ڈالر کھیل کب تک جاری رہے گا؟

EjazNews

پاکستان میں ڈالر ایک ایسی کرنسی ہے جو معیشت کے اتار چڑھائو کو طے کرتا ہے۔ اس کے بڑھنے سے پورے ملک میں مہنگائی آجاتی ہے۔ اور اگر زندگی میں یہ کبھی کم ہوا تو پتہ لگے گا کہ مہنگائی کم ہوئی ہے یا نہیں ۔ کیونکہ آج تک تو ایسا ہوا نہیں کہ ڈالر کی قیمت نیچے آئے۔ یہ ہمیشہ سے اوپر ہی اوپر جارہا ہے۔ ہرآنے والی حکومت اسے ایک بلند سطح پر چھوڑ کر جارہی ہے۔ کچھ ایسا ہی کھیل دیکھنے کو ملا کہ پاکستان میں ڈالر ایک دم سے 146.25پر چلا گیا اور پھر وزیراعظم کی ذاتی مداخلت کے بعد یہ ایک ہی دن میں 144پر واپس آگیا ۔
کچھ ناقدین اس بات کا اظہار کرر ہے ہیں کہ پاکستان کے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے ڈالر کی قیمت بڑھی تھی حالانکہ آئی ایم ایف نے تو خود ڈالر دینے ہیں ابھی فی الحال لینے نہیں ہیں۔ لیکن دوسری طرف ماہرین معیشت آئے روز کے اتار چڑھائو کو باعث تشویش قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کو موقع ملتا ہے یہ ایسے ہی جیسے پیٹرول کی قیمت روز بہ رو ز تبدیل کرنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جبکہ انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 141.93پیسے پر برقرار رہی۔
ڈالر کے ذریعے کمائی کرنے والے آخر کب تک یہ کھیل کھیلیں گے حکومت کو سنجیدگی سے اس طرف توجہ دینا چاہیے۔ کیونکہ جب چھاپے مارے جاتے ہیں تو بڑے بڑے اہم لوگوں کے گھروں سے بھی ڈالرز کی اتنی تعداد نکلتی ہے جس کو گھر میں رکھنے کا کوئی معقول جواز نہیں ہوتا ۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی میں ایک اور افسوسناک واقعہ

گزشتہ دور میں بھی یہ بات دیکھنے میں آئی تھی کہ ڈالر کو مصنوعی طور پر بڑھایا گیا تھا لیکن اس وقت کے وزیر خزانہ اسحق ڈار ڈالر کو سو روپے کی سطح پر لے گئے تھے اور انہوں نے دعوی کیا تھا میں جب چاہوں ڈالر کو نیچے لا سکتا ہوں۔ یہ غیر ملکی کرنسی کچھ دیر کنٹرول میں رہی لیکن پھر وہی کھیل شروع ہو گیاجو آج کل وطن عزیز میں چل رہا ہے۔ وزیراعظم کی مداخلت سے ڈالر واپس اپنی سطح پر تو آیا لیکن صرف رات کے وقت کیلئے صبح ہوتے ہی اسے پر لگ گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ڈالر کے پر کاٹتی ہے یا پھر عوام مزید مہنگائی کا شکار ہوتے ہیں۔