شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

EjazNews

24دسمبر 2012ءکو تلخ کلامی پر کراچی کے علاقے ڈیفنس میں شاہ زیب کو قتل کر دیا گیا ۔ جس نے پوری سوسائٹی کو جھنجوڑ کے رکھ دیا تھا کہ ہمارا معاشرہ کس سمت میں رواں دواں ہے۔ مجرمان کو گرفتار کیا گیا اصل کھیل اس کے بعد دیکھنے کو آیا کہ اس وقت کے چیف جسٹس کی اگر ذاتی دلچسپی نہ ہوتی تو شاید یہ کیس ردی کی ٹوکری میں پڑا کہیں گل سڑ رہا ہوتا۔ ایسے مواقع بھی سامنے آئے کہ نظر آنے لگا کہ ریاستی مشینری کس داﺅ پیج کے ساتھ انہیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جس نے معاشرتی ضمیر کو اور جھنجوڑا۔ یہ ایسا کیس ہے جس پر ہمارے مشہور فلم ساز شعیب منصور نے فلم بھی بنائی ۔ فلم ان کرداروں کے گرد تو نہیں گھومتی تھی لیکن معاشرے میں موجود طاقتور لوگ کس طر ح کے حربے ، کس طرح استعمال کرتے ہیں اس سارے معاملات کے گرد گھومتی تھی۔ شعیب منصور کا کہنا تھا کہ Vernaانہوں نے اسی کیس سے متاثر ہو کربنائی تھی۔ اب اس کیس میں آج ایک اور اہم موڑ سامنے آیا جس میں سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کے مقدمے میں مجرمان شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی بریت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔سماعت کے دوران مجرمان کے وکیل نے کہا کہ فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہے اور صلح نامے کی بنیاد پر تمام مجرمان کو بری کر دیا جائے ۔
تاہم ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات میں فریقین کے درمیان صلح نہیں ہوسکتی ہے۔
شاہ زیب خان کی ہلاکت کا واقعہ 24دسمبر 2012 ءکو کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں پیش آیا تھا۔ جون 2013ءمیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دو ملزمان کو سزائے موت جبکہ دو کوعمر قید کی سزا دینے کا حکم دیا تھا۔2017ءمیں شاہ زیب خان کے والدین نے قصاص اوردیت کے قانون کے تحت صلح نامے کے بعد ملزم شاہ رخ جتوئی کو معاف کر دیا تھا جس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔تاہم 2018ءمیں سپریم کورٹ نے اس مقدمے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے چاروں مجرمرمان کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد انہیں دوبارہ حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیادارالحکومت غیر محفوظ ہے؟