بڑھاپے کو جوانی کی طرح گزارئیے

EjazNews

وقت کی ریت مٹھی سے پھسلتی جاتی ہے۔ کل تک گڑیوں سے کھیلنے والی لڑکیاں آج خود بچوں کی مائیں بن چکی ہیں اور آئندہ چند سالوں میں نواسے نواسیوں ، پوتے پوتیوں کو پیار سے بانہوں میں سمیٹے ادھیڑ عمری اور پھر بڑھاپے کی جانب رواں ہوں گی۔ جوانی کی رخصت ایک تکلیف دہ احساس ہے۔ بھلا کون ہوگا جو ساری زندگی 16 سال کا نہ رہناچاہئے اور خواتین تو عمرکے معاملے میں ویسے ہی بہت حساس ہوتی ہیں ان کے لئے عمر کا بڑھنا زیادہا ذیت ناک ہوتا ہے۔ مگر ڈاکٹروں کے مطابق آج کی سائنس کسی کی عمر کا حساب اس کی سالگرہ سے نہیں بلکہ اس کی حیاتیاتی عمر سے لگاتی ہے۔ باالفظ دیگر یہی رواج ہے کہ آپ اسی قدر ہی بڑے ہیں جس قدر آپ خود کو محسوس کرتے ہے۔ ہمارے ڈاکٹروں کے مطابق جسم کو جوان رکھنے کیلئے روح کو بھی جوان رکھئے اور ویسے بھی نانی یادادی بن جانے کا مطلب تخت پر بیٹھ کر دنیا سے کنارہ کش ہونا نہیں ہوتا۔

چاق و چوبند رہئے
ہشاش بشاش رہنے کیلئے ورزش سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ آج کی مشینی زندگی میں جہاں خواتین کے کام مشینوں اور نوکرانیوں نے آسان کر دئیے ہیں وہاں ان کی محنت و مشقت کی جگہ ورزش نے لے لی ہے۔ جھاڑو پوچے کی جگہ ویکیوم استعمال کرنے والی خواتین کو بالخصوص دن کے چند منٹ ورزش کیلئے ضرور نکالنے چاہئیں۔ اس کی بدولت نہ صرف ہمارے جوڑوں کی لچک بڑھتی ہے بلکہ جسم کا کھچاﺅ برقرار رہتا ہے۔ اس سے دل کے دورے کا خطرہ ٹل جاتا ہے عضلات مضبوط اور توازن قائم رہتا ہے اور گرنے کا خطرہ بھی گھٹ جاتا ہے ورزش کرنے کے لئے کلب جانے کا سوچنے یا مشین خریدنے کا تردد کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ دن بھر میں آدھے گھنٹے تیز قدمی سے خریداری کیلئے پیدل چلنا اور سیڑھیاں چڑھنا ہی کافی ہے۔ رسیاں کودنے یا ایروبکس کرنے سے آسٹوپوروسس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اگر کسی کو گھٹیا کا مرض ہے تو اسے دن میں آدھے گھنٹے چہل قدمی ضرور کرنی چاہئے۔

جلدکی حفاظت کیجئے
سورج کی روشنی عمر بڑھانے کیلئے کافی بدنام ہے اور اس سے جلد پر جھریاں بننے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ داغ دھبے اورجلد کا کینسر بھی سورج یک تمازت سے ہوتا ہے۔ کوئی بھی اچھا سن بلاک استعمال کیجئے جس میں SPFموجود ہو اور دھوپ سے حتی الامکان بچئے روازانہ موئسچرائز ر استعمال کیجئے۔

یہ بھی پڑھیں:  نو ٹوبیکو ڈئے پر خصوصی تحریر

وٹا من لیجئے
وٹامن سی کو لاجن کا اہم جزو ہے اس کیموجودگی میں خوبصورت جلد کا ضامن ہے یہ کینسر کے خلاف مدافعت فراہم کرتا ہےاور فری ریڈیکلز (جسم میں مختلف امراض پیدا کرنے والے ریڈیکلز)کے خلاف کام کرتا ہے پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والے وٹامن دواﺅں اور گولیوں کی نسبت زیادہ موثر ہیں۔

کیلشیم کا استعمال
بڑھتی عمر کے ساتھ کیلشیم کی اضافی مقدار ہوتی ہے کیونکہ جسم کی ہڈیاں زیادہ نازک اور خستہ ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی عمر کے لوگوں میں فریکچر اور گر کر ہڈی ٹوٹنے کے واقعات سننے میں آتے ہیں۔ دن میں 1000سے 1500ملی گرام کیلشیم ضرور استعمال کریں۔ ڈیری پروڈکٹس (دودھ سے بننے والی اشیائ) اور ہری سبزیاں استعمال کریں۔ بالائی نکلے ہوئے دودھ میں چکنے دودھ کی نسبت زیادہ کیلشیم موجود ہوتی ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں کیلئے وٹامن ڈی کی ضرورت بھی ہوتی ہے تاکہ جسم میں کیلشیم جذب ہو سکے۔ اکثر دوائیوں میں کیلشیم اور وٹامن ڈی دونوں موجود ہوتے ہیں۔

کولیسٹرول چیک کروائیے
اگرآپ کے خون میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ پائی جات ہے تو دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور یہ بیماری موروثی بھی ہوتی ہے۔ سگریٹ نوشی اس خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

مرغن غذائیں کم کر دیں
ماہرین کے مطابق دل کی شریانوں کوزیادہ عرصہ تک جوان رکھنے کامطلب یہ ہے کہ انہیں چکنی غذاﺅں سے دور رکھا جائے۔ زیتون کا تیل اور زیادہ ریشہ والی غذائیں استعمال کریں۔ بھوسی والیروٹی، تازہ پھل اور سبزیاں بہتر رہتی ہیں جبکہ پنیر، کریم، لال گوشت اور بازار کے تیار کردہ کھانے کم کھائیے۔ جہاں تک ممکن ہو چربی والی غذاﺅں سے پرہیز کریں۔

وزن گھٹائیے
زیادہ وزن والے افراد اپنے عمر سے بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا چند پاﺅنڈ کم کر کے اپنی عمرسے چند سال چھوٹا دکھائی دینا ایسا برا نہیں۔ مگری ہ صرف ظاہری شخصیت کی بہتری کیلئے نہیں بلکہ اس سے مجموعی صحت بھی اچھی رہتی ہے۔ زیادہ کیلوریز اور وزن متحرک زندگی گزارنے میں دقت پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موٹے افراد کے انداز نشست و برخاست عام لوگوں کی نسبت مختلف ہوتے ہیں۔ مڑنا، جھکنا یا بیٹھ کر اٹھنا دشوار لگتا ہے۔ جوڑ جڑ جاتے ہیں، دل اور پھیپھڑوں پر جمی چربی سے کبھی کبھی سانس لینے میںدشواری محسوس ہوتی ہے۔ عمر سے پہلے گھٹیا کی شکایت، ذیابیطس اور امراض قلب موٹے افراد ہی میں پائے گئے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ وزن بڑھنے کو معمولی سمجھ کرنظر انداز مت کریں ۔خوراک کے بارے میں مکمل سمجھداری سے کام لیں اور روزانہ ورزش کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  درد کا نیا علاج

ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی(HRT)
HRTآسٹیوپوروسس (ہڈیوں کی خستگی) سے محفوظ رکھتی ہے اوربہت سے لوگوں نے اس کے استعمال کے بعد توانائی کے تناسب کوپہلے سے بہتر پایا ہے۔ HRT عموماً ان لوگوں کو تجویز کی جاتی ہے جن کی ماہواری بند ہو چکی ہو یا کسی وجہ کے باعث بچہ دانی کا آپریشن ہو گیا ہو۔ ڈاکٹروں کے مطابق اگر کسی خاتون کا حیض 50سال سے پہلے بند ہو جائے توآسٹیو پوروسس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ HRTنہیں کروانا چاہتیں تو اپنی غذائی عادات میں تبدیلی کر کے فطری HRTکا فائدہ اٹھائیے۔ ایسٹروجن، مغزیات، سویا، سورج مکھی کے بیج میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں HRTکی سہولت دستیاب ہے مگر یہاں بھی ڈاکٹر 45سے 50سے زائد عمر کی خواتین کو کیلشیم ، آئرن اور متوازن خوراک لینے کی ہدایت کرتے ہیں۔

ساخت کا خیال رکھئے
چلتے ہوئے یا بیٹھتے وقت جھکے ہوئے کندھے اور مڑی ہوئی کمر سے کسی بھی شخص کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس سے جوڑوں کی ساخت خراب ہونے لگتی ہے۔ ماہرین اس صورتحال کو قابو کرنے کیلئے مراقبے کا ایک ایسا طریقہ بتاتے جس کے تحت یہ تصور کیا جائے کہ آ پ کا جسم ایک تارے بندھا ہوا ہے جوسر سے نیچے لٹک رہی ہے۔ سر سیدھا رکھنے سے جسم خود بخود سیدھا ہو جائے گا۔

تھائی رائیڈ چیک کروائیے
اگر آپ غیر ضروری تھکن محسوس کرتے ہیں، نزلہ زکام مستقل رہتا ہے یا بغیر کسی وجہ کے وزن بڑھتا جارہا ہے تو اپنے گلے کے تھائی رائیڈ غدود چیک کروائیے۔ بالوں کا گرنا اور جلد کاخشک ہونا بھی اکثر ان تھائی رائیڈ کی سست کارکردگی کا سبب ہوتا ہے۔اس کا پتہ خون کے ٹیسٹ کے بعد بھی چلایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دمہ اب جان لیوا مرض نہیں

رابطے برقرار رکھئے
ایک خوش باش سماجی زندگی، خاندان اور دوستوں کے ساتھ گزاری جائے توطمانیت کا احساس زندگی کے سال بڑھا دیتا ہے۔ تنہائی اور اپنوں سے دوری یا ان کی جانب سے نظر انداز کیا جانا کسی بھی شخص کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے آج کے دور میں جہاں بہت سے رشتے دار اور قریبی احباب دور سمندر پار جا بستے ہیں ان سے بات کرنے کو بہت دل چاہتا ہے۔ ترقی یافتہ دور کی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا سیکھئے۔

ذہن کو مصروف رکھئے
ا نگریزی کا مقولہ ہے ”Use it or lose it“یعنی اگر کوئی شے استعمال میں نہ رہے تو وہ بیکار ہو جاتی ہے اور دماغ کی مشینری پر یہ مثال صادق آتی ہے۔ ذہن کو مختلف سرگرمیوں میں مصروف رکھیں ۔ کتابیں پڑھنا، کوئی نیا ہنر سیکھنا یا کمپیوٹر پر کوئی گیم کھیلنا۔ یہ تمام کام صرف نوجوانی یا جوانی تک محدودن ہیں رہنے چاہئیں۔ ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں فرصت ہی ہوتی ہے۔

مصنوعی سہاروں کا ساتھ
عمربڑھنے کے ساتھ ہماری جسمانی قوت میں کمی آتی جاتی ہے۔ لہٰذا مصنوعی سہاروں کا ساتھ ضروری ہو جاتاہے۔ نظر کی عینک، آلہ سماعت، ادویات یا چھڑی کا استعمال کبھی کبھی اکتاہٹ کا سبب بنتا ہے مگر دنیا سے کٹ کر رہنے کی بجائے ان اشیاءکا استعمال آرام اور متحرک زندگی گزارنے میں آسانیاں فراہم کرتاہے۔ جسمانی تبدیلیوں کو خوش دلی سے قبول کیجئے۔

خوش لباسی
تحقیق سے ثابت ہواہے کہ جسمانی ساخت کے لحاظ سے مناسب فٹنگ کے کپڑے پہننے سے 11پاﺅنڈ وزن کم لگتا ہے اور عمر دس سال سے کم ہونے کا تاثر دیتی ہے۔ آپ خواہ 60سال کے ہوں خودکو سنوارنے اور اپنی ذات پر توجہ دینا کبھی نہ بھولئے۔ اچھے رنگ اور اچھے انداز کے کپڑے پہنئے۔ اس سلسلے میں بچوں یا دوستوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت