محمد بن قاسم،ایک عظیم جرنیل ، فاتح سندھ

EjazNews

حضرت محمد ﷺ کے 11ھ میں دنیا سے پردہ فرمانے کے بعدنو خیز ایمان والوں کے قدم ڈگمگا گئے، ہر سو طرح طرح کی باغیانہ آوازیں گونجنے لگیں حتیٰ کہ دین سمٹ کر مکہ اور مدینہ تک رہ گیا۔
ان پر فتنہ حالات میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عنان خلافت سنبھالتے ہی توفیق الٰہی اورسنہرے حروف سے لکھا گیا آپؓ نے مرتدین کو زیر کیا اور مثنیٰ بن حارثہ کو اس کے قبیلے کا سردار بنایا ۔ اس ایک حکم کے دور س نتائج برآمد ہوئے حارثہ قبیلے کی ایک کثیر تعداد مشرف بہ اسلام ہوئی اورایرانی مہم کے لئے ایک لشکر جرار تیار ہوگیا جس نے آگے چل کر حضرت خالد بن ولید کی سپہ سالاری میں ملک عراق اور شام میں شاندار فتوحات رقم کیں۔13ھ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی وفات کے بعد حضرت عمر فاروقؓ کے زریں دور میں ایران فتح ہوا اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے ایرانی ایمپائر کو روند کر علم اسلام بلند کیا۔ اسلامی فتوحات نے ایک دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا مسلمانوں کو جنگی مورال اورشوق جہاد انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیتا تھا۔ سپاہیانہ تربیت اور جہاد کی تیاری ہی اس دور میں مسلمانوں کا مقصد حیات تھی ان کے لئے دنیا حقیقی معنوں میں ایک سرائے تھی ۔ وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا ۔
ایک دن حجاج بن یوسف اپنے محل میں بیٹھا ہوا لوگوں سے محو گفتگو تھا کہ اس کے بیٹے نے اطلاع دی کہ رے سے ایک قاصد آیا ہے حجاج نے قاصد کو فی الفور طلب کیا اس سے رے کے حالات دریافت کئے قاصد نے کہا”اے امیر! انتہائی بری خبر ہے رہے اور اس کے گردونوح کے غیر مسلموں نے بغاوت کر دی ہے ۔ تباہی و بربادی کا کھیل کھلا جارہا ہے اگر ان لوگوں کی سرکوبی نہ کی گئی تو ایسا طوفان برپا ہوگا جو کسی طرح بھی قابو میں نہ آئے گا۔ حجاج بن یوسف نے فوری طورپر اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو با بھیجا رہے جیسی خطرناک مہم کے لئے محمد بن قاسم کا انتخاب حجاج کی دور بینی کا منہ بولتا ثبوت ہے حالانکہ اس کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک جری بہادر اور تجربہ کار افراد موجود تھے۔
محمدبن قاسم الثقفی
محمد بن قاسم ایک خوبصورت نوجوان تھا آنکھیں بڑی بڑی پیشانی کشادہ بازو گول، چوری کلائیاں ، ابھرا ہوا بدن، گلابی رنگ اور ہیبت ناک آواز تھی فولادی دل جگر کا مالک تھا بلند خیالات مستحکم ارادے اور بہادروں کے جوہر سے مزین تھا انتہائی رحم دل حلیم طبیعت کا مالک، شیرین زبان ہنھ چہرے والا ہر چھوٹے بڑے سے شیریں زباں میں محبت بھری باتیں کرنے والا تھا۔ بعض روایات کے مطابق وہ حجاج بن یوسف کے چچا کا لڑکا تھا اور اس کا داماد تھا۔ محمد بن قاسم بھی طائف میں پیدا ہوا تھا جب حجاج بن یوسف عراق کا گورنر مقرر ہوا تھا ۔ محمد بن قاسم کا والد بچپن ہی فوت ہو گیا تھا۔ پانچ سال کی عمر میں اس کے اندر ذہانت کے جوہر دیکھ کر حجاج بن یوسف نے اسے بصرہ کے حربی سکول میں داخل کروا دیا تھا۔ وہاں سے اس نے عسکری تعلیم حاصل کی تھی وہ غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک تھا۔
رے میں اس نے باغیوں کو شکست دی ۔ تقریباً بغاوت کا صفایا کر دیا گیا۔ جب حجاج بن یوسف کو اس فتح کی خبر ملی تو اس نے محمد بن قاسم کو جرجان اور اس کے گردونوح کا گورنر مقرر کر دیا۔
محمد بن قاسم نے اپنے زمانہ گورنری میں شیراز شہر کی بنیاد رکھی ۔ عدل و انصاف کی بدولت شیراز شہر امن و آشتی کا گہوارہ بن گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے غیر مسلموں کی کثیر تعداد نے بخوشی اسلام قبول کر لیا۔ جب شیراز شہر مکمل ہوگیا تو محمد بن قاسم نے اس کو اپنا مرکز بنالیا۔
اسی دوران دبیل کی بندرگاہ پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے آنے والے وقتوں میں اس خطے کی تقدیر کو ہی بدل دینا تھا۔ دبیل ایک قدیم بندرگاہ تھی یہ چھ سو برس سے سندھ کی اہم بندرگاہ تھی۔
ان دنوں دبیل بحری قزاق سردار موہل کا مرکز تصور کی جاتی تھی موہل اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ سراندیپ سے آنے والے بحری جہازوں پرحملہ آور ہوا اور ان پر قبضہ کرلیا۔ تمام مردوں اور عورتوں کوگرفتار کرلیا اور قیدی بنا کر راجہ داہر کے دارالخلافہ اروڑ بھجوادیا۔ سب سامان موتی جواہرات بھی انہوں نے لوٹ لئے۔
قیدی عورتوں میں سے ایک کا تعلق بنی عزیز سے تھا ،اس نے جہاز کے عرشے پر کھڑے ہو کر آسمان کی جانب دیکھا اللہ تعالیٰ کو مدد کے لئے پکارا اس کے بعد عراق کی جانب منہ کر کے زور سے چلانے لگی۔
یا حجاج المدد! یا حجاج المدد!
اس وقت اس کی صدا سننے والا کوئی نہ تھا ۔ وحشی لوگ زور سے قہقہے لگانے لگے ۔اسی جہاز کے کچھ مسافر کسی طرح اپنی جان بچا کر جھاڑیوں میں چھپ گئے بعد میں ایک چھوٹی کشتی میں سوار ہو کر کسی طرح مکران پہنچ گئے پھر وہاں سے خشکی کے راستے جنگلات ، میدانوں اور عریض و عمقیق دریاﺅں اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کو عبور کرتے ہوئے شیراز پہنچ گئے۔ شہراز شہر محمد بن قاسم نے آبا دیکا تھا ملک ایران میں خلیج فارس کے قریب واقع ہے یہاں چند روز آرام کرنے کے بعد بصرہ روانہ ہوئے ان دنوں حجاج بن یوسف بصرہ میں قیام پذیر تھا انہوں نے بصرہ پہنچ کر کسی طرح حجاج بن یوسف تک رسائی حاصل کی اور بازیابی کی اجازت چاہی حجاج بن یوسف نے ان کو اپنے بلا بھیجا اور ان سے استفسار کیا تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو۔
حجاج کے دربار میں فریاد
تاریخی روایات کے مطابق زیاد نامی ایک شخص نے جواب دیا ہم سراندیپ سے آئے ہیں۔ ہم وہاں پر خوشحال تھے۔ جب تک سراندیپ میں تھے خوش تھے حجاج نے پوچھا اب کیا بات ہے؟ زیاد کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے اس نے ساری داستان حجاج کے گوش گزار کر دی پھر اس عورت کی فریاد اور حجاج کو پکارنے کابھی ذکر کیا۔
تاریخی روایات کے مطابق اس کی بات سن کر حجاج بن یوسف اپنی جگہ کھڑا ہوگیا اور بے ساختہ کہا لبیک یا بنت قوم لبیک! اس فقرے کو اس نے تین مرتبہ دہرایا ۔ ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی ۔ کچھ دیر حجاج بن یوسف کی وہی کیفیت رہی اس کے بعد اس نے ایک خط راجہ داہر کے نام مکران کے والی ہارون نمیری کے پاس قاصد کے ہاتھ بھیجا اور ہدایت کی کہ اس خط کو جلد راجہ داہر کے پاس بھیجو ۔
راجہ داہر کے پاس جب خط پہنچا تو اس کا جواب نامعقول تھا ۔”اس نے جواب دیا کہ یہ کام بحری قزاقوں کا ہے میراا ن پرکوئی بس نہیں اور نہ میراان سے کوئی تعلق ہے۔“ جب اس کا جواب حجاج بن یوسف کو ملا تو وہ غصے سے کھڑا ہوگیا اور امیر المومنین کی خدمت میں ایک یادداشت بھیجی تاکہ اس کو راجہ داہر پر حملہ کرنے کی اجازت مل جائے۔ حجاج بن یوسف نے خط اس پر تاثیر انداز میں لکھاتھا کہ خلیفہ ولید بن عبدالمالک متاثر ہو گیا اور اس نے سندھ پرحملہ کا شاہی فرمان لکھ کر اس پر اپنی مہر ثبت کر کے حجاج بن یوسف کو بھجوا دیں۔
سندھ کی فتح
پہلی مہم:حجاج بن یوسف نے فوری طور پر اپنے ایک سپہ سالار عبدا للہ اسلمی کی ہمراہی میں چھ ہزار سپاہ دبیل روانہ کی راجہ داہر اور عبداللہ اسلمی کے درمیان دیبل کے باہر شدید لڑائی ہوئی اور عبداللہ اسلمی شہید ہوئے۔
دوسری مہم:اس مہم کے بعد حجاج بن یوسف نے بدیل بن طہفہ کی سرکردگی میں فوج کو دیبل پہنچے کا حکم دیا یہ مہم بھی ناکام ہوئی۔
سپہ سالار محمد بن قاسم
دو مہمات کی ناکامی کے بعد محمد بن قاسم کو سپہ سالار بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ محمد بن قاسم اس وقت رے میں تھے انہیں حکم ملا کہ وہ رے کو چھوڑ کر فواً سندھ پہنچے اور اس بات کا انتظار کرے جو میں اس کے لئے خشکی کے راستے بھیج رہا ہوں۔
دیبل کا محاصرہ
ارمن بیلہ میں محمد بن قاسم نے اپنے لشکری سالاروں کوبلا کر مجلس مشاورت قائم کی اس میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے کے بعد محمد بن قاسم نے اپنی فوج کے تین حصے کئے ان میں قلب کا کمانڈر اورسالار وہ خود تھا۔ یہیں سے حجاج بن یوسف کی طرف سے ہدایت نامہ جنگ ملا جس سے واضح کر دیا گیا کہ وہ اپنی اور فوج کی حفاظت کے لئے ارد گرد خندق کھودے پھر حملہ کرے ۔ محمد بن قاسم نے شہر کا مکمل جائزہ لیا ۔ دیبل بہت بڑا شہر تھا اس کی آبادی بہت زیادہ تھی ۔ لیکن عجیب و غریب عقائد پر مشتمل تھا۔ اس شہر کے وسط میں ایک مندر تھا اور وہاں کے باشندوں کا عقیدہ تھا کہ جب تک مندر پر پرچم لہراتا رہے گا اس شہر پر کوئی قبضہ نہیں کر سکتا ۔دیبل کی فوج کی جانب سے چھاپہ مار کارروائیاں ہو رہی تھیں۔ جیسے ہی محمد بن قاسم کو حکم نامہ ابتدائے ملا تو اس نے اپنی فوج کے سالاروں کو ہدایات دینی شروع کردیں ۔
دیبل کا محاصرہ شروع ہوگیا یہاں تک کے نویں روز محمد بن قاسم نے حجاج بن یوسف کی ہدایات کے مطابق بوقت طلوع آفتاب دبیل پر حملہ کر دیا۔ جیسے ہی عروس سے پہلا پتھر نکلا دوسری منجیقوں نے بھی پتھر اگلنے شروع کر دئیے۔ عروس سے پھینکے پہلے ہی پتھر سےمندر کا گنبد ٹوٹ گیا اور پرچم زمین پر جاگرا ،پرچم اور گنبد کے گرتے ہی پورے شہر میں ہلچل مچ گئی ۔ دیبل کے تمام دروازوں سے فوج تیزی سے نکل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوئی ،محمد بن قاسم نے سب سے پہلے حملے کا جواب دینے کے لئے اپنی تلوار کو نعرہ تکبیر بلند کر کے اپنی فوج کو جواب دینے کا اشارہ کیا۔ شدید لڑائی کے بعد اہل دیبل نے ہتھیار ڈال دئیے۔ دیبل کا گورنر وہاں سے بھاگ گیا شہر میں امن قائم کرنے کے بعد محمد بن قاسم نے شہر کو برابر تین حصوں میں تقسیم کر دیا اسے اور مسلمانوں کے سپرد کر دیا۔ دیبل کی فتح کے بعد سر اندیپ کے صرف دو قیدی وہاں سے ملے باقی کے متعلق علم ہوا کہ اڑور میں راجہ داہر کی قید میں تسلط ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔ فتح کے بعد اشاعت اسلام کیلئے محمد بن قاسم نے سندھ میں پہلی مسجد تعمیر کروائی جسے اسلام کی پہلی مسجد شمار کیا جاتا ہے۔
لیکن یہ کامل فتح نہ تھی کیونکہ راجہ داہر کو ابھی شکست نہیں ہوئی تھی۔ دیبل کی فتح کے بعد بہت سے راجاﺅں نے محمد بن قاسم کی اطاعت قبول کر لی ۔محمد بن قاسم کی فوج کو دریائے سندھ عبور کرنے سے روکنے کیلئے راجہ داہر کا بیٹا جے سینہ خیمہ زن ہو گیا۔ یہاں مسلمانوں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح سے پل کو عبور کر لیا جائے لیکن جے سینہ کی فوج چوکنا تھی جیسے ہی مسلمان کشتیوںمیں سوار ہوتے وہ تیر برسانا شروع کر دیتے۔ دو تین مسلسل ناکامیوں کے بعد محمد بن قاسم اور اس کی سپہ سالاروں کے صلاح مشورے سے کشتیوں کا ایک ایسا پل تعمیر کروایا گیا جو اس وقت ورطہ حیرت تھا جس کے بعد راجہ داہر کے بیٹے جے سینہ کو شکست فاش ہوئی ۔اور مسلمانوں نے دریائے سندھ کو عبور کیا۔ جب راجہ داہر کو جے سینہ کی شکست فاش کی خبر ملی تو اس نے سر پیٹ لیا۔ لیکن اس نے اپنے بیٹے کا شاندار استقبال کیا ۔
رمضان المبارک کا مہینہ تھا داہر نے 20ہزار کا لشکر میدان جنگ میں بھیجا وہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوااور 20ہزار کے بقیہ لشکر کو پیچھے بطور ریزرو رکھا تاکہ بوقت ضرورت ان سے مدد لے سکے۔ آٹھ رمضان تک چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہیں تاہم لگا تار آٹھ دن کی جھڑپوں سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ دس رمضان بروز جمعرات دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے ۔ راجہ داہر خود بھی میدان میں اترا اس کے ساتھ اس کا بیٹا جے سینہ بھی تھا۔ ان کے آگے تین ہاتھی کھڑے تھے ےگھمسان کی جنگ تھی کہ اتنے میں ایک مسلمان اپنا گھوڑا دوڑاتا ہوا راجہ داہر کے ہاتھی کے قریب پہنچ گیا لیکن اس کا گھوڑا ہاتھی کو دیکھ کر بد ک گیا اس پر اس شخص نے انا عمامہ اتار کر گھوڑے کی آنکھوں پرباندھ دیا تاکہ وہ ہاتھی کو دیکھ کر نہ بھاگے۔ پھر تیز رفتاری سے گھوڑا دواڑتے ہوئے سفید ہاتھی کے پاس پہنچا اور اس کی تونڈ پر تلوار کا ایک بھرپور وار کیا جس سے ہاتھی زخمی ہوگیا لیکن جواب میں جوان تیر کھا کر شہید ہوگیا۔ آخر میں راجہ داہر نے اپنے ہاتھیوں کو آگے بڑھایا اور محمد بن قاسم نے آگ کے تیر برسائے ایک تیر راجہ داہر کے ہاتھی کی سونڈ میں لگا ۔ سونڈ میں آگ لگنے سے ہاتھی گھبرا کر تیزی سے بھاگا اور ایک جوہر میں گھس گیا۔ مجبوراً راجہ داہر نے ہاتھی سے چھلانگ لگائی اور پیدل فوج میں آگیا جو ایک فوجی مجاہد کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ اس طرح اس فوج کو شکست فاش ہوئی۔
فتح کے بعد محمد بن قاسم نے حکم دیا کسی شہری کو کچھ نہ کہا جائے البتہ جو لڑنے پر آئے اس سے ضرور لڑنا ۔
سندھ کی فتح کوئی بچوں کا کھیل نہ تھا یہ جان جھوکھوں کا کام تھا جسے سترہ برس کے ایک نوجوان نے بخیرو خوبی سرانجام دے کر تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لئے رقم کرالیا۔ مسلم تاریخ محمد بن قاسم کی شجاعت، قوم و ملت سے وفاداری اورشہر آفاق جنگی قادت کے ذکر کے بغیر ادھوری ہو گئی ایک ایسا ہیرا تھا جسے حجاج بن یوسف جیسے زریک انسان نے ڈھونڈ کرتراشا محمد بن قاسم کی عمر کے نوجوانوں کو دنیاوی لعو، لعب اور جاہ جلال سے فرصت نہیں ہوتی لیکن نوعمری کے باوجود محمد بن قاسم ایک پختہ سوچ کا حامل مدبر اور معاملہ فہم انسان تھا۔
ہندوستان میں محمد بن قاسم کا قیام قریباً 4سال رہا اس عرصے میں اس کے انتظامی اقدامات اور مذہبی پالیسی قابل ذکر اور توجہ کے مستحق ہیں۔
محمد بن قاسم کی زندگی کا دردناک اختتام 715 میں ہوا۔ اور بالآخر بادشاہی سازشوں کی وجہ سے مسلمانوں کی تاریخ کا یہ عظیم ہیرو دنیا سے رخصت ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا بہت بڑا جرم ہے(۲)