پانی ہی آب حیات ہے

EjazNews

ہماری صحت کے ضامن اور خدمات صحت کے ناظم اعلیٰ عمومی نے یہ ہوش ربا اور ناقابل یقین خبر دی ہے کہ ہمارے 50فیصد امراض نجس پانی پینے کے سبب ہوتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ کون اس صورت حال کی اصلاح کا ذمہ دار ہے اور اس ضمن میں کیا کیا جارہا ہے، یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آخر پانی کیوں نجس ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں باتیں تو بہت ہوتی ہیں مگر اصل حقیقت سے کم لوگ با خبر ہیں، جس کی تشریح درج ذیل ہے۔

پانی خواہ پہاڑوں سے آنے والے دریاﺅں کا ہو، یا میدانوں میں واقع نہرو ں، تالابوں کا یا دیہات اور شہروں کے کنوﺅں میں، ان سب میں وہ بیکٹریاں ہوتے ہیں جوآنتوں سے خارج ہوتے ہیں اور پیٹ کی بیماری کا باعث ہیںجن لوگوں نے گھروں میں نلکے لگوا کر پانی نکلوانے کا بندوبست کر رکھا ہے۔ وہ سب پانی غلاظت سے آلودہ ہے اور پینے کے لائق نہیں۔ نجس پانی میں فضلہ کی نجاست اور کیڑوں کے علاوہ سمی مواد مثلاً سیسہ، فلورائیڈ اور نائٹریٹ ہوتے ہیں اور یہ پانی کو مضر و غلیظ کر دیتے ہیں۔

غیر نہری علاقوں میں زیر زمین پانی نہایت عمیق ہے، جہاں کے باشندے پانی کنوﺅں اور دستی نلوں سے حاصل کرتے ہیں، یہ لوگ ان تالابوں کا پانی بھی استعمال کرتے ہیں جہاں بارش کے زمانے میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس میں جراثیم کیڑے اور کینچوے ہوتے ہیں اور نتیجتاً ایک غول امراض آتا ہے۔ یہ صورت حال تمام ملکوں میں واقع ہو رہی ہے۔ بعض علاقوں میں پانی میں فلورائیڈ کی کثرت کی وجہ سے دانتوں پرداغ بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔

پانی میں نجاست کی وجہ ایک نکما نکاسی گند اب کا نظام بھی ہے، جس نے زیر زمین پانی کوپینے کے قابل نہیں رکھا

پانی میں نجاست کی وجہ ایک نکما نکاسی گند اب کا نظام بھی ہے، جس نے زیر زمین پانی کوپ ینے کے قابل نہیں رکھا یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ اس ملک میں صرف 13فیصد آبادی کے واسطے نکاسی گند اب اورحفظان صحت کی سہولتیں موجود ہیں جبکہ شہروں میں یہ سہولت 42فیصد کو حاصل ہے۔

پانی کے نجس ہونے کی اہم وجہ فراہمی آب کی نالیوں کا نکاسی گند اب کی نالیوں کی گندگی سے آلودہ ہو جانا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گند اب اور فضلہ کو ندی ، نالوں، دریاﺅں اور سمند ر میں بہانے سے قبل بے ضرر نہیں کیا جاتا حالانکہ اس تمام کوڑے کو کیمیائی عمل سے جلا دینا چاہیے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ کراچی کا گند اب لیاری، ملیر کی ندیوں اور سمندر میں لاہور کا راوی میں اور پشاور کا دریائے کابل میں بعینہ ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ لاڑکانہ جیسا مشہور شہر جو اکثر شریک اقتدار رہاہے ۔ نکاسی گند اب کے مناسب نظام سے محروم ہے۔

ہمارے ملک کے جنوبی علاقوں میں پانی نمکین ہے، اس کی بہ نسبت انتہائی شمال میں پانی بہتر ہے۔ بہر حال یہاں کی 70فیصد دیہاتی آبادی اور 30فیصد شہری آبادی کو ایک جدید فراہمی آب کے نظام کی ضرورت ہے جو پائپ کے ذریعہ مہیا کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نجات پائپ کے پانی میں ہے۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ ابھی تک جو پانی پائپ کے ذریعہ آرہاہے وہ مسلسل نہیں ملتا اور مصیبت یہ ہے کہ 40فیصد یہ بھی آلودہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہےکہ لوگوںمیں شعور پیدا ہو کہ پینے کا پانی صاف پانی ان کا حق ہے کیونکہ اس طرح صحت و تندرستی قائم و دائم رہتی ہے اور صحت قوم ہی دراصل دولت قوم ہے اس لحاظ سے سب سے اہم بات صحت قوم کی بہتری ہے۔ ایسی تمام باتیں تمام مساعی بروئے کارلائی جائیں کہ جن وجوہ سے انھیں صحیح پانی نہیں مل رہا ان کی اصلاح کی جائے اور اجتماعی پیمانہ پر فراہمی آب اور نکاسی گند اب کا جدید نظام استوار ہو۔ جب تک یہ مقصود حاصل نہیں ہوتا یہ ہرایک کی انفرادی ذمہ داری ہے کہ پانی کو صاف کر کے پئے۔ پانی کے گردو غبار کو پھٹکڑی سے گھٹایا جاسکتا ہے وہ اس طرح کہ ایک پوٹلی میں بندھی ہوئی پھٹکڑی کو پان میں گھما دیا جائے۔ جوہڑوں، تالابوں اور کنوئیں کے پانی کو لال دوا ڈالنے سے درست کیا جاسکتا ہے تاکہ اس دوا کے استعمال سے پانی میں ہلکا گلابی رنگ آجائے۔

جب گھر میں کئی دفعہ چائے کے لیے پانی ابالا جاسکتا ہے تو پینے کے پانی کو کیوں نہیں ابالا جاسکتا کیونکہ پانی کے ابالنے میں جو خرچ آتا ہے اس کی اس خرچ و مصاف سے کوئی نسبت نہیں جو بیمار پڑنے کے بعد گراں علاج پر آئے گا اور اس بات کی تصدیق تو معزز و مصدق ناظم صحت نے کر ہی دی ہے کہ آپ کے مقدر میں جو 50فیصد بیماریاں ہیں ان کی وجہ گندا پانی ہے جو آپ کے حلق سے اتر رہا ہے اور مشام جان و جسم کو غلیظ کیے جارہا ہے۔

آلودہ پانی سے لاحق ہونے والے امراض
اہل مغرب کو صنعت و حرفت کی ترقی نے نہ صرف اعلیٰ معیار زندگی عطا کیا بلکہ ایسی دنیا سے بھی نوازا ہے جس میں قدیم غول امراض کم،خصوصاً عفونتی و متعددی امراض نہایت کم ہیں۔ آب رسانی اور نکاسی گند اب کی تدابیر نے اس قسم کے امراض کو قصہ ماضی بنا دیا ہے مگر یہ قابل رشک صورت ہمارے ہاں نہیں ۔ پانی کی آلودگی سے انسانی صحت کو بہت خطرہ ہے جو مختلف جراثیم، بیکٹریا، وائرسوں، حونیات اولیہ (پروٹوزوا، جو یک خلیہ مخلوق ہے)اور گینچوﺅں کی مختلف اقسام سے ہوتی ہے۔ یہ سب حشرات تالابوں ، کنوﺅں ، چشموں ، جھیلوں ، نہروں، پانی کے ذخیروں اور دریاﺅں میں داخل ہو کر اسے آلودہ کرتے ہیں۔ عام طور سے چشموں کے پانی کو بے ضرر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں خود اصلاحی اہلیت ہوتی ہے مگر احتیاط کا تقاضا ہے کہ اسے بھی مشکوک سمجھا جائے۔

آلودگی کی وجہ نکاسی گند اب کے متعدد ناپسندیدہ طریقے ہیں جو حفظان صحت کے لحاظ سے غلط ہیں۔ حیوانی و انسانی مدفوعات (پیشاب و پاخانہ) کئی طرح پینے کے پانیوں میں داخل ہو کر اسے نجس اور سبب مرض بنا دیتے ہیں ذیل میں نجاست کی وجہ سے ہونے والے امراض کا ذکر جو ترقی پذیر ممالک میں ایک کثیر حصہ آبادی کو مبتلا ، معذور اور مردہ کر رہے ہیں۔
ٹائیفائیڈ

اس مرض کے بیکٹریا مریض کے پیشاب پاخانے میں خارج ہو کر غذا و پانی کو آلودہ کرتے ہیں اور ان کو استعمال کرنے والے دوسرے لوگ بھی آلودہ ہو جاتے ہیں۔ یہ مرض ہمارے ہاں نیم وبائی صورت میں موجود رہتا ہے۔ مغرب میں حفظان صحت کے طریقوں نے اسے گھٹا دیا ہے۔اس مرض میں مبتلا ہونے والوں میں سے 5فیصد ہمیشہ کے لیے اس کے جراثیم کے حامل و مرسل (کیرئیر) ہو کر دوسروں کو مبتلا کرتے رہتے ہیں۔ یہ جراثیم بالعموم ان کے پتے میں رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  طبی معلومات

ہیضہ
جب سے صفحہ قرطاس پر تاریخ مرقوم ہو رہی ہے۔ ہیضہ کا ذکر بھی اسی وقت سے لکھا جارہا ہے۔ یہ مرض عالمگیر ہے اور بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ پھیلتا ہے۔ اس تباہ کن مرض کی کہانی اور یہ دریافت کہ یہ مرض پانی میں نجاست کی آمیزش سے بڑھتا اور پھیلتا ہے نہایت مسحور کن ہے۔ 1854ءمیں لندن کے ایک محلہ براڈ سٹریٹ میں ہیضہ پھیلا ، 10دن میں 5سو افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ ڈاکٹر جان اسنو جو کہ ایک عالم اور سنجیدہ طبیب تھا ان مرنے والے محلہ داروں میں سوائے ایک نلکے کے کوئی اور مشترک شے دریافت نہ کر سکا کیونکہ مرنے والے سب ایک ہی نلکے کا پانی پتے تھے باہر سے آنے والے بھی اس نکلے کا پانی پی کر جب واپس گئے تو ہلاک ہو گئے مگر اسی محلہ کے کارخانہ میں جہاں ذاتی کنواں تھا وہاں ہیضہ کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ ڈاکٹر شہر کے بڑوں کو نلکے کا دستہ نکالنے پر رضا مند کرلیتا ہے تاکہ اس سے کوئی پانی نہ پی سکے۔ ہیضہ کی وبا رک جاتی ہے۔ مہینوں بعد پتہ چلتا ہے کہ ایک گندے پانی کے حوض سے نلکے کے پانی میں گندگی آرہی تھی۔ ایشیائی ممالک میں ہیضہ نیم وبا کی شکل میں رہتا ہے۔ آلودہ پانی وغذا اور حظان صحت کی سہولتوں کا فقدان اس کے اہم اسباب میں سے ہیں۔

متعدی سوزش جگر
یہ وائرعالمگیر مرض ہے جو جگر میں سوزش اور یرقان کا باعث ہے۔ اس کی وبائیں گنجان آبادیو میںپھیلتی ہیں جہاں ذات طہارت کا فقدان اور حفظان صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چنانچہ غرب بستیاں،جھگیاں ، دیہات اور عارضی جھونپڑیاں اس کی زد میں ہوت ہیں۔ کنوئیں کے گردو پیش گندے پانی کا اجتماع بھی پانی کو آلودہ کر سکتا ہے۔ دریائے جمنا کے پانی کی آلودگی نے 1956ءمیں دہلی کے تقریباً ایک لاکھ آدمیوں کو اس مرض میں مبتلائے آزاد کیا تھا۔

یہاندازہ لگایا گیا ہے کہ سو سے زیادہ وائرسیں آنتوں سے خارج ہو کر گند آب کا حصہ بن جاتی ہیں۔ پھر پانی کے مختلف ذخیروں کو آلودہ کرتی ہیں۔ پولیو وائرس بھی اسی طرح پھیل سکتی ہے۔اکثر افراد میں پیٹ کے درد اور اسہال یا معدہ اور آنتوں کے فلو، ان ہی وائرسوں کے سبب سے ہوتے ہیں جو پانی کو آلودہ کرتے ہیں۔
کیا کیا جائے؟

اس ضمن میں دو اہم اقدامات ضروری ہیں۔ اول صاف پانی کی دستیابی اور مشکوک پانی کی صفائی۔ اس مقصد کے لیے کنوﺅں میں باہر کا پانی داخل نہ ہونے دیا جائے ۔ پانی کے ذخیروں کے قریب گندآب جمع نہ ہو اور پانی کے ذخیروں کا باربار کیمیائی معائنہ محکمہ صحت کی لیبارٹری سے کروایا جائے۔ مشکوک پانی کو استعمال سے قبل 10منٹ ابالا جائے جہاں یہ ممکن نہ ہو تو کیمیائی دافع عفونت دوا ڈالی جائے سب سے آخر میں اور سب سے اہم بیت الخلاءسے واپسی پر ہاتھوں کوصابن سے پاک کیاجائے۔ اسی طرح کھانا کھانے سے قبل ہاتھوں کو پاک اورصاف کیا جائے۔

پانی کی صفائی
پانی کو صاف کرنے والی تنصیبات میں آنے والی پانی کو پہلے بڑے مخزنوں اور حوضوں میں ٹھہرایا جاتا ہے پھر اسے ریت کی چھلنی سے گزارا جاتا ہے ۔ پانی اس ریت کی چھلنی کے درمیان سے گزرنے سے ، اکثر اوقات خارجی آلودگی، مواد اور جراثیم سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔ بعض تنصیبات میں یہ طریقہ ہے کہ پانی میں کیمیائی ادویات کی آمیزش کر دی جاتی ہے تاکہ یہ آلودگی زائل ہو جائیں ، خارج دوا نیچے بیٹھ جائے اور پانی صاف ہو جائے یہ ضروری ہے کہ ایسی کیمیائی ادویہ استعمال نہ کی جائیں جو انسانی صحت کے لیے مضر ہوتی ہیں اور پانی کی عام فرا ہمی سے قبل زیادہ تر کیمائی ادویہ، اس پانی سے علیحدہ کر لی جائیں۔ جراثیم کی ہلاکت کو یقینی بنانے کے لیے پانی کی مخزن آب سے روانگی سے قبل ، گھروں میں استعمال ہونے والیے پانی میں کلورین کی قلیل مقدار شامل کر دی جاتی ہے۔ جراثیم کو ہلاک کرنے کے لیے 10لاکھ حصے پانی میں ایک حصہ کلورین کافی ہے اور یہ مقدار پانی پینے والوں کو ضرر بھی نہیں پہنچاتی بہرحال آج کل کلورین کا استعمال متنازعہ فیہ ہے؟

پانی کو صرف دیکھنے سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ پانی بے ضرر ہے کہ نہیں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بہتا ہوا تمام صاف پانی پینے کے لیے بے خطر ہے۔ یہ بات ہمیشہ درست نہیں ہوتی کہ مرض پیدا کرنے والے جراثیم تیزسے بہنے والے پانی میں بھی پائے جاتے ہیں اور ٹھہرے ہوئے پانی کے تالابوں میں بھی۔ پہاڑوں سے پھوٹنے والے خوبصورت چشموں کا پانی، صاف بے رنگ، نظر آنے کے باوجود پیچش اور میعادی بخار کے جراثیم سے آلودہ ہو سکتا ہے ، خصوصاً اگر چشموں والے علاقہ میں لوگوں کی آمدو رفت بھی ہے۔

جو لوگ ان علاقوں میں سفر کرتے ہیں یا رہائش رکھتے ہیں جہاں استعمال میں آنے والے پانی کے منبع کا علم نہیں یا اس منبع کی صحیح حفاظت کا انتظام نہیں ہو تو انھیں چاہیے کہ اپنے پینے کے پانی کو پاک صاف کرنے کے لیے خود اپنا نجی انتظام رکھیں۔

پینے کے پانی کو صاف کرنے اور انتہائی بے ضرر بنانے کا سب سے آسان مروجہ طریقہ یہ ہے کہ اس پانی کو اچھی طرح گرم کریں اور پورے 3سے 7منٹ تک ابلنے دیں۔ پھر اس کو ڈھک کر ٹھنڈا ہونے دیں اور جب تک یہ استعمال میں نہ آئے اس کو محفوظ رکھیں۔

جب کسی کو پانی ابال کر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تو بالعموم یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ پانی کو ابال کر پینا طویل عمل ہے مگر یہی لوگ یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ ذرا سا بہانہ پر ہر گھر میں چائے کے لئے پانی ابالا جاتا ہےاور اس طرح تمام دن چولہا جلتا رہتا ہے اس لیے لوگوں ے اس اعتراض میں کوئی خاص وزن نہیں۔
ڈاکٹر سید اسلم

کیٹاگری میں : صحت