گرمی سے بچاؤکیسے ممکن ہے؟

EjazNews

گرمی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اس بات سے تو سب ہی واقف ہیں کہ پاکستان میں گرمیاں انتہائی شدید ہوتی ہیں۔خاص تور پر میدانی علاقوں میں تو قیامت خیز گرمی پڑتی ہے۔جس سے ان علاقوں میں رہنے والے شدید مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔گرمی کی شدت بچوں اور بوڑھوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔آئیے دیکھیں کہ گرمی سے انسان کس طرح متاثر ہوتا ہے اور اس سے بچائو کا کیا طریقہ ہے۔گرمی سے انسان پر کئی طرح کے اثرات پڑ سکتے ہیں ،اپنی سہولت کی خاطر ہم ان کو چار بڑی کیٹیگریز میں تقسیم کر لیتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

گرمی سے بے ہوشی طاری ہو جانا۔Heat syncopy
اگر گرمی کی شدت بہت ذیادہ ہو تو کبھی کبھی اس کی وجہ سے انسان بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔اس کی بنیادی وجہ جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جانا ہے۔دراصل گرمی جب شدید ہوتی ہے تو انسان کی جلد میں پائی جانے والی خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں اور ان میں خون بھر جانے کی وجہ سے بلڈ پریشر یکدم کم ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ گرم موسم میں کم از کم دو گھنٹے لگاتارمشقت ہوا کرتی ہےہے۔ایسے مریض کی جلد ٹھنڈی اور پسینے سے گیلی ہوتی ہے جبکہ نبض کافی کمزور ہوتی ہے۔ ایسے مریض کو فوراً کسی ٹھنڈی اور سایا دار جگہ پر لٹا دینا چاہیےپانی کی کمی کو نمکول یا ڈرپ لگا کر پورا کیا جاسکتا ہے۔

گرمی سے پٹھوں میں اینٹھن۔heat cramps
اگر گرمیوں کے موسم مین دھوپ میں مسلسل مشقت کی جاے تو ایسی صورت حال سے دو چار ہونا پڑ سکتا ہے۔اس کی وجی جسم سے نمکیات اور پانی کا اخراج ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے پٹھوں میں درد ہونے لگتا ہے۔اگر یہ اخراج کافی ذیادہ ہو جاے تو پٹھے اکڑ جاتے ہیںبعض اوقات پٹھوں میں شدید کھنچائو پیدا ہو جاتا ہے جو وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے۔اس کا دورانیہ ایک تا تین منٹ تک ہوتا ہے۔اس شدید کھنچائو کی وجہ جسم سے سوڈیم کا اخراج ہے۔ پٹھے چھونے پر بھی درد کرتے ہیں اور بعض اوقات پٹھے مسلسل پھڑکنے لگتے ہیں۔ ایسے مریض کی جلد ٹھنڈی اور پسینے سے گیلی ہوتی ہے۔اگر چہ مریض ہوش و حواس میں ہوتا ہے لیکن درد کی وجہ سے بے حال ہوتا ہے۔جبکہ مریض کا جسمانی درجہ حرارت نارمل یا تھوڑا سا ذیادہ ہوتا ہے ایسے مریض کو فورا کسی سایہ دار اور ٹھنڈی جگہ پر منتقل کر دیں۔اس مریض کو نمکول کا پانی دیں یا ڈرپ لگا دیں اس سے پانی اور نمکیات دونوں کی کمی پوری ہو جاے گی۔اس علاج کو ایک سے تین دن تک حسب ضرورت جاری رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  امراض کے سد باب کیلئے ضروری لائحہ عمل

لو لگناHeat exhaustion..
گرمیوں کے موسم میں دھوپ اور گرمی میں لمبے عرصے تک مسلسل رہنے اور کام کرنے سے جو مرض سامنے آتا ہے اسے لو لگنا کہتے ہیں۔ہی اگرچہ ذیادہ سیریس کنڈیشن نہی ہوتی لیکن اگر مریض اپنی حالت پر ذیادہ توجہ نہ دے اور معالج بھی ان علامات کو نظر انداز کر دے توخطرہ بڑہ جاتا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہوتی ہے کہ ابتدائی علامات ذیادہ واضع نہیں ہوتیں جس وجہ سے ان کی زیادہ پروا نہیں کی جاتی یا ان کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ان علامات کی بنیادی وجہ بلند درجہ حرارت میں رہنے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور سوڈیم اور دوسرے نمکیات ذیادہ ہونے کی وجہ سے توازن بگڑ جاتا ہے۔ایسے مریض کا درجہ حرارتتوڑا سا بڑھا ہوتا ہے اور نبض کی رفتار خاصی تیز ہوتی ہے۔پسینہ آیا ہوتا ہے۔پہلی بیان کی گئی دونوں کنڈیشنز کی علامات بھی موجود ہو سکتی ہیں۔پٹھوں میں دکھن ہوتی ہے۔متلی کی کیفیت بلکہ الٹیاں بھی لگ سکتی ہیں۔بھوک میں کمی اور مریض کو بہت پیاس لگتی ہے وہ کمزوری اور تھکن محسوس کرتا ہے۔اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی آنے لگتی ہےاور اس کو غنودگی سی طاری ہونے لگتی ہے۔سر میں درد بھی ہونے لگتا ہے۔مریض کو پسینہ کافی آتا ہےجس کی وجہ سے اسکی جلد گیلی اور چپچپی ہو جاتی ہے۔اگر ایسے مریض کا علاج نہ کیا جاے تو اس کو ہیٹ سٹروک کا خطرہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کو دماغی خرابی اور ہارٹ اٹیک اور موت کا خطرہ بھی لاحق ہو جاتا ہے۔
ایسے مریض کو سب سے پہلے کسی سایا دار اور ٹھنڈی جگہ پر منتقل کرنا ضروری ہےاس کو پانی کی کمی دور کرنے کے لیے کم از کم دو گھنٹے میں دو لٹر ٹھنڈا پانی پلانا ضروری ہے۔لیکن کیفیین ملے مشروبات سے پرہیز کریں۔مریض کو ٹھنڈے پانی کے ٹب میں بٹھایں یا اس کے جسم پر ٹھنڈے پانی مین بھگوے ہوے تولیے لپیٹ دیں ۔سوڈیم کی کمی دور کرنے کے لیے ایک لٹر پانی میں ایک چھوٹا چمچہ نمک ملا کر پلاتے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہیلتھ گائیڈ

ہیٹ سٹروک یا سن سٹروک.Heat stroke or sun stroke
یہ ایک نہایت خطرناک کنڈیشن ہے جو انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔یہ عام طور پر تیز دھوپ میں ذیادہ دیر تک کام کرنے یا کھڑا رہنے سے ہوتی ہے۔اس میں دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوتا ہے جو جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول کرتا ہے۔اس کنڈیشن میں مریض کا جسمانی درجہ حرارت ۴۰ ڈگری سنٹی گریڈ سے ذیادہ ہو جاتا ہے۔دماغ کے متاثر ہونے کی وجہ سے سر درد ،کنفیوژن،سر کا ہلکا پن اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔پچھلی تمام کنڈیشنز کے بر عکس مریضوں کی جلد خشک اور گرم محسوس ہوتی ہے اور ان کو پسینہ نہین آتا۔ان کی نبض کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے۔کیونکہ ایسے مریضوں کا دماغی کنٹرول بگڑ جاتا ہے اس لیے ان پر بے ہوشی بھی طاری ہو سکتی ہے۔ان مریضوں کو جلد از جلد ایمر جنسی طبی امداد کی ضرورت ہوا کرتی ہے لیکن طبی امداد ملنے کے باوجود ہیٹ سٹروک سے مرنے والے مریضوں کی تعداد کافی ہوتی ہے۔مریض کی سانس کی رفتار کافی تیز ہوتی ہے اس کو پٹھوں میں درد کے ساتھ کھنچائو بھی محسوس ہوتا ہے اور ان کا جسم بھی کافی گرم محسوس ہوتا ہے ان کی زبان میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہو جاتی ہے اور اوسان خطا ہو جاتے ہیں اگر ایسے مریضوں کو بر وقت طبی امداد نہ ملے تو ان کی موت بھی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ناخن جسم کی بہت سی بیماریوں کا بھی بتاتے ہیں

ان مریضوں میں سب سے اہم بات ان کا جسمانی درجہ حرارت کم کرنا ہے اس مقصد کے لیے مریض کو ٹھنڈے برفیلے پانی میں لٹانا بہت ضروری ہےلیکن کیونکہ ایسا کرنا ہر جگہ ممکن نہیں ہوتا اس لیےمتبادل طریقے کے طور پر مریض کے کپڑے اتار کر اس پر ٹھنڈا پانی سپرے کیا جاتا ہےاور پمکھے سے تیز ہوا دی جاتی ہے۔اگر مریض کو برف کے ٹھنڈے پانی میں لٹایا جاتا ہے تو اس صورت میں اس کی جلد کا مساج بہت ضروری ہےتاکہ جلد کی خون کی سپلائی جاری رہے۔اس علاج کواس وقت تک جاری رکھیں جب تک مریضکا جسمانی درجہ حرارت 39 ڈگری سنٹی گریڈ سے کم نہ ہو جاے۔اگر چہ ایک بار کم ہونے کے بعد درجہ حرارت کم ہی رہتا ہے لیکن پھر بھی کم از کم ۲۴ گھنٹے تک نگرانی جاری رکھیں۔

ایک بہت اہم بات یاد رکھیں کہ گرمی کی وجہ سے جو جسمانی درجہ حرارت بڑھتا ہے اس پر بخار کم کرنے والی ادویات کا کا اثر نہیں ہوتااس لیے ان ادویات کا استعمال منع ہےیہ بات ہم سب بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ پر ہیز علاج سے بہتر ہے ۔یہ معقولہ یہاں بہت فٹ آتا ہے اس لیے ہمیںدھوپ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کوشش کری کہ دھوپ میں لمبے دورانیے تک کوئی مشقت والا کام نہ کریں اور نہ ہی تیز دھوپ کے وقت باہر نکلیں لیکن اگر باہر جانا ہی پڑے تو ٹھنڈا پانی اپنے پاس رکھیں اور نہ صرف پیتے رہیں بلکہ وقفے وقفے سے اپنے جسم پر بھی ڈالتے رہیںمسلسل دھوپ میںچلنے سے گریز کرین اور وقفے وقفے سے کسی سایہ دار جگہ پر آرام کریں اور سر پر براہ راست دھوپ نہ پڑنے دیں بلکہ سر کو کسی توہی ،ہیٹ یا کاٹن کے کپڑے سے ڈہانپ کر رکھیں۔اگا ممکن ہو تو چھتری کا استعمال کریں۔

کیٹاگری میں : صحت