سائنسی علوم کی یورپ میں ابتدا

EjazNews

ایشیا میں عرب درسگاہیں بڑی جلدی تنزل پذیر ہو گئیں لیکن آہستہ آہستہ وہ مغرب کی طرف ترقی پذیر ہوتی گئیں۔ سب سے زیادہ وہ سپین میں پھلی پھولیں اور چنانچہ قرطبہ، اشبیلیہ اور غرناطہ کی مسلمان یونیورسٹیوں میںتمام مغرب سے لوگ علم و فن حاصل کرنے آتے تھے یہ یونیورسٹیاں سالرنو (Salerno)اور مانٹ پیلیر(Montpellier) کی عیسائی درسگاہوں پر بہت زیادہ اثر انداز تھیں۔
ابو القاسم (Abulcasis) جو اپنے وقت کا بہت بڑا سرجن تھا، نے اپنی کتاب ”کتاب الخدام“ (Liber-Servitorius or Book of Servants) میں پانی ، شراب اور سرکہ کے کشید کرنے کے طرقے لکھے اور دنیا کو عمل کشید سے روشناس کرایا۔
بو علی سینا (Avicenna)نے پانی کتاب ’دقانون “ کا ایک حصہ سادہ منفرد اور مرکب دواﺅں کے لیے مخصوص کیا۔ بو علی سینا کی مفصل اور مجمل کتابوں کو یورپ میں بھی اٹھارویں صدی تک نصابی اور سرکاری کتب کی حیثیت حاصل رہی۔ وہ پہلا شخص تھاجس نے گولیوں کو ورق لگا کر (Coating)کا طریقہ ایجاد کیا۔

اشبیلہ کےابو منصور اورقرطبہ کے ابن ر شد نے دواﺅں کے مرکبات کا مفصل مطالعہ کیا اور مرکب دواﺅں کے ہر جگہ استعمال کی غلطی کو بے نقاب کیا اور منفرد دواﺅں سے مخصوص بیماریوں کے علاج کے طریق کار کو رائج کیا۔
ابن البیطار نے سادی اور منفرد دواﺅں پر اپنے ذاتی مشاہدہ کی بنا پر ایک کتاب لکھی اور اس میں 14سو سے زائد ادویہ کی تفصیل مقالوں کی صورت میں پیشکی۔ اس طرح فن ادویہ سازی کی جامعہ کتب (Pharmacopoeas) کی تشکیل کا آغاز کیا۔ یہ طریق کارآج تک رائج ہے۔
اس وقت تک عرب طاقت کا سوائے قرطبہ کی امارت کے یورپ میں کوئی نشان باقی نہ رہا تھا۔ لیکن عرب سائنسدانوں کے کام اورخ یالات تمام مغرب میں پھیل چکے تھے۔

1450ءتک جو کتابیں دنیائے طب و ادویہ سازی نے استعمال کیں وہ ابن سینا، رازی، ابوالقاسم، ابن رشد اور ابن البیطار جیسیمایہ ناز ہستیوں کی کتابوں کے تراجم ہی تھے بلکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے بو علی سینا کی کتابیں اٹھارویں صدی تک یورپ کی درسگاہوں کے نصاب میں داخل رہیں ان کتابوں میںادویاتی پودوں کے اُگانے، جمع کرنے اور حفاظت کرنے کے طریقے، ادویہ سازی کے مختلف طرق اور ان کے استعمال کے طریق مفصلاً با تشریح بیان کیے گئے۔

عرب اطبا اور حکما نے تیز قسم کے جلابوں اور قے آور اشیا کو ہلکی اور میٹھی دوائیوں مثلاً صنا، املی، آلو بخارا جیسی چیزوں سے دبلا۔ عربوں کے تجارتی تعلقات تقریباً تمام ممالک سے قائم تھے۔ اور انہوں نے ادویہ سازی میں نئی سے نئی چیزوں مثلاً زعفران ، گرم مصالحہ جات، چنبیلی اور دوسری خوشبوئیات ، گوندیں اور متعدد دوسری چیزوں کا اضافہ کیا۔ عمل کشید جس کے ذریعے انہوں نے پہلے شراب سے الکحل اورسرکہ سے تیزاب سرکہ حاصل کر کے ان کو ادویاتی اشیا کے جوہر حاصل کرنے کےلئے استعمال کیا تھا کو کشید پانی اور عطروں کی تیاری میں استعمال کیا اور پھر ان عطروں کو دوائیوں میں استعمال کیا۔ ہندوستان سے لائی ہوئی شکر سے انہوں نے شربت اور جلاب تیار کرنے کا طریقہ رائج کیا۔ اس طرح یک اور بے شمار چیزوں کو کام میںلا کر انہوں نے جالینوس کے شروع کیے ہوئے طریقہ ادویہ سازی کو بام پر پہنچا دیا۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ادویہ سازی سے تعلق رکھنے والے علم کیمیا میں مو¿ثر اضافہ کیا۔ سندھور، شنگرف ، نمک اورشورے کے تیزاب بنا کر انہیں موثر طریقہ سے علاج معالجہ کے لیے استعمال کیا۔
پارس پتھر اور آب حیات کی تیاری کی کوشش کرتے کرتے سینکڑوں اور ہزاروں تجربات کیے اور پارہ اور تانبہ کو چاندی اور سونے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دنیا کو دھاتوں کی تبدیلی ہیئت تخیل دیا جو موجودہ دور میں جا کر درست ثابت ہوا۔ اگرچہ آب حیات جوت مام بیماریوں کے لیے اکسیر ہو، کا تخیل شرمندہ تعبیر نہ ہوا لیکن اس کو حاصل کرنے کی کوشش میں متعدد کیمیاوی عمل اور اشیاءظہورمیں آئے۔
زمانہ وسطیٰ کے اس دور میں یورپ گھٹا ٹوپ تاریکی میں ڈوبا رہا۔ تاریخ میں یورپ کا یہ دور زمانہ تاریک کے نام سے منسوب ہے۔یورپ اس دور میں ہر قسم کی سائنسی ترقی سے دور رہا ۔ یونانی فلاسفرروں کی کتابیں گرجاﺅںاو خانقاہوں میںترجمہ کی جاتی تھیں۔ اور ان پرگرما گرم بحث ہوتی تھی جس کا مقصددماغی عیاشی کے سوا کچھ نہ تھا۔

لیکن گیارھویں سے تیرھویں صدی کے دوران صلیبی جنگوں کی وجہ سے اہل مغرب کا عربوں سے بلا واسطہ اور بالواسطہ تعلق پیدا ہوا جو یورپ میں اپنی واپسی پر نفاست اور صفائی سے انس، علوم و فنون سے دلچسپی اور سائنس کے میدان میں تحقیق اور جستجو کا جذبہ لے کر گئے اور سالر نو (Salerno) پیر، بولون ، آکسفورڈ، کیمبرج، پاڈونہ، نیپلز جیسی یونیورسٹیوں کا قیام ظہور میں آیا۔
بہت جلد مغرب میں افلاطون اور ارسطو کے فلسفوں پر بحثوں کی جگہ کیمیا نے لے لی۔ اور پھر بارھویں سے اٹھارویں صدی تک علم کیمیا ہی ایسی سائنس تھی جس کا طوطی دنیا کے کونے کونے میں بول رہا تھا۔ سب سے بڑی حیران کن بات یہ تھی کہ اہل مغرب میں سب سے پہلے لوگ جنہیں علم کیمیا کا شوق پیدا ہوا پادری تھے۔ جیسے کہ البرٹ (Albert) اور اس کا شاگرد تھامس آکون، روجر بیکن، آرنلڈ ڈی ولے نیو ، ریمون لل، باسل ویلنٹائن ۔

یہ بھی پڑھیں:  انسان کا تاریخ طور پر ظہور

البرٹ نے چونے سے پوٹاش تیار کیا اور سونے اور چاندی کا جفتی دھات تیار کیا ۔ پارہ اور تانبا کو تیزابوں میںگلا کران کے نمکیات تیار کیے اور ان کے خواص بیان کیے۔

ونسٹ بیاوے نے آگ ، پانی اور ہوا کے خواص اور مادہ پر ان کے اثرات کی تحقیق کی اور اس طرح طبیعات کا از سر نو آغاز کیا اور طبیعات، طب ، سرجری ، عالم نباتات اور فن ادویہ سازی کے متعلق اپنی تمام معلوما کو یکجا کر کے ایک جامعہ کتاب لکھی۔ اس کتاب کے دوسرے حصے میں اس کی صلایحتیں بدرجہ اتم اجاگر ہوئیں۔ روجر بیکن نے شورہ دریافت کیا اور کہاکہ ”سائنس تجربہ ہے اور کچھ بھی نہیں “
ان کے بعد نکولاس فلیمل ، اسحق برادران اور پیراسلز ، لبون ، وان ہلمنڈ اور سٹاہل ان کے پیشرو تھے۔
اس دور میں یعنی یورپ کی تحریک احیا (Renaissance) جو اٹھارویں صدی تک جاری رہی، کے دوران قدرتییعنی طبی سائنسوں کو پس پشت ڈال دیا گیا تھا۔ لکین پارس پتھر اور آب حیات کی بے سود تلاش سے لوگ دل برداشتہ ہو کر پھر طبعی علوم کی طرف ہوئے ۔ خصوصاً علم نباتات بمعہ ادویاتی پودوں کے جن کے متعلق پہلے ہی کافی ذخیرہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے مسائل

پرانے طبعی سائنسدانوں یعنی پلائنی اور ڈاسکورائڈ کو ماتھیول اور ڈیل چان جیسے نقاد ملے۔
چھاپہ خانہ کی ایجاد نے برنفیلز ، ٹریگس ، رونڈیلے اور اس کے تین شاگردوں کلوسیس ، ماتھیاس ، ڈی لابیل اور ڈوڈز کی علم نباتات پر لکھی ہوئی کتابوں کی نشر و اشاعت کو آسان کر دیا۔
امریکہ یک دریافتاور واسکوڈے گاما کے سفر ہند نے قدرتی سائنسوں کیلئے مطالعہ کی بے حساب راہیں کھول دیں۔ علم نباتات کے سفر پسند عالموں گارشیا ڈا اورٹا ، اکوسٹا، مونارڈس ، مارگراف اور پزون نے امریکہ، ہندوستان، جزائر شرق الہند و غرب الہند کے پودوں سے روشناس کرایا۔ اس دوران میں میجلان اور کک نے دنیا کے گرد بحری سفر کیا اور کک نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دریافت کیا۔

لکن حقیقت یہ ہے کہ دراصل باغات کا باضابطہ طور پر قائم کیا جانا علم نباتات کو پکی اور مضبوط جڑپر قائم کرنے کا اصل سبب بنا۔ یہ باغات جن میںدوسرے پودوں کے ساتھ ادویاتی پودے اور درخت بھی شاملتھے، سب سے پہلے وینس ، پیسا، بولون، لیڈ، ہیڈل برگ، مونٹ پیلیر،پیرس میں قائم کیے گئے ۔
پیراسلز اور نکولاس ہانیل جو بتدریج کیمیا دان اور ماہر علم نباتات تھے شاید سولھویں صدی میں علم الادویہ کے دو سب سے بڑے نمائندے تھے۔

پیرا سلز کے نزیک انسانی جسم ایک کیمیاوی شے تھی اور اس نے اس کے علاج کے لیے کیمیاوی چیزو ں کو استعمال کرنے کا نتیجہ اخذ کیا۔ ضروری جزو اور نباتات سے ان کیروح یعنی کارآمد جزو نکالنے ے قاعدے اسی کے مرہون منت ہیں۔ اس نے بہت سے طریقوں کو آسان کر کے اور کیمیاوی اشیاءکو علاج کے لیے استعمال کرک ے بہت بڑی خدمت کی۔ پارہ اور اینٹمونی کے کیمیاوی مرکبوں سے جنسی بیماریوں کا علاج کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  یوم تکبیر:قوم کی سر بلندی کا دن

سترھویں صدی آرٹ اور لٹریچر کی صدی کہلاتی ہے اور اس میں علم طب و ادویہ سازی میں کوئی خاص ترقی نہ ہوئی۔
عربوں کے دئیے ہوئے علوم کیمیا اور جالینوسی فن ادویہ سازی کی ابھی تک یورپ میں عزت کی جاتی تھی۔ اس صدی کا سب سے بڑا کارنامہ اہل فن ادویہ سازی کی منظم جماعتوں کا کام اور سرکاری طور پر چھپنے والی فن ادویہ سازی کی جامع کتب کا شائع ہونا ہے۔ ان میں قابل ذکر ہیں۔
Autidotatum Romanum Francfortii (1624)
Pharmacopoeia Colonieuse (1627)
Codex Medicamentarius Seu
Pharmacopea Parisiensis (1638)
Pharmacopoeia Augustana (1673)
اس کے علاوہ فن ادویہ سازی پر کئی کتابیں بھی لکھی گئیں ۔ ان میںسے کرولیس کی Basilica Chymicaاور لباویس کی Syntagma Areanorum Chymicorum، جے ڈی رینوس کی Dispensatorium Medicumاور اس کی فن ادویہسازی پر کتب کے ایل ڈی سیری کے کیےہوئے تراجم اور گلابر کی Pharmacopoeia Spagysicaبہت مشہور ہیں۔
لیکن ان میں سب سے زیادہ ضروری موئیس چاراس کی pharmacopee Royale Galenique Et Chimiqueہے جس کا ترجمہ چینی زبان سمیت دنیا کی بہت سی زبانوں میں ہوا اور زمانہ وسطی کی آخری یادگار تھی جو زمانہ حال تک استعمال ہوتی رہی۔

چارس نے لیمرے کے لیے راستہ ہموار کیا جس کی شہرت تمام اٹھارویں صدی پر چھائی رہی۔
چارس کے ساتھ کنکل اور بورڈلان جس نے دو ہزارسے زیادہ اشیاءکا تجزیہ کیا ۔ گلابر اور سب سے بڑھ چڑھ کر لیمرے کے کام سے علمی و عملی فارمیسی ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔ انہوں نے علم کیمیا کا ادویہ کی تیایر اور تجزیہ پر اطلاق کیا۔
لیمرے کی کتابوں اور اس کی ڈکشنری سے اٹھارویں صتمام فارمسٹ استفادہ کرتے تھے۔ زمانہ وسطی کی Alchemyنے ان Pharmaceutical Chemistsکے پاﺅں تلے دم توڑ دیا۔
اٹھارویں صدی میں فارمیسی نے مشہور ہستیوں جیسے ایتین جیافرے اور اس کے لڑکے کلاڈ عرف بلڈگ ، ماکر، روئیل، بام، باین ، پارمینتیر، والمونٹ، کلاپورتھ، مارگراف، شیلے کے کام کی وجہ سے انتہائی تیزی رفتار ی سے ترقی کی۔
دواﺅں کا جسم انسانی اور اس کے فعل پر اثر کا علم جسے ہم موجودہ اصطلاح میں (Therapeutics)کہتے ہیں بہت کم پیچیدہ ہوگیا۔
(جاری ہے)
پروفیسر ڈاکٹر محمد امین