قرآن اور رویت ہلال کے احکام (حصہ دوئم)

EjazNews

۔ قرآن اور رویت ہلال پر تحقیق امریکہ میں مقیم ڈاکٹر نواب احمدنے کی ہے۔ انہو ں نے اپنے اس آرٹیکل پر بہت محنت کی ہے۔ ڈاکٹر امریکہ میںislamreality نام سے ایک ویب سائٹ پر چلاتے ہیں ۔

قرآن کی آیات10:5 اور 36:39 مکے میں نازل ہوئیں۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اُس وقت کیلنڈر کا انتظام مکہ کے غیر مسلم عرب سرداروں کے ہاتھ میں تھانیز مسلمان اس دور میں ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ لہٰذا یہ آیات کیلنڈر کی اصلاح کے لئے نازل نہیں ہوئیں تھیں۔ان آیات کے الفاظ اور ان کا سیاق و سباق ہم پر یہ واضح کرتا ہے کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے طور پر نازل کی گئیں تھیں کہ جو کلام ِ برحق (قرآن) محمدﷺاہلِ مکہ کو سُنا رہے تھے ، اس کا مصنف اللہ تبارک و تعالیٰ ہے ۔ان آیات میں چاند کے گھٹنے بڑھنے کے مدارج اور منازل سے متعلق وہ معلومات ہیں جو اس دور کا کوئی انسان نہیں جانتا تھا۔ لہٰذا یہ آیات اس بات کا ثبو ت تھیں اور ہیں کہ قرآن انسان کا کلام نہیں ہے۔مکہ میں سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ عرب اس بات کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے لہٰذا مکے میں اللہ تعالی نے اپنی نشانیوں سے متعلق بہت ساری آیات نازل فرمائیں،یہ آیات انہی آیتوں میں سے ہیں۔بہرحال، چونکہ ان آیات میں چاند کی منازل کی حقیقت اوراہمیت واضح کی گئی ہے اس لئے ان کا مطالعہ ہمارے لئےضروری ہے تاکہ ہم کیلنڈر کے معاملے میں چاند کی منازل کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

آیت 10:5 کی تفسیر:
ترجمہ: وہی ہے جس نے سورج کو اجیالا(Essential Light)بنایا اور چاند کو نور (Light Receiver& Transmitter) بنایا اور اس نےچاند کی منازل(Sunlight-Struck Stages) ٹھیک ٹھیک مقررکردیں، تاکہ تم ان کی مددسے برسوںکا شماراور دوسرے وقتوں کا حساب معلوم کرسکو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بغیر حکمت اور مقصد کے نہیں بنائےہیں۔ وہ اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لئے جو سمجھنا چاہتے ہوں۔
نوٹ:جس طرح نبی اور رسول ہم معنی الفاظ ہیں لیکن کہیں کہیں ان میں فرق کیا جاتا ہے ۔ مثلاًاگر یہ کہا جائے کہ موسیٰ ؑ رسول تھے اور یحییٰ ؑ نبی تھے تو یہاں پر رسول اور نبی کے الفاظ مختلف معنی رکھتے ہیں۔اسی طرح اس آیت میںضیاء اورنور کے الفاظ مختلف معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ ضیا ءسے مرادذاتی، فطری (Personal, Essential) روشنی ہےجب کہ نور سے مراد وہ روشنی ہے جو کسی شے پر پڑے اور وہاں سے منعکس ہو۔
قرآن نے دوسری مکی آیات میں سورج کے لئے مندجہ ذیل الفاظ استعمال کیے۔
سراجاً(آیت نمبر 25:61 اور 71:16)مطلب چراغ
سراجا ًوھاجاً(آیت نمبر 78:13) مطلب بھڑک کر جلتا ہوا چراغ
اسی طرح اللہ تعالی نے ستاروں کو ’’مصابیح‘‘ کہا ، جس کا مطلب بھی چراغ ہے (آیت نمبر41:12 اور 65:5) ۔
اس نے ستاروں کو ’’بروج‘‘ بھی کہا جس کا مطلب خود کو ظاہر کرنے والی اشیاء ہے (آیت نمبر15:16، 25:62 اور 85:1) ۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہیں بھی چاند کو چراغ یا برج نہیں کہا، بلکہ اس نے چاند کو نوراًاور منیراً(آیت نمبر10:5، 25:61 اور 71:16)کہا ہے،جس کا مطلب ایک ایسی شے ہے جس پر روشنی پڑے اور وہ اُس روشنی کو منعکس کر دے ۔
ان آیتوںسے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کے نزدیک چاند اور سورج ایک جیسی اشیاء نہیں ہیں۔ سورج اپنی روشنی خود پیدا کرتا ہے جبکہ چاند سورج کی روشنی کومنعکس کرتاہے۔
قرآن کے مفسرین نے منازل کا ترجمہ رکنے کی جگہ (Stations) ، محل(Mansions)اور چاند کے مدارج (Phases) کیا ہے ۔یہ الفاظ صحیح طور پر لفظ منازل کےمطلب اور پیغام کو واضح نہیں کرتے۔ منازل کا لفظ درحقیقت منزل کی جمع ہے۔ عربی زبان میں منزل ایک اسمِ ظرف(Noun of Place) ہے ، جو عربی میں مَفعِل کے وزن پر ہے۔اس وزن کی دوسری مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔

واحد جمع
مسجد مَساجِد
مشرق مشارق
مغرب مغارب
منزل منازل
اس لفظ منزل کا مادہ (root)۳ حروف ہیں۔ یعنی نزل
اس کا مطلب ہے گرنا (fall)
نیچے اُترنا (descend)
عارضی قیام کرنا (lodge)

اگر سورج غروب ہوجائے اور اُس کی روشنی چاند کے چہرے (زمین کے جانب والا حصہ) پراس طرح پڑے کہ روشنی سے متاثرہ حصہ ہمیں چمکتا ہوا نظر آئے تو چاند کا وہ روشن حصہ منزل کہلاتا ہے۔اس کو پھر سمجھ لیجئے، جس طرح مسجد کا مطلب ہے سجدہ (عبادت) کرنے کی جگہ اور مغرب کا مطلب ہے غروب ہونے کی جگہ، اسی طرح منزل کا لفظی مطلب ہے نازل ہونے کی جگہ لہٰذا چاند کے جس حصہ پر سورج کی روشنی نازل ہوتی ہے یعنی سورج کی روشنی پڑتی ہے وہ حصہ منزل کہلاتا ہے۔

آئیے اب ہم اس آیت کا سادہ ترجمہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اس کے مفہوم کے ساتھ یہ بات بھی نظر میں رہے کہ ساتویں صدی میں چاند کی منازل کے متعلق یہ معلومات سوائے اللہ تعالی کے کسی اور کے پاس نہیں تھیں۔ اُس وقت کے ماہرین فلکیات میں سے کسی کو یہ علم نہ تھا کہ چاند کی منازل سورج کی روشنی پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ لہذا اس حقیقت کا اعلان اس بات کی صاف گواہی تھی اورہے کہ یہ صرف ایک علیم و خبیر رب کا کلام ہے اور محمدؐ یا کسی دوسرے انسان کا لکھا ہوا نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس بات کو اپنی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے۔

اب ہم آتے ہیں آیت کے الفاظ کی طرف ۔یہ آیت بتاتی ہے کہ خدا نے سورج اور چاند کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ سورج کی اپنی روشنی ہےجبکہ چاندحاصل کی ہوئی روشنی کو ہم تک پہنچاتا ہے ۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہےکہ چاند دراصل سورج سے روشنی حاصل کرتا ہے۔پھر یہ آیت بتاتی ہےکہ چاند کا روشن حصہ روز بروز ایک ترتیب سے بڑھتا اور گھٹتا ہے جس سے چاند کے روشن مدارج پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے ان روشن مدارج کی تشکیل اس مقصد سے کی ہے کہ انسان ان کی مدد سے باآسانی دنوں، مہینوں اور سالوں کا حساب کرسکے۔

یہ بات انسان کے مشاہدے میں ہمیشہ سے رہی ہے کہ ہلال نظر آنے کے بعد چاند کا روشن حصہ روزانہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک گول چاند بن جاتا ہے۔ اس کے بعدیہ روشن حصہ دن بہ دن گھٹنا شروع ہوتاہے حتیٰ کہ یہ بالکل غائب ہوجاتاہے ۔پھر مختصر مدت کے بعد ایک نیا ہلال نمودار ہوجاتا ہے۔قرآن ان چیزوں کو بیان نہیںکرتا جو انسان کے مشاہدے میں موجود ہوں لہٰذایہ تفصیل مندرجہ بالاآیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں کی ہیں ۔ اس کو Implied (معلوم) کے طور پر چھوڑ دیا ہے، تاہم یہ آیت روشن مدارج پر زور دیتی ہے کہ یہی وہ مدارج ہیں جن کو اللہ تعالی نے تاریخ کے تعین کے لئے بنایا ہے ۔

یعنی اسلامی مہینہ کسی غیر روشن مدرج (مدارج کی واحد) سے شروع نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاًچاند کی پیدائش (Birth of Moon)جو انسان کو نظر نہ آنے والا مدر ج ہے، اس سے مہینہ شروع کرنا قرآن کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔اسی طرح چاند کی پیدائش کے بعدنئے چاند کی وہ تمام حالتیں جن میں وہ انسان کو نظر نہ آئے مہینہ شروع کرنے کے لئے استعمال نہیں کی جاسکتیں۔

ساتوں صدی میں لوگ یہ بات نہیں جانتے تھے کہ اگر چاند کے بہت ہی چھوٹے خطے پر سورج کی روشنی پڑے تو وہ ہمیں نظر نہیں آسکتا۔ اس زمانے میں روشن ہونا اور نظر آنا ایک ہی بات سمجھی جاتی تھی۔ لہٰذا آیت روشنی سے منور چاند کے حصوں (جو کہ منازل کا لفظی ترجمہ ہے) کے بجائے’’روشنی سےمنوراورقابلِ دیدچاند کے مدارج‘‘ کو بیان کر رہی ہے۔ یہ بات اس سے بھی عیاں ہےکہ آیت روشن مدارج ہی کو وقت کے تعین کا ذریعہ بتا رہی ہے۔ اگر یہروشن مدارج (منازل )مکے والوں کو نظر نہ آتے تو وہ ان کو وقت کے حساب کے لیے کس طرح استعمال کر سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی حدت میں اضافہ ایک حقیقت، انسان ہی ذمہ دار

پس اسلام میں ماہ کی تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ چاند کی پہلی منزل(نیا ہلال)کو آنکھوں سے دیکھا جائے اور یہ دیکھنا ننگی آنکھوں سے ہو اور دوربین سے نہ ہو ، کیونکہ مکہ کے لوگوں کے پاس اُس وقت دوربین نہیں تھی۔

پھر یہ بات بھی ملحوظِ نظر رہے کہ مکہ کے لوگوں کے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ وہ معلوم کر لیتے کہ آیا چاند انڈیا، مصر یا یمن میں نظر آیا کہ نہیں ، بلکہ چاند مقامی آسمان میں ہی دیکھا جاتا تھا۔ لہٰذا اسلامی مہینے کے ۲۹ تاریخ کو مقامی رویتِ ہلال ہی لازم ہے۔ ورنہ ۳۰ دن مکمل کرنا ہوں گے۔

درج بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے چاند کی منازل (روشن اور نظر آنے والے مدارج) کو فطری حقائق (Facts of Nature)بتایاہے یعنی یہ ہر دورمیں مُسلم (unaltered) رہے ہیں اور ہر دور میں مُسلم رہیں گے اور دنیا کی کسی آبادی کے لیے یہ حقائق قیامت تک تبدیل نہیں ہونگے۔
ان فطری حقائق (Facts of Nature) کی روشنی میں آج بہت سے مسلمانوں کا یہ دعویٰ کرنا کہ مکہ کا چاند ساری دنیا کے لئے ہوتا ، اللہ تعالی پر یہ الزام لگانا ہے کہ نعوذباللہ اُس نے اسلام کا کیلنڈر فطری حقائق (Facts of Nature)کے بجائے جھوٹ پر قائم کیا ہے۔

آیت نمبر 36:29 کی تفسیر:
ترجمہ:اور ان لوگوں کےلیے ایک نشانی ہے …چاند ،جس کیاس نے منازل (Light-struck stages) ٹھیک ٹھیک مقرر کی ہیں، حتی ٰ کہ یہ چاندلوٹ آتا ہے (اس منزل پر جب وہ رہ جاتا ہے) کھجور کی ایک پرانی شاخ کی مانند ۔

قرآن کا ایک وصف یہ ہے کہ جب وہ کسی مضمون کا ذکر دومختلف مقامات پر کرتا ہے تو وہ ان مقامات پر قدرےمختلف زاویوںسے خطاب(Address)کرتا ہے۔اس طریقہ تخاطب سے متعلقہ موضوع کے مختلف پہلو بہت نمایاں ہو جاتے ہیں اور انسان سے اگر ایک مقام پر سمجھنے میں کچھ چوک ہو جائےتو اس کا تدارک دوسرے مقام پر ہوسکتا ہے۔

چاند کی منازل سے متعلق سورۃ یونس ، آیت نمبر ۵ میں یہ بات نمایاں کی گئی ہے کہ یہ چاند پر پڑنے والی سورج کی روشنی ہےجو ان منازل کہ تشکیل کرتی ہے۔

درجِ بالا آیت میں یہ بات نمایاں کی گئی ہےکہ چاند کی منازل میں بتدریج تبدیلی کے سبب چاند بالاخر کھجور کی ایک پرانی پتلی شاخ کی مانند نظر آتا ہے۔ آیت میں حَتَّیٰ کا لفظ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مہینے کے آخری ہفتے میں کھجور کی پتلی شاخ کی مانند نظر آنے والا ہلال چاند کی آخری منزل ہے۔ یعنی اس کے بعد چاند کے نظر نہ آنے والے مدارج شروع ہوتے ہیں جن کو قرآن منازل میں شامل نہیں کرتا۔ دسرے لفظوں میں قرآن کے نزدیک چاند کی منزل کے لیے اس کا انسانوں کو نظر آنا ضروری ہے۔

آج کا جدید ذہن ہر شےجاننے والے خدا کے بیان کو مناسب طور پر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا اور سائنس کے علم سے اس قدر متاثر ہے کہ فوراًمنازل کو سائنسی لٹریچر میں موجود تمام Lunar Phases (قمری مدارج) کے ہم معنی قرار دے دیتا ہے، حقیقت یہ ہےقرآن صرف اور صرف ’’روشن نظر آنے والے مدارج‘‘ کو منازل کہتا ہے اور نظر نہ آنے والے مدارج(Invisible Phases)کو منازل میں شامل نہیں کرتا۔نظر آنے والے اور نظر نہ آنے والے دونوں ہی قسم کے مدارج کو منازل میں شامل کر لینے کی غلطی کا ارتکاب کرلینے کے بعد گمراہی کا راستہ کُھل جاتاہے۔کیونکہ پھر لوگ چاند کی کسی بھی حالت سے قمری مہینہ شروع کرنے کے لیے بے چین ہو جاتے ہیں ۔ نظر نہ آنے والی کسی بھی حالت سے مہینہ شروع کرنا قرآن کی ہدایات کے خلاف ہے۔

چاند کی تمام منازل ، بشمول پہلی منزل یعنی ہلال، کے لئے نظر آنے کی شرط کو اگر آیت کے نزول کے وقت کے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا واضح مطلب تھا :
۱۔ چاند کا آنکھوں سے نظر آنا ، نہ کہریاضی کی آنکھ سے نظر آنا۔ کیونکہ اہل مکہ چاند کو خود دیکھتے تھے اور حساب سے معلوم نہیں کرتے تھے۔
۲۔ چاند کا زمین پر سے نظر آنا ، نہ کہ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر ، بادل کے اوپر سے دیکھنے پر نظر آنا۔کیونکہ اس وقت پوری دنیا میںکوئی ہوائی جہاز نہیں تھا۔
۳۔ چاند کا مقامی طور پر نظر آنا ، نہ کہمکہ کے لئے چاند کامصر یا ہندوستانمیں نظر آنا۔ کیونکہ اُس وقت دوسرے ممالک کی خبر معلوم کرناممکن نہ تھا۔
۴۔ چاند کا برہنہ آنکھوں(Naked eye) سے نظر آنا ، نہ کہ دوربین سے نظر آنا۔ کیونکہ اس وقت کوئی دوربین نہیں تھی۔

۵۔ چاند دیکھنے والوں میں سے تمام یا اکثریت کو نظر آنا ،نہ کہ ہزار دیکھنے والوں میں سے صرف ۲ افراد کو نظر آنا۔چاند کی پہلی اور آخری منزل ایک ہی جیسی باریک ہوتی ہے۔تاہم چونکہ آخری منزل کا چاند رات کی بھرپور تاریکی میں نمودار ہوتا ہے جبکہ پہلی منزل کا چاند شام کی دھندلکے (Twilight)میں نمودار ہوتا ہے اس لیے یہ ممکن ہے کہ یہ کچھ دیکھنے والوں کو نظر نہ آئےتاہم یہ دیکھنے والوں کی اکثریت کو نظر آجاتا ہے۔ یہی ۱۴۰۰ کی تاریخ ہے ۔یہ بھی انسان کامستقل مشاہدہ ہے کہ دوسری سے۲۷ویں منازل کا چاند ہر دیکھنے والے کو نظر آجاتا ہے۔ آیت بھی تمام منازل ، بشمول پہلی منزل یعنی ہلال، کو قابلِ دید قرار دے رہی ہے لہٰذا یہ دعوی کرنا کہ ہلال ہزار دیکھنے والوں میں سے یہ صرف دو کو نظر آتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے(نعوذ باللہ) تمام منازل کے قابلِ دید ہونے سے متعلق انسان کو غلط اطلاع دی ہے۔ اگر پہلی منزل کی صورت واقعی اس حد تک استنثائی (unusual)ہوتی ہے تو پھر اللہ کو حق ظاہر کرنے والی ہستی کیونکہ تسلیم کیا جاسکتا ہے؟(نعوذباللہ) بلکہ یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آدھاسچاور آدھا جھوٹ بولتے ہیں ، ثم نعوذ اباللہ ۔

سورۃ یاسین کی آیت نمبر ۳۶ مندرجہ بالا باتوں کا بیان فطری دنیا(Natural World)کے حقائق کے طور پر کر رہی ہے، لہٰذا یہ فطری حقائق(Facts of Nature)آدم علیہ السلام کے وقت بھی یہی تھےاورمحمدﷺ کے زمانے میں بھی یہی تھے ۔ آج بھی یہی ہیں، اور قیامت تک یہی رہیں گے۔ اور آج کے ایجاد کردہ معیارات (Standard)نہ صرف غیر ضروری ہیں بلکہ فطری حقائق(Natural Facts)اور اللہ کے فرمان (قرآن) دونوں کے خلاف ہیں۔

کیلنڈر سے متعلق مدنی آیت (آیت نمبر ۲:۱۸۹):
یہ آیت مدینے میں نازل ہوئی جب کہ مدینے میں اسلامی ریاست کی داغ بیل ڈالی جا چکی تھی۔نیز مدینے کے مسلمانوں کو مکہ والے حج کے لئے آنے سے روک رہے تھے۔ اس صورتِ حال میں حج کے موقع پر سردارانِ مکہ اپنے کیلنڈر میں جو کبیشہ اور نسی کی خرابی ایجاد کرتے تھے، ان خرابیوں کا کوئی بھی اثر مدینے والوں پر نہیں ہو رہا تھا۔ ان کا اپنا کیلنڈر درست طور پر چل رہا تھا۔ لہٰذا مکی آیات کی طرح اس ابتدائی دور کی مدنی آیت میں بھی کیلنڈر کی اصلاح کے لئے کوئی حکم نہیں ہے۔بلکہ وہاں کے لوگ مقامی طورپر قدرت میں نمودار ہونے والی جن علامات سے اپنا کیلنڈر چلا رہے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اُن علامات سے کیلنڈر چلانے کو بالواسطہ طور پر درست قرار دیا ہے۔اس لحاظ سے اس آیت کا مطالعہ آج رویتِ ھلال سے وابستہ اختلاف کے ضمن میں کافی سود مند اور فیصلہ کُن (Enlightening) ثابت ہو سکتا ہے۔
۲:۱۸۹
ترجمہ:۔ اے محمد(ﷺ)وہ آپ سے ھلالوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیجیے، یہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے وقت (تاریخ) معلوم کرنے کے آلات(Devices) ہیں۔
اس آیت سے متعلق عام طور پر لوگوں میں دو مشکلات یا غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ۔
۱۔ آیت میں پوچھنے والوں اور اللہ تعالیٰ دونوں ہی نے ہلال کی جمع لفظ اھلہ کیوں استعمال کیا ہے؟ جبکہ کیلنڈر میں اہمیت ماہ کی پہلی تاریخ کے ہلال کی ہوتی ہے۔ اگر وہ معلوم ہو جائے تو باقی تمام تاریخوں کا تعین باآسانی کیا جاسکتاہے۔
۲۔ آیت میں مواقیت کا صاف طور پر سمجھ آنے والا مطلب کیا ہے؟
آیت میں لفظ اھلہ (ہلال کی جمع) کی وجہ اور عام مغالطہ :
اس سلسلے میں دو باتوں کا سمجھنا ضروری ہے۔
۱۔اگر ہم اردو بولنے والے یعنی پاک و ہند کے لوگ ایک صدی پیچھے جائیں تو ہم ہر مہینے پہلی تاریخ کا چاند دیکھا کرتے تھے یا دیکھنے کی کوشش کرتے تھے اور اگر ۲۹ کا چاند نظر آتا تھا تو ہم کہتے تھے کہ ہلال نظر آگیا ہے اور اگر ۲۹ تاریخ کو چاند نظر نہیں آتا تھا تو ہم کہتے تھے کہ ھلال نظر نہیں آیا۔ اس طرح ہمارے ہاں لفظ ہلال کا مطلب پہلی تاریخ کا چاند سمجھے جانے لگا۔ لیکن یہ درست نہیں ہے ، دوسری تاریخ کا چاند بھی ہلال ہے اور تیسری تاریخ کا چاند بھی ہلال ہے۔ اسی طرح مہینے کے آخری چوتھائی حصے مثلا ۲۴ ویں ، ۲۵ویں اور ۲۶ویں تاریخوں کا چاند بھی ہلال ہے۔ ہلال ہر اس چاند کو کہتے ہیں جو نصف سے کم ہو ۔ اس طرح ہر ماہ دس سے زیادہ ھلال نمودار ہوتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا تعلیم آج بھی ہماری پہلی ترجیح ہے؟

۲۔ دراصل درج بالا آیت کیلنڈر کا کوئی مسئلہ حل کرنے کے لئے نازل نہیں کی گئی تھی کہ چاند کے صرف پہلے ہلال کا ذکر کیا جاتا جس سے مہینہ شروع ہوتا ہے۔ بلکہ اس کے نزول کہ وجہ لوگوں میں پائی جانے والی چاند سے متعلق توہم پرستی تھی۔ عرب میں بہت سے لوگ مہینے کے شروع میں دن بدن بڑھتے ہوئے ہلالوں کو سفر اور تجارت وغیرہ کے لئے اچھا شگون سمجھتے تھے ، اس کے برخلاف مہینے کے آخری چوتھائی حصہ میں روزانہ گھٹتے ہوئے ہلالوں کو سفر، تجارت اور شادی وغیرہ کے لئے برا شگون سمجھا جاتا تھا۔

پرانے وقتوں میں اس طرح کے تواہم عام تھے کیونکہ انسان کے پاس نہ تو اپنے ارد گرد کے اشیا سے متعلق مناسب معلومات تھیں اور نہ ہی غور و فکر (Critical Thinking)کا رویہ عام تھا۔ لوگ نسل در نسل ، سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی کہانیوں پر ہی یقین رکھتے تھے۔ لیکن اسلام اس رجحان کو تبدیل کررہا تھا اور اب لوگ حقائق کو جاننا اور چیزوں کی حقیقت کے حساب سے عمل کرنا چاہتے تھے۔ کچھ لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺسے بڑھتے اور گھٹتے ہوئے ھلالوں کی حقیقت دریافت کی ۔ اس کے جواب میں اللہ نے بتایا کہ تمام ھلالوں کی حقیقت ایک ہی ہے اور یہ سب نظامِ فطرت میں تاریخ بتانے کے آلات (Devices)ہیں۔
یہاں پر یہ بات نوٹ کر لیجئے کہ سوال پوچھنے والوں نے اپنی پوزیشن ظاہر نہیں کہ تھی کہ آیا وہ بڑھتے اور گھٹتے ہلالوں سے شگون لیتے ہیں یا نہیں ۔ بلکہ بڑھتے اور گھٹتے ہلالوں کے پیچھے سچائی کے متعلق سوال پوچھا تھا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ تمام ہلالوں کی حقیقت ایک ہی ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کے سب تاریخ معلوم کرنے کے فطری ذرائع (Natural Dates Indicators) ہیں۔
اللہ تعالیٰ بہت حکمت والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے سوال کا جواب نہایت حکیمانہ اور سلجھے ہوئے انداز میں دیا۔اللہ تعالیٰ نے حکمت کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ ان کے ظاہری سوال کا جواب ظاہری (Express) طور پردے دیااور اُن کے مخفی (Implied) سوال کا جواب Implied دے دیا۔ عام طور پر جب کوئی تواہم پرستی کی بات کرتا ہے تو ردِ عمل میں لوگ اُس کا کم یا زیادہ مذاق اُڑاتے ہی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے جواب دینے کا ایسا حکیمانہ انداز اختیار کیا جس سے کسی کے جذبات مجروح نہیں ہوئے ۔سوال کرنے والے اللہ تعالیٰ پر ایمان لا چکے تھے اور وہ ایک الجھن (Confusion) کی حقیقت جاننا چاہتے تھے ۔ ایسے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو یہ زیب نہ دیتا تھا کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بندوں کا مذاق اُڑاتے۔لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے حکیمانہ جواب سے کسی کو شرمندگی (Embarrassment) کا کوئی احساس دلائے بغیر اُن کا معمہ حل کر دیا۔اللہ نے بتادیا کہ جو لوگ بڑھتے اور گھٹتے ہلالوں سے شگون لیتے ہیں وہ غلطی پہ ہیں ، جو ایسا نہیں کرتے وہ درست ہیں اور جو الجھن (Confusion) میں پڑے ہوئے ہیں وہ جان لیں کہ اِن شگونوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

یقینا اس طرح کا سوال کرنے یا ذہن میں رکھنے والوں میں ۳ طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو شگون کو مانتے ہیں، دوسرے وہ جو شگون کو نہیں مانتے اور تیسرے وہ لوگ جو غیر یقینی (Uncertain) صورتحال کا شکار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں قسم کے لوگوں کو الگ الگ جواب دینے کے بجائے ایک ایسا مختصر جواب دیا جس سے ان تینوں قسم کے لوگوں کو جواب مل گیا، کسی کی کوئی تذلیل نہیں ہوئی یعنی کسی پر ہنسا نہیں گیا، اور بڑھتے گھٹتے ہلالوں کے پیچھے حقیقت کو بھی واضح کر دیا گیا۔اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ اور شائستہ طور پر جواب دینے کی صفت کا ادراک نہ رکھنے والے لوگ اس آیت کو سمجھ نہیں پاتے اور اس آیت کی عجیب و غریب تاویلات کر دیتے ہیں ۔ اس میں قصور اللہ تعالیٰ کے اندازِ بیان کا نہیں، ان لوگوں کے فہم کا ہے۔
ہلال سے متعلق عربوں میں موجود اس تواہم پرستی کا مزید تجزیہ ہمارے لئے بہت ضروری ہے۔کیونکہ اس
آیت کا تجزیہ ہمیں رویتِ ہلال کے موجودہ اختلافات کوسمجھنے اور اُن کا حل ڈھونڈنے میں بہت مدد دے گا۔
آیت میں توہم پرستی کے مضامین کا اشارہ:
البقرہ آیت ۱۸۹ دراصل دو تواہم کا ذکر کرتی ہے۔ ایک چاند سے متعلق ہے اور دوسری احرام (حج کے لیے لازمی لباس) سے متعلق ہے۔ اسی آیت کے بقیہ حصے میں احرام سے وابستہ تواہم کا ذکر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ پوری آیت اُس وقت عربوں میں موجود تواہم، یا عربوں میں موجود دو اہم تواہم کے ضمن میں نازل ہوئی تھی۔ لہٰذا آیت میں لفظ اھلہ کو تواہم سے منسلک بڑھتے گھٹتے ھلالوں کے علاوہ کسی اور معنی میں لینا درست نہیں ہے۔
تاریخ سے ثابت شدہ اھلہ کے معنی:
تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہر انسانی تہذیب نے ابتداءمیں قمری کیلنڈر ہی اپنایا تھا اور اس کی بنیاد تقریباًہر تہذیب میں مقامی رویتِ ہلال پر ہی ہوتی تھی ۔ اس سے استثناء (Exception)کی ایک مثال یہ ہے کہ ہندوؤں کا ایک اقلیتی گروہ پورے چاند سے مہینہ شروع کرتا تھا۔
پھر وقت کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں میں غور و فکر اور حساب کتاب والے لوگ ، ماہرین فلکیات (Astrologist) ، پیدا ہو جاتے تھے۔ یہ لوگ چاند کے مدارج کی درجہ بندی بھی کرتے تھے اور مختلف مدارج کے چاندوں کا نام بھی رکھتے تھے۔ ان وقتوں میں ہر طرح کے لوگوں کا آپس میں سماجی طور پر ربط ہوتا تھا، اس لئے ان کے مختلف مدارج کے رکھے ہوئے نام (Nomenclature) عام لوگوں میں بھی مستعمل ہو جاتے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں:  آزادی کشمیر کا کٹھن سفر

اس ارتقائی عمل کے نتیجے میں زمانہ قبل مسیح علیہ السلام ہی سے مصری، ہندو، یہودی، یونانی ،رومن اور دوسری تمام تہذیبوں میں ہلال ، یعنی دوسری زبانوں میں اس کا متبادل لفظ ، اُ س چاند کے لئے بولا جاتا تھا جو نصف سے کم ہو اور انسان کو نظر آئے ۔ ہلال کی یہی تعریف آج سائنس میں بھی استعمال کی جاتی ہے یعنی چاند کی پیدائش کے بعد جب چاند پہلی دفعہ انسان کو نظر آتا ہے تو پہلا ھلال ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہر روز کا چاند ھلال ہی کہلاتا ہے جب تک کہ وہ نصف(Half Moon) نہ ہو جائے۔ اس طرح مہینے کے آخری چوتھائی حصے (Last Quarter) میں نصف سے کم نظر آنے والا ہر چاند ھلال ہے، گویا ہر مہینے میں ۱۰ سے زیادہ ھلال (اھلہ) نمودار ہوتے ہیں۔

درجِ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ کا بیان ’’اھلہ تاریخ ظاہر کرنے کے آلات ہیں‘‘ صریح طور پر کیلنڈر کے ضمن (Context) میں ہے۔ جب موضوع کیلنڈر کا ہے تو لازمی طور لفظ اھلہ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جو کیلنڈر کے سیاق و سباق میں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کیلنڈر کے سیاق و سباق میں اھلہ (Crescents) اُن تمام چاندوں کو کہتے ہیں جو پہلے اور آخری چوتھائی ماہ(Quarter) میں نصف سے کم ہوتے ہیں اور انسان کو نظر آتے ہیں۔

دوسرے زاویے سے دیکھیں تو کیا یہ بات قرین قیاس ہے کہ علیم و حکیم خدا کو لفظوں کا استعمال نہیں آتا(نعوذباللہ)۔ اس نے ایک ایسے لفظ کو جو ایک معنی میں تقریباً۱۰ صدیوں سے دنیا میں استعمال ہورہا تھا، ایک مختلف معنی میں استعمال کیا، اس بات کی وضاحت بھی نہیں کی ، اور اس طرح قیامت تک کے لئے انسانوں کو مغالطے (Confusion)میں ڈال دیا(نعوذباللہ) ۔ کیا یہ مبین بیان کا طریقہ ہے جس کا دعویٰ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار کیا ہے؟ یا بھر آج کے روشن خیال دانشور قرآن سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے؟

تواہم پرستی کے معاملے سے رویتِ ہلال پر روشنی:
یہ ایک عام عقل(Common Sense) کی بات ہے کہ تواہم پرستی ان ہی چیزوں سے متعلق (Related) ہوتی ہے جن کا عام لوگ مقامی طور پر بغیر کسی آلے کے مشاہدہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ہلال سے متعلق عرب میں توہم پرستی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ہلال عام لوگ اپنے علاقے میں برہنہ آنکھ (Naked Eye) سے دیکھتے تھے، چونکہ درجِ بالا آیت ھلالوں کی فطری دنیا (Natural World) میں حقیقت بیان کر رہی ہے اس لئے ہلالوں کی حقیقت آج بھی وہی ہے جو نزولِ قرآن کے وقت تھی، یعنی سب ھلال (اھلہ) مقامی طور پر عام لوگوں کو نظر آتے ہیں اور ان کے دیکھنے کے لئے نہ تو کسی آلہ (دوربین، CCD کیمرہ) کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ہوائی جہاز میں بیٹھ کر بادل کے اوپر جانے کی حاجت ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اسلامی کیلنڈر کا معیار (Criterion) یہی مقرر کیا ہے کہ اگر ۲۹ تاریخ کو مقامی طور پر عام لوگوں کو برہنہ آنکھوں (Naked Eye) سے ہلال نظر آجائے تو نیا مہینہ شروع کردیں ورنہ ۳۰ دن مکمل کریں۔ ۲۹ تاریخ کو چاند دیکھنے کے لئے کسی بھی اضافی (Enhanced) سائنسی ٹیکنیک کا استعمال قرآنی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ قرآن ۲۹ یا ۳۰ تاریخ کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ یہ طریقہ نزولِ قرآن سے پہلے ہی سے عربوں میں رائج تھا ۔ تاریخوں کے سلسلے میں جو طریقہ عربوں میں رائج تھادرجِ بالا آیت اسی طریقہ کار کو حقیقت کے اعتبار سے درست قرار دے رہی ہے۔

آیت میں رویتِ ہلال سے متعلق علمی نکتہ:
ہم اس سے قبل اللہ تعالی کے جواب ’’سارے ھلال تاریخ ظاہر کرنے کے آلات ہیں‘‘ کی وسعتوں/ طاقتوں (Strengths) کا ذکر تواہم پرستی کے ضمن میں کرچکے ہیں۔ توہم پرستی سے ہٹ کر کیلنڈر کے متعلق اس آیت کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ آیت تمام ھلالوں کو تقابلی طور پر ایک جیسا قرار دیتی ہےیعنی تمام ھلالوں کی فطرت اور کام یکساں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اگر پہلے ھلال کی فطرت یا کام (Nature or Function) سے متعلق کوئی اختلاف پیدا ہو تو اس کی فطرت یا کام کو دوسرے ھلالوں کی فظرت یا کام سے موازنہ کرکے قطعی طور پر معلوم کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً
۱۔اگر دوسری ، تیسری ، چوتھی ، ۲۵ ویں یا ۲۶ویں تاریخ کا ہلال انسانی آنکھ کو نظر آتا ہے تو پہلی تاریخ کا ھلال بھی انسانی آنکھ کو نظر آئے گا۔ لہٰذا پہلے ھلال کے لئے صرف حسابی (Mathematical) ہونے کا دعویٰ کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع کو جھوٹ قرار دینے کے مترادف ہے (نعوذ باللہ)۔
دوسرے زاویے سے دیکھیے: چونکہ آیت تمام ہلالوں کو ایک جیسا قرار دے رہی ہے اس لئے جو لوگ پہلی تاریخ کے ہلال کے صرف حسابی (Mathematical) ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کو یہ دکھانا ہوگا کہ دوسرے تمام ھلال بھی صرف حسابی ہوتے ہیں اور وہ انسانوں کے نظر نہیں آتے، ورنہ پہلا ہلال دوسرے ہلالوں سے بہت مختلف ہو جائے گا ، جس کی گنجائش آیت میں موجود نہیں ہے۔

۲۔ اگر دوسری ، تیسری ، چوتھی ، ۲۵ ویں یا ۲۶ویں تاریخ کا ہلال انسان کو برہنہ آنکھ (Naked Eye) سےنظر آتا ہے تو پہلی تاریخ کا ہلال بھی برہنہ آنکھوں سے نظر آئے گا لہٰذا پہلے ھلال کو صرف دوربین سے نظر آنے والاقرار دینا کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع کو جھوٹ قرار دینے کے مترادف ہے (نعوذ باللہ)۔
۳۔اگر دوسری ، تیسری ، چوتھی ، ۲۵ ویں یا ۲۶ویں تاریخ کا ھلال مقامی آبادیوں میں نظر آتا ہے تو پہلی تاریخ کا ہلال بھی مقامی آبادی میں نظر آئے گا۔ لہٰذا پہلے ہلال کو عالمی رویت (Global Sighting) سے منسلک کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع کو جھوٹ قرار دینے کے مترادف ہے (نعوذ باللہ)۔
۴۔ درجِ بالا نکتے سے مکے کے ھلال کو ساری دنیا کے لئے قرار دینا بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع کو جھوٹ قرار دینے کے مترادف ہے (نعوذ باللہ)۔

۵۔اگر دوسری ، تیسری ، چوتھی ، ۲۵ ویں یا ۲۶ویں تاریخ کا ہلال کسی جگہ دیکھنے والے تمام لوگوں کو نظر آتا ہے تو پہلی تاریخ کا ہلال بھی ایک مقام پر موجود تمام لوگوں کو نظر آئے گا۔ تاریخ میں ایک واقعہ بھی موجود نہیں ہے جب رسولﷺ اور صحابہ کرامؓ کے دور میں یعنی ۳۵ سال(۴۲۰ مہینے) میں کبھی بھی صرف ایک یا ۲ افراد کو چاند نظر آیا ہو اور اس جگہ موجود سینکڑوں ہزاروں افراد کو چاند نظر نہ آیا ہو۔
لہٰذا ان دلائل کی موجودگی میں قرآن کے مطابق برہنہ آنکھ (Naked Eye) سے مقامی رویتِ ہلال ہی مہینہ شروع کرنے کا واحد درست طریقہ ہے۔اگلے حصے میں ہم میقات کے لفظ پر تحقیق کریں گے۔

اس مضمون کو پڑھنے کے بعد اگر اس سنجیدہ مسئلے پر کوئی بھی لکھنا چاہتا ہے تو وہ اپنا آرٹیکل ادارے کو بھجوا سکتا ہے۔