ہماری روایات سے جڑے سموسے پکوڑے

EjazNews

یوں تو رمضان سے پہلے بھی سموسے اور پکوڑے بکتے ہیں اور اس کی دکانیں سجی ہوتی ہیں۔ لیکن رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں سموسے اور پکوڑے عام دنوں سے کئی سو گنا زیادہ بکنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سموسے اور پکوڑے اب پاکستان میں دستر خواں کا لازمی حصہ بن چکے ہیں اور یہ ہماری رمضان کے دستر خواں کا حصہ بن چکے ہیں۔

یہ سب جانتے ہیں کہ ان کے کھانے سے صحت کو نقصان ہوتا ہے لیکن آپ دیکھیں کبھی کہیں بھی افطار کے موقع پر آپ خود بھی ان دو چیزوں کے بغیر افطاری کو ادھوری محسوس کریں گے۔

سموسے اور پکوڑے خریداری کا منظر

اب یہ سموسے کی تو پٹیاں بازاروں میں عام مل جاتی ہیں جنہیں عموماً لوگ گھروں میں فرائی کر لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پکوڑے بھی گھروں میں عموماً خواتین بناتی ہیں ۔ ان پکوڑے میں مختلف نوعیت کی جدت بھی پیدا کرلی جاتی ہے ۔ مثلاً کچھ لوگ پکوڑے میں چکن ، بیف اور مٹن کے استعمال سے اپنے ذوق کو پورا کرتے ہیں۔ لیکن عمومی طورپر بازاروں میں ہمیں آلو والے سموسے اور پکوڑوں کی بہتات ملتی ہے۔ چکن والے پکوڑے سموسے بھی دستیاب ہوتے ہیں لیکن کم مقدار میں ۔

یہ بھی پڑھیں:  ریلوے سٹیشن پر ٹرینوں کا انتظار کرتے ہوئے مسافر

اس لیے پکوڑے سموسے ضرور کھائیے ، اگر آپ گھر پرافطار کرتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے ۔ ان کو خاتون خانہ سے گھر میں تیار کروائیں اور اگر آپ دفتر ، دکان یا کسی اور جگہ پر افطاری کرتے ہیں رمضان ہےضرور کھائیں لیکن اگر مقدار کو کم کر لیا جائے تو بہت بہتر ہوگا ۔

اجتماعی افطاریاں

اجتماعی افطاری کی تیاری

ہمارے ہاں اجتماعی افطاریوں کا رواج بھی بڑھتا جارہا ہے۔ پہلے یہ اجتماعی افطاریاں صرف مسجدوں میں ہوا کرتی تھیں لیکن اب وقت کی تبدیلی اور جگہ کی کمی انسانوں کے زیادہ ہو کے سبب سڑکوں اور باغیچوں میں بھی یہ اجتماعی افطاریاں دیکھنے کو ملتی ہیں

مسجد میں اجتماعی افطاری کا ایک منظر