ینگ ڈاکٹرز کے بڑھتے مطالبات؟

EjazNews

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کوئی آج سے منظر عام پر نہیں آئی بلکہ ہر دن گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک منظم جماعت کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ینگ ڈاکٹرز کا پہلی دفعہ احتجاج میں مطالبہ تھا کہ ان کی تنخواہیں بہت کم ہیں ان کی تنخواہیں بڑھائیں جائیں جو ایک لمبے ڈائیلاگ اور احتجاج کے ذریعے منوا لی گئیں۔ جب یہ مطالبات ینگ ڈاکٹرز کر رہے تھے تو عام لوگوں کی بھی تقریباً کسی نہ کسی طرح سے ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔

لیکن اس کے بعد یہ کہاں رکنے والے تھے۔احتجاجوں پر احتجاج ہوتے رہے مختلف مطالبے پیش کیے جاتے رہے کچھ منوا لیتے جاتے اور کچھ مان لیے جاتے ۔ یہاں تک کہ موجودہ حکمران جماعت بھی پوری طرح ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ کھڑی تھی۔ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت صرف خیبر پختونخوا میں تھی اور کہا جارہا تھا دیکھیں خیبرپختونخوا میں کسی ڈاکٹر نے کوئی ا حتجاج نہیں کیا ہم نے ان کے مطالبات پورے کیے ہیں اور ان کا خیال رکھا ہے لیکن اب یہی جماعت حکومت میں اور یہی ینگ ڈاکٹر ز پھر سڑکوں پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل 4 کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے

لیکن ان احتجاجوں کے دوران جتنے بھی لوگ او پی ڈی میں گئے ان کی مایوسی کا مداوا کرنے والا کوئی نہ تھا۔وہ داد رسی کیلئے جاتے بھی تو کہاں کیونکہ نہ تو وہ ڈاکٹرز تھے اور نہ ہی حکمران ۔ وہ تو ایسے بے بس لوگ تھے جن کے ٹیکسوں سے ڈاکٹروں کو تنخواہ ملتی ہے اور حکمران گرمیوں میں ٹھنڈے ڈھار کمروں میں بیٹھ کر میٹنگیں کرتے ہیں۔بہت سے ان احتجاجوں کے دوران اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے لیکن ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے یہ اپنی جگہ ایک سوال ہے ۔ جس جواب ہر وہ شخص تلاش کر رہا ہے جس کا اپنا ان احتجاجوں کی نظرہوا ۔

ینگ ڈاکٹرز رمضان سے قبل احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں مطالبات ان کے اپنی جگہ، رمضان المبارک کا مہینہ ہے، گرمی شدت اختیار کررہی ہے ، اس موسم میں مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے ،ایسی صورتحال میں احتجاج کرنا اپنے ساتھ تو زیادتی ہے ہی لیکن جس پیشے کو مسیحیت کہا جاتا ہے اس کے ساتھ کتنی زیادتی ہے۔ حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ان احتجاجیوں سے بات چیت کر کے معاملات کو حل کریں ان لوگوں کیلئے جنہوں نے انہیں تنخواہ کیلئے پیسے دینے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلیا کے کپتان سٹیون سمتھ کی خود احتسابی

ان احتجاجوں کے دوران بعض ایسے واقعات بھی نوٹ کیے گئے ہیں کہ جن میں سینئرز نے اگر احتجاج کرنے والوں کو سمجھایا یا پھر کام کو جاری رکھنے کا کہا تو ان سے مار پیٹ بھی کی گئی ۔

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن ریفارمز کے خلاف ا حتجاج جاری ہے جس کے باعث ڈاکٹرز نے او پی ڈی میں کام بند کر رکھا ہے۔ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ہڑتال کے سبب او پی ڈی میں علاج معالجے کی غرض سے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ، سروسز، چلڈرن اور شیخ زید سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز نے کام بند کر رکھا ہے جبکہ راولپنڈی میں بھی ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے او پی ڈی کا بائیکاٹ کر دیا۔

ینک ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے معاملا حل نہ کیے اور فوری طور پر ہیلتھ بل پر نظر ثانی نہ کی تو ایمرجنسی کا بائیکاٹ کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہر ایک ہسپتال اور کلینک لازمی کھلا رہنا چاہے: چیف جسٹس