عالم یوم منانا ہی کافی نہیں دل سے حق و مقام تسلیم کریں

EjazNews

یہ میری قریبی عزیز کی دادی کی اَن تھک جدوجہد پر مبنی مختصر داستان ہے۔ وہ ماشاء اللہ حیات ہیں اور کراچی میں اپنے پوتوں، پڑپوتوں کے ساتھ سُکھ چین کی زندگی گزار رہی ہیں۔ پچھلے سال شادی کی ایک تقریب میں اُن سے تفصیلی ملاقات کا شرف حاصل ہوا، توان کی پُروقار اور سلجھی ہوئی شخصیت سے میں بہت متاثر ہوا۔ میرے اصرار پر انہوں نے اپنی زندگی کے کٹھن سفر کے حوالے سے یہ واقعہ سُنایا، جو ان ہی زبانی آپ کی نذر کررہا ہوں۔

’’میری والدہ کا تعلق پڑھے لکھے گھرانے سے تھا، اُس زمانے کے رواج کے مطابق، اُن کی شادی تیرہ سال کی عمر میں ہوگئی، جس کے باعث آگے نہ پڑھ سکیں۔ تاہم، اردو لکھ پڑھ لیتی تھیں۔ میں پیدا ہوئی، تو ان کی خواہش تھی کہ اپنی اکلوتی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ میرے تین بھائی تھے، دو بڑے اور ایک مجھ سے چھوٹا۔ والدہ نے چھوٹے بھائی کے ساتھ مجھے اسکول بھیجنا شروع کردیا۔ میری عُمر اُس وقت چار سال تھی۔ چند سال بعد دو بہنیں بھی دنیا میں آگئیں، وہ بہت چھوٹی تھیں، اس لیے میں بھائی کے ساتھ اسکول جاتی رہی۔ جب پانچویں کلاس میں آئی، تو میرا ایک اچھے گھرانے سے رشتہ آگیا۔ والد صاحب نے مجھے بہ مشکل پڑھنے کی اجازت دی تھی، انہوں نے فوراً دس سال کی عمر میں میری بات پکّی کرکے منگنی کردی اور اسکول سے اٹھوا کر گھریلو کام کاج میں لگادیا گیا تاکہ گھریلو امور میں طاق ہوسکوں۔ تقریباً پانچ سال بعد میری شادی کردی گئی۔ اُس وقت میں تقریباً پندرہ سال کی تھی، منگنی کا یہ وقفہ اس لیے طویل ہوگیا کہ میرے منگیتر میٹرک کے بعد آگے پڑھنے کے لیے دہلی چلے گئے تھے۔ ہماری فیملی پٹنہ میں مقیم تھی، سسرال والے بھی وہیں تھے۔ گریجویشن کے بعد میرے شوہر کو سرکاری ملازمت مل گئی، تو انہوں نے اپنی فیملی کو مستقل طور پر دہلی بلوالیا، اس طرح میں بھی شادی کے بعد دہلی آگئی۔ شوہر، کشادہ دل، روشن خیال آدمی تھے، انہیں میری پڑھائی کے شوق کا علم ہوا، بڑی پزیرائی کی، اور اس سلسلے میں بھرپور مدد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ پہلے تمہیں خود کو ذمّے دار بہو کی حیثیت سے سال ڈیڑھ سال منوانا ہوگا۔ میں نے وعدہ کرلیا، مگر چند ماہ بعد ماں بننے کی خوش خبری ملی، تو سارے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ میری زندگی کے شب وروز بدل گئے، بچّے کی پیدایش کی تیاریوں میں لگ گئی۔ بیٹے کی پیدایش کے ڈیڑھ ماہ بعد پاکستان کا قیام عمل میں آگیا۔ دہلی کے حالات اس قدر دگرگوں ہوگئے تھے کہ شوہر نے پاکستان جانے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ خبر میرے گھر والوں کے لیے غیر متوقع تھی، والدہ نے باقاعدہ رونا پیٹنا شروع کردیا، بہنیں بھی دُکھی تھیں۔ ساس، سُسر بھی پٹنہ آگئے تھے، وہ بھی پاکستان جانے کے حق میں نہیں تھے۔ میرے شوہر کا ارادہ تھا کہ پاکستان پہنچ کر اپنے لیے ٹھکانے کا بندوبست کرنے کے بعد ان لوگوں کو بھی بلالیں گے۔ میری والدہ وقتِ رخصت مجھ سے لپٹ کر رونے لگیں، پھر چپکے سے اپنے گلے کا ہار، ’’چمپاکلی‘‘ اتار کرمجھے تھمادیا۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا تھا، یہ قیمتی چمپا کلی اُن کے گلے میں دیکھی تھی۔ میری ڈرائنگ بچپن سے اچھی تھی، میں اکثر اس خوب صورت ہار کی تصویر بنا کر امّاں کو دکھایا کرتی تھی، امّاں نے وہ ہار گلے سے اتار کر مجھے دیتے ہوئے کہا تھا ’’تمہیں جب ضرورت پڑے، اسے بیچ دینا۔‘‘ میں نے امّاں کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور کہا ’’اماں جب میں اس قابل ہوئی کہ آپ سے ملنے یہاں آسکوں، یہ قرض اتاردوں گی، مجھے جاتے ہوئےآپ کا گلا سُونا کرنا اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ ہیرو میجر رابرٹ راجرز

اماں نے کہا ’’بیٹا انسان کا اصل زیور علم ہوتا ہے، وہ میں حاصل نہ کرسکی، حالات ٹھیک ہونے پر تم اپنی تعلیم کاسلسلہ شروع کردینا، اس بات سے مجھے زیادہ خوشی ہوگی۔‘‘ امّاں سے اُن کی خواہش پوری کرنے کا وعدہ کرکے ہم پاکستان آگئے، کیمپ میں گزارا گیا وقت بہت ہی کڑا تھا، کیوں کہ میرے شوہر کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی، ناقص غذا، مشقّت اور پریشانیوں نے ایسا جکڑا کہ انہیں مسلسل بخار رہنے لگا۔ کیمپ کی زندگی میں نومولود بچّے کے ساتھ شوہر کی تیمارداری نے میرے ہوش و حواس اُڑادیئے، ساری سُدھ بُدھ بُھلادی۔ تین ماہ والٹن کیمپ میں رہی، اس دوران آس پاس کی خواتین سے دوستی ہوگئی، انہوں نے میری بہت مدد کی، ان ہی میں سے ایک خاتون نے اپنے لیے جب مکان کا بندوبست کیا، تو میرے لیے بھی ایک چھوٹا سا مکان پڑوس میں لے لیا۔ شوہر کو چیچک نکل آئی تھی۔ ان کے علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔ سو، مجھے وہ چمپاکلی اسی مہربان پڑوسن کے توسّط سے فروخت کرنی پڑگئی۔ جس کے بعد کچھ ماہ کے لیے راشن پانی اور شوہر کے علاج کا بندوبست ہوگیا، تاہم ان کی حالت میں کوئی سدھار نہ آیا،بیماری کی اذیت سہتے سہتے بالآخر ان کا انتقال ہوگیا۔وہ وقت میرے لیے شدید صبر آزما کا تھا، مگر میں نے ہمّت نہ ہاری اور محلّے کے بچّوں کو قرآن مجید پڑھانا شروع کردیا۔ اُس محلے میں تقریباً سب ہی ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے تھے اور مالی طور پر غیرمستحکم تھے، مگر سب ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک رہتے تھے۔ مجھے قرآن پڑھانے کا ہدیہ راشن کی صورت میں حسبِ توفیق ملنے لگا، کوئی آٹا، کوئی گھی بھیج دیتا، کوئی چاول بھجوا دیتا۔ حتیٰ کہ عید، بقرعید پرمحلّے والے میرے اور بیٹے کے لیے کپڑے بھی بھجوادیتے، جس سے گزر بسر ہورہی تھی۔ سب عزت کرتے تھے۔ ہندوستان میں رشتے داروں کو اپنے شوہر کے انتقال کی اطلاع بھجوادی تھی، افراتفری کا دَور تھا، تعزیتی جواب کے علاوہ کوئی جواب نہیں آیا۔ میری مدد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا تھا اور اُس نے بھرپور مدد کی۔ محلّے میں قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والے بچّوں کی تعداد بڑھنے لگی، تو ان میں سے بہت سے بچّوں کو ٹیوشن پڑھانے کے ساتھ امّاں سے سیکھا ہوا سلائی، کڑھائی کا کام بھی سکھاناشروع کردیا۔ مگر میں ساری عمر صرف یہی کام کرنا نہیں چاہتی تھی، لہٰذا اپنی تعلیم کا سلسلہ پھر سے جوڑ لیا، گھر میں کتابیں منگواکر پڑھائی شروع کردی، تاکہ اپنے بچّے کو ابتدائی تعلیم خود دے سکوں، بچّے کو تین جماعتیں گھر میں پڑھانے کے بعد اسکول میں داخل کروادیا، وہ اپنے باپ کی طرح بلا کا ذہین نکلا، جب اس نے چوتھی کلاس میں پوزیشن لی، تو اسے اسکول کی طرف سے وظیفے کے امتحان میں بٹھادیا، جس میں کام یابی کے بعد اسے چار روپے ماہ وار وظیفہ ملنے لگا۔ اس وقت یہ رقم بہت بڑی تھی۔ میں پڑھائی میں اس سے پیچھے رہ گئی تھی۔ ایک روز میں نے اس سے کہا کہ ’’تم اسکول میں جو کچھ پڑھ کر آیا کرو، مجھے بھی پڑھادیا کرو، اس طرح میں بھی لکھنا پڑھنا سیکھ جائوں گی۔‘‘ وہ فوراً راضی ہوگیا، پھر ہم دونوں ماں بیٹے ایک ساتھ پڑھنے لگے، وہ مجھے میٹرک تک بڑے ذوق وشوق سے پڑھاتا رہا۔ ہم دونوں ماں بیٹے نے ایک ساتھ میٹرک کا امتحان دیا، تو میرا رزلٹ بیٹے سے بھی زیادہ اچھا آیا۔ جس نے میرے حوصلے اور ہمّت کو ایسی مہمیز دی کہ پھر میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ہم دونوں ماں، بیٹے میں مقابلے کا سا جنون پیدا ہوگیا تھا، مگر ایک دوسرے کی کام یابیوں پر خوب جشن مناتے تھے۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد میرے لائق فائق بیٹے نے پِری انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا، مجھے اردو سے عشق تھا، اس عشق نے مجھے ایم اے اردو میں پوزیشن دلوائی اور بغیر کسی سفارش کے ایک مقامی کالج میں بہ حیثیت لیکچرار میرا تقررہوگیا۔ میری کام یابیوں کی اطلاع میری ماں کو ملتی رہی، وہ یہی پیغام بھجواتی رہیں کہ علم ایک سمندر ہے، اس کی گہرائی میں جتنا اُتروگی، اتنے ہی قیمتی موتی پائو گی۔ میں نے ان کی نصیحت پلّے سے باندھ کر پی ایچ ڈی بھی کرلیا اور کراچی یونی ورسٹی میں پروفیسر ہوگئی۔ میرے بیٹے نے اچھے نمبرز سے انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرلی، تو ہم نے پرانا محلّہ چھوڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب میں اولیاء اللہ کے مزارات(۲)

مالی حالات بہتر ہوئے، تو بیٹے کی شادی کی فکر ستانے لگی۔ ان ہی دنوں بھارت سے پیغام آیا کہ والدہ بیمار رہنے لگی ہیں اور مجھ سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔ یونی ورسٹی سے ملنے والی تن خواہ میں سے میں نے رقم جوڑنی شروع کردی تھی کہ جب ماں کے پاس جائوں، تو ان کا ہار ’’چمپا کلی‘‘ ضرور لے کر جائوں ، جس کی میں مقروض تھی، وہ چمپا کلی جو انہوں نے چلتے وقت اپنے گلے سے اتار کر میرے ہاتھ میں تھمائی تھی، وہ میرے برے وقت میں بہت بڑی امداد ثابت ہوئی تھی، میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ یہ میرے لیے قرض ہے، جسے چکانے میں ضرور آئوں گی۔ چوں کہ بچپن سے اماں کے گلے میں ’’چمپا کلی‘‘ ہار دیکھا تھا، اس لیے اس کا ڈیزائن ذہن میں محفوظ تھا، اسے کاغذ پر منتقل کرکے جیولر کو دکھایا، تو اس نے ہُوبُہو اسی ڈیزائن کی ’’چمپاکلی‘‘ تیار کرکرکے دے دی۔ میری ساری بچت اس قیمتی زیور پر خرچ ہوگئی۔ بیٹے نے اپنی طرف سے اس کی قیمت ادا کرنے کی کوشش کی، لیکن میں نےمنع کردیا کہ یہ قرض مجھ پر واجب ہے، میں ہی ادا کروں گی۔ خیر، جب بھارت کا ویزا لگ گیا، تو میں نے بیٹے سمیت بھارت آنے کی اطلاع بھجوادی۔ اس خبر کو سن کر بقول بھائی، امّاں بسترِ علالت سے اٹھ بیٹھی تھیں کہ ان کی لائق فائق اور باہمّت بیٹی اپنے ہونہار بیٹے کے ساتھ چالیس سال بعد ان سے ملنے آرہی ہے۔ میں بھی بہت پُرجوش تھی۔ بالآخر چادہائیوں بعد جب بھارت کے ائرپورٹ پر پہنچے، تو میرا بھائی ہمیں ریسیو کرنے آیا، اس کا بجھا چہرا دیکھ کر مجھے گڑبڑ کا احساس ہوا، اگرچہ ان چالیس برسوں میں وہ دو بار پاکستان آچکا تھا، لیکن میں اسے آسانی سے پہچان نہ پائی۔ وہ بہت کم زور اور بوڑھا لگ رہا تھا۔ راستے میں میرے بار بار پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ’’صبح سویرے امّاں کا اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا، وہ نماز کے لیے اٹھی تھیں کہ چکرا کر دوبارہ بستر پر گرگئیں، تمہاری آمد کی خبر سن کربہت پُرجوش تھیں، رات بھر تمہاری رہایش کے لیے اپنے برابر والا کمرا سجاتی رہی تھیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ؎قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند…..دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا۔ میں ماں سے ملنے کے تصوّر سے بہت پُرجوش تھی، مگر قدرت کا اپنا نظام ہے، وہ ’’چمپاکلی‘‘ جو میں نے اپنے گلے میں اس خیال سے پہن لی تھی کہ امّاں سے ’’گلے‘‘ ملتے وقت اسی انداز میں اتار کر ان کے ہاتھ پر رکھوں گی، جیسے انہوں نے برسہا برس پہلے میرے ہاتھ پر رکھی تھی، مگر ایسا نہ ہوسکا، وہ میرے گلے ہی میں پڑی رہ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  امید کی کرن نظر آنے لگی

گھر پہنچی، تو امّاں کی میّت تیار تھی، میرا انتظار ہورہا تھا، میرے پہنچنے کے پندرہ منٹ بعد جنازہ اٹھ گیا، میں انہیں جی بھر کے دیکھ بھی نہ سکی، میرا پھر وہاں جی نہ لگا، پندرہ روز بعد ہی وطن لوٹ آئی۔ یہ واقعہ مجھے بھلائے نہیں بھولتا اور ان کا وہ جملہ جو انہوں نے چلتے وقت سر تھپکتے ہوئے کہا تھا ’’پگلی، کوئی ماں بیٹی کے درمیان بھی قرض، سود کا معاملہ ہوتاہے، اگر قرض اتارنا چاہتی ہو، تو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا، میرا قرض اُتر جائے گا۔‘‘
یہ ہے اس عظیم خاتون پروفیسر کی مختصر داستان، جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ وہ آج کل ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہی ہیں، اپنی چھیاسی سالہ زندگی میں انہوں نے جس جواں مردی سے حالات کا مقابلہ کیا اور

سی سہارے کے بغیر نہ صرف اپنے اکلوتے بیٹے، بلکہ خود اپنے لیے بھی جدوجہد اور کامیابیوں کی وہ مثال قائم کی، جو ہر طرح کے وسائل میسّر ہونے کے باوجود اکثریت نہیں کرپاتی، اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ وہ ایک باعزت اور خوش حال زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ ’’چمپا کلی‘‘ ہمیشہ گلے میں پہنے رہتی ہیں، ان کے بقول یہ اُن کی والدہ کی دی ہوئی نصیحت کی یاد دلاتی ہے، جس پر عمل کرکے انہوں نے ہمّت اور حوصلے سے زندگی گزاری ہے۔
(سید حیدر علی قلی،شکریہ جنگ)