آسٹریا میں پرائمری سکول کی سطح پر سر ڈھانپنے پر پابندی عائد

EjazNews

آسٹریا میں ایک قانون پاس کیا گیا ہے جس میں پرائمری سکول کی سطح پر سر ڈھاپنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب یہ قانون بظاہراً تو تمام بچوں پر عائد ہوتا ہے لیکن حقیقتاً یہ قانون صرف اور صرف مسلمانوں کیلئے ہے کیونکہ ان کے بچوں کے سوا سکارف کا رواج دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بحرکیف یہ قانون اب پاس ہو چکا ہے۔ جس کی بھرپور مذمت کی جارہی ہے۔ آسٹریلیا کے اندر بھی اور باہر بھی ۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق آسٹریلیا میں مسلم کمیونٹی کے ادارے آئی جی جی نے اس قانون کو بے شرمی اور متنوع تکنیک قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں لڑکیوں کا صرف ایک مائنسول نمبر متاثر ہوگا۔
جبکہ آسٹریا کی تقریباً تمام اپوزیشن نے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا، بعض پارلیمان نے گورنمنٹ پر الزام لگایا کہ وہ مثبت فلاح وبہبود کی بجائے بچوں کی فلا ح و بہبود کی طرف توجہ دے۔
یہ بل آسٹریا کی دائیں بازو کی جماعت نے اسمبلی میں پیش کیا تھا جس کے تحت پرائمری سطح کے سکولوں میں سر ڈھانپنے پر پابندی عائد کی جائے جسے اسمبلی نے پاس کر لیا۔قانون میں سر ڈھانپنے کو نظریاتی اور مذہبی نوعیت کا لباس قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم سکھوں کی مخصوص پگڑی اور یہودیوں کی مخصوص ٹوپی پر پابندی نہیں ہو گی۔
کچھ نشریاتی اداروں پر چلنے والی خبروں سے یہ بھی اندازہ تاثر مل رہا ہے کہ اس قانون کو آسٹریلیا کی عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔ لیکن یہ آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا کہ کیا ہونے والا ہے۔
یاد رہے آسٹریلیا کیOEVPاور FPOنے 2017ء کے آخر میں انتخابات کے بعد ایک اتحاد قائم کیا جس میں دونوں جماعتوں نے سخت امیگرین موقف اختیار کیا اور نام نہاد ’’متوازی معاشرے‘‘ کے خطرات سے خبردار کیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بل سخت گیر نظریات رکھنے والی دائیں بازو کی حکمراں جماعت نے آسٹرین اسمبلی میں پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی سیاست، ملکی مفادات سب کی ترجیح ہوتے ہیں