child reading

پیارے بچوں کیلئے کچھ آداب زندگی

EjazNews

پیارے بچو!دین اسلام میں ہر کام کے آداب مقرر ہیں تاکہ زندگی میں ایک توازن برقرارر ہے۔پیارے بچو! اگر قضائے حاجت کے آداب کی بات کی جائے، تو بیت الخلا میں داخل ہوتے وقت پہلے اپنا بایاں پاؤں اندر رکھیں اور اسی طرح نکلتے ہوئے پہلے دایاں پاؤں باہر رکھیں۔
پیارے بچو! حضور پاکﷺجب (قضائے حاجت کے لیے)بیت الخلا میں داخل ہوتے، تو یہ دُعا پڑھتے،
’’ اَللّٰہُمَّ إنِّیْ أعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ‘‘
ترجمہ:’’ اے اللہ ! مَیں ناپاکی اور شیطانوں سےتیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘اور بیت الخلاسے باہر نکلتے ہوئے’’ غُفْرَانَکَ ‘‘ پڑھتے۔ جس کا ترجمہ ہے،’’ اے اللہ ! مَیں تجھ سے معافی چاہتا ہوں۔‘‘
میرے پیارے بچو!شیطانوں کے شَر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ کی تاکید اس لیے فرمائی گئی کہ عام طور پر یہ شیطان کا ٹھکانا اور ناپاکی کی جگہ ہے۔پُرانے وقتوں میں لوگ گھروں سے جڑےبیت الخلا نہیں بنایا کرتے تھے، بلکہ عموماً قضائے حاجت کے لیے گھروں اور آبادی سے دُور ویرانوں میں جاتے تھے۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آئیں۔لوگ سہولتوں کے عادی ہو گئے، پہلے گھروں کے ساتھ بیت الخلا کا رواج نہ تھا، جدت اور سہولت پسندی کادور آیا،تو بیت الخلا گھر کے اندر آگئے اور گھر ہی کا حصّہ قرار پائےاور اب تو یہ حال ہے کہ ہر کمرے کے ساتھ ایک اٹیچ باتھ روم گویا ہر گھر کی ضرورت ہے۔
اب چونکہ باتھ رومزتوگھر وںسے باہر منتقل کرنا ممکن نہیں رہا،لہٰذا بہتر یہ ہے کہ کم از کم مسنون دُعاؤں ہی کے اہتمام سے ان نجاستوں اور خباثتوں سے محفوظ رہا جائے۔
بچو!اسی طرح گھر میں داخل ہوتے وقت ’’السلّامُ علیکم‘‘ کہنا اپنی عادت بھی بنالیں۔گھر کا ہر فرد چاہے آپ سے بڑا ہو یا چھوٹا ، اُسے گھر میں داخل ہونے،گھر سے باہر نکلنے،سواری پر بیٹھنے، سونے جاگنے، کھانا شروع کرنے،کھانا ختم کرنے اور بیت الخلا میں داخل ہونے اور باہرنکلنے کی چھوٹی چھوٹی دُعائیں ضرور یاد ہونی چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سند باد کا چھٹا سفر
کیٹاگری میں : بچے