شادی کے حوالے سے خواتین کی طبی اور نفسیاتی رہنمائی

EjazNews

علمی اور معاشی ترقی کے ساتھ جو نئے سماجی رویے وجود میں آرہے ہیں ان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کی شادی کے بعد طویل عرصے تک ماں بننے سے فرار بھی شامل ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوشحال شہری گھرانوں کی لڑکیاں شادی کے بعد کافی زیادہ عرصہ ماں نہ بننے کی خواہش مند رہتی ہیں اور ان کے فہم و ادراک میں اس فرار کا جواز یہ ہوتا ہے کہ حمل اور وضع حمل کے مراحل سے ان کا حسن متاثر ہوگا اورصحت کمزور ہو گی حالانکہ یہ مفروضہ قطعی طور پر غلط ہے۔ اس مفروضے کی بنا ءپر آج کی تعلیم یافتہ خصوصاً مغرب زدہ لڑکیاں شادی کے بعد حمل کو بدترین لعنت سمجھ کر اس سے کوسوں دور بھاگتی ہیں کہ جیسے یہ کوئی ٹیکس، طوق یا چٹی ہے جو کہ عورت کو خلاف منشاءبھی ادا کرنا پڑتی ہے متذکرہ مفروضے پر یقین رکھنے والی کسی لڑکی کوشادی کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد تمام احتیاطوں کے باوجود اگر حمل ہو جائے تو وہ اس کو خاوند پر احسان سمجھنے لگتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں غیر شعوری طور پرحمل کو مرض یا تکلیف تصور کر لیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک طبعی فعل اور فریضہ ہے جو فطرت نے عورت کے سپرد کیا ہے۔

مرض اور طبعی عوارض میں ایک بڑا فرق یہ ہوتا ہے کہ مرض کا انجام عموماً دکھ تکلیف اور موت ہوتا ہے جبکہ طبعی عوارت کا انجام بالعموم تکلیف کے بعد اچھا ہونا ہی ہے۔ حمل اور وضع حمل مرض نہیں بلکہ طبعی عوارت با حالتیں ہیں جو حکیم مطلق نے حکمت کے تحت صنف نازک کا لازماً قرار دی ہیں اور ان کا انجام معمولی تکلیف اور درد کے بعد اچھا ہو جانا ہی ہے جس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ حمل کوئی چٹی نہیں بلکہ مقدس فریضہ ہے زحمت نہیں بلکہ رحمت ہے اور بیماری نہیں بلکہ صحت ہے۔

قدرت نے اس طبعی فریضہ (حمل اور وضع حمل ) کی بخوبی انجام دہی کیلئے ایسے ایسے سامان رکھے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حمل کے دنوں میں عورت کے جسم پر چربی کچھ زیادہ ہو جاتی ہے جو کہ نہ صرف اس کے حسن کو دوبالا کر دیتی ہے بلکہ اس کو سردی ، گرمی سے بچاتی ہے اور غذا کا کام بھی دیتی ہے حمل کے دوران حاملہ کے جسم کے نازک مقامات پر سیاہ نیلگوں حلقے بن جاتے ہیں جن کی بدولت حرارت اور تیز روشنی کی شعاعیں اعصاب کو ضرر نہیں پہنچا سکتی ہیں۔ وضع حمل میں جسم کو سب سے زیادہ خطرہ جریان خون کا ہوتا ہے کہ جو کہ آنول کی پیدائش کا لازمہ ہے۔ لیکن حکیم مطلق نے ایسے انتظام کر رکھا ہے کہ حاملہ کے خون کے اندر بعض ایسے ذرات کا اضافہ ہو جاتا ہے جن کی مدد سے خون جلدی گاڑھا ہو کر جم جانے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ان ذرات کو انگریزی میں (Blood Platilatts)کہتے ہیں اس کے بعد دوسرا خطرہ جوزچہ کو ہو سکتا ہے وہ پر سوت کا بخار ہے۔ اس کابھی خالق کائنات نے خلیقانہ انتظام یہ کر رکھا ہے کہ حمل کی حالت میں خون کے اندر سفید ذرات (Leuco Cytes) کثرت سے پیدا ہونے لگتے ہیں جو ہر قسم کے موذی جراثیم کا ایسی خوبی اور چابکدستی سے مقابلہ کرتے رہتے ہیں کہ عام حالات میں پرسوت کے بخار کا خطرہ بالکل ہی نہیں رہتا۔

یہ بھی پڑھیں:  ماں کا دودھ بچے کیلئے کتنا مفید ہے

حسن اور کشش
یہ عام مشاہدہ کی بات ہے کہ اگر غذا، معمول اور ماحول کے خلاف ورزیاں سرزد نہ ہوں تو حمل کے بعد عورت کی قوت و توانائی اورص حت ہی نہیں بلکہ اس کے حسن و جوانی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس کی مخفی قوتوں کونشوو نما ملتی ہے جس سے چہرے اور جسم کی کشش میں اضافہ ہوتا ہے اور حاملہ عورت نہایت خوبصورت لگتی ہے۔ قرون وسطی کی آرٹ گیلری اس بات کی گواہ ہیںکہحاملہ کو حسن کی ملکہ سمجھا جاتا تھا۔ قدیم زمانے میں اگر کسی عورت نے مصور سے تصویر بنوانا ہوتی تھی تو وہ حمل کی حالت میں بنواتی تھی یہاں تک کہ خوبصورت تصویر بنوانے کی خواہش رکھنے والی عورتیں پیٹ پر روئی باندھ کر مصور کے سامنے کھڑی ہوتی تھیں تاکہ ان کی تصویر خوبصورت بنے۔

وضع حمل چونکہ ایک طبعی حالت ہے اور مرض نہیں ہے اس لئے اس میں علاج کی نہیں بلکہ احتیاطوں کی ضروت ہوت یہے اگر احتیاطوں کو ملحوظ رکھا جائے اور کوئی خلاف ورزی نہ ہو تو زمانہ حمل میں عورت صحت کی لطف اندوز کیفیت میں رہتی ہے بشرطیکہ اس کا ذہن اس حالت اور ایک مقدس فریضہ کی نعمت کے طور پر قبول کر رہا ہو جبکہ وضع حمل کی منزل معمولی تکلیف کے بعد طے ہو جانے سے عورت قدرت کے اس عظیم الشان اورب ے مثل تحفہ سے فیض یا ب ہوتی ہے جسک و بچہ یا اولاد کہتے ہیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ زندگی میں ایک بار حمل یا وضع حمل کے تجربہ سے گزرنے سے پہلے ہی یعنی شادی اور پہلے بچے کی ولادت کے درمیانی عرصہ میں ادویات اور دوسرے مانع حمل ذرائع اختیار کرنےس ے ایک عورت کے جسمانی نظام میں جو پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں وہ حمل کے بوجھ اور وضع حمل کی تکلیف سے کہیں زیادہ تکلیف دہ اور نقصان دہ ہوتی ہیں ان تکالیف میں رحم کے نقائض سے لے کر بانجھ ہو جانے تک کے خطرات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عورتوں کیلئے کم خرچ میں بہتر کھانا

جہاں تک حمل کے دوران خواہ یہ پہلا ہو دوسرا تیسرا یا چوتھا حاملہ کے مختلف تکالیف میں مبتلا ہونے کا تعلق ہے اس سلسلے میں طب نے انسان پر بڑے احسانات کئے ہیں طب نے وہ تمام ضروری احتیاطیں انسان تک پہنچائی ہیں جن کی پابندی سے کوئی بھی بھی حاملہ ہر تکلیف سے محفوظ رہ کر حمل سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اس فطری نعمت کا لطف اٹھا سکتی ہے۔ یہ احتیاطیں غذا معمول اور ماحول سے متعلق ہیں۔

غذا کی احتیاطیں
حمل کے دوران حاملہ اور جنین دونوں کو چار چیزوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ چار چیزیں کیلشیم، فولاد، آئیوڈین اورحیاتین وٹامنز ہیں ان اجزاءکی کمی چونکہ حاملہ اور جنین دونوں کے لئے کسی نہ کسی نقصان کا باعث ہوتی ہے اس لئے ان کا غذا یا دوا کے ذریعے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے قدرت خود بھی ان اجزا کی کمی کو پورا کرنے کے لئے حاملہ کی طبیعت میں ان اشیاءکی خواہش پیدا کر دیتی ہے جن سے یہ اجزا ملتے ہوں۔ اس کی بڑی مثال کیلشیم کی کمی ہے جس کے ہو جانے سے حاملہ عورتیں چونا، کوئلہ اور مٹی وغیرہ کھانے لگتی ہیں حالانکہ عام حالات میں ان کی طبیعت ان چیزوں کی طرف مائل نہیں ہوتی۔ کیلشیم فاسفورس وغیرہ جنین کی ہڈیوں کی نشوونمااور ان کو مضبوط بنانے کیلئے ضروری ہوتے ہیں اس لئے قدرت جنین کی ضروریات کو والدہ کی ضروریات پر ترجیح دیتی ہے یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ بعض اوقات حاملہ کے دانت کمزور ہو کر کیڑا لگ جاتا ہے پنڈلیوں میں درد رہتا ہے اور عضلات پھڑکے ہیں حقیقت یہ ہے کہ کیڑا تو ہوتا ہی نہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ قدرت ماں کی ہڈیوں کونرم کر کے اور اس کے دانتوں کو تحلیل کر کے ان سے کیلشیم نکال کر جنین کو پہنچاتی ہیں ہے لہٰذا سب سے ضروری تقاضہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ حاملہ اپنے جسم میں کیلشیم کی مقدار کوپورا رکھے جس کا سب سے بہترین اور سستا ذریعہ دودھ ہے۔ دودھ کیساتھ کوئی ترش چیز ہرگز نہیں لینی چاہیے کیونکہ ترشی کیلشیم کو دودھ سے الگ کر کے ضائع کر دیتی ہے۔ حمل کے آخری تین ماہ میں کیلشیم کی ضرورت اور زیادہ ہوتی ہے اگر یہ دودھ سے پوری نہ ہو تو کیلشیم والی دوسری غذاﺅں مثلاً سیب، ناشپاتی ، انڈہ، مچھلی وغیرہ کے علاوہ دواﺅں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  قبل از وقت اور جڑواں بچوں کی پیدائش

فولاد کی کمی سے حاملہ کو بھس (خون کی کمی) کی شکایت ہو جاتی ہے اس کی علامتوں میں چہرے کا رد ہونا سانس جلدی پھولنا اور بھوک کمی شامل ہیں۔ فولاد پاک کے ساگ، بکری کے جگر یعنی کلیجی اورسبز پتوں والی سبزیوں سے حاصل کیا جاسکتاہے۔

بعض امراض کی طرف طبیعت کا میلان روکنے کیلئے جسم کو آئیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے جس کا قدرتی ذریعہ سمندر کی تازہ مچھلی ہے دریا کی مچھلی میں آئیوڈین کم ہوتی ہے اس کے علاوہ پھلیاں ، مٹر ، چقندر ، بند گوبھی ، گاجر، آڑو اور سیب بھی آئیوڈین کے قدرتی ذرائع ہیں۔

حاملہ اور جنین دونوں کیلئے حیاتین (وٹامنز) بہت ضروری ہوتے ہیں خصوصاً وٹامن اے، اور ڈی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ وٹامن اے اور ڈی مچھلی کے تیل اور آم سمیت زرد پھلوں اور سبزیوں سے حاصل ہوتے ہیں جبکہ سردی کے دنوں میں سورج کی تمازت بھی وٹامن اے اور ڈی کا بلا قیمت فطری ذریعہ ہے۔

معمول اور ماحول
حاملہ کو چاہئے کہ وہ جسم اور لباس صاف رکھے۔ ہلکی غذائیں استعمال کرے روشن اور ہوا دار کمرے میں سوئے۔ لباس تنگ نہ ہو، روزانہ سیر کرے، زیادہ محنت، مشقت اور بھاری کام نہ کیا جائے۔ سیڑھیوںچڑھتے اور اترتے وقت احتیاط ے قدم رکھا جائے۔ وزن کا ریکارڈ رکھا جائے اگر وزن بڑھ جائے تو غذا کم کر دی جائے وزن کم ہو جائے تو غذا بہتر کر دی جائے۔ جب پیٹ بڑھ جائے تو کمر بند استعمال کیا جائے۔ آخری تین ماہ کے دوران پیشاب کا معائنہ باقاعدگی سے کروایا جائے تاکہ اعضائے بول اور رحم میں اگر کوئی تکلیف پیدا ہو تو اس کا پتہ چلتا رہے۔ آخری تین ماہ میں گوشت کا استعمال کر کر دیا جائے۔ قبض ہرگز نہ ہونے دی جائے اس مقصد کیلئے قیں اور دوائیں استعمال کی جائیں۔

جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ دماغی اور روحانی صحت بھی ضروری ہوتی ہے ۔ حاملہ کو چاہئے کہ وہ ہر قسم کے حوادث پریشانیوں تفکرات اور ہیجان پیدا کرنے والے مناظر کے علاوہ ایسی تحریریں پڑھنے سے بھی پرہیز کرے جو ذہن کو خلل جھٹکے یا پریشانی سے ہمکنار کرتی ہوں۔ حمل کے دوران اگرکوئی بھی امراض کیفیت پیدا ہو تو اس کے فوری رفع کیلئے قابل اور ماہر معالج سے رجوع کیا جائے۔