رمضان کا دوسرا عشرہ ،عشرۂ بخشش و مغفرت

EjazNews

ماہِ رمضان المبارک کا پہلاعشرہ، عشرئہ رحمت ہم سے جدا ہوا۔ اب دوسرا عشرہ، عشرئہ ’’بخشش و مغفرت‘‘ اپنی تمام تر فیوض و برکات، رحمت و مغفرت کےساتھ سایہ فگن ہے۔ آئیے، اب مغفرت کے اس دوسرے عشرے میں شب کی تنہائیوں میں اشک ندامت بہا کر اپنے گناہوں پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے توبہ و استغفار کریں اور اپنے رب کو راضی کرلیں کہ کون جانے، اگلے سال برکتوں والا یہ مہینہ، رحمت، مغفرت اور نجات کے یہ عشرے میسربھی آتے ہیں یا نہیں؟ ماہِ صیام کے دوسرے عشرے میں ہمیں اپنی ،اپنے والدین اور جملہ اہلِ ایمان کی بخشش و مغفرت کے لیے پہلے سے زیادہ خشوع و خضوع سے دعائیں، التجائیں کرنی ہیں۔ حضرت کعب بن عجرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ جبرائیلِ امین میرے پاس آئے اور جب میں نے منبر کے پہلے درجے پر قدم رکھا، تو انہوں نے کہا کہ ہلاک ہو جائے، وہ شخص، جس نے رمضان المبار ک کا مہینہ پایا اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔ میں نے ا ُس پر آمین کہا ۔‘‘ (الترغیب والترہیب)

یہ بھی پڑھیں:  محمد بن قاسم،ایک عظیم جرنیل ، فاتح سندھ

رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں جو سب سے اہم واقعہ پیش آیا، وہ حق و باطل کے درمیان ایک عظیم معرکہ تھا،جو بدر کے مقام پر پیش آیا اور جس نے مجموعی طور پر مسلمانوں کے حالات پر بڑے مثبت اثرات مرتب کیے۔ ایک طرف انہیں سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی برتری نصیب ہوئی، دوسری طرف ان کی بہادری، شجاعت اور جواں مردی نے مدینے اور اس کے آس پاس موجود یہودی اور عیسائی قبائل کی شورشوں کو بھی دبادیا۔ اس کے ساتھ ہی ابو جہل سمیت نام ور روسائے قریش اور سردار اسلامی تیغِ جہاد کا لقمہ بن کر عبرت کا نشان بن گئے اور کفارِ مکّہ کا غرور و تکبّر خاک میں مل گیا۔ کفرواسلام کی اس پہلی باقاعدہ جنگ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن نے اس فتح عظیم کو ’’یوم فرقان‘‘ کے نام سے یاد کیا اور اللہ نے قرآن کی ایک سورت، سورۃ الانفال میں غزوئہ بدر کے واقعے کی تفصیل بیان کرکے اسے تمام غزوات میں امتیازی درجہ عطا فرمایا۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہو

آنحضرت ﷺ نے فرمایا: رمضان المبارک کے درمیانے دس روز باعث مغفرت ہیں۔

مغفرت کے معنی گناہوں کی بخشش ہے گویا جب اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کو پہلے دس دنوں کی رحمت کے بہانے سے اپنے دروازے پر آنے کی اجازت دے دیتے ہیں اس کی نظر کرم کا وہ بندہ مرکز بن جاتا ہے اس سایہ شفقت میں پناہ لے کر کچھ یاد اللہ شروع کر دیتا ہے اور اس کی رحمت کو جوش آتا ہے اور جوش رحمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ار صبح کا بھولا شام کو گھر آگیا ہے تو بھولا نہ کہیں۔ اس کو پچھلی خطائوں سے درگز فرمائیں، سو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف رفما دیتے ہیں گویا پچھلا نامہ سیاہ قلم زد ہوا اور یہ بھی صرف رمضان المبارک کی کرشمہ سازی ہے کہ اس کے ہر دن، ہر رات اور ہر ہر ساعت کے کچھ اپنے انوار ہیں جن سے ہر صاحب دل فیضیات ہوتا ہے یہ فضیلت بھی رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے کے حصہ میں نہ آئی۔

یہ بھی پڑھیں:  چند شرعی احکامات