دماغی بخار

EjazNews

ہر معاملہ میں فکر و اندیشہ اور خوف کی فضا قائم کرنے میں توماہرہیں لیکن اس مسئلہ کے تجزیہ، تفہیم اور حل کرنے میں بالعموم کوئی مساعی نہیں کرتے۔ یہی صورتحال اس وقت دماغی بخار کے ضمن میں ہو رہی ہے۔ جسے گردن توڑ بخار کا دہشت زدہ نام دے کر فضا کو مزید خوف ناک بنایا جارہا ہے۔ بعض نادان دوست اور معالج بھی اپنے قول و عمل سے مسئلہ کو مزید الجھا رہے ہیں۔ ابلاغ عامہ بھی بالعموم اس فضا کو بہتر بنانے میں کوئی قابل ذکر کر دار ادا نہیں کر رہے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ جن افراد کو مدد و معلومات کی ضرورت ہے وہ شور نہیں مچارہے اور نہ ان کے لیے کوئی خاص احتیاطی تدابیر کی جارہی ہیں۔ اس کے برعکس جن کو ضرورت نہیں وہ شور بھی مچارہے ہیں اور ان کے لیے احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جارہی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس موجودہ نام نہاد وبا میں بھی ملک بھر کے بڑے شہروں کے خوشحال علاقوں میں اس مرض کی کوئی واردات نہیں ہوئی، اس کے برعکس ملک کے بد حالی کا شکار اور پس ماندہ علاقوں میں اس مرض کے سبب سے کچھ حادثات ضرورت ہوئے ہیں لیکن یہ بات یاد رہے کہ یہاں پر یہ مرض نیم وبائی صورت میں اکثر و بیشتر رہتا ہے۔

دماغی بخار ایک متعدد بخار ہے جو ایک سے دوسرے کو بآسانی لگ جاتا ہے اس میں مبتلا ہونے کے واقعات اکا دکا بھی ہوتے ہیں لیکن بالعموم اس کی محدود مقامی وبائیں آتی ہیں اگر موسم خشک ہو، جیسا کہ گزشتہ سالوں کی خشک سالی لائی ہے تو اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

یہ مرض ہندو پاکستان میں نسبتاً عام ہے۔ اس کا امکان گنجان مقامات مثلاً فوجی قیام گاہوں (بیرکس)، خیموں، پرہجوم کمروں میں زیادہ ہوتا ہے اسی سبب سے دارالاقامتوں میں بھی واقع ہوتا ہے۔ میلوں، بڑے اجتماعات ، حج اور تیرتھ یاترا کے موقع پر اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ رہائشی ہوسٹلوں میں تو اس مرض کا امکان زیادہ ہے۔ مگر جو بچے صرف دن میں مدرسوں کو جاتے ہیں ان میں عام نہیں ہے۔ اسی طرح شفا خانہ میں کام کرنے والوں میں عام نہیں تاہم ایک گھر میں رہنے والے ایک دوسرے سے متاثر ہو سکتے ہیں مگر اس زمانہ میں جو بیمار مختلف شفا خانوں میں آئے ہیں ان میں کسی بھی گھر سے ایک سے زیادہ مریض نہیں آئے جو حالات اس مرض کوپ پیدا کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ ان میں کسی بھی گھر سے ایک سے زیادہ مریض نہیں آئے جو حالات اس مرض کوپیدا کرنے میں معاونہوتے ہیں ان میں (۱)پرہجوم مقامات، گنجائش سے زیادہ افراد خاندان (۲) نامناسب رہائشی سہولتیں (۳) صفائی کی ناگفتہ بہ حالت (۴) غربت اور غذائی لحاظ سے کمزور کیفیت (۵) مریض سے براہ راست قربت (۶) اس مرض کا امکان بچوں اور نوجوانوں میں زیادہ سے ہے ۲سے ۰۲ سال کی عمر تک کے افراد، اس مرض میں بالخصوص مبتلا ہوتے ہیں۔ ایک سال سے کم عمر بچے اس مرض میں مبتلا نہیں ہوتے مگر وباءکے دوران یہ بھی محفوظ نہیں رہتے اور نہ کوئی اور محفوظ رہتا ہے۔ بعض ممالک میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ باپ یہ مرض باہر سے لے کر گھر میں آتا ہے اور بچوں کو ملوث کرتا ہے (۷) مریض کے انتہائی قریبی یا بستر میں ساتھ سونے والے اعزہ و اقربا اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں اسی مریض کے ساتھ ایک کمرہ میں رہائش رکھنے والے دوسرے افراد بھی اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  غذائی عادات ،آپ کی صحت کے لیے بہت اہم ہیں

یہ مرض جراثیم سے پھیلتا ہے ، اس وقت جس جرثومہ نے خوف کی فضا اور نیم وبائی کیفیت قائم کی ہے وہ موسوم ہے ”مینگو“ کے نام سے ہے۔ یہ جراثیم ڈپلو کو کائی کہلاتے ہیں یہ جراثیم ۵ فیصد سے کم لوگوں کے حلق میں عام طور سے ہوتے ہیں یہ لوگ حاملین مرض کے باوجود بظاہر بیمار نہیں ہوتے اور نہ دوسرے کو ملوث کرتے ہیں ۔ لیکن جب صفائی کی حالت درست نہ رہے اور رہائش گنجان ہو اور بیماروں کی جسمانی صحت اچھی نہ ہو تو پھر یہ مرض ساتھ رہنے والوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ مرض انفلوئنزا کی طرح پھیلتا ہے جراثیم ناک و حلق سے سانس کے ساتھ نکل کرچھینٹوں کی شکل میں اڑ کر دوسرے لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں جن کی صرف ایک قلیل تعداد کو یہ دماغی بخار ہو سکتا ہے ، جس کا انحصار ان متاثر ہونے والے افراد کی اپنی صحت پر بھی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ مرض مریض کے رومال یا کپڑوں سے نہیں لگ سکتا کیونکہ یہ جراثیم جسم سے باہرزیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے ۔ چونکہ جراثیم کی ایک سے دوسرے کو ترسیل براہر است ہوتی ہے۔ اس لیے جسمانی قرب ضروری ہے کیونکہ وہ عفونت زدہ ریزش جو بیمار کی ناک اور حلق سے گر رہی ہے اسے متاثر ہونے والے شخص کے سانس کے ساتھ اندر جانا ضروری ہے۔

اس مرض میں سر کے اندر غز اور ریڑھ کی ہڈی کے اندر والا لمبوترا حرام مغز متاثر ہوتا ہے اوران کو جن جھلیوں نے ملفوف کر رکھا ہے وہ متورم اور سوزش زدہ ہو جاتی ہیں۔ یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ ہمارے سر کے اندر جو مغز ہے اور ریڑھ کی ہڈی کے اندر جو حرام مغز ہے وہ اوپر نیچے تین جھلیوں میں ملفوف ہے۔ ان جھلیوں کی درمیانی تہ میں پانی کی طرح کی سیال شے ہوتی ہے جسے ”آب دماغ“ کہا جاسکتا ہے اس کو ریڑھ کی ہڈی میں سوئی ڈال کر نکال لیا جاتا ہے اور اس کے معائنہ سے تشخیص مرض ہوتی ہے۔

اس مرض کی شکایات و علامات فلو کی طرح کا نزلہ، زکام، حلق میں خراش، اس کے بعد بخار ، دردسر، گردن میں سختی، متلی، الٹی ، ذہنی بحران، جوڑوں میں درد اور جسم پر گہرے رنگ کی پتی اچھل جاتی ہے درجہ حرارت گنڈے دار اور درد سر شدید ہو سکتا ہے۔ روشنی آنکھوں کو بری لگتی ہے خبط الحواسی بڑھ کر بے ہوشی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایک بالغ آدمی، چوبیس گھنٹے میں سخت بیمار ہو سکتا ہے جسم کا پانی انتہائی کم ہو کر صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے چونکہ اس مرض میں بالغ مریض کی گردن اکڑ کر سخت ہو جاتی ہے اور ٹھوڑی نیچے سینے سے مس نہیں ہو سکتی اس لیے عوام الناس اس کو گردن توڑ بخار کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نیند کا عالمی دن

بچوں میں اس مرض کی شکایات و علامات بھوک اڑ جانا ، الٹی ، بخار ، آنکھوں کو روشنی بری لگنا ہیں۔ یہ بچے چیخیں بھی مارتے ہیں اور ان کو دور بھی پڑ سکتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ننھے بچوں کی گردن میں اکڑ پیدا نہیں ہوتی کیونکہ ان کی کھوپڑی میں پھیلنے کی گنجائش ہوتی ہے مگر مغز کی سوزش کے زور سے سر کے اوپر والا نرم تالو پھول جاتا ہے۔

ظاہر ہے کہ جب کسی بالغ یا بچے میں اس طرح کی شکایات یا علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مشورہ ضروری ہے کیونکہ فوری تشخیص اور بروقت علاج ہو جائے تو مکمل افاقہ صحت ہو جاتا ہے تشخیص مرض کے لیے مریض کی روداد معلوم کرنے کے بعد ، معائنہ جسمانی کیا جائے اور پھر کمر کے پیچھے ریڑھ کی ہڈی سے آب دماغ (سی ایس ایف)نکال کر معائنہ کیا جائے۔ بالعموم یہ صاف و شفاف ہوتا ہے مگر مرض کی کیفیت میں پیپ آلودد ہو کر گدلا بلکہ پیپ کی طرح نظر آسکتا ہے۔ اس کے مطالعہ پر اس کے لحمیات زیادہ، شکر کم اور سفید ذرات کا اضافہ ہو جاتا ہے جب ان کو طریقہ گرام، سے رنگ دیا جاتا ہے ۔ تو ذو پہلو ”مینگو“جراثیم نظر آتے ہیں۔ یہ جراثیم مختلف قبیلوں یعنی الف اور ج سے متعلق ہیں جن کو مزید کاشت سے شناخت کیا جاسکتا ہے۔

معالجہ
تشخیص مرض کے بعد بیمار کو شفا خانہ میں داخل کیا جائے جہاں مکمل بستری آرام دیا جائے ۔ پانی کی کمی کو پورا کیا جائے، لیکن ضرورت سے زیادہ نہ دیا جائے۔ ادویہ میں تادم تحریر پنسلین اس مرض میں سب سے زیادہ موثر اور سب سے ارزاں دوا ہے۔ پنسلین کی بڑی بڑی خوراکیں ، نیلی رگوں میں بذریعہ سوئی دی جائیں جو بالعموم 4میگا یونٹ ہر چھ گھنٹے کے بعد دی جاتی ہے۔ بیمار کی شفا یابی کا اندازہ اس طرح لگایا جاتا ہے کہ بخار اتر جائے ، گردن کی اختم ہو جائے ، درد سر رفع ہوجائے، آنکھوں کو روشنی بری نہ لگے، جسم پر کوئی پتی نہ رہے اور جوڑوں میں دکھن اور سوزش باقی نہیں رہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جولوگ جلد شفا خانہ میں آجاتے ہیں وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ لیکن جو دیر میں لائے جاتے ہیں ان میں مرنے کا امکان زیادہ ہے۔

احتیاطی تدابیر
اس ضمن میں سب سے اہم حفظان صحت کے اقدامات اور اجتماعی و انفرادی صفائی ہے۔ گنجان علاقوں میں آبادی کو رہائش کی بہتر سہولتیں مہیا کی جائیں۔ بستر میں ساتھ سونے سے احتراز کیا جائے بلکہ ایک کمرہ میں زیادہ آدمی نہیں ہونا چاہئیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کارکنان صحت ، معالجوں اور طبیبوں میں اس مرض کے خلاف بالعموم ایسے ضد اجسام پیدا ہو جاتے ہیں جو اس مرض سے کچھ تحفظ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کے جسم پر پیدائشی نشانات

جن افراد کا مریضوں سے قرب ہوتا ہے یا قرب کا امکان ہوتا ہے ان کے حلق و ناک کے جراثیم کا قلع قمع کرنے کے لیے بالغوں میں دوا ”ریفسیمپ یسیسن “ دینے کا رواج ہے جو 6سو ملی گرام صبح و شام دو دن تک دی جاتی ہے بچوں میں ان کے وزن کے لحاظ سے کم مقدار دی جاتی ہے۔ اس دوا ے ثانوی اثرات میں فلو کی طرح کی شکایات اور جلد ٹھیک ہو جانے والا یرقان شامل ہیں۔ بہر حال یہ دوا اپنے سمی اثرات بھی رکھتی ہے ایک زمانہ میں اس مرض کے سدباب کے لیے سلفا ادویہ کا رواج تھا، لیکن مغرب میں ان کو بالکل مسترد کر دیا گیاہے مگر برصغیر میں اس کو کثیر پیمانہ پر استعمال کیاجارہا ہے کیونکہ یہ ادویہ نہ صرف ارزاں ہیں بلکہ موثر بھی ہیں اوران کے مضر اثرات اول الذکر دوا سے نہایت کم ہیں۔

انگلینڈ کے علاقہ ویلز کے ایک مقام پر اٹھارہ سالہ لڑکی بے ہوشی کی کیفیت میں لائی گئی اوریہ شک ظاہر کیا گیا کہ یہ سوزش دماغ کے مرض میں مبتلا ہے، اس کا آب دماغ معائنہ کیلئے بھیج دیا گیا اور اس کو جب ابتدائی طبی امداد دی جارہی تھی تو یکایک اس کی حرکت قلب بند ہوگئی۔ حرکت قلب اور دوران تنفس کو جاریرکھنے کے لیے جہاں اور اقدامات کیے گئے وہاں منہ پر منہ رکھ کر مصنوعی تنفس کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش بھی کی گئی۔ بہر حال یہ لڑکی جانبر نہ ہوسکی بعد میں آزمائش گاہ سے جب اس کے آب دماغ کی خبر آئی تو معلوم ہوا کہ دماغی بخار میں مبتلا تھی ۔جن دو ڈاکٹروں نے منہ در منہ اس لڑکی کا تنفس جاری رکھنے کی کوشش کی تھی ان میں ان سطور کا راقم بھی تھا۔اس مرض کے سدبابا کے لیے ان دونوں نے چند روز سلفا ادویہ کھائیں اور خدا کے فضل سے صحیح و سلامت رہے۔ حفاظتی یا احتیاطی ضد حیات ادویہ صرف ان افراد کے لیے ضروری ہیں جو مریض کے قرب میں آچکے ہیں چنانچہ تمام آبادی کوی ہ ادویہ استعمال کرانا غیر ضروری ہے بلکہ یہ مضر بھی ہو سکتی ہیں اگر ان کو وسیع پیمانہ پر استعمال کرایا گیا تو ایسے مزاحم جراثیم پیدا ہو جائیں گے جن پر ان ادویہ کا کوئی اثر نہیں ہوگا مزید یہ کہ ہر کس و ناکس کو ادویہ استعمال کرانے میں جو اخراجات ہوں گے وہ کثیر اور بے ضرورت ہوں گے پھر ان احتیاطی ادویہ کی تاثیر واثر صرف محدود عرصہ کے لیے ہوگا اور صرف کچھ مدت تک یہ سدباب کر سکیں گے۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد حفظان صحت پر عمل کرنے سے اس مرض کی یورپ میں بہت کمی ہو گئی، ان احتیاطوں سے دیگر عفونتی امراض سے بھی حفاظت ہو گی۔ احتیاطی دوائیں اور ٹیکے صرف ان لوگوں کو دئیے جائیں جن کومریضوں کے قرب میں آنے کا خطرہ ہے۔

کیٹاگری میں : صحت