قرآن اور رویت ہلال (آخری حصہ)

EjazNews

قرآن میں مَوَاقِيتُ کی تفسیر:
ترجمہ:۔ اے محمد (ﷺ)وہ آپ سے ھلالوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ آپ فرما دیجیے، یہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے وقت (تاریخ) معلوم کرنے کے آلات(Devices) ہیں۔
اب ہم حصہ سوئم میں الاھلۃ تفسیرسمجھنے کے بعد اس حصے میں لفظ مَوَاقِيتُ کی تفسیر کی طرف آتے ہیں۔
مواقیت کا ترجمہ عام طور پر غلط کیا گیا ہے:
اردو قاری اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ امریکہ میں مختلف زبانیں بولنے والے مسلمان آکر آباد ہوگئے ہیں، لہٰذا اِن کے مابین مشترک زبان انگریزی ہے، جب مذہبی لیکچرز، سوال و جواب، مباحثہ انگریزی زبان میں ہوتے ہیں تو قرآنی آیات کا ترجمہ بھی انگریزی زبانمیں پیش کیا جاتاہے۔ لہٰذا ہم مواقیت کے اس معنی سے متعلق بحث کریں گے جو انگریزی مترجمین نے بیان کیا ہے، یہاں یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ انگریزی ترجموں میں لفظ مواقیت کا ترجمہ اردو ترجموں سے بہت مختلف ہے تاہم اسکا صحیح ترجمہ ’’وقت یعنی تاریخ بتانے کے آلات ‘‘ہم نے اردو ترجموں میں بھی نہیں دیکھا ۔ اس لئے اس بحث کا مطالعہ اردو قارئین کے لئے بھی بہت مفید ہوگا۔
سب سے پہلے یہ بات جان لیجئے کہ لفظ مواقیت، لفظ میقات کی جمع ہے۔ میقات مفعال کے وزن پر ہے اور اس کا مادہ و ق ت ہے۔ عربی زبان میں الف، واوٗ اور یا (ی) حروفِ علت یعنی بیمار حروف کہلاتے ہیں۔ لہٰذا لفظوں کے آسان تلفظ کے پیشِ نظر ایک بیمار حرف کو دوسرے بیمار حرف سے بدل دیا جاتا ہے(جسے تعلیل کہتے ہیں) اور بسا اوقات اسے حذف بھی کردیا جاتا ہے ، چونکہ مفعال کے میم کے نیچے زیر ہے ، اس لئے و ق ت کے واوٗ کو زیر کے متوازی حُرف ی سے بدل دیا جاتا ہے تاکہ بولنے میں روانی رہے۔ اس طرح یہ لفظ مِوقات (MIWQAT)سے تبدیل ہو کر میقات (MIQAT) ہو جاتا ہے۔
عربی زبان میں مفعال کا وزن اسمِ مفعول (Objective Noun) بھی ہے، اسمِ طرف (Noun of Place or Time)بھی ہے اور اسمِ آلہ (Noun of Tool) بھی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ترجمہ کرنے والوں سے بالعموم غلطی ہوئی ہے۔ انہوں نے آیت میں مواقیت اسمِ آلہ کے بجائے اسمِ مفعول لیا ہے۔ اس کی وضاحت درجِ ذیل ہے۔
مسلمانو ں میں میقات کا لفظ حج کے حوالے سے عام فہم ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حاجیوں کو احرام پہننا لازم ہے۔ مادہ و ق ت کے بنیادی معنی کسی چیز یا فعل کو طے یا مقرر کردینا ہے۔ فرض کیجئے آج ملک کا قانون ساز ادارہ (Assembly) شراب نوشی کی سزا (حد) مقرر کردیتا ہے تو ہم اس کی مقرر کی ہوئی سزا کو میقات کہہ سکتے ہیں اور ظاہر ہے یہ مقرر کردہ سزا اسمِ مفعول ہے جبکہ حج سے منسلک میقات اسمِ مفعول بھی ہےاور اسمِ ظرف بھی۔ اس بات کو یوں سمجھئے کہ اگر آپ یہ کہیں کہ عمرہ کرنے والوں پر میقات ، طواف اور سعی لازم ہے تو یہاں میقات سے مراد احرام پہننے کا عمل ہے، لہٰذا یہ اسمِ مفعول ہے۔ اسکے برعکس اگر آپ یلملم (ایک مقام) کو میقات کہیں جہاں احرام پہننا لازم ہے تو یہ اسمِ ظرف (Noun of Place) ہوگا۔ اس طرح ایک لفظ کے مختلف جملوں میں مختلف معنی ہو سکتے ہیں ۔ اور یہ مترجم یا مفسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ آیت میں دیکھے کہ ایک لفظ کس معنی میں آیا ہے۔
اب آئیے زیرِ غور آیت پر ، یہاں زیادہ تر انگریزی مترجمین نے مواقیت کو اسمِ مفعول لیا ہے۔ لغت میں چند ماہرین (تمام نہیں) کی یہ وضاحت بھی نقل کی گئی ہے کہ “وقت ” مطلق وقت کو کہتے ہیں جبکہ ” میقات” اس وقت کو کہتے ہیں جسے کسی مخصوص کام کے لئے مقرر کردیا گیا ہو۔ اس طرح اکثر و بیشتر پڑھے جانے والے انگریزی تراجم جیسے صحیح انٹرنیشنل، پکٹھال، یوسف علی ، محسن خان، شاکر ، محمد اسد وغیرہ نے کچھ لفظی فرق کے ساتھ یہ ترجمہ کیا ہے۔
New Moons are Fixed/Appointed periods of Time
’’یعنی نئے چاند متعین یا مقرر کردہ وقت کی مدتیں ہیں‘‘
ان تراجم میں پہلی غلطی یہ ہے کہ ترجمہ کرنے والوں نے اھلہ کو تمام مہینوں کے پہلے چاند کے معنی میں لیا ہے حالانکہ اھلہ کسی بھی ایک مہینے کے بڑھتے اور گھٹتے ہوئے نصف سے کم تمام چاند وں کے لئے ہے(دیکھیے حصہ سوئم میں اسکی تفصیل)۔
پھر اگر ان کے بیان کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو ان کے کہنے کے مطابق پہلے مہینے کا نیا چاند ایک متعین مدت (Period) کوظاہر کرتا ہے، اسی طرح دوسرے مہینے کا پہلا چاند ایک متعین مدت (Period) ظاہر کرتا ہے، اسیطرح تیسرے مہینے کا پہلا چاند ایک متعین مدت (Period) ظاہر کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
کیایہ بات درست ہے کہ ہر مہینے کا نیا چاند ایک متعین مدت (Period) ظاہر کرتا ہے؟
اگر یہ درست ہے تو وہ کون سی مدت ہے؟
نئے چاند کا تعلق مہینے کے آغاز سے ہے تو کیا نیا چاند مہینے کی پوری مدت ۲۹ یا ۳۰ دن بتاتا ہے؟
اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ کونسی ایسی مدت ہے جو نیا چاند ہمیں بتاتا ہے ؟
مزید برآں پہلی تاریخ کا چاند ہمیں کونسی ایسی مدت بتاتا ہے جو دوسری تاریخ کا چاند نہیں بتاتا؟
کیا یہ ترجمع صریح طور پر غلط یا لایعنی (Nonsensical) نہیں ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کا پیغام اسی طرح اجنبی (Alien) اور بے معنی (Nonsensical) ہوتا ہے؟نعوذ باللہ
لغوی طور پر دیکھئے تو میقات اس مدت کو کہتے ہیں جسے کسی مخصوس کام کے لئے مقرر کر دیا گیا ہو۔ مثلاً ایک اسکول ہر سال ایک مدت مقرر کرتا ہے کہ اس سال آپ اپنے بچوں کاداخلہ کرالیں۔ اب آپ سوچئے وہ کونسا عمل ہے جس کے کرنے کے لئے ہر مہینے کا نیا چاند ایک مدت مقرر کرتا ہے۔ اور وہ مدت کتنی ہوتی ہے، آپ کو ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ملے گا اس لئے کہ یہ ترجمہ سراسر غلط اور بے معنی ہے، اب آپ قرآن کےپورے جملے پر نظر ڈالیئے۔ آیت یہ کہہ رہی ہے کہ ” ھلالیں حج کے لئے مواقیت ہیں” ۔ درجِ بالا ترجمے کے خط (Line) پر اس مخصوص جملے کا ترجمہ یہ ہوگا۔
’’ذوالحجہ کا پہلا چاند حج کی مدت ظاہر کرتا ہے‘‘
کیا واقعی ذوالحجہ کا پہلا چاند یہ بتاتا ہے کہ حج کی کتنی مدت ہوتی ہے؟ اور یہ مدت کب شروع ہوتی ہے؟ اور کب ختم ہوتی ہے؟ کیا اس طرح کے بیان کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرنا درست ہے؟
عجیب و غریب تراجم کی وجوہات:
آج کے روشن خیال دانشوروں کے تراجم کی وجہ تو کچھ اور ہے، ہم اس وقت روایتی مترجمین کی بات کر رہے ہیں۔ روایتی عالموں کا عجیب و غریب ترجمہ کرنے کے پیچھے صدیوں سے دو غلط باتوں کی تشہیر ہے۔ ایک یہ کہ عربی زبان بہت وسیع ہے، اس میں لفظ کے ہزار معنی ہوتے ہیں اور ایک چیز کے لئے ہزار الفاظ ہیں۔ گویا عربی زبان کے الفاظ کے معنی وہی شخص جانتا اور بتا سکتا ہے جسے بہت زیادہ عربی آتی ہو۔ دوسرا یہ کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس لئے یہ نہایت بلند سطح کا کلام ہے۔ یعنی ہم انسان جس سطح پر کلام کرتے ہیں، قرآن کا کلام اس سطح سے بہت بالاتر ہے۔ دوسرے الفاظ میں قرآن کا بیان عام فہم یعنی عام لوگوں کی سمجھ کی سطح پر نہیں ہوتا بلکہ اس سے بہت اونچی سطح پر ہوتا ہے۔
ان باتوں پر یقین رکھنے والا مترجم اگر قرآنی آیات کا مبہم ، بے معنی یا عجیب و غریب ترجمہ کر ڈالے تو اس کا ضمیر اس کو قطعی نہیں پکڑتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مبین کلام کے ساتھ کیا کررہا ہے بلکہ اسے پورا اطمینان ہوتا ہے کہ اس ترجمے میں خدا کی گہری باتیں ہیں۔ حالانکہ قرآن نے جگہ جگہ اپنی ہدایات کو مبین (واضح) کہا ہے۔ لیکن مسلمان دانشور ہو یا عام آدمی اس کے نزدیک اس کی اپنی منطق بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ وہ ہمیشہ حق بولنے والے اور بہترین راہنمائی کرنے والے رب العزت کی نصیحت کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔
اسی طرح ایک مترجم لغت دیکھتا ہے اور وہاں موجود ایک معنی کو ، جو قرآن کی آیت میں ٹھیک نہیں بیٹھتا ، بلا ججھک استعمال کرتا ہے۔ اس لئے کہ اسے زیرِ شعور (Subconscious) سطح پر پختہ یقین ہے کہ لغت لکھنے والے پوری عربی جانتے ہیں اور ان سے لغت لکھتے وقت کوئی معنی نہیں چھوٹتا۔ حالانکہ کہ نزولِ قرآن کے وقت لغت کی کوئی کتاب نہیں تھی ،ساری لغتیں صدیوں بعد لکھیں گئی ہیں، جبکہ قرآن کی اصل زبان ’’Classical Arabic‘‘بولی بھی نہیں جاتی تھی۔ پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ لغت کے Editors نے قرآن کے ایک ایک لفظ کا صحیح صحیح مفہوم دریافت کر لیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ لغت میں کسی لفظ کے صرف وہ معنی ملتے ہیں جو لوگوں میں مستعمل (مروج) ہوں اور وہ معنی لغت میں درج (Record) نہیں کیا جاتا جو عربیزبان کے وزن (Measures) کے لحاظ سے تو درست ہو مگر لوگ اسے استعمال نہ کرتے ہوں۔
یہ بھی حقیقت ہے، اور اللہ تعالیٰ کے رسولؐ نے کہا بھی ہے کہ ’’قرآن کے مفاھیم قیامت تک ختم نہیں ہونگے‘‘۔لہٰذا علم لسانیات اور مختلف موضوعات پر انسان کا علم جیسے جیسے بڑھتا جا رہا ہے، قرآنی آیات کے نئے اور بہتر مفاہیم دریافت ہوتے رہیں گے۔ آپ قمری کیلنڈر کو ہی لے لیجئے۔ آج چاند ، سورج اور زمین کی گردش کے متعلق ہم اتنا جانتے ہیں کہ ان سے متعلقہ آیات کو ہم آج جتنا سمجھ سکتے ہیں ماضی میں بڑے سے بڑا مفسر اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔
لفظ مواقیت کا صحیح مفہوم:
آج ہر شخص جانتا ہے کہ اگر وہ انگریزی ڈکشنری کھولے تو اُس میں ایک لفظ کے کئی معنی لکھے ہوتے ہیں۔ یہی حال عربی زبان کا ہے کہ ایک لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ پھر ہر شخص یہ بھی جانتا ہے کہ کسی بیان میں ایک لفظ کا وہی معنی لینا ضروری ہوتا ہے جو بیان میں ٹھیک بیٹھتا ہو۔ ہم اس سے پہلے دیکھ چکے ہیں کہ مواقیت کے اسمِ مفعول اور اسمِ ظرف کے لحاظ سے جو مفاہیم نکلتے ہیں ان میں ایک بھی زیرِ مطالعہ آیت میں کوئی مناسب مفہوم پیدا نہیں کرتا۔ اس کے برعکس آیت کاجو ترجمہ ہم نے کیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ مواقیت کا اسمِ آلہ کی مناسبت سے معنی “تاریخ بتانے کے آلات” آیت کو پوری طرح بامعنی کر دیتا ہے لہٰذا اس آیت میں مواقیت اسمِ آلہ ہی کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ مواقیت، میقات کی جمع ہے جو کہ مِفعال کے وزن پر ہے۔ مفعال (MIF,Aal) عربی زبان میں اسمِ آلہ کا ایک معروف وزن ہے۔ اس کی چند دوسری مثالیں درجِ ذیل ہیں۔
۱۔ میزان =وزن کرنے کا آلہ یعنی ترازو
۲۔ مفتاح =کھولنے کا آلہ یعنی چابی
۳۔ مصباح =روشنی کا آلہ یعنی چراغ
۴۔ مضراب =ساز کے تاروں کو ضرب لگانے کا آلہ یعنی Plectrum
۵۔ میقات =وقت بتانے کا آلہ یعنی کیلنڈر /گھڑیال
مندرجہ بالا آیت میں ھلالوں کے مواقیت ہونے کے مفہوم کو درجِ ذیل طور پر زیادہ وضاحت سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
مواقیت =وقت کے آلات
=وقت ظاہر کرنے کے آلات
=دنوں کی تاریخ ظاہر کرنے کے آلات
=دنوں کی تاریخ ظاہر کرنے کے روشن سگنل (Signal)
یہاں روشن سگنل کا مفہوم اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ زمانہ قبل از مسیح سے ھلالیں (Crescents) ان چاندوں کے کہتے ہیں جو روشن ہوتے ہیں اور نظر آتے ہیں اور حجم (Size) میں نصف چاند سے کم ہوتے ہیں۔
چاند کے سگنل سسٹم کو آج ٹریفک کے ایک سگنل سسٹم سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ موخر الذکر کے حوالے سے ہر شخص جانتا ہے کہ کسی موڑ (Crossing) پر نصب سگنل صرف اسی جگہ پر موجود گاڑیوں اور مسافروںPedestrians) )کے لئے ہوتا ہے، کسی اور Crossing پر موجود گاڑیوں اور لوگوں کے لئے نہیں ہوتا۔
یعنی Light Signal ہمیشہ ایک مخصوص جگہ کے لئے ہوتا ہے چونکہ یہ چاند بھی ایک لائٹ سگنل (Light Signal) کا نظام ہے اس لئے اس کا سگنل Signal بھی ایک مخصوص علاقے کے لئے ہوتا ہے۔ آج ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ زمین گول (Oblate Spheroid) ہے لہٰذا یہ ناممکن ہے کہ ایک لائٹ سگنل (Light Signal) ساری زمین کے گرد ایک ہی وقت میں پہنچ جائے۔ اس لئے عالمی سگنل یا عالمی رویتِ ھلال ممکن نہیں ہے۔
چاند کے سگنل سسٹم اور ٹریفک لائٹ میں اہم فرق یہ ہے کہ چاند کا سگنل سسٹم ، ٹریفک لائٹ کی طرح ساکت و جامد نہیں ہے بلکہ یہ زمیں کے گرد گردش کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا یہ سگنل سسٹم کبھی زمین کے ایک حصے میں سگنل بھیجتا ہے اور کبھی دوسرے حصے میں ۔ اسطرح چاند جس خطہٗ زمین پر نمودار ہو کر اپنا سگنل ظاہر کرتا ہے یہ سگنل اسی خطے میں موجود لوگوں کے لئے ہوتا ہے یعنی یہ سگنل کسی اور خطے میں موجود لوگوں کے لئے نہیں ہوتا۔
آج کے مسلم دانشور بات کو اس طرح مروڑتے ہیں Twist ) کرتے ہیں) کہ ساری زمین کے لئے ایک ہی چاند ہے لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ ساری زمین کے لئے سورج بھی ایک ہی ہے اور جب سورج اسلام آباد میں طلوع ہوتا ہے تو وہ اسلام آباد کے لوگوں کو سگنل دیتا ہے کہ نیا دن شروع ہوگیا ہے، وہ نیویارک کے لوگوں کو سگنل نہیں دیتا کہ نیا دن شروع ہوگیا ہے۔ اسی طرح مراکش میں طلوع ہونے والا نیا چاند مراکش کے لوگوں کو سگنل دیتا ہے کہ مراکش میں نیا مہینہ شروع ہوگیا ہے، وہ پاکستانیوں کو نئے مہینے کا سگنل نہیں دیتا۔
دوسرے زاویے سے دیکھیں تو آج کے روشن خیال مسلم دانشور ایک بے عیب خدا پر جھوٹ گڑھ رہے ہیں کہ وہ پاکستانیوں کو سگنل دینے کے لئے مراکش سگنل بھیجتا ہے
صحیح بات ہے کہ چاند ۲۹ تاریخ کی شام کو زمین کے جس خطے میں نیا مہینہ شروع کرنے کا سگنل دیتا ہے وہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ نیا مہینہ شروع کریں اور جن خطوں میں نئے ھلال کا سگنل نمودار نہیں ہوتا ، وہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ ۳۰ دن پورے کریں۔ یہی سگنل کو قبول (Follow) کرنے کا صحیح طریقہ ہے اور سگنل کے بغیر نیا مہینہ شروع کرنا اللہ کے بنائے ہوئے سگنل کو توڑنا ہے۔
مزید برآں سگنل کے دیکھنے کے لئے ہمیں کسی دوربین کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ ایک عوامی سگنل سسٹم اس طرح بنایا جاتا ہے کہ ہر آدمی اسے اپنی آنکھ سے دیکھ سکے۔ لہٰذا اس بات کا دعوٰی کرنا کہ پہلے میقات یعنی پہلے سگنل کو دیکھنے کے لئے دوربین کی ضرورت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ پر یہ الزام لگانا ہے کہ وہ نعوذباللہ اتنا نالائق ہے کہ وہ ایک عوامی سگنل بھی ٹھیک سے نہیں بنا سکتا ۔اس طرح کی جسارت وہ لوگ کرتے ہیں جو چاند کے پہلے سگنل کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ آنکھوں سے نظر آنے کے لائق نہیں ہوتا بلکہ اسے حساب کتاب (Calculation) سے ہی درست طور پر معلوم کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح یہ سمجھنا چاہیے کہ خدا کے بنائے ہوئے پہلے روشن سگنل ، یعنی پہلے ھلال، کو ایک جگہ پر موجود تمام لوگ دیکھ لیتے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ ہزاروں دیکھنے والوں میں سے وہ صرف ایک یا دو ہی کو نظر آتا ہے۔ اس قسم کی باتیں کرنا درحقیقت قادرِ مطلق کے بنائے ہوئے مواقیت ، یعنی تاریخ بتانے کے سگنل سسٹم ، کو ناقص قرار دینا ہے۔
لفظ مواقیت کا پورا مواخذہ (Derivation) :
جولوگ یہ جاننا چاہتے ہوں کہ مواقیت کا مفہوم ’’ وقت بتانے کے آلات ‘‘مادہ و ق ت سے کس طرح اخذ ہوا ہے وہ یہ جان لیں کہ مادہ و ق ت سے مصدر ’’وقت‘‘ حاصل ہوتاہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو طے define کرنا۔ پھر عربی زبان میں مصدر کا استعمال اسمِ مفعول کے طور پر بہت عام ہے۔ اسم مفعول کی حیثیت سے اس کا مفہوم ہو جاتا ’’طے یا تعریف کردہ(Define) کی ہوئی چیز‘‘۔چونکہ صبح ، دوپہر، شام یا دنوں کے نام یا مہینوں کے نام ایسی چیزیں تھیں جو عرب میں سماجی طور پر معروف اور متفقہ ہیں ، اس لئے ان میں سے ہر ایک کو طے شدہ چیز یعنی وقت کہا جانے لگا۔ اس طرح وقت بمعنی Timeمادہ و ق ت سے اخذ (Derived) کیا ہوا لفظ ہے۔ اس اخذ کئے ہوئے (Derived) لفظ کوجب اسمِ آلہ کے وزن مفعال (MiFAal) پر رکھتے ہیں تو یہ میقات بن جاتا ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں “وقت بتانے کا آلہ”۔ آیت میں میقات کی جمع مواقیت ہے جس کا معنی ہو جاتا ہے ’’وقت بتانے کے آلات‘‘
چاند کس طرح وقت بتاتاہے:
حال ہی میں انگریزی مضمون پڑھنے کے بعد میرے ایک دوست نے کہا کہ چاند میں تو کوئی علامت نہیں ہوتی جو یہ بتاتی ہو کہ یہ کس مخصوص تاریخ کا چاند ہے۔ پھر آپ چاند کو تاریخ بتانے والا آلہ کیوں قرار دے سکتے ہیں؟
اس اعتراض میں بنیادی غلطی روزمرہ محاورے (Common Expression) کو قرآن میں داخل (Extrapolate) کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ آج ہم کسی سے پوچھتے ہیں کہ تاریخ کیا ہے، جواب میں وہ ہمیں ٹھیک تاریخ بتادیتا ہے۔ اس طرح میرے دوست نے تاریخ بتانے والے کا مطلب ٹھیک ٹھیک تاریخیں بتانے والا لے لیا۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ “تاریخ بتانے والے” کا ہر جگہ یہی مطلب ہو۔
آج ہم جو انگریزی (Gregorian) کیلنڈر استعمال کرتے ہیں اس میں دِنوں کی ٹھیک ٹھیک تاریخیں ایک جدول (Table) کی شکل میں درج ہوتی ہیں، جبکہ چاند میں اس قسم کا کوئی جدول ،ٹھیک تاریخ بتانے کی تحریر، یا ٹھیک بتانے کی کوئی علامت نہیں ہوتی ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ دونوں نظاموں (قدرتی اور مصنوعی) میں تاریخ بتانے کا طریقہ مختلف ہے ۔ ہمیں کسی چیز سے متعلق بیان کو اسی چیز کے تناظر میں دیکھنا چاہیے، نہ کہ اس سے ایک مختلف چیز کے تناظر میں۔
حقیقت یہ ہے کہ پہلا ھلال نمودار ہونے کے بعد چاند کی منزل (روشن حصہ)ہر روز بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ ایک پورا گول چاند بن جاتا ہے، اس تبدیلی میں کوئی چودہ دن لگتے ہیں ۔پھر چاند کی منزل (روشن حصہ) ہر روز گھٹتی جاتی ہے ۔ گھٹتی ہوئی منزلوں میں چاند کے کونوں کا رُخ مخالف سمت (Reverse) ہوتا ہے۔ اسطرح آسمان میں چاند کی پوزیشن اور اس کے کونوں کے رُخ سے ایک ناخواندہ شخص بھی پہچان سکتا ہے کو کونسا چاند پڑھتی ہوئی منزل کا ہے اور کونسا چاند گھٹتی ہوئی منزل کا ہے۔
فرض کیجئے آج جمعہ ہے ۔ ایک شخص چاند دیکھتا ہے اور اُسے نظر آتا ہے کہ یہ گھٹتی ہوئی منزل کا چاند ہے اور اس کا سائز پورا اور نصف چاند کے درمیان ہے ، چونکہ پورا چاند جودہ تاریخ کو ہوتا ہے ، وہ شخص اندازہ لگاتا ہے کہ یہ چاند ۱۷ یا ۱۸ تاریخ کا ہے، اب اگر اسے ٹھیک تاریخ معلوم کرنا ہے تو اسے جس دن پہلا ھلال نکلا تھا وہاں سے حساب کرنا ہوگا۔ اب اس کی دو صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ اسے وہ دن یاد ہے دوسرے یہ کہ وہ دن اسے یاد یا معلوم نہیں ہے۔ جس معاشرے میں چاند سے تاریخیں متعین کی جاتی ہیں وہاں بہت سے لوگوں کو وہ دن معلوم ہوتا ہے لہٰذا وہ گھر کے کسی فرد سے یا محلے کے کسی آدمی سے معلوم کر سکتا ہے۔ فرض کیجئے کہ اسے معلوم ہے یا اس نے کسی سے معلوم کر لیا کہ پہلا چاند منگل کو نمودار ہوا تھا۔ اب وہ حساب اس طرح کرتا ہے کہ منگل ایک تاریخ تھی، دوسرا منگل آٹھ تاریخ، اس کے بعد کا منگل پندرہ تاریخ آتی ہے ، لہٰذا بدھ، جمعرات، جمعہ یعنی 18=3+15آج اٹھارہ تاریخ ہے۔
میں نے تاریخ شمار کرنے کا قدرے لمبا طریقہ بتایا ہے، لوگ اس طریقے کو اور مختصر کر لیتے ہیں ۔ وہ اس طرح کہ ہر شخص جانتا ہے کہ اگر چاند منگل کو نظر آئے تو آئندہ آنے والے منگل کو بالترتیب ۸، ۱۵، ۲۲ اور ۲۹ تاریخ ہوگی، لہٰذا ایک شخص اگر چاند کی منزل (روشن حصہ) کو دیکھ کر اندازہ کرتا ہے کہ چاند ۱۷ یا ۱۸ تاریخ کا ہے تو وہ ٹھیک تاریخ معلوم کرنے کے لئے اس طرح حساب کرتا ہے کہ منگل سے منگل پندرہ تاریخ ،پھر بدھ جمعرات جمعہ یعنی ۱۵+۳ آج ۱۸ تاریخ ہے۔
اب فرض کیجئے کہ ایک شخص چاند کی منزل کو دیکھ کر اندازہ کرتا ہے کہ یہ ۵ یا ۶ تاریخ کا چاند ہے جب کہ آج اتوار ہے اور پہلا ھلال منگل کو نمودار ہوا تھا تو وہ اسطرح حساب کرتا ہے کہ منگل سے منگل آٹھ تاریخ ہو گی، کیونکہ آج اتوار ہے لہٰذا یہ چاند کی ۶ تاریخ ہے۔
اسی طرح فرض کر لیجئے کہ ایک شخص سوموار کی رات کے آخری پہر اٹھتا ہے اور اسے چاند نظر نہیں آتا۔ چاند نہ نکلنے والی تاریخیں ۲۷، ۲۸ یا ۲۹ ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا وہ حساب کرتا ہے کہ منگل سے منگل ۲۹ تاریخ ہوگی ، آج پیر ہے اس لئے آج ۲۸ تاریخ ہے۔ نوٹ کیجئے، ایک ناخواندہ آدمی بھی چاند کی منزل (روشن حصہ) یا نظر نہ آنے والے مدارج کو دیکھ کر ۲ یا ۳ ممکنہ تاریخوں کا اندازہ کرتا ہے، پھر پہلے ھلال سے چند لمحوں میں حساب کرکے ٹھیک تاریخ معلوم کر لیتا ہے۔
یہی وہ دو طرح کی تاریخیں ہوتی ہیں جو ھلال یا کوئی اور منزل ہمیں بتاتی ہیں۔ اگر آپ Random طور پر چاند دیکھیں تو یہ کوئی ۲ یا ۳ ممکنہ تاریخ بتا دیتا ہے پھر اگر آپ پہلے ھلال کے دن سے شمار کریں تو آپ ٹھیک تاریخ معلوم کرلیں گے۔ یعنی چاند ہمیں تقریباً تاریخ بھی بتاتا ہے اور بالکل درست (Exact) تاریخ بھی بتاتا ہے۔
چاند تاریخ کس طرح بتاتا ہے اس کی وضاحت قرآن نے کیوں نہیں کی؟
ہم تفصیلا ًدیکھ چکے ہیں کہ قمری مواقیت سے انسان جن دو طرح کی تاریخیں معلوم کرتا ہے یعنی موجودہ وقت کا عموعی اندازہ (General Idea) اور مخصوص تاریخیں (Exact Dates) ۔ تاریخ معلوم کرنے کے یہ دونوں طریقے نزولِ قرآن کے وقت عرب صدیوں سے جانتے تھے۔ اس صورت میں اگر قرآن درجِ بالا پوری تفصیل بتاتا تو یہ کیا مناسب ہوتا؟ کیا قرآن اس طرح سے کسی چیز کی تفصیل بیان کرتا ہے ؟ کیا کفار یہ نہیں کہتے کہ جو بات ہم صدیوں سے جانتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں، اسے بتا کر محمدؐ ہمیں بیوقوف بنارہے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کا پیغام پہنچا رہے ہیں؟ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ جو بات انسانی علم ، مشاہدے، تجربے میں ہوتی ہے ، قرآن اس کو بیان (Describe) نہیں کرتا۔ قرآن کے موضوعات اور مضامین وہ ہوتے ہیں جن کا ایک عام علم (Common Knowledge) لوگوں کے پاس ہوتا ہے اور قرآن صرف وہ باتیں بتاتا ہے جو انسان کی ہدایت یا آخرت میں جواب دہی کے حوالے سے اہم ہوتی ہیں۔ اسی لیے قرآن خود کو تذکرہ (The Reminder) کہتا ہے۔ یعنی یہ ایک یاددھانی کرانے والی کتاب ہے۔ یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں کرتا بلکہ پرانی دُرست باتوں کی یاددہانی کراتا ہے
پرانے وقتوں میں چاند کا استعمال عام تھا:
پہلے یہ بات یاد (Recall) کر لیجئے کہ تاریخ میں زمانہ قدیم سے آج تک ہر انسان کو روزانہ ٹھیک ٹھیک تاریخیں جاننے کی حاجت نہیں ہوتی ، ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کو اگر یہ معلوم ہو کہ اب جون کا مہینہ شروع ہوگیا ہے ، اب جون کا تقریباً آدھا مہینہ رہ گیا ہے ، اب جون ختم ہونے پر ہے تو ان کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو انسان کی ہر قسم کی ضرورتیں معلوم ہوتی ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایسا قدرتی کیلنڈر بنایا ہے کہ پہلی نظر میں انسان کو ۲ یا ۳ ممکنہ تاریخوں کا اشارہ مل جاتا ہے کہ مہینے کے ابتدائی ، درمیانی یا آخری ایام ہیں وغیرہ۔ پھر کوئی ٹھیک تاریخ جاننا چاہے تو وہ پہلے ھلال کی مدد سے ایسا کرسکتا ہے جس کی تفصیل ہم پہلے بتا چکے ہیں۔
اب پرانے وقتوں کے طرزِ زندگی (Life Style) پر ایک نظر ڈالیے، وہ چراغوں کا زمانہ تھا۔لوگ شام کے وقت باہر کی مصروفیات ختم کرکے گھر آجاتے تھے۔ رہائشی علاقوں میں نہ اونچی اونچی عمارتیں تھیں اور نہ ہی سڑکوں پر بجلی کے بلب ہوتے تھے ۔ گھروں میں ٹیلی وژن بھی نہیں ہوتا تھا کہ لوگ اس کے سامنے وقت گذارتے۔ لوگ مغرب سے سونے تک گھر کے صحن یا باہر محلے میں وقت گزارتے تھے ، چونکہ فضا بالکل صاف ہوتی تھی اس لیے ہر شخص کی نگاہ چاند پر پڑتی تھی۔ اسی طرح لوگ جب بیت الخلاء جانے کے لئے نیند سے اٹھتے تھے تو آج کی طرح ملحقہ بیت الخلاء (Attached Bathroom)نہیں ہوتے تھے، بلکہ لوگوں کو کمرے سے نکل کر صحن کے دوسر ے کنارے تک جانا پڑتا تھا۔ جب وہ آنگن سے گزرتے تھے تو چاند دیکھتے تھے۔ اس طرح اُن دنوں انسان کی نظر اکثر و بیشتر چاند پر پڑتی تھی۔
اور جب وہ چاند کو دیکھتا تو اس کی منزل سے اس کو تاریخ کا ایک مجموعی اندازہ ہو جاتا تھا یعنی ہر شخص جانتا تھا کہ یہ کونسا قمری مہینہ ہے اور یہ مہینے کے ابتدائی ، درمیانی یا آخری ایام ہیں۔
آج انسان کے تمدنی حالات اور طرزِ زندگی (Life Style) میں کافی تبدیلی واقع ہو چکی ہے اس لئے ہمیں چاند کی تقویمی (Calendrical) طاقتوں کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اور آج کے نام نہاد دانشور علیم و حکیم خدا کے بنائے ہوئے نظام کو غیر معیاری ، حتیٰ کہ غلط قرار دے رہے ہیں۔
قمری مواقیت کی بے مثال طاقتیں (Strengths):
۱۔ انسان نے جو بھی کیلنڈر بنایا ہے یا بنائے گا اس کو پڑھنے کے لیے کچھ نہ کچھ تعلیمی استعداد کی ضرورت ہوتی ہے، بالکل ناخواندہ انسان اس سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتا۔ اس کے برعکس قمری مواقیت (وقت بتانے کے آلات) یعنی چاند کی بڑھتی اور گھٹتی منزلوں کوسمجھنے(Read کرنے)کے لئے کسی بھی درجہ میں نصابی علم کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ یاد رکھیئے کہ ان پڑھ انسان زبانی گنتی جانتا ہے ، اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کتنے بچے ہیں یا اس کی جیب میں کتنے روپے ہیں۔ اس طرح اس نے اگر ۷۰ روپے کا سودا خریدکر آپ کو ۱۰۰ کا نوٹ دیا ہے تو اس کو بخوبی علم ہے کہ آپ اس کو کتنے روپے واپس کریں گے۔ ہا ں اگر آپ اس کو بل لکھ کر دینگے تو وہ سمجھ نہیں پائے گا۔
۲۔ انسان جو کیلنڈر بناتا ہے اس کی بہرحال ایک زبان ہوتی ہے۔ فرض کیجئے کہ چینی زبان میں کیلنڈر بنا کر آپ کے سامنے رکھ دیا جائے تو کیا آپ اس سے استفادہ حاصل کر سکیں گے؟ اس کے برعکس قمری مواقیت سے استفادہ کرنے کے لیے کسی بھی انسانی زبان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور ہرزبان کا بولنے والا یکساں آسانی سے اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔
۳۔ آپ کوئی کیلنڈر جتنا چاہیں پرنٹ کر لیں اور Electronic Media پر بھی رکھ دیں ، آپ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ یہ کیلنڈر دنیا کے ہر انسان تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے برعکس مواقیت انسان کی ابتداء کے زمانے سے آج تک دنیا کے ہر انسان کو دستیاب رہا ہے۔
۴۔ قمری مواقیت (تاریخ بتانے کے آلات) بالکل مفت ہیں، کسی کا ایک پیسہ خرچ نہیں ہوتا۔ جب کہ انسانی کیلنڈر کے لئے دوربین،Observatory، ماہرینِ فلکیات، کیلنڈر بنانے والے ، اشاعت (Printing) وغیرہ میں ایک بہت بڑی رقم خرچ ہوتی ہے۔ اور اس کام میں کافی وقت اور محنت بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ Gregorian Calendarکو بنانے میں ۱۶ سے زیادہ صدیاں لگی ہیں۔
۵۔ آپ انسان کے بنائے ہوئے کیلنڈر میں آج کی تاریخ دیکھ لیں تو یہ بہت ممکن ہے کہ آپ کو چند روز کے بعد یاد نہ آئے کہ آپ نے کیا تاریخ دیکھی تھی۔ اس کے برعکس اگر آپ چاند دیکھ لیں تو اس کی منزل آپ کی بصری یاداشت (Photographic Memory) میں محفوظ ہوجاتی ہے۔ مثلاً آپ یہ کہیں گے کہ ہفتے پہلے میں نے پورا چاند دیکھا ، اس طرح آج کوئی ۲۰ یا ۲۱ تاریخ ہوگی۔ اسی طرح اگر آپ نے نصف سے کم یا نصف سے زیادہ چاند دیکھا تھا تو یاد (Recall) کرنے پر اس کی تصویر آپکے ذہن میں اُبھرتی ہے اور آپ اس ذہنی تصویر کی مدد سے دوبارہ اس وقت کی تاریخ کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ پھر آپ اس کے بعد کے ایام جمع کرکے موجوہ تاریخ کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں۔ اس طرح قمری مواقیت (تاریخ بتانے کے آلات) کا استعمال کرنے والے لوگ تاریخ کا ایک عمومی شعور (General Orientation) ہمیشہ رکھتے ہیں۔ پھر جو کوئی ٹھیک تاریخ جاننا چاہے ، وہ پہلے ھلال سے حساب کرکے چند لمحوں میں اسے معلوم بھی کر سکتا ہے۔ اس کی تفصیل ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔
نتیجہ: مندرجہ بالا خوبیوں والا کیلنڈر نہ تو انسان نے آج تک بنایا ہے اور نہ کبھی بنا سکے گا۔ کیلنڈر کا ایسا نظام صرف اور صرف کل شئی علیم اور کل شئی قدیر خدا ہی بنا سکتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے قمری تقویمی نظام کو اللہ تعالیٰ کی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج کے مسلم دانشور اس کیلنڈر کی طاقت اور اس میں اللہ کی بے مثال حکمت کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کیلنڈر کو اس کے مقام سے بہت نیچے گرا کر انسان کے بنائے ہوئے کیلنڈر کے مقام پر لانے کے لئے تُلے ہوئے ہیں ۔ اور ایک بہت بڑی مسلم آبادی میں ایسا کر بھی دیا گیا ہے۔
قرآن میں کیلنڈر کے حکم کی کھلی آیت۔ ۹:۳۶
ترجمہ:۔ بلاشبہ مہینوں کی (ایک سال میں) اللہ کے ہاں بارہ عدد ہے،، یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے جب سے اس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے چار ماہ حرام ہیں۔ یہی صحیح طریقہ ہے (کیلنڈر کا)۔ لہذٰا ان (تمام) مہینوں کے معاملے میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔
قرآن کریم میں کیلنڈر سے متعلق یہ وہ واحد آیت ہے جس میں اسلامی کیلنڈر کے بارے میں تمام قانونی نکات موجود ہیں۔ اگلی آیت (۹:۳۷) نسی کے بارے میں ہے۔یہ بھی اس آیت کے ساتھ ہی نازل ہوئی اور اس میں واضح حکم موجود ہے۔اس سے قبل کیلنڈر کے بارے میں نازل ہونے والی تمام آیتیں یا تو اللہ کی نشانیوں کے بارے میں ہیں یا وہ عرب میں گھٹتے بڑھتے چاند سے متعلق تواہم پرستی کے تدارک کے لئے ہیں۔
بہرحال یہ آیت ان چند آیتوں میں سے ایک ہے جس کے سمجھنے میں آج کے دور کے مفسرین اور دانشوروں نے زبردست غلطیاں کی ہیں۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو اپنی ہدایت کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔لہذٰا اگر قدیم مفسرین نے اس آیت کے سمجھنے میں غلطی کی ہے تو ہم ان کی صلاحیت پر شبہ نہیں کر سکتے کیونکہ کہ ان کے دور میں کیلنڈر سے متعلق کوئی جھگڑے نہیں تھے لہذٰا ممکن ہے کہ ان کا ذہن اس طرف نہ گیا ہو یا انہوں نے اس رخ سے تفسیر کی ضرورت نہ محسوس کی ہو۔عام طور پر چند معاملات میں لوگ (مفسرین اور مترجمین) غلط فہمی کا شکار ہیں۔
۱۔ آیت زمین اور آسمان کی پیدائش کے فوراً بعد کیلنڈر کی تشکیل کا ذکر کیوں کر رہی ہے؟
۲۔ اس آیت میں لفظ هُنَّسے کےمُراد ہے؟
۳۔ یہ آیت اتنی دیر سے (۹ ہجری) میں کیوں نازل ہوئی، اور خصوصاً آیت براٗت کے ساتھ؟
۴۔ آیا کہ یہ حکم عام ہے یا کیلنڈر سے متعلق خاص حکم ہے۔ ہم اس مضمون میں صرف کیلنڈر سے متعلق معاملات پر بات کریں گے۔
آیت کے نزول کے وقت کی اہمیت:
اس کو سمجھنے سے پہلے ایک فرضی مثال پر غور کیجئے۔ فرض کیجئے ایک قوم اپنا یومِ آزادی ایک ہفتے منانے کا فیصلہ کرتی ہے ، اس طرح کہ ہفتے میں ۸ دن ہونگے ، وہ آٹھویں دن کو یومِ آخر کا نام دیتے ہیں۔ فرض کیجئے کہ ان کا ہفتہ پیر سے شروع ہوتا ہے اور اتوار کو ختم ہوتا ہے لہذٰا اب وہ پہلے سال اس تہوار کے بعد ہفتہ شروع کریں گے تو ان کا پیر منگل کا دن ہوگا کیونکہ وہ اصل پیر کو یومِ آخر کے طور پر منا چکے ہیں۔ ہم اس دن کو “پیر بروز منگل” کا نام دے لیتے ہیں، اگلے سال جب وہ آٹھ دن کے تقریبات سے فارغ ہونگے تو ان کا ہفتہ “پیر بروز بدھ” سے شروع ہوگا ، اسی طرح یہ دن اگے بڑھتا رہے گا حتی کہ سات سال بعد پیر دراصل پیر پر ہی واپس آجائے گا۔
اسی طرح آپ اگر ہر سال ایک مہینہ بڑھا دیتے ہیں یعنی سال کو ۱۳ مہینہ کا کر دیتے ہیں تو ۱۲ سال کے بعد مہینے اپنی پوزیشن پر واپس آجائیں گے۔مگر عرب ہر سال نہیں بلکہ ہر دو تین سال بعد مہینہ بڑھا رہے تھے، یعنی سال کے درست ہونے میں تقریباً ۳۰ سال کی مدت درکار تھی۔ محمدؐ کی نبوت ۲۲ سال رہی۔ یہ موقع ان کے زمانہ نبوت میں ایک بار ہی آسکتا تھا۔
اللہ ہر شے کا جا ننے والا ہے ، وہ یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ یہ وقت محمدؐ کی ہجرتِ مدینہ کے ۱۰ سالکے بعد آنے والا ہے لہذٗا اس نے یہ آیت ۹ ہجری میں نازل کی تاکہ مسلمان کیلنڈر کے ٹھیک کرنے کی تیاری کرلیں اور اگلے سال دس ہجری کے موقع پر اس کیلنڈر کو فائنل کر دیا گیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کو رسول اکرمؐ خاتم النبین محمد مصفطیٰؐ نے حجہ الوداع کے موقع پر علی اعلان کہا۔
ترجمہ: خبردار بے شک (کیلنڈر کا) وقت گھوم کر اسی جگہ واپس آگیا ہے جب یہ اس حالت میں تھا جب اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا تھا۔
اگر یہ حکم مکہ یا مدینے کے ابتدائی دنوں میں آجاتا تو کیلنڈر غلط تاریخوں کے حساب سےمستقل ہوجاتا ۔ اب آپ اوپر کی فرضی مثال پر دوبارہ غور کر لیجئے(کیلنڈر کو دوبارہ صحیح کرنے کے لئے ۷واں دن ہی ضروری تھا جبکہ پیر کا دن دوبارہ پیر کے دن پر پڑے)۔
اللہ حکیم و خبیر ہے، اُس کو عربوں کے کیلنڈر کا تمام حساب کتاب معلوم تھا۔ لہذٰا اُس نے مکے والوں کو کیلنڈر میں گڑبڑ کرنے کی ایک وقت تک مہلت دی اور صحیح وقت پر محمدؐ اور ان کے اصحاب کو کفار پر غلبہ دے دیا۔
خدا سچاہے برحق ہےاور وہ حق اور سچی بات ہی کو پسند کرتا ہے اور سچائی کی ہی تلقین کرتا ہے وہ کبھی بھی جھوٹا یا نامکمل سسٹم نہیں بنا تا۔ یہ آج کے دور کے نام نہاد دانشوروں کی جہالت ہے جو ایسا سمجھتے ہیں اور پھر اُلٹی سیدھی حرکتیں کرکے اللہ کے اُس کیلنڈر کواپنی دانست میں ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اُس نے محمدؐ کے دور میں بالکل ٹھیک ٹھیک بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی کے سمندر کو لائف سیونگ گارڈز کی ضرورت ہے