حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا

EjazNews

حضرت فاطمہ ؓ آنحضرتؓ کی سب سے کم سن اور محبوب ترین اولاد تھیں۔حضورﷺ نے آپؓ کا خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کے ساتھ نکاح کیا تھا اورفرمایا تھا کہ ’’میں نے اپنے خاندان میں بہتر شخص سے تمہارا نکاح کیا ہے۔ ‘‘حضورﷺ کی وفات کے وقت اولاد میں صرف حضرت فاطمہؓ رہ گئی تھیں۔ آپؓ کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان سے نبی کریم ﷺ کی نسل باقی رہی۔
حضور نبی کریمﷺ نے وفات سے ایک دن پہلے حضرت فاطمہؓ کو بھلا بھیجا، تشریف لائیں تو ان سے کچھ کان میں باتیں کیں، وہ رونے لگیں، پھر بلا کر کچھ کان میں کہا تو ہنس پڑیں، حضرت عائشہ ؓ نے دریافت کیا تو کہا’’پہلی دفعہ آپﷺ نے فرمایا کہ میں اسی مرض میں انتقال کروں گا ، جب میں رونے لگی تو فرمایا کہ میرے خاندان میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے آملوں گی تو ہنسنے لگی۔‘‘ آپ ﷺ کا انتقال ہوا تو حضرت فاطمہ ؓ پر مصیبت ٹوٹ پڑی۔ اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ جب تک زندہ رہیں کبھی تبسم نہیں فرمایا۔
حضرت فاطمہ ؓ کے مزاج میں انتہاکی حیا و شرم تھی، اس لئے انہوں نے حضرت اسماء بنت عمیسؓ سے کہا کہ کھلے جنازہ میں عورتوں کی بے پردگی ہوتی ہے جس کو میں ناپسند کرتی ہوں، اسماؓ نے کہا جگر گوشتہ رسول ﷺ ! میں نے حبش میں ایک طریقہ دیکھا ہے، آپ کہیں تو اس کو پیش کروں، یہ کہہ کر خرمے کی چند شاخیں منگوائیں اور ان پر کپڑا تانا جس سے پردہ کی صورت پیدا ہو گئی، حضرت فاطمہؓ بے حد مسرور ہوئیں کہ یہ بہترین طریقہ ہے، حضرت فاطمہ ؓ کے بعد حضرت زینبؓ کا جنازہ بھی اسی طریقہ سے اٹھایا گیا ۔
حضرت فاطمہؓ سے کتب حدیث میں اٹھارہ روایتیں منقول ہیں، جن کو بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ نے ان سے روایت کیا ہے۔ آپؓ سے آنحضرت ﷺکو اتنی محبت تھی کہ ان کے متعلق آپﷺ نے فرمایا کہ: ’’فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے جو اس کو ناراض کرے گا مجھ کو ناراض کرے گا۔‘‘
حضرت فاطمہؓ کا شمار حضور ﷺ نے ان چند مقدس خواتین میں فرمایا ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ قرار پائیں۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:’’تمہاری تقلید کے لئے تمام دنیا کی عورتوں میں مریم ؑ ، خدیجہ ؓ ، فاطمہؓ ، آسیہؓ کافی ہیں‘‘۔
حضرت فاطمہؓ کے زہد وورع کی یہ کیفیت تھی کہ گو وہ آنحضر تﷺ کی محبوب ترین اولاد تھیں اور اسلام میں رہبانیت کا قلع قمع بھی کر دیا گیا تھا اور فتوحات کی کثرت مدینہ میں مال و زر کے خزانے لٹا رہی تھی، لیکن جانتے ہو کہ اس میں جگر گوشہ رسول ﷺ کا کتنا حصہ تھا؟ اس کا جواب سننے سے پہلے آنکھوں کو اشکبار ہو جانا چاہیے۔
سیدہ کی خانگی زندگی یہ تھی کہ چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں چھا لے پڑ گئے تھے۔ مشک میں پانی بھر بھر کر لانے میں سینے پر کھٹے پڑ گئے تھے ۔ گھر میں جھاڑو دیتے دیتے کپڑے چیکٹ ہو جاتے تھے، چولھے کے پاس بیٹھے بیٹھے کپڑے دھوئیں سے سیاہ ہو جاتے تھے۔ لیکن با اینہمہ جب انہوں نے آنحضرت ﷺ سے ایک بارگھر میں کاروبار کے لئے ایک لونڈی مانگی اور ہاتھ کے چھالے دکھائے تو ارشاد ہوا کہ جان پدر ! بدر کے یتیم تم سے پہلے اس کے مستحق ہیں۔
ایک دفعہ آپﷺ حضرت فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لائے، دیکھا کہ انہوں نے ناداری سے اس قدر چھوٹا دوپٹہ اوڑھا ہے کہ سر ڈھانکتی ہیں تو پائوں کھل جاتے ہیں اور پائوں چھپاتی ہیں تو سر برہنہ رہ جاتا ہے۔
حضور ﷺ خود ان کو آرائش یا زیب و زینت کی کوئی چیز نہیں دیتے تھے۔بلکہ اس قسم کی جو چیزیں ان کو دوسرے ذرائع سے ملتی تھیں ا کو بھی ناپسند فرماتے تھے، چنانچہ ایک دفعہ حضرت علی ؓ نے ان کو سونے کا ہار دیا، آپﷺ کو معلوم ہوا تو فرمایا ’’کیوں فاطمہ! کیا لوگوں سے کہلوانا چاہتی ہو کہ رسول اللہ ﷺ کی لڑکی آگ کا ہار پہنتی ہے۔‘‘ حضرت فاطمہ ؓ نے اس کو فوراً بیچ کر اس کی قیمت سے ایک غلام خرید لیا۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: صدقہ وراستی میں بھی ان (فاطمہؓ) کا کوئی حریف نہ تھا۔ میں نے فاطمہ ؓ سے زیادہ کسی کو صاف گو نہیں دیکھا
حد درجہ حیا دار تھیں، ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ان کو طلب فرمایا تو وہ شرم سے لڑ کھڑاتی ہوئی آئیں۔ اپنے جنازہ پر پردہ کرنے کی جو وصیت کی تھی وہ بھی اس بنا پرتھی۔آپؓ آنحضرتﷺ سے نہایت محبت کرتی تھیں جب وہ خورد سال تھیں ا ور آپﷺ مکہ معظمہ میں مقیم تھے تو عقبہ بن ابی معیط نے نماز پڑھنے کی حالت میں ایک مرتبہ حضورﷺ پر اونٹ کی اوجھ لا کر ڈال دی، قریش مارے خوشی کے ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ کسی نے جاکر حضرت فاطمہؓ کو خبر کی، وہ اگر چہ اس وقت صرف پانچی ا چھ برس کی تھیں لیکن جوش محبت سے دوڑی آئیں اور اوجھ ہٹا کر عقبہ کو برا بھلا کہا اور بددعائیں دی۔ ایک مشہور روایت کے مطاق آپؓ 29برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں اور آپؓ کی قبر جنت البقیع میں ہے۔
۔۔۔۔
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا قافلہ کوٹ لکھپت جیل کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔ نواز لیگ کی تقریباً ساری قیادت موجود ہے اور لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد استقبال کر رہی ہے۔ مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز قافلے کے ہمراہ ہیں۔جب نواز شریف جاتی امراء سے نکلے تو مسلم لیگی کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  قرآن پڑھنے کی فضیلت