رمضان المبارک فضائل و مسائل

EjazNews

روزہ فارسی زبان کالفظ ہے جسے عربی زبان میں صوم سے تعبیر کرتے ہیں۔ صوم لغت میں رک جانے کو کہتے ہیں اور شرع میں طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک تمام مفطرات یعنی روزہ توڑنے والی چیزوں مثلاً کھانے پینے اور جماع وغیرہ سے بحالت ایمان اجرو ثواب کی نیت سے رک جانے کا نام ہے۔

روزہ کی تاریخ
روزہ ایک ایسی عظیم عبادت ہے جسے صرف امت محمدیہ علیہ صاحبہا الصلاۃ والسلام پر ہی فرض نہیں کیا گیا بلکہ اس امت سے پہلے تمام امم سابقہ کو بھی اس کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی یہ آیت شہادت دے رہی ہے
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کر دیا گیا ہے جس طرح کہ تم سے پہلے مسلمانوں پر فرض کیا گیا تھا۔
البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ موجودہ امت اور پہلی امتوں کے روزوں کی تعداد واوقات میں فرق رکھا گیا ہے۔
تفسیر کشاف میں حضرت علیؓ کا ارشاد مذکورہ ہے کہ روزہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام پر فرض کیا گیا نیز تورات و انجیل کی موجودہ کتابوں میں بھی روزوں کا تذکرہ موجود ہے۔

روزہ کی اہمیت
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ اسلام کی بنیاد جن پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے وہ یہ ہیں۔(۱) اس بات کی گواہی کہ اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں (۲)محمد(ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔(۳) نماز کی پابندی (۴) زکوۃ کی ادائیگی(۵)رمضان کے روزے۔‘‘

روزہ کے فضائل
حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ابن آدم کا ہر عمل کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے چنانچہ ایک نیکی دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھ جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مگر روزہ وہ خاص طو ر پر میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دیتا یا بنتا ہوں کیونکہ روزہ دار میری وجہ سے اپنی شہوت نفس اور کھانے کو چھوڑتا ہے۔‘‘(متفق علیہ)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’جو شخص اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھ لے اللہ تعالیٰ اس روزہ کی برکت سے اسے جہنم سے ستر برس کی مسافت کے فاصلے پر دُور فرما دیتے ہیں۔ ‘‘(متفق علیہ)

روزہ دار کےفضائل و مناقب
رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ’’ روزہ دار کو دو وقت خوشی حاصل ہوتی ہے ایک تو روزہ کے افطار کرتے وقت اور دوسرے اپنے رب سے ملاقات کے وقت اورر وزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔ ‘‘(متفق علیہ )
آپﷺ نے فرمایا ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے ۔ ان کے علاوہ اور داخل نہ ہو سکے گا۔ اعلان ہوگا کہ کہاں ہیں روزے دار ؟۔ پھر وہ کھڑے ہوں گے اور اس دروازے سے وہی داخل ہوں گے۔ جب داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی داخل نہ ہو سکے گا۔‘‘ (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:  دماغی امراض یا جن بھوت کا سایہ

روزہ کا مقصد
وجود انسانی میں دو طرح کی متحارب قوتیں ودیعت کر دی گئی ہیں ان میں ایک قوت ملکوتی ہے اور دوسری قوت بہیمی ہے اور یہ دونوں قوتیں ہمیشہ آمادۂ پیکار رہتی ہیں۔ شیطان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ قوت بہیمی غالب آجائے تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہو کر اسی کی معصیت کا ارتکاب شروع کر دے۔ مگر اللہ تعالیٰ یہی چاہتے ہیں کہ انسان میں قوت ملکوتی غالب رہے تاکہ وہ اس کے احکام کی پابندی و اطاعت کے باعث اس کا نیک مقرب اور پسندیدہ بندہ بن سکے۔ روزہ کی مشروعیت کا مقصد اولین یہی ہے کہ قوت بہیمی کو مغلوب کر کے قوت ملکوتی کو غلبہ و سطوت سے ہمکنار کیا جائے تاکہ روزہ دار جہنم کی آتش سوزان سے محفوظ و مامون ہو کر سرزمین جنت کا وارث ابدی بن جائے۔ چنانچہ اسی مقصد کا اظہار فرضیت روزہ کی آیت میں بایں الفاظ کیا گیا ہے۔ لعلکم تتقون تاکہ تم گناہوں سے اجتناب کرنے کے باعث جہنم کی شعلہ زن آگ سے بچ سکو۔

روزہ کے فوائد و ثمرات
روزہ جیسی عظیم المرتبت عبادت بجالانے سے روزہ دار کو بے شمار جسمانی، روحانی اور اجتماعی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ جسمانی فوائد تو یہ ہیں کہ روزہ رکھنے سے جسم میں غذائی بے اعتدالی کی وجہ سے پیدا شدہ تمام غلیظ مادے اور ضرررساں جراثیم رفتہ رفتہ ختم ہو جاتے ہیں۔ انتڑیوں اور معدہ کی اصلاح اور دل و دماغ کا تنقید و تطہیر اور بدن ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺنے بھی اپنے ایک فرمان میں روزہ کو صحت مندی اور تندرستی کا ضامن قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں’’ صومو اتصحوا ‘‘روزہ رکھو تندرست رہو گے۔

روزہ کا روحانی فائدہ یہ ہے۔ بجا طور پر روزہ رکھنے سے انسان میں ضبط نفس اور صبر و تحمل جیسے اوصاف حمیدہ پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور نفس انسانی میں ایک ایسا ملکہ جنم لیتا ہے جس کی وجہ سے انسان خشیت الٰہی اور درع و ز ہد کا ایک مجسمہ و پیکر بن جاتا ہے اور اس کا اجتماعی فائدہ یہ ہے کہ روزہ کی وجہ سے عدل و مساوات جذبہ ایثار اور دوسروں پر شفقت و رحمت جیسے خصائل فروغ پاتے ہیں۔ کیونکہ جب روزہ دار اپنے نفس میں بھوک اور پیاس کی شدت محسوس کرتا ہے تو اسے فقیر و مفلس کی بھوک و پیاس کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ اس راہ میں آنے والی ہر تکلیف دوسروں کے احساس و شعور کے لئے درس و دعوت کا کام دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہراسانی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے

روزہ کی اقسام
روزہ کی کل پانچ اقسا م ہیں (۱) فرض و واجب روزے جیسے رمضان، نذر اور حج قرآن و تمتع کے روزے (۲) مستحب روزے جیسے شوال کے چھ اور ایام بیض کے تین روزے (۳) عام نفلی روزے (۴)ممنوع روزے جیسے عید الفطر اور الاضحی اور ایام تشریق کے روزے (۵)مکروہ روزے جیسے صرف جمعہ یا ہفتہ کا روزہ۔

روزہ کے ارکان
روزہ کے کل تین ارکان ہیں۔(۱) نیت (۲)امساک ۔ یعنی روزہ توڑنے والی اشیاء سے پرہیز (۳)وقت طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک مفطرات صوم (روزہ توڑنے والی چیزیں )کا بیان (۱) مداً کھانا پینا(۲) عمداً مے کرنا(۳) حیض و نفاس اگرچہ غروب آفتاب سے ایک لحظہ پہلے آئے (۳) مادہ غلیظ یعنی منی کا عمداً نکالنا(۵) ٹیکہ بشرطیکہ غذا کا کام دے (۶) سعوط ۔ ناک میں دوائی ڈالنا (۷) جماع یعنی عورت سے ہم بستری۔

تنبیہات
(۱)۔ مفطرات دو طرح پر ہیں (۱) جن کی وجہ سے صرف روزہ باطل اور قضاء لازم ہو اور وہ جما ع کے علاوہ ہیں (۲) جس کی وجہ سے بطلان اور قضاء کے علاوہ کفارہ بھی لازم ہو۔ وہ صرف جماع مداً ہے۔
(۲) ۔اگر کوئی شخص قضائے رمضان یا کفارات کے دوران میں عمداً جماع کرے یا رمضان ہی میں بصورت اکراہ یا نسیان جماع کرے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا۔
(۳)۔ سینگی لگوانے کے بارہ میں علماء کا اختلاف ہے مگر راحج یہی ہے کہ کمزور آدمی سینگی لگوانے سے پرہیز کرے۔
(۴) اگر کوئی شخص یہ گمان کرے کہ سورج غروب ہوگیا ہے اور روزہ چھوڑ دے۔ یا ابھی فجر طلوع نہ ہو وہ کھاتا پیتا رہے ۔ مگر بعد ازاں پتہ چلا کہ اس کا گمان غلط تھا۔ تو اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے مگر محققین کا مذہب یہی ہے کہ روزہ صحیح ہے اور اس کی کوئی قضاء کی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے ساتھ کشمیر کے رشتے

مباحات روزہ (وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا)
(۱)نہانا یا سر پر پانی ڈالنا(۲) آنکھ میں سرمہ یا دوائی ڈالنا (۳) بوسہ بشرطیکہ شہوت نہ بھڑکائے (۴) حجامت (سینگی لگانا یا لگوانا ۔ بشرطیکہ طاقتور ہو) (۵) فصد جسم کے کسی حصہ سے خون نکلوانا، اس کا حکم بھی حجامت کا ساہے۔ حقنہ وہ دوائی جسے بیمار کے مقعد سے فضلہ نکالنے کےلئے چڑھایا جائے۔ (۷) مضمضہ اور استنشاق یعنی کلی کرنا اورناک میں پانی ڈالنا بشرطیکہ دونوں میں مبالغہ نہ کرے۔ (۸) کبھی مچھر و دیگر حشرات الارض اور ذرات کا حلق سے اترنا (۹) خوشبو سونگھنا (۰۱) دھنیات وروغنیات۔ مثلاً گھی اور تیل کا بدن پر ملنا (۱۱)جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرنا (۱۲) احتلام ہونا (۱۳) خون حیض اور نفارس رُک جانے کے باوجود صبح تک غسل نہ کرنا (۱۴) طلوع فجر میں شک کی صورت میں کھاتے پیتے رہنا ۔ (۱۵) مسواک کرنا (۱۶) مامومہ۔ وہ زخم جو دماغ تک سرایت کرے۔ (۱۷) جائفہ۔ وہ زخم جو پیٹ تک پہنچ جائے۔۔
مامومہ اور جائفہ دونوں میں شرط ہے کہ ان میں وہ دوائی نہ استعمال کی جائے جو غذائیت رکھتی ہو۔
(۱۸) کھاناوغیرہ کا ذائقہ معلوم کرنا۔ بشرطیکہ اسے نگلا نہ جائے۔

شروط روزہ
کھانے پینے جماع کرنے اور دیگر مفطرات سے اجتناب اگرچہ روزہ کا رکن ہے۔ اور اس سے نفس روزہ تو حاصل ہو جاتا مگر روزہ کی صحت اور قبولیت کے لئے چند باتوں سے اجتناب ضروری ہے کیونکہ روزہ صرف منہ اور شرمگاہ کا ہی روزہ نہیں بلکہ انسان کے باقی اعضاء جیسے آنکھ کان، زبان، ناک اور ہاتھ پائوں کا بھی روزہ ہوتا ہے اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر آنکھ سے غیر محرم عورت یا غیر ممنوعہ اشیاء کو دیکھتا ہے کان سے شرکیہ نعتیں، اخلاق سوز گانے اور غیبت وغیرہ سنتاہے۔ زبان سے شرکیہ نعتیں اور غلط گانے گاتا۔ گالی گلوچ ، جھوٹ ، غیبت اور چغلی وغیرہ کرتاہے۔

ناک سے ناجائز چیز سونگھنا ہے اور ہاتھ پائوں سے فعل حرام کرتا ہے تو سمجھ لو اس کا روزہ بارگاہ ایزدی میں شرف قبولیت نہیں پاسکتا۔ بلکہ خدشہ ہے کہ وہ ضائع ہی ہو جائے۔ چنانچہ رسول ہاشمی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان گرامی ہے۔

’’جو شخص روزہ رکھ کر بری بات اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنے کھانے پینے کو ترک کر دے۔