فلسطین اوراسرائیل کے درمیان جنگ بندی

EjazNews

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی خبریں غیر ملکی میڈیا سے نشر ہو رہی ہیں۔اب اس جنگ بندی کے بارے میں سوچ کر بھی حیرت ہوتی ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کا کوئی مقابلہ ہے جو دونوں کے درمیان جنگ بندی ہو ۔ ایک طرف نہتے فلسطینی جن کی زمینوں پر اسرائیل قابض بنا ہوا ہے اور دوسری طرف دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی خبروں نے ورطہ حیرت میں ڈالا ہوا ہے اصل میں یہ جنگ بندی نہیں اسرائیل 26سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے وہ مشکلات میں گھر کر اگر کوئی انفراسٹرکچر بناتے ہیں ایسے حملوں کے بعد وہ سارا تباہ کر دیا جاتا ہے اور انہیں پھر ایک مرتبہ اندھیر نگری میں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ ان کی حالت دنیا بھر میں سب سے زیادہ مظلوموں کی ہے۔ فلسطینی جدید دور کے غلاموں سے بدتر زندگی بسر کر رہے ہیں کیونکہ نہ تو وہ اپنی مرضی سے اپنے انتخابات میں کوئی نمائندہ چن سکتے ہیں اگر چن لیں تو یہ کہہ کر مخالفت کی جاتی ہے کہ یہ متشدد آدمی ہے ۔ ان کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اسرائیلی غلام ہو ں۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینیوں نے اسرائیل پر 5سو راکٹ فائر کیے تھے جس سے 4شہری ہلاک ہو ئے تھے ۔اس کے بعد یہ کارروائی کی گئی تھی۔ دوسری طرف امریکی صدر نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل جو کر رہا ہے وہ ٹھیک کر رہا ہے اس کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نریندرا مودی نے دوسری مرتبہ کیلئے وزارت عظمی کا حلف اٹھالیا
اس تصویر کا کیپشن لکھنے کیلئے میرے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں


فلسطینی پوری دنیا میں اپنی مدد آپ کے تحت اسرائیل کیخلاف لڑ رہے ہیں۔ اگر دنیا کے کچھ اسلامی ممالک ان کی مدد بھی کرتے ہیں تو وہ صرف اخلاقی حد تک ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کے پیچھے پوری طرح امریکی حکومت کھڑی ہے جو اس کے ہر اقدام کو سراہتی ہے۔
کیسی بدنصیبی ہے کہ شمالی کوریا کا مسئلہ حل کرنے کیلئے توبھرپور کوششیں کی جاتی ہیں، مشرقی تیمور کا مسئلہ بڑی جلدی سے حل کروا لیا جاتا ہے ، سوڈان کا دو ٹوٹے کرنے میں بھی دیر نہیں لگائی جاتی ہے لیکن جب مسئلہ فلسطین آتا ہے تو کوئی اس کے حل کیلئے سنجیدگی سے کوشش ہی نہیں کرتا اور مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی پوری طرح سے جاری و ساری ہے۔ جب انسان ہی نہیں رہیں گے تو زمین کس کی اور یہی فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کیونکہ ان کے اپنے ملک میں نہ تو ان کے پاس ائیر پورٹ ہے، نہ سڑک ہے ، نہ زندگی گزارنے کی سہولتیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا بھر میں کرونا سے ہلاکتیں 34ہزار سے زائد ہو چکی ہیں