسپتال داخل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ورزش کے آپ کی دماغی صحت کے علاوہ جذبات پر بھی اثرات ہوتے ہیں

پریگننسی اور ہایپر ٹینشن
تمام حاملہ خواتین میں سے تقریبا ۱۰ فی صد خواتین کو ہایپر ٹینشن کا مرض ہوتا ہے۔اگر حاملہ عورت میں چھ گھنٹے کے وقفے سے لی گئی دو ریڈنگ 140/90سے ذیادہ آئیں تو ایسی عورت پریگننسی کی ہائپر ٹینشن کا شکار کہلاے گی۔اس کنڈیشن کو میڈیکل کی زبان میں پری ایکلیمپسیا کہتے ہیں۔یہ ایک سیریس کنڈیشن ہوتی ہے جو عام طور پر پریگننسی کے دوسرے ہاف میں ہوتی ہے اور پھر آئندہ ہونے والی پریگننسی میں بھی ہو سکتی ہے۔اس میں مریضہ کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور پیشاب میں پروٹین آنے لگتی ہےپری ایکلیمپسیا کی وجہ سے حاملہ خواتین میں ہونے والی اموات ،کل اموات کا 16فی صد ہوتی ہیں۔اس کی وجہ سے بچوں میں پیدائش کے وقت ہونے والی اموات کی شرح میں دو گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔عام طور پر پری ایکلیمپسیا کی کوئی خاص علامت نہیں ہوتی بلکہ اس کی تشخیص روٹین کے چیک اپ کے دوران ہوتی ہے۔اگر علامات ہوں بھی تو عام طور پر سر درد،آنکھوں کے سامنے تارے نظر آنا،الٹیاں،معدے میں درد،اور جسم پر سوج وغیرہ پڑنا ہو سکتی ہیں۔لیکن کبھی کبھی یہ کنڈیشن خطرناک صورت حال اختیار کر لیتی ہے جس کو ایکلیمپسیا کہتے ہیں ،جو کہ ایک میڈیکل اینرجنسی کہلاتی ہے جس کی وجہ سے بہت ساری پیچیدگیاں ،نظر کا جاتے رہنا،دماغ کا سوج جانا،جھٹکے لگنا،گردوں کا فیل ہونا،پھیپھیڑوں میں پانی جمع ہونا،اور خون کا نالیوں میں جم جانا وغیرہ شامل ہیں۔

نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں میں بلند فشار خون کی وجہ سے جھٹکے لگنا،نشونما کی کمی،سانس لینے میں دقت،سر درد کی شکایت،چڑچڑا پن،تھکن،نظر کا دھندلانا،ناک سے خون جاری ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

بلڈ پریشر چیک کرنے کا صیح طریقہ
مریض کو کم از کم پانچ منٹ تک سکون سے بیٹھنا چاہیے،پھر اس کو آرام سے کسی چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھنا چاہیے،اس کے پاوں زمین پر ہموار رکھے ہوے ہوں اور ٹانگیں بھی سیدھی ہوں۔اس کو اس دوران بولنے اور ہلنے جلنے سے پرہیز کرنا چاہیے ،بازو کو کسی ہموار سطح پر دل کے متوازی ہونا چاہیے۔اس دوران آس پاس خاموشی ہونی چاہیے تاکہ چیک کرنے والے کو آواز صاف سنائی دے۔بلڈ پریشر کے کف کی ہوا آہستہ نکالی جائے اور سٹیتھوسکوپ کے ذریعے آواز سنی جاے۔ایک احتیاط اور کرنی ازحد ضروری ہے کہ کف میں سے ساری ہوا خارج کی جائے ورنہ بی پی ۱۰ تا ۱۵ درجے ذیادہ آے گا۔ایک یا دو منٹ کے وقفے سے دو عدد ریڈنگ لیں تا کہ غلطی کا امکان کم سے کم ہو۔

عام طور پر یہ پوچھا جاتا ہے کہ اگر علاج شروع کیا جاے تو بلڈ پریشر کس حد تک ہونا چاہیے،تو اس کا جواب ماہرین کے مطابق یہ ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ 140/90 ہونا چاہیےجبکہ بوڑھے لوگوں میں تھوڑا سا ذیادہ ہو سکتا ہے۔

ٔبچاو

اگر آپ بلڈ پریشر سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے سب سے اہم چیز امنے لائف سٹائل میں تبدیلی لانا ہے۔ادویات کا استعمال اس کے بعد آتا ہے۔اس مقصد کے لیے آپ کو اپنا وزن نارمل رکھنا پڑے گا،نمکیات کا استعمال کم کرنا ہو گا،روزانہ ورزش کرنا ہو گی،شراب نوشی ترک کرنا ہو گی(اسلام میں تو یہ حرام ہے)،سبزیوں اور فروٹ کا استعمال زیادہ کرنا ہو گا۔ان اقدامات سے آپ ادویات کے بغیر بھی بلڈ پریشر کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور ایک بہتر زندگی گزار سکتے ہیں ۔ایک طبی تحقیق کے مطابق بلڈ پریشر میں ۵ درجے کمی سے سٹروک کے واقعات میں چونتیس فیصد،دل کے دورے میں ۲۱ فیصد،اور ہارٹ فیلیور،دماغی امراض اور دل کے دورے سے مرنے کے واقعات میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہو جاتی ہے
عام طور پر یہ پوچھا جاتا ہے کہ اگر علاج شروع کیا جاے تو بلڈ پریشر کس حد تک ہونا چاہیے،تو اس کا جواب ماہرین کے مطابق یہ ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ 140/90 ہونا چاہیےجبکہ بوڑھے لوگوں میں تھوڑا سا ذیادہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چہرے پر پھوڑے پھنسیاں،ہوشیار رہیے

مزاحمتی ہایپرٹینشن
یہ وہ بلڈ پریشر ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کی تین چار ادویات اکٹھی استعمال کرنے کے باوجود بھی ٹارگٹ لیول پر نہیں آتا۔لیکن عام طور پر اس کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ مریض اپنے معالج کے مشورے کے مطابق ادویات کا استعمال نہیں کرتا ۔اس کے علاوہ اس کی ایک وجہ دماغ کے ایک خاص حصے کے ذیادہ ایکٹو ہونا بھی ہو سکتی ہے۔اس کو نیوروجینک ہایپرٹینشن کہتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا ایک ارب کے قریب افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔اس کی شرح مردوں میں،کم آمدن والے افراد میں،اور بوڑھے لوگوں میں ذیادہ ہوتی ہے۔بلڈ پریشر کا مرض افریقی ممالک میں سب سے ذیادہ اور امریکہ میں سب سے کم پایا جاتا ہے۔ایک بات جو توجہ طلب ہے کہ بچوں میں اس مرض کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

بلند فشار خون ایک ایسا مرض ہے جو سے بچاو ممکن ہے اور اس کی وجہ سے ہونے والی اموات میں بھی خاطر خواہ کمی کی جا سکتی ہے۔اس سے دل کے دورے،سٹروک،جسمانی خون کی نالیوں کی خرابیاں،دل کی دوسری بیماریاں،ہارٹ فیلیور،آرٹیریو سکلیروسز،گردوں کی مختلف بیماریاںاور لنگز میں خون کا جمنا وغیرہ کا کطرہ بھی بڑہ جاتا ہے۔اس کے علاوہ مختلف دماغی عوارض مثلا اشیا کی شناخت کا علم کھو دینا اور بھولنے کی بیماری وغیرہ وغیرہ۔اس کے ساتھ اس مرض سے آنکھوں کے عوارض بھی لاحق ہو جاتے ہیں۔

اگر تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ولیم ہاروے نامی فزیشن نے سولہویں صدی میں نظام دوران خون کا نظریہ پیش کیا تھا جس کے بعد 1733میں ایک انگریز فزیشن نے بلڈ پریشر کو ریکارڈ کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا اور بلڈ پریشر کو ایک بیماری کے روپ میں متعارف کروانے کا سہرا روا راکی کے سر ہے جس نے 1896میں بلڈ پریشر ناپنے والے آلے کے کف کو متعارف کروایا تھا لیکن اس سے صرف سسٹالک یعنی اوپر والا بلڈ پریشر ہی ریکارڈ ہو سکتا تھا۔پھر 1905میں نکولائی نامی فزیشن نے سٹیتھوسکوپ کے زریعے دونوں بلڈ پریشر یعنی سسٹالک اور ڈایاسٹالک ،کو ریکارڈ کرنے کی تکنیک کا آغاز ہوا۔

ابتدا میں اس بیماری ،بلند فشار خون کا علاج جونکوں سے یا جسم سے خون بہا کر کیا جاتا تھا۔جس کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقوں میں تبدیلی اور غذا سے اس مرض کا علاج کیا جاتا تھا۔

۱۹۰۰ میں پہلی بار ایک کیمیکل کو بچور دوا استعمال کیا گیا تھا لیکن اس کے بہت ذیادہ سائڈ افیکٹ تھے جس کی بدولت یہ خاطر خواہ مقبولیت حاصل نا کر سکا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد کافی ساری ادویات بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیے تیار کی جانے لگیں۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی بلند فشار خون کے مریض میں طٹامن ڈی کی کمی ہو تو اس کی کمی پوری کرنے سے ہائپر ٹینشن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔لیکن ناعمل بلڈپریشر والے لوگوں میں وٹامن ڈی دینے سے کوی فرق نہیں پڑتا۔اسی طرح اگر پوٹاشیم بھی یہی اثر رکھتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت