petrol

پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہوگیا

EjazNews

حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں 9روپے 42پیسے، ڈیزل کی قیمت میں 4روپے 89پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 7روپے 46پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4روپے 89پیسے فی لیٹر بڑھا دی گئی جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 122روپے 32پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 86روپے 94پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
ایف بی آر نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر لاگو ٹیکس میں اضافے کی نئی شرح بھی جاری کر دی ہے۔ پٹرول پر جی ایس ٹی 2فید سےبڑھا کر 12فیصد کر دیا۔ہائی سپیڈ اور لائٹ ڈیزل پر ٹیکس کی یکساں شرح بڑھا کر 17فیصد جبکہ مٹی کے تیل پر جی ایس ٹی 8فیصد سے بڑھا کر 17فیصد کر دیا گیا ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، قیمتوں میں اضافہ کا بوجھ حکومت اور عوام کو مل کر برداشت کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں میچز کا انعقاد یادگار بنائیں گے: چیئرمین پی سی بی

اب عوام تو مہنگائی کی چکی میں پسیں گے پر حکومت کیسے برداشت کرے گی یہ ایک اہم بات ہے

پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات میں استحکام رکھا جاتا ہے آئے روز کی کمی اور اضافے کے نقصانات صرف عوام کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ کیونکہ جب کمی کی جاتی ہے تو بڑھی ہوئی قیمت کو یہ کہہ کر کم نہیں کیا جاتا کہ حکومت نے اگلے ماہ پھر قیمت بڑھا دینی ہے ہم کمی کریں گے تو پھر بڑھائیں گے اور اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کوبڑھا دیا جائے تو ملک بھر میں یہ کہہ کر قیمتوں کو بڑھا دیا جاتا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ حکومت کو سنجیدگی سے اب بات پر غور کر نا چاہیے کہ قیمتیں مستحکم رہیں چاہے وہ کچھ بھی ہوں یہ آئے روز کی کمی اور اضافہ معیشت کیلئے بھی نقصان دہ ہو تا ہے ۔ کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کا تعلق ڈائریکٹ ان ڈائریکٹر معیشت سے ہوتا ہے۔ حکومت کے پاس بڑ ے بڑے معاشی ماہرین بیٹھے ہیںاگر ان معیشت دانوں سے آپ دنیا بھر کی پٹرولیم مصنوعات کی پچھلے 5سال کے اعدادو شمار نکلوا لیں تو بھی آپ کو اندازہ کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ اس گلوبل ویلج میں کس نے کتنا اضافہ کیا ہے۔ ظاہر ہی آئی ایم ایف حکومت کو سبسڈی ختم کرنے کا کہہ رہی ہے۔ اور جن کے پاس کھانے کے پیسے نہ ہوں وہ سبسڈی دیتے بھی اچھی نہیں لگتے لیکن یہ توضرور کیا جاسکتا ہے کہ قیمتوں میں استحکام پیدا کیا جائے آئے روز ردو بدل سے بچا جاسکے۔
وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ زیر غور آیا۔ ذرائع کے مطابق ای سی سی نے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 9 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 89 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی ہے۔ حکومت پیٹرول کی مد میں 5 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  ہم کرپشن کیخلاف جہاد کر رہے ہیں اس میں ہمارا ساتھ دیں:وزیراعظم عمران خان