برونائی دارالسلام نے عالمی تنقید کے بعد شرعی قوانین پر عملدرآمد روک دیا

EjazNews

برونائی دارالسلام مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا کا واحد ملک تھا جہاں قومی سطح پر شرعی قوانیں نافذ ہوئے، نئے شرعی قوانین کے تخت ہم جنسی پرستی کی سزا سنگسار اور چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا تھے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شرعی قوانین کے نفاذ کے بعدبہت سےممالک اور بین الااقومی تنظیموں کی جانب سے ان قوانین کیخلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں جبکہ اقوام متحدہ نے بھی ان قوانین کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
برونائی کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی سلطان کی تقریر میں انہوںنے پہلی مرتبہ شرعی قوانین کے نفاذ پر ہونے والی تنقید پر اپنا تبصرہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ شرعی قوانیں کے حوالے سے بہت زیادہ غلط فہمیاں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عام فوجداری قوانین اور شرعی قوانین کا مقصد ملک میں امن اور ہم آہنگی یقینی بنانا ہے، برونائی میں کچھ جرائم مثلاً قتل کی سزا عام قانون کے تحت بھی موت ہے لیکن کئی دہائیوں سے کسی کو بھی پھانسی نہیں ہوئی ہے۔ان کا کہناتھا برونائی میں عام قوانین کے تحت دی جانے والی پھانسی کی سزاو¿ں پر عملدر آمد پر عارضی پابندی ہے اور اس کا اطلاق شرعی قوانین کے تحت سنگساری کی سزا پر بھی ہوگا۔سلطان نے کہا ہے کہ برونائی تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کے چارٹر کی تجدید کرے گا جس پر ان کا ملک کئی سال پہلے دستخط کر چکا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برونائی دارالسلام میں مئی 2014ءمیں اسلامی شریعت کے مطابق سزاﺅں کا نظام متعارف کرایا گیا تھا۔
یاد رہے برونائی میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ بد فعلی اور ہم جنس پرستی کے خلاف منظور ہونے والے قوانین کا اطلاق 3اپریل 2019 سے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  روس نے شام میں داعش کیخلاف حکمت عملی تیار کر لی ہے