مقبوضہ کشمیر میں لگی آگ کب ٹھنڈی ہوگی

EjazNews

مقبوضہ کشمیرکی تقریباً تمام نسلیں قربانیاں دے چکی ہیں ۔ مظالم ہیں کہ کم ہو ہی نہیں رہے لیکن آزادی کے متوالے کشمیری اپنے خون کے آخری قطرے تک آزادی کیلئے لگتا ہے لڑتے رہیں گے کیونکہ کشمیر کی لڑائی میں اب کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے جو دیکھ رہیں کہ وہ ایک غلامانہ زندگی گزار رہے ہیں جہاں پر قابض فوج کا جب جی چاہے جس وقت جی چاہے وہ ان کے گھر میںگھس آتی ہے ۔ چادر اور چار دیواری کا کوئی لحاظ نہیںرکھاجاتا۔ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں وہ مظالم سہہ رہے ہیں جو عموماً غلامانہ زندگی میں ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

یہ عموماً انگریز راج میں ہوتا تھا جس ٹرین میں فوجی سفر کر رہے ہوتے تھے وہاں پر ہندوستانیوں کے سفر پر پابندی ہوتی تھی اور یہی کچھ مقبوضہ کشمیر کی کئی نسلیں دیکھ رہی ہیں۔ جب انڈین فوج ہائی وے سے گزر رہی ہو گی تو اس دوران کشمیریوں کے ہائی وے پر جانے کی پابندی ہے ،ان کی زمینیں ، مکانات چھیننے کا پورا بندوبست کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حیرت انگیز طور پر امریکہ میں کرونا وائرس کی وبا بڑھتی ہی جارہی ہے

مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج کی ریاستی دہشت گردیو ں تو جیسے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ کشمیر میڈیا سروس قابض بھارتی فورسز نے پلوامہ کے علاقے دالیپور میں سرچ آپریشن کے نام پرگھر گھر تلاشی لی اور نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ شہیدنوجوانوں کے نام نصیر، عمر میر، خالد احمد اور رئیس احمد ہیں جبکہ فائرنگ سے ایک نوجوان شدید زخمی بھی ہوا۔

نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس واقع کے بعد سڑکوں پر نکل آئی اور اس دوران جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ضلع پلوامہ میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل ہے اورضلع بھر میں کرفیو کا سماں ہے جہاں قابض فورسز نے مختلف علاقوں کا محاصرہ کر رکھا ہے

کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر اگر کوئی ملک سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر حاصل کر لے گا تو اس کے سمجھنے کیلئے یہ کافی ہے کہ اس لڑائی میںپڑھے لکھے نوجوان شامل ہیں۔ ایک مثال آپ کو دیتا چلو پلوامہ حملے کے بعد ایک انٹرنیشنل نیوز چینل کے نمائندے پلوامہ حملے میں ملوث لڑکے کے گھر میںپہنچے اور بڑی مشکل سے اس کے والد کو انٹرویو کے لیے راضی کیا۔ میں نے وہ سارا انٹرویو پڑھا آ پ یقین کیجئے کہ ان کے ماں باپ نے ایک لفظ بھی ایساادا نہیں کیا جس سے یہ لگے کہ انہیں اپنے بیٹے پر شرمندگی ہے ،اس نے غلط کام کیا ہے۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے مقبوضہ ہندوستان میں لڑنے والے آزادی کے متوالے اپنے بچوں پر فخر کرتے ہیں بالکل پلوامہ حملہ کرنے والے لڑکے کے والدین کو بھی اپنے بچے پرفخر تھا۔ ہم اس حملے کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ جو مرے وہ بھی کسی کے بچے تھے لیکن کیا جو روز مررہے ہیں وہ کسی کے بچے نہیں ہیں۔ ان کے گھر والوں کو تکلیف نہیں ہوتی کیا وہ پتھر کے انسان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ریگولیٹروں کے ذریعے سے اربوں ڈالر کمانے میں امریکہ کسی سے پیچھے نہیں

مرنے والے کسی بھی سمت کے ہو ں۔ ماں باپ ، بہن بھائی، بیوی بچے اس کے خاندان میں جو بھی ہو گا تکلیف ضرور اٹھائے گا اور ایشیاءمیں رہنے والے خاندان کی عموماً پرورش ایک شخص سے زیادہ نہیں کرتا اور وہی خاندان کا سربراہ ہوتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد سارا گھر انہ متاثر ہوتا ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے رہنما یاسین ملک کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا جارہا ہے وہ کسی بھی مہذب معاشرے میں روا نہیں رہ سکتا۔

کشمیر کے مسئلے کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے اور وہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق استصواب رائے سے اس کو حل کر لیا جائے، اس میں ہندوستان ، پاکستان اور پورے ایشیاءکی ترقی کا راز ہے۔ اور یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ضد ، ہٹ دھرمی سے صرف موت اور خون کی ہولی کھیلی جاتی رہے گی۔ کبھی کشمیری شہید ہوں گے اور کبھی قابض فوج کے اہلکار ۔ یہ سلسلہ آزادی کے بعد سے قابض فوج نہیں روک سکی۔ اس وقت سے کشمیری شہادت کے مرتبے پرفائض ہو رہے ہیں اور قابض فوج کے جوانوں کی میتیں ان کے گھروں میں جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی صدر نے نیو یارک ٹائمز کو جھوٹا اور عوام دشمن قرار دے دیا