imran khan-3

وزیراعظم عمران خان کا سوہاوامیں خطاب

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے سوہاوہ میں یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کیا ان کا کہنا تھا القادر یونیورسٹی جیسے ادارے پر 23سال سے سوچ رہے تھے جس طرح نمل، شوکت خانم بنایا اسی طرح القادر یونیورسٹی بنائیں گے۔ ذہین اور اچھے نوجوانوں کو اکٹھا کر کے القادر یونیورسٹی میں پڑھائیں گے۔ان کا کہناتھا القادر یونیورسٹی میں صوفی ازم پر ریسرچ بھی کی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ جو شخص تعلیم سے ذہنی شعور حاصل نہ کرے وہ آگے نہیں بڑھتا یہ وہ ریاست نہیں جس کا وعدہ پاکستان بنانے والوں نے کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کم از کم ہم اپنی آنے والی نسلو ں کو صحیح تعلیم دے سکتے ہیں۔ کیسے مغربی دنیا کا کلچر ہماری نسلوں کے ذہنوں پر سوار ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال کی میں اس لیے مثال دیتا ہوں کہ علامہ اقبال نے سارے فلسفے بھی سمجھے ،باہربھی پڑھے، انہوں نے جو فلسفہ 80-90سال پہلے دیا تھا وہ باتیں آپ اگر آج پڑھیں تو آپ کو ایسے لگتا تھا جیسے آج ہی کہہ رہے ہوں۔ ان کو مغربی اور اپنی تاریخ کا بھی پتہ تھا ہم اس لیے چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان مغربی تعلیم بھی پڑھیں ، سائنس بھی پڑھیں۔
وزیراعظم نے کہنا تھا کہ قوم تب بنتی ہے جب ان کے پاس ایک نظریہ ہوتا ہے ، معاشی بحران آتے جاتے رہتے ہیں، قوم کا اگر نظریہ چلا جاتا ہے تو ان کے پاس کچھ نہیں رہتا۔ ان کا کہنا تھا انشاء اللہ القادر یونیورسٹی ایسی یونیورسٹی بنے گی ، جو مدینہ کے اصول سمجھائے گی، ہمارے بچو ں کو بتائے گی کہ مدینہ کی ریاست کے بارے میں۔ اس یونیورسٹی کے قیام سے میں بہت خوش ہو ں ۔ ہم نے جس طرح نمل یونیورسٹی چلائی اسی طرح یہ یونیورسٹی بھی چلائیں گے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اس یونیورسٹی میں 33فیصد بچوں کو سکالر شپ دلائی جائے گی جو بالکل مفت ہو گی اور باقی 65فیصد بچے پیسے دے کر یورنیورسٹی میں پڑھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ یونیورسٹی پاکستان میں نئے لیڈر پیدا کرے گی ،جب یہاں سے نکلے ہوئے لیڈر آئیں گے تووہ سیاستدان بنیں گے۔ آج کل سیاستدانوں کو پڑی ہوتی ہے کہ میرا پٹواری رکھوا دو ۔ میرا تھانیدار رکھوا دو ۔ ان کے پاس کوئی بڑی سوچ نہیں ۔ کوئی نظریہ نہیں ہے۔نظریہ لیڈر کو بناتا ہے جب آپ کا نظریہ ہی نہیں ہے تو آپ لیڈر کیسے بن سکتے ہیں ۔آپ اپنے 70سالوں میں دیکھ لیں کتنے لیڈر آئے ہیں۔انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب آتے ہیں تو ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر ووٹ لیتے ہیں اور جب جاتے ہیں تو ان کی پراپرٹیاں دیار غیر میں ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:  آصف زرداری،فریال تالپورکی تیسری پیشی پر ایک اور وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار