hazrat khdija

ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا

EjazNews

حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا حضورﷺ کی پہلی زوجہ محترمہ تھیں۔ آپؓ قریش کی عقلمند ترین ، بے حد خوش مزاج اور نیک اطوار تھیں۔ اپنے پاکیزہ اخلاق کی وجہ سے طاہرہ لقب سے مشہور ہوئیں۔ بعثت سے قبل انہوں نے حضورﷺ سے نکاح کرنا پسند کیا۔ کیونکہ آپﷺ ان کی نظر میں امانت دار اور اشرف ثابت ہوئے اس لئے عرب اکابرین جنہوں نے ان کے پاس پیغام بھیجا، ان کے مقابلہ میں انہوں نے حضورﷺ کو چن لیا۔ جب حضور ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو حضرت خدیجہ ؓ آپﷺ کو ثابت قدمی اور اسلامی جھنڈے کو لے کر آگے بڑھنے کی تلقین کرتی تھیں، انہوں نے اپنی ساری دولت حضورﷺ کے قدموں میں اس طرح نچھار کر دی تھی جیسے ایک پاکباز نیک اطوار خاتون کا صالح اور ہونہار خاوند کے ساتھ طریقہ ہوتا ہے۔ آپؓ سب سے پہلے حضورﷺ پر ایمان لانے والی تھیں۔ حضرت خدیجہ ؓ نے اعلان نبوت سے قبل ہی بت پرستی ترک کر دی تھی۔ آپؓ دولت و ثروت کے باوجود حضورﷺ کی خدمت خود کرتی تھیں۔

حضرت خدیجہؓ کا بے مثال کر دار وہ تھا جب پہلی بار وحی نازل ہونے پرآپ ﷺ مضطرب ہوئے ان کےگھر تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا ، مجھے اڑھادو، مجھے اڑھادو (یعنی ڈھانک دو) اور پورا قصہ انہیں سنایا۔ تب حضرت سیدہ خدیجہؓ نے آپ ﷺکی ہمت بڑھائی اور فرمایا۔ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپﷺ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں، پریشان حال لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مسکینوں اور بے نوائوں کاسہارا بنتے ہیں اور ہر مشکل وقت میں لوگوں کے کام آتے ہیں ۔(بخاری و مسلم)

یہ بھی پڑھیں:  جمعـۃ المبارک کے آداب

حضرت ابوہر یرہ ؓ فرماتے ہیں حضرت جبرئیل ؑ نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور کہا:اے خداکے رسول ﷺیہ خدیجہؓ آپ کے پاس آرہی ہیں، ان کے ساتھ ایک برتن ہے، جس میں سالن ، کھانا یا پانی ہے جب وہ آجائیں تو انہیں ان کے پروردگار کی طرف سے اور میری جانب سے سلام کہنا اور انہیں جنت میں جواہرات کے بنے ہوئے ایسے مکان کی بشارت دینا جس میں شورو شغب اور رنج و ملال نہ ہو۔ (مسلم)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بوڑھی عورت حضورﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ آپﷺ نے اس سے پوچھا، تم کون ہو؟ انہوں نے کہا میں جثامتہ المزنی ہوں۔ فرمایا، تم حسانہ ہو! تم کیسی ہو؟تمہار کیا حال ہے؟ ہمارے بعد تم پر کیسی گزری؟ انہوں نے کہا، میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ! ہم خیرو عافیت سے ہیں۔ جب وہ چلی گئیں تو حضرت عائشہ ؓ نے کہا۔ اے خدا کے رسول ﷺ اس بڑھیا پر آپ اتنی توجہ کر رہے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں یہ عورت ہمارے یہاں آیا کرتی تھی اور (دوستی کا) پاس و لحاظ کرنا بھی ایمان (کا جز) ہے۔ (حاکم نے اس کو صحیح کہا، ذہبی نے حاکم کی موافقت کی)۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں جتنا رشک مجھے حضرت خدیجۃ الکبریؓ پر ہوا اتنا رسول اللہ ﷺ کی کسی زوجہ پر نہیں ہوا، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا بھی نہیں تھا۔ اتنے رشک کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے۔ اور آپ کا دستور یہ تھا کہ جب آپ کوئی بکری ذبح فرماتے ، تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر حضرت خدیجہ ؓ کی سہیلیوں کو اس کا گوشت ہدیۃ بھیجا کرتےتھے۔ کبھی میں آپﷺ سے عرض کرتی (آپ خدیجہؓ کو اتنا یاد کرتے ہیں ) جیسے خدیجہ ؓ ہی دنیا میں ایک عورت تھیں۔ دوسری کوئی عورت نہ تھی۔ تب آپﷺ فرماتے وہ ایسی اور ایسی تھیں۔ ان سے میری اولاد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کھجور کے طبی فوائد

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: جتنا رشک مجھے حضرت خدیجہؓ پر ہوا، اتنا حضور ﷺ کی کسی زوجہ (مطہر ہ)پر نہیں ہوا ۔ اس لئے کہ حضور ﷺ ان کو بہت یاد کرتے تھے۔ ایک دن آپﷺ نے ان کا تذکرہ کیا تو میں نے عرض کیا، سرخ منہ والی اس بڑھیا کا تذکرہ آپﷺ کیوں اتنا کرتے ہیں؟ خدا نے ان سے بہتر اب آپ کو دیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا، خدا کی قسم ! اس کے بعد اللہ نے مجھے جو دیا وہ اس سے بہتر نہیں، وہ اس وقت ایمان لائیں جب لوگ ابھی کافر تھے۔ انہو ں نے اس وقت میری تصدیق کی جب اوروں نے مجھے جھٹلایا۔ اس وقت اپنا مال مجھ پر نچھاور کیا ، جب لوگوں نے مجھے محروم رکھا تھا۔ خدا نے ان سے مجھے جو اولاد دی، کسی اور سے نہیں دی۔ (بخاری مختصراً ، حمد، طبرانی)

اپنے زمانے کی سب سے اچھی عورتوں میں حضرت مریم بنت عمران اور اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے بہتر حضرت خدیجہ ؓ ہیں ۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے آسمان اورزمین کی طرف اشارہ کیا۔ (بخاری، مسلم، ترمذی)

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہو

کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضور ﷺ کی اس صراحت کے بعد نوجوان باسعادت اور خوش قسمت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے حضور ﷺ کو حضرت خدیجہ ؓ کویاد کرنے پر پھر کبھی ٹوکنے کی جسارت نہیں کی۔

حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا جب تک حیات رہیں ان کی کبر سنی کے باوجود آپﷺ نے کسی سے نکاح نہیں فرمایا ۔ یہاں تک کہ حضرت خدیجہ ؓ کا انتقال ہوگیا۔

حضرت خدیجہؓ اپنی دولت، اثر و رسوخ اور فہم و فراست سے کام لے کر مکی دور میں ہر نازک موقع پر اسلام کے لئے ڈھال بنی رہیں۔ علم و حکمت سے بھرپور فہم و فراست سے لبریز ایثار و قربانی کی پیکر، دکھ سکھ میں اپنے شوہر حضرت محمدﷺ کی معاون حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی حیات پاک مسلم خواتین کے لئے ایک مثالی اور قابل تقلید نمونہ ہے۔

آپ ﷺ کی رفاقت میں پچیس برس گزارنے کے بعد حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ دس رمضان المبارک کو 65 برس کی عمر میں وفات پا گئیں، حضورﷺنے خود قبر میں اتر کر حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کو دفن فرمایا، ہمیشہ انہیں یاد کر کے آپﷺ آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔ آپﷺ کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد رفیقہ حیات حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کی وفات کی وجہ سے غمگین رہنے لگے اور آپﷺ نے اُس سال کو ’’عام الحزن (غم کا سال) قرار دیا۔