پاکستان اورآئی ایم ایف کی آخر ڈیل ہو ہی گئی

EjazNews

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکراتی سلسلہ کئی مہینوں پر محیط رہا ہے۔ جس میں یہ معاہدہ نہ ہونے ، ہونے کی ڈگمگاتی کیفیات میں ملوث رہا ہے۔ کبھی سننے میں آتا رہا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ اس لیے دیر کر رہے ہیں تاکہ شرائط میں نرمی ہو جائے اور کبھی کچھ طرح طرح کی باتیں سننے میں آتی رہی ہیں۔ لیکن کیا کریں یہ معاہدہ ہونا ہی تھا اور ہوا۔ اب شرائط کس نے کس سے منوائی ہیں یہ تو آنے والے دنوں میں سب کو پتہ چل ہی جائے گا۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کو 39ماہ میں رقم ملے گی۔ پاکستان 3سال میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور میکرو اکنامک ایجنڈے پر عمل کرے گا۔ توسیع فنڈ سہولت انتظامات کا مقصد اتھارٹیز کی مدد کرنا، اندرونی و بیرونی عدم توکو کم کر کے زیادہ مضبوط اور نچلی سطح تک گروتھ کےل یے حکمت عملی، شفافیت میں اضافہ اور سماجی اخراجات کو بڑھانا ہے۔ جبکہ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 3سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ چند اشیاءمیں مہنگائی آئے گی ۔ ان کے مطابق پاکستان میں 75فیصد لوگ 3سو یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں ۔جس میں 216ارب روپے سبسڈی کی مد میں رکھے جارہے ہیں جو پہلے کی نسبت 50ارب روپے زیادہ ہے۔ اب عام آدمی کو مشکلات سے نکالنے کیلئے مشیر خزانے کہتے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے آنے والے بجٹ میں انہوں نے 80ارب روپے اضافی رکھے ہیں جس سے وہ عام آدمی مشکلات کو کم کر سکیں گے۔ اور یہ بات تو ہم نے کئی دفعہ سنی ہے کہ کشکول توڑ دیا ہے، اب آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں فلاں فلاں اور یہی گردان اس مرتبہ پھر مشیر خزانہ نے بھی دہرائی ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا ۔
مشیر خزانہ کہتے ہیں آئی ایم ایف بین الاقوامی ادارہ جس کا کام رکن ممالک کی مدد کرنا ہے، پچھلے چند سالوں سے پاکستانی معاشی صورتحال اچھی نہیں رہی ہے، جب یہ حکومت آئی تو 25 ہزار ارب روپے کا قرض پاکستان لے چکا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو تین سال کے دوران آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر ملیں گے، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے اضافی دو سے تین ارب ڈالر ملیں گے۔
مشیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف سے معاہدے کواصلاحات اور اسٹرکچر تبدیلی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، پاکستان کو پائیدار خوشحالی کی طرف لیکر جانا چاہتے ہیں تو اسٹرکچر تبدیلی کرنا ہوگی۔
جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان کو 6 ارب ڈالر 39 ماہ میں قسطوں میں جاری کیے جائیں گے جبکہ معاہدے پر عمل درآمد آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد ہوگا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آئندہ بجٹ کے خسارے میں 0.6 فیصد کمی لائے گا، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کے طے کرنے سے مالی شعبے میں بہتری آئے گی۔حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سٹیٹ بینک غریبوں پر اثر انداز مہنگائی کم کرنے پر توجہ دے گا، سٹیٹ بینک کو پاکستان کے مالی استحکام پر توجہ دینا ہوگی، مارکیٹ کی جانب سے شرح تبادلہ کے تعین سے مالی شعبہ میں بہتری آئے گی اور معیشت کے لیے بہتر وسائل مختص ہوسکیں گے۔
یاد رہے اپوزیشن جماعتوں نے اس پر پہلے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری کا تویہاں تک کہنا تھا کہ یہ سارے مذاکرات آئی ایم ایف ، آئی ایم ایف کے ساتھ ہی کر رہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  مسئلہ کشمیر اور ہماری خارجہ پالیسی : چند گزارشات

کشکول توڑنے کی باتیں تو آپ ہر دور میں سنتے رہے ہیں اور شاید سنتے بھی رہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان 30سال میں 13مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے۔