کالا دھن سفید کرالو

EjazNews

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد مشیر خزانہ ،معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ، وزیر مملکت برائے ریونیو اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پریس بریفنگ دی جس میں مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر بریفنگ دی گئی اور کابینہ نے اتفاق رائے سے اس کی منظوری دے دی۔ اس کا بنیادی مقصد پیسہ اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اثاثوں کو معیشت میں ڈال کر فعال بنانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوشش کی ہے کہ یہ سکیم بہت آسان ہو تاکہ لوگوں کو دقت نہ ہو کیونکہ اس کے پیچھے فلسفہ لوگوں کو ڈرانا دھمکانا نہیں بلکہ قانونی معیشت میں حصہ ڈالنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا سکیم میں ہر پاکستانی حصہ لے سکے گا ،وہ لوگ جو سرکاری عہدہ رکھتے ہیں یا ماضی میں سرکاری عہدے پر رہ چکے ہیں وہ اس کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اور نہ ہی ان کے خاندان والے اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رئيل اسٹیٹ کی ویلیو ایف بی آر کی ویلیو سے 1.5 گنا زیادہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  15ستمبر سے مرحلہ وار سکول کھلیں گے:وفاقی وزیرشفقت محمود

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بے نامی کا قانون پاس ہوا ہے جس کے تحت بے نامی اثاثے ظاہر نہ کرنے کی صورت میں ضبط کیے جا سکتے ہیں اس لیے یہاں پر سہولت دی جارہی ہے کہ بے نامی اثاثو ں کو وائٹ کرلیا جائے اس سے پہلے کہ بے نامی کا قانون حرکت میں آجائے ۔مشیر خزانہ نے واضح کیا کہ اثاثے ڈیکلریشن اسکیم 30 جون تک کے لیے ہے اور اس کی مدت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ظاہر کیے گئے منقولہ اثاثے پاکستان لانا ہوں گے، ظاہر کیے گئے اثاثے بینک میں بھی جمع کروائے جا سکتے ہیں۔ جو لوگ اثاثے پاکستان نہیں لانا چاہتے انہیں مجموعی طور پر 6 فیصد دینا پڑے گا۔ بے نامی اکاؤنٹس اور جائیداد سے متعلق بھی اسکیم کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بے نامی قانون کو لاگو کرنے کے لیے یہ اقدامات فائدہ مند ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی سے لاہور جانے والی ایک اور ٹرین حادثے شکار

معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ عوام کے لیے لڑنے والی جنگ میں میڈیا ہمارا پارٹنر ہے۔ اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا بیرون ملک کیسز میں اثاثے حاصل کرنے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اٹارنی جنرل کے ساتھ ٹیم بنائی ہے، کابینہ ارکان نے 22 کروڑ عوام کا مقدمہ لڑا۔ وزیر اعظم کی ہدایات ہیں پالیسیوں کا رخ عوام کی طرف موڑا جائے۔ پاکستان کے اربوں روپے عالمی تنازعات پر خرچ ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے پی آئی اے کے لائسنس کی تجدید کی منظوری دی، پی ٹی ڈی سی بورڈ کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں ریفارمز لائی جائیں گی۔ اجلاس میں انفارمیشن کمیشن کی تنخواہوں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ بیرون ملک قید لوگوں کو لیگل ایڈ کے لیے سمری کی بھی منظوری دی گئی۔ ملائیشیا میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کی بھی کابینہ نے منظوری دی۔

یہ بھی پڑھیں:  خبریں نشر ضرور کریں لیکن تصدیق کے ساتھ