کیا امریکہ نئی جنگ چھیڑنے والا ہے

EjazNews

ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں ایک خبر زیر گردش ہے کہ امریکہ کی اہم ائیر بیس پر بی 52بمبار طیارے تعینا ت کر دئیے ہیں۔گزشتہ روز وائٹ ہائوس نے اعلان کیا تھا کہ وہ تہران کی طرف موجود خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے یو ایس ایس ابراہم لنکن ائیر کرافٹ بھیجے گا۔ جبکہ یہ واضح نہیں کہ ایران کی جانب سے امریکہ کو کون سے خطرات لاحق ہیں۔
امریکی اقدامات کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی واضح کیا تھا کہ اگر ایرانی بینکنگ اور خام تیل کی تجارت سے منسلک شعبوں پر پابندی ختم نہ گئی تو ایران معاہدے کی مزید شرائط سے دستبردار ہو جائے گا۔
امریکی نے ایران پر جوہری بم تیار کرنے کا الزام لگایا ہے جس کی ایران نے تردید کی ہے کہ یہ اسی طرح کی جعلی انٹیلی جنس رپورٹ ہے جس طرح کی امریکہ نے عراق پر حملے سے قبل دنیا کے سامنے پیش کی تھی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان اس وقت سے کشیدگی پیدا ہوگئی جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  بنگلہ دیش: عمارت میں آگ لگنے سے 70افراد ہلاک